فکرِ اقبال اور شہید آیت اللہ خامنہ ای: ایرانی انقلاب سے عصرِ حاضر تک تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا


فکرِ اقبال اور شہید آیت اللہ خامنہ ای: ایرانی انقلاب سے عصرِ حاضر تک
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی-آسٹریلیا
برصغیر کے عظیم مفکر علامہ محمد اقبال نے بیسویں صدی کے اوائل میں جس فکری بیداری کی بنیاد رکھی، اس کا مرکزی نکتہ خودی، اجتہاد اور حریتِ فکر تھا۔ علامہ اقبال کے نزدیک مسلمان محض ایک مذہبی شناخت نہیں بلکہ ایک حرکی قوت ہے جو تاریخ کا دھارا بدل سکتی ہے۔علامہ کے ہاں “خودی” کا تصور فرد کو اپنے باطن کی پہچان، خود اعتمادی، اور خدا سے تعلق کے ذریعے ایک فعال کردار ادا کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔علامہ اقبال نے مغربی مادیت پر تنقید کرتے ہوئے روحانی اقدار کو اہمیت دی اور مسلمانوں کو دعوت دی کہ:

غلامی کی ذہنیت سے نکلیں

اپنے ماضی سے استوار رہتے ہوئے حال میں جئیں

اجتہاد کے ذریعے نئے مسائل کا حل تلاش کریں

1979 کا ایرانی انقلاب دراصل ایک سیاسی تبدیلی سے بڑھ کر فکری اور تہذیبی انقلاب تھا۔ اس انقلاب کی قیادت آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کی، جنہوں نے اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ایک نیا نظام متعارف کرایا۔یہ انقلاب کئی حوالوں سے فکرِ اقبال کا عملی مظہر دکھائی دیتا ہے:

استعمار کے خلاف مزاحمت

اسلامی خودی کا احیاء

دین و سیاست کا امتزاج

علامہ اقبال کے‍ ذیل میں درج اشعار گویا اس انقلاب کی پیش گوئی محسوس ہوتے ہیں:

یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہے

حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات

رعنائیِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میں

گِرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہے

سُود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات

یہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُّر، یہ حکومت

پیتے ہیں لہُو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات

بے کاری و عُریانی و مے خواری و اِفلاس

کیا کم ہیں فرنگی مَدنِیّت کے فتوحات



پھر وہ استماریت کا پردہ چاک کرتے ہوئے ’’دوزخی کی مناجات‘‘ میں کہتے ہیں کہ بظاہریہ خطہ یورپی تاجروں کی غلامی سے آزاد ہے، لیکن اس اظہار میں ایک واضح طنزیہ آہنگ پوشیدہ ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا یہ آزادی واقعی حقیقی ہے یا محض ایک ظاہری دعویٰ۔’’سوداگرِ یورپ‘‘ دراصل یورپی استعمار کی علامت ہے، جس نے نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی اور ثقافتی سطح پر بھی محکوم اقوام کو اپنے زیرِ اثر رکھا۔ علامہ اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگرچہ نوآبادیاتی نظام کا ظاہری خاتمہ ہو چکا ہے، لیکن اس کے اثرات اب بھی معاشرے کی ساخت، معیشت، اور فکری رویّوں میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نظم کے دیگر اشعار، خصوصاً وہ شعر جس میں علم، حکمت، سیاست اور تجارت کو ’’فکرِ ملوکانہ‘‘ کی پیداوار قرار دیا گیا ہے، اس بات کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ موجودہ نظامِ فکر اور ادارے دراصل طاقتور طبقوں کے مفادات کے تحت تشکیل پاتے ہیں، اور ان میں استعماری ذہنیت کی جھلک باقی رہتی ہے۔ اس طرح نظم ایک مابعد نوآبادیاتی شعور کی حامل دکھائی دیتی ہے، جہاں آزادی کے رسمی دعووں کے پسِ پردہ موجود فکری اور معاشی غلامی کو بے نقاب کیا گیا ہے، اور قاری کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ آزادی کے حقیقی مفہوم کو ازسرِ نو سمجھنے کی کوشش کرے۔

