علامہ اقبالؒ: اثر پذیری، تخلیقی تشکیل اور فکری عظمت تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی۔۔۔آسٹریلیا گزشتہ دنوں ایک دوست نے احقرالعباد کوعلامہ اقبال ؒ پرلکھی گئی ایک تحریر ارسال کی اور ساتھ ہی ایک سوال پوچھا کہ”آپ کی نظرمیں اس تحریر کا حقیقت سے کیا تعلق ہے؟“ احقر العبادنے تحریر پڑھی تو اندازہ ہوا کہ اکیسویں صدی میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو اپنے آپ کو نقاد، شاعر، فلسفی اور ناجانے کیا کیا سمجھتے ہیں بلکہ اپنے تئیں ان شخصیات کے ہم پلہ ہی نہیں ان سے بھی بڑا مفکر سمجھتے ہیں؛جن کے تحقیقی و نظریاتی کا م سب کے لیے مشعلِ راہ ہیں احقر العبادنے فی الفور دوست کے سوال کا براہِ راست جواب تحریر کیا اور انہیں بھیج دیا ؛لیکن اس تحریر نے رات بھر بے چین رکھا اور احقرالعباد کویہ سوچنے پر مجبور بھی کردیا کہ: مہجوری! تجھ سے میرا ناطہ کبھی ایسا تو نہ تھا دل یوں نہ تھا ویران، زمانہ کبھی ایسا تو نہ تھا اس پس منظر میں موصوف(رفیع رضا) اور اُن جیسے بعض ناقدین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ علامہ محمد اقبالؒ محض ایک شاعر نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تہذیبی مفکر، مدبرِ اسلام، فلسفیئ خودی اور قرآنی بصیرت رکھنے والی شخصیت تھے۔ ان کی شاعری کا مطالعہ صرف چند مآخذات یا اقتباسات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ علامہ اقبالؒ کا فکری نظام ایک وسیع روحانی، فلسفیانہ اور قرآنی کائنات رکھتا ہے، جس تک رسائی ہر سطحی نقاد کے بس کی بات نہیں۔ احقرالعباد گزشتہ چار دہائیوں سے فکرِ اقبال کا طالبِ علم ہے، اور اس طویل مطالعے کے بعد یہی محسوس ہوا کہ اردو اور فارسی شاعری میں فکری رفعت، تہذیبی شعور، فلسفیانہ گہرائی، اور شعری مرصع سازی کے اعتبار سے علامہ اقبالؒ کا ہم پلہ شاعر مشکل ہی سے ملتا ہے۔علامہ اقبالؒ کا کلام محض الفاظ کا حسن نہیں بلکہ ایک زندہ فکری تحریک ہے۔ اُن کے یہاں قرآن، تاریخ، تصوف، فلسفہ، سیاست، ملت، انسان، عشق اور خودی سب ایک مربوط فکری نظام میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ فیض احمد فیضؔ جیسے عظیم شاعر، جن کا فکری زاویہ علامہ اقبالؒ سے مختلف تھا، انہوں نے بھی کبھی علامہ اقبالؒ کے مقام کو گھٹانے کی کوشش نہ کی۔ روایت ہے کہ جب کسی نے فیضؔ کوعلامہ اقبالؒ کے مقابل لا کھڑا کرنے کی کوشش کی تو وہ اس طرزِ تقابل پر ناگواری اور رنجیدگی کا اظہار کرنے لگے۔ یہ بڑے لوگوں کا ظرف تھا کہ اختلاف کے باوجود عظمت کا اعتراف باقی رہا۔اس کے برعکس بعض جدید نام نہاد ناقدین چند ماخوذ اشعار یا اثرات کی بنیاد پر علامہ اقبالؒ کے پورے فکری نظام کوترجمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رویہ علمی تحقیق کم اور فکری تعصب زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اگر اثر پذیری ہی عظمت کے انکار کی دلیل ہے تو دنیا کا کوئی بڑا شاعر اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔علامہ اقبالؒ نے خود اپنے فکری منابع کا اعتراف کیا، مگر جو چیز اُنہیں عظیم بناتی ہے وہ اخذ نہیں بلکہ تخلیقی تشکیل ہے۔ انہوں نے منتشر افکار کو ایک نئی روح، نئی معنویت اور نئی تہذیبی جہت عطا کی۔ بعض ناقدین شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ کی فکر کی بنیاