گرینیٹ اور ہائینڈمارش آئی لینڈز کا دلفریب سفر
(Syeda F Gilani, Adelaide)
گرینیٹ اور ہائینڈمارش آئی لینڈز کاد لفریب سفر تحریر: سیدہ ایف گیلانی-آسٹریلیا ایڈیلیڈ(Adelaide) سے روانگی اور راستے کی منظر کشی یہ ایڈیلیڈ کی ایک ٹھنڈی لیکن خوشگوارصبح تھی۔ ہوا میں انگور کے باغات کی مٹی کی خوشبو اور ساحلی ہواؤں کی ہلکی سی نمی گھلی ہوئی تھی۔ ہم نے ایک دن قبل ہی تمام انتظامات کر لیے تھے کہ کون کس گاڑی میں سوار ہوگا۔ چنانچہ جیسے ہی ہماری گاڑی سدرن ایکسپریس وے پر آئی توگاڑی فراٹے بھرنے لگی اور پھر جیسے ہی وکٹر ہاربر روڈ پر آئے تو مکیلیرن ویل (McLaren Vale)کی دلفریب فضا نے ہمارا استقبال کیا اور ہماری گاڑی شہر کی مصروف زندگی کوپیچھے چھوڑ کروکٹر ہاربر(Victor Harbour) کی طرف بڑھنے لگی اورہمارے سامنے جنوبی آسٹریلیا کے دلفریب مناظر کھلنے لگے۔ سڑک کے دونوں طرف ہلکی ڈھلوانوں پر پھیلے ہوئے سبز کھیت، انگور کے باغ، جنگلی پھولوں کی خوشبو اور کہیں کہیں گائے، بھیڑ اور بکریوں کے اسٹیشن اپنے لکڑی کی باڑوں اور سفید چھتوں والے گھروں کے ساتھ دکھائی دینے لگے۔ راستے میں ولونگا (Willunga)اور ماؤنٹ کامپس(Mount Compass) جیسے قصبے ملے جولکڑی اور پرانی اینٹوں کے مکانوں کی یاد دلاتے ہیں۔ گاڑی کی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے لگتا تھا جیسے کسی تصویری کتاب کے ورق پلٹ رہے ہوں۔ پہاڑوں کے دامن میں چھوٹی چھوٹی جھیلوں اور پتھریلی راہوں پر چلتے ہوئے یہ احساس گہرا ہو جاتا کہ ہم کسی عام راستے پر نہیں بلکہ ایک ایسے سفر پر ہیں جو صدیوں کی تاریخ، مقامی روایات اور قدرتی حسن کو سمیٹے ہوئے ہے۔ جیسے جیسے ہماری گاڑی آگے بڑھ رہی تھی، سمندری ہوا کی خوشبو اور بگلوں کی آوازیں تیز ہونے لگیں تھیں۔ سمندر کا نیلا رنگ اور ساحلی پٹی کے کنارے کھجوروں کی قطاریں دکھائی دینے لگیں۔ یہ سب اس بات کا اعلان تھا کہ وکٹر ہاربر قریب آ گیا ہے۔ گاڑی کے پہیوں کے نیچے سے گزرتی سڑک کے ساتھ ساتھ ہماری نگاہوں کے سامنے ایک نیا منظر تھا، ایک نیا قصہ اور ایک نیا جزیرہ۔۔۔ گرینیٹ آئی لینڈ(Granite Island)۔ یہاں پہنچ کر محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک ساحلی قصبہ نہیں، بلکہ ایک دروازہ ہے جو ماضی کی یادوں اور سمندر کی خوشبو کو آپ کے دل تک پہنچاتا ہے۔ وکٹر ہاربر کی فضا میں ایک عجیب سا سکون اور ہلکی سی رونق ہے، جیسے سمندر خود بھی آپ کے استقبال کے لیے لہروں کے ساتھ خوش آمدید کہہ رہا ہو۔ وکٹر ہاربر(Victor Harbour): تاریخ کی پرتیں اور آج کا منظر وکٹر ہاربر بظاہر ایک پُرسکون ساحلی قصبہ ہے، مگر اس کی گلیوں، عمارتوں اور ساحل کے ذروں میں ایک بھرپور تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ یہ خطہ یورپی مہم جوؤں کے آنے سے بہت پہلے نگارنجیری قوم کے ایک قبیلے، رامینجیری لوگوں کی سرزمین تھا۔ وہ اس علاقے کے ہر پہاڑ، جھیل اور درختوں کو مقدس سمجھتے اور اپنے قصے اور رسمیں ان قدرتی مناظر کے ساتھ بُن دیتے۔ ہائینڈ مارش جزیرے کے گرد پانیوں کو وہ“کُمارانگک”کہتے تھے، ایک ایسا نام جو ان کے ہزاروں سال پرانے سمندری تعلق کی گواہی دیتا ہے۔ 1802ء میں یہاں کے باشندوں نے ایک ایسا منظر دیکھا جو آج بھی تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہے، یعنی برطانوی جہاز کے کپتان میتھیو فلنڈرز(Matthhew Flinders) اور فرانسیسی جہاز کے کپتان نکولس بودینNicolas Baudin) (کاان ساحلوں پر اتفاقاًآمنا سامناہوا۔ دو مختلف قوموں کے یہ ملاح ایک ہی سمندری راہ میں ملے اور اس ملاقات نے اس خلیج کو اینکاؤنٹر بے (Encounter Bay)کا نام دیا۔ یہ واقعہ محض ایک جغرافیائی نشان نہیں بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ سمندر کس طرح مختلف ثقافتوں اور قوموں کو یکجا کر دیتا ہے۔ کچھ دہائیاں بعد ایچ ایم ایس وکٹر ی نے گرینیٹ آئی لینڈ کے قریب لنگر ڈالا اور اسی کے نام پر اس بندرگاہ کو”وکٹر ہاربر“کہا جانے لگا۔ اس دوران چارلس اسٹَرٹ(Charles Sturt) اور کولیٹ بارکر(Collet Barker) مرے دریا (River Murray)کے دہانے کا جائزہ لیتے ہوئے ہا ئنڈ مارش جزیرے(Hindmarsh Island) پر اترے۔ بعد میں یہ جزیرہ جنوبی آسٹریلیا کے پہلے گورنر سر جان ہا ئنڈ مارش کے نام سے منسوب ہوا۔ 19ویں صدی کے وسط میں یہ علاقہ وہیل آئل کی پیداوار کا مرکز بن گیا۔ سمندر میں وہیل پکڑنے کے مناظر اور ساحل پر ابلتے بڑے بڑے دیگ اب قصوں کا حصہ ہیں۔ آخری وہیل یہاں 1872ء میں پکڑی گئی، اور رفتہ رفتہ یہ پیشہ ختم ہوا، مگر اس کے نشانات آج بھی وکٹر ہاربر کے عجائب گھرمیں دیکھے جا سکتے ہیں۔ آج وکٹر ہاربر وہیل دیکھنے، ساحلوں پر چہل قدمی کرنے، چھٹیاں منانے اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے مشہور ہے۔ اس کے ساحل پر کھجوروں کے درخت، پرانے چرچ، تاریخی عمارتیں اور کشادہ راستے ایک منفرد فضاء تخلیق کرتے ہیں۔ صبح کے وقت سمندر کے کنارے دوڑنے والے مقامی لوگ، شام کو سورج غروب کے مناظر دیکھنے والے سیاح اور پرندوں کے جھنڈ یہ سب وکٹر ہاربر کو ایک زندہ کہانی بنا دیتے ہیں۔ یہ قصبہ نہ صرف جنوبی آسٹریلیا کی تاریخ کا عکاس ہے بلکہ جدید دور میں قدرت اور سیاحت کا حسین امتزاج بھی ہے۔ اس کے ساحل پر کھڑے ہو کر جب آپ افق پر نیلا سمندر اور دور جزیرے دیکھتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ آگے بڑھ کر ان کہانیوں کے درمیان خود کو بھی شامل کر لیں۔ گرینیٹ آئی لینڈ: قدرت، پینگوئن اور ٹرام کا قصہ وکٹر ہاربر کے بالکل سامنے ایک چھوٹا مگر پراسرار سا جزیرہ واقع ہے — گرینیٹ آئی لینڈ۔ یہ جزیرہ لکڑی کے ایک لمبے پل سے وکٹر ہاربر کے ساحل سے جڑا ہوا ہے۔ جب آپ اس پل پر چلتے ہیں تو سمندر کی ہلکی ہلکی لہریں آپ کے قدموں کے نیچے ٹکراتی ہیں اور نمکین ہوا چہرے کو چھوتی ہے۔ ہر قدم پر یہ احساس بڑھتا ہے کہ آپ کسی عام راستے پر نہیں بلکہ ایک ایسے جزیرے کی طرف جا رہے ہیں جس کی ہر چٹان اور ہر گوشہ صدیوں کی کہانیاں سناتا ہے۔ گرینیٹ آئی لینڈ اپنے بڑے بڑے بھورے پتھروں اور قدرتی پگڈنڈیوں کے لیے مشہور ہے۔ ہر موڑ پر سمندر کا نیا منظر اور پرندوں کی آوازیں اس جزیرے کو ایک زندہ تصویری گیلری بنا دیتی ہیں۔ یہاں چلتے ہوئے کبھی آپ کو سمندر میں کھیلتی ڈولفن نظر آتی ہیں، کبھی دور وہیل کی دم پانی پر لہراتی دکھائی دیتی ہے اور کبھی بگلے اور دوسرے پرندے آسمان میں گھومتے دیکھائی دیتے ہیں۔ ہارس ڈران ٹرام (Horse Drawn Tram) جزیرے کی سب سے منفرد کشش ہے۔ لکڑی کے پل پر چلنے والی یہ گھوڑا گاڑی پہلی بار1894ء میں شروع ہوئی تھی اور آج بھی اسی شان سے سیاحوں کو جزیرے تک لے جاتی ہے۔ یہ صرف نقل و حمل کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخ ہے، جو اس ساحلی قصبے کے ماضی اور حال کی کہانی سناتی ہے۔ گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز اور ٹرام کے پہیوں کی چرچراہٹ ایک ایسا احساس پیدا کرتی ہے جیسے وقت پیچھے لوٹ آیا ہو۔ جزیرے پر ایک اور حیرت انگیز منظر پینگوئنز کا ہے۔ شام کے وقت جب سورج سمندر میں ڈوبنے لگتا ہے تو جزیرے کے ایک کونے سے چھوٹے چھوٹے پینگوئن اپنے بلوں سے نکلتے ہیں اور ساحل پر آتے ہیں۔ بچوں کی آنکھوں میں خوشی اور حیرت ایک ساتھ جھلکتی ہے، اور فوٹوگرافر اس طلسماتی منظر کو اپنے کیمروں میں قید کرتے ہیں۔ یہاں اکثر ایک بوڑھا جوڑا بھی دکھائی دیتا ہے جو ہر سال گرینیٹ آئی لینڈ آ کر غروبِ آفتاب سے محظوظ ہوتا ہے۔ ان کے چہروں پر یادوں کی روشنی اور آنکھوں میں محبت کی جھلک ہوتی ہے۔ یہ منظر جزیرے کے سب سے حسین مناظر میں سے ایک ہے کیونکہ اس میں وقت اور محبت دونوں کے تسلسل کا احساس جھلکتا ہے۔ گرینیٹ آئی لینڈ صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں قدرت، تاریخ اور انسانی کہانیاں ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔ جب آپ اس کے پتھریلے راستوں پر چلتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے ہر چٹان آپ کو اپنی اپنی کہانی سنانے کے لیے بے تاب ہے۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔ |
|