اس دیرِ کُہن میں ہیں غرض مند پُجاری

رنجیدہ بُتوں سے ہوں تو کرتے ہیں خدا یاد

پوجا بھی ہے بے سُود، نمازیں بھی ہیں بے سُود

قسمت ہے غریبوں کی وہی نالہ و فریاد

ہیں گرچہ بلندی میں عمارات فلک بوس

ہر شہر حقیقت میں ہے ویرانۂ آباد

تیشے کی کوئی گردشِ تقدیر تو دیکھے

سیراب ہے پرویز، جِگر تَشنہ ہے فرہاد

یہ عِلم، یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارت

جو کچھ ہے، وہ ہے فکرِ مُلوکانہ کی ایجاد

اللہ! ترا شکر کہ یہ خطّۂ پُر سوز

سوداگرِ یورپ کی غلامی سے ہے آزاد!

اسی طرح ایک جگہ علامہ اقبال نے احیائے خودی کا تصور پیش کیا ہے کہ انسان کی اصل قوت اس کی باطنی بیداری اور خودی کی مضبوطی میں ہے، نہ کہ محض ظاہری علم، عبادت یا عقل میں۔علامہ واضح کرتے ہیں کہ حکمت، روحانیت، ذکر و مراقبہ اور حتیٰ کہ بلند عقل بھی اس وقت تک بے معنی ہے؛ جب تک وہ انسان کی خودی کو بیدار، محفوظ اور مستحکم نہ کرے۔ اسی طرح محض زبانی ایمان یا عقلی استدلال کافی نہیں، بلکہ دل کی کیفیت اور نگاہ کی بصیرت بھی ضروری ہے۔ مجموعی طور علامہ نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ خودی کی بیداری ہی فرد اور قوم کی حقیقی ترقی، وقار اور عمل کی بنیاد ہے، اور اس کے بغیر تمام ظاہری کمالات بے سود رہتے ہیں۔

یہ حکمتِ ملکوتی، یہ علمِ لاہُوتی

حرم کے درد کا درماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سُرور

تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں

یہ عقل، جو مہ و پرویں کا کھیلتی ہے شکار

شریکِ شورشِ پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

خِرد نے کہہ بھی دیا ’لااِلہ‘ تو کیا حاصل

دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

عجب نہیں کہ پریشاں ہے گفتگو میری

فروغِ صبح پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ احیائے خودی کے لیے عشقِ حقیقی، اور مردِ مومن کی تعمیرِ شخصیت لازم و ملزوم ہیں۔علامہ کے کلام میں ایسے ایسے لعل پوشیدہ ہیں جوانسان کو غلامی، کم ہمتی اور محض ظاہری علم و اقتدار سے نکال کر ایک ایسی باطنی قوت عطا کرنے کی دعوت دیتے ہیں جو اسے کائنات کے اسرار سمجھنے اور بلند مقام تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے۔مثلاً ایک جگہ عشق کو خود آگاہی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔علامہ کے مطابق جب انسان عشقِ حقیقی سے آشنا ہوتا ہے تو اس کی اپنی ذات کا شعور بیدار ہو جاتا ہے، اور وہ غلامی کی حالت میں بھی شہنشاہی کے راز سمجھنے لگتا ہے اور عشق انسان کے اندر آزادی، خودداری اور فکری بلندی پیدا کرتا ہے۔ پھر جب علامہ اقبال عظیم علمی و روحانی شخصیات جیسے عطّار، رومی، رازی اور غزالی کا ذکرکرتے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ اس بات کی طرف بھی توجہ مبذول کراتے ہیں کہ محض علم یا فلسفہ کافی نہیں جب تک انسان میں سحر کے وقت کی آہ و فغاں، یعنی اخلاص، درد اور روحانی تڑپ موجود نہ ہو۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حقیقی معرفت جذباتی اور روحانی تجربے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ بس یہی وہ نکتہ ہے جسے علامہ نے آرزو کہا ہے کیونکہ انسان کے دل میں جب تک آرزو پیدا نہ ہو اس کی داخلی صلاحیتیں بھی ظاہر نہیں ہوتیں اوراس کی حیثیت ایک جامد سنگ سی رہتی ہے لیکن جیسے ہی اس کی آرزو بیدار ہو تی ہے تو وہ بڑے بڑے معرکے سر کرنے کے اہل ہو جاتا ہے۔ایک جگہ علامہ اقبال نے اسی آرزو کو سامنے رکھتے ہوئے روحانی طور پر اعلیٰ مقام پر فائز انسان کے لیے ’’طائرِ لاہوتی‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے؛ اور روحانی بلند پرواز انسان کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ ایسی روزی یا زندگی سے بچنے کی کوشش کرے جو اس کی پرواز کو محدود کر دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی اصل زندگی وہی ہے جو اسے فکری، روحانی اور عملی بلندیوں کی طرف لے جائے، اور اگر کوئی چیز اس ترقی کو روک دے تو ایسی زندگی موت سے بھی بدتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فقر کو بادشاہی پر فوقیت دیتے ہیں۔علامہ کے نزدیک اصل عظمت دولت اور اقتدار میں نہیں بلکہ اس فقر میں ہے جس میں حضرت علیؓ جیسی جرأت، ایمان اور روحانی قوت موجود ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی طاقت اندرونی ہوتی ہے، نہ کہ ظاہری۔ گویا جب انسان فقر کو شاہی رکھ رکھاوٗ پر ترجیح دیتا ہے تو مرد مومن کہلاتا ہے۔ اور اس کی پہچان یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ حق گو، بے باک اور جرات مند ہوتا ہے۔ اس میں بزدلی، مصلحت پسندی اور منافقت کی کوئی جگہ نہیں۔ اللہ کے سچے بندے ہمیشہ سچائی اور اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔ المختصرعلامہ اقبال انسان کو اس بات کی طرف متوجہ کرتےہیں کہ اس کی اصل پہچان اس کی خودی، عشقِ حقیقی، فقرِ باوقار، اور اخلاقی جرات میں ہے۔ مادی دولت، ظاہری علم یا اقتدار اگر ان صفات سے خالی ہوں تو وہ بے معنی ہیں۔ حقیقی انسان وہی ہے جو اپنی خودی کو پہچانے، عشق سے منور ہو، اور حق گوئی و بے باکی کے ساتھ زندگی گزارے۔

جب عشق سِکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی

کھُلتے ہیں غلاموں پر اَسرارِ شہنشاہی

عطّارؔ ہو، رومیؔ ہو، رازیؔ ہو، غزالیؔ ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحَرگاہی

نَومید نہ ہو ان سے اے رہبرِ فرزانہ!

کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی

اے طائرِ لاہُوتی! اُس رزق سے موت اچھّی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اَولیٰ

ہو جس کی فقیری میں بُوئے اسَد اللّٰہی

آئینِ جوانمرداں، حق گوئی و بےباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں رُوباہی

اب اگر مندرجہ بالا بحث کو سامنے رکھا جائے تو فی زمانہ یہ تمام خصوصیات ایک ہی مرد قلندر میں دیکھی جاسکتی ہیں اور وہ شخصیت شہید خامنہ ای کے سوا کوئی اور نہیں۔ انہوں نے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی لیکن اپنی قوم کو شرمندگی سے بچا لیا۔ کیونکہ شہید خامنہ ای نے علامہ کے پیغام کو سمجھ لیا تھا۔ علامہ اقبال اسی لیے تو امت مسلمہ سے کبھی ناامید نہ ہوئے:

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

انقلابِ ایران کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس فکری روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی کیا۔ خامنہ ای کے فکری نکات میں درج ذیل عناصر نمایاں ہیں:

مزاحمتی بیانیہ

امتِ مسلمہ کا اتحاد

ثقافتی خودمختاری

نوجوانوں میں انقلابی شعور

دلچسپ امر یہ ہے کہ خامنہ ای خودعلامہ اقبال کے اشعار اور فکر سے متاثر رہے ہیں، اور انہوں نے متعدد مواقع پرعلامہ اقبال کو امت کا بیدار مغز مفکر قرار دیا۔

مندرجہ بالا بحث کے بعد نہایت وثوق کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ علامہ اقبال نے جس فکر کی آبیاری کی خامنہ ای نے اس کی عملی صورت امتِ مسلمہ کے سامنے رکھ کر شہادتِ حسین کی لاج رکھ لی۔

دریں حالات فکرِ اقبال اور علی خامنہ ای کے افکار کا تقابلی مطالعہ ایک نہایت اہم اور بصیرت افروز موضوع ہے، کیونکہ دونوں شخصیات اسلامی فکر، خودی، اور امتِ مسلمہ کی بیداری کے حوالے سے گہری وابستگی رکھتی ہیں، اگرچہ ان کے تاریخی، جغرافیائی اور عملی سیاق و سباق مختلف ہیں۔

سب سے پہلے علامہ اقبال کی فکر کو دیکھا جائے تو اس کا بنیادی نکتہ ’’خودی‘‘ ہے۔ ان کے نزدیک خودی انسان کی باطنی قوت، خود آگاہی اور تخلیقی صلاحیت کا نام ہے، جس کی بیداری کے ذریعے فرد اپنی تقدیر خود تراشتا ہے۔ اقبال عشقِ حقیقی کو خودی کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیتے ہیں اور ایک ایسے ’’مردِ مومن‘‘ کا تصور پیش کرتے ہیں جو بے خوف، خوددار، اور حق گو ہو۔ ان کی فکر زیادہ تر فکری، فلسفیانہ اور شاعرانہ انداز میں سامنے آتی ہے، جس کا مقصد مسلمان فرد اور امت میں روحانی و فکری انقلاب پیدا کرنا ہے۔

اس کے مقابلے میں خامنہ ای کی فکر ایک عملی اور انقلابی جہت رکھتی ہے، جو اسلامی انقلاب کے پس منظر میں پروان چڑھی۔ وہ اسلامی بیداری، مزاحمت، اور استکباری قوتوں کے خلاف جدوجہد پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلامی نظام کا قیام، سیاسی خودمختاری، اور ثقافتی استقلال بنیادی اہداف ہیں۔ وہ بھی نوجوانوں میں خود اعتمادی، خود انحصاری اور دینی شعور پیدا کرنے پر زور دیتے ہیں، جو کسی حد تک علامہ اقبال کے تصورِ خودی سے ہم آہنگ نظر آتا ہے؛ کیونکہ خامنہ ای براہِ راست علامہ اقبال کی فکر سے نہ صرف متفق تھے بلکہ اسی فکر کے نتیجے میں ان کے اندر خودی اور عملی خود مختاری کی صلاحتیں پروان چڑہیں جو بلآخر انہیں شہادت کے درجہ پر فائز کر گئیں۔

نیزدونوں مفکرین کے درمیان ایک اہم قدرِ مشترک ’’بیداری‘‘ ہے۔ علامہ اقبال جہاں فکری اور روحانی بیداری کی بات کرتے ہیں، وہیں خامنہ ای اس بیداری کو عملی، سیاسی اور اجتماعی سطح پر نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دونوں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے ناقد ہیں اور اسلامی اقدار کی بنیاد پر ایک خودمختار نظام کے حامی ہیں۔ اسی طرح دونوں کے ہاں نوجوان نسل کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔

مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ علامہ اقبال اور خامنہ ای دونوں اسلامی بیداری کے علمبردار ہیں، مگرعلامہ اقبال اس بیداری کے مفکر اور معمارِ فکر ہیں، جبکہ خامنہ ای اسے عملی میدان میں برتنے والے رہنما کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ دونوں کی فکر ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، جہاں علامہ اقبال کا فلسفہ بنیاد فراہم کرتا ہے اور خامنہ ای کا نقطۂ نظر اسے عملی شکل دینے کی کوشش کرتا ہے۔

المختصرفکرِ اقبال اور آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت ایک ہی فکری زنجیر کی کڑیاں معلوم ہوتی ہیں۔ایک نے امت کے اتحاد کا درس دیا، دوسرے نے اس فکر کو ایک حد تک حقیقت کا روپ دینے کی اپنی سی سعی کی۔عصرِ حاضر میں اگر مسلم دنیا اپنی کھوئی ہوئی شناخت اور قوت کو بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے علامہ اقبال کے فلسفۂ خودی اور خامنہ ای کے مزاحمتی نظریے کو سمجھنا اور اپنانا ہوگا۔

Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 169 Articles with 249274 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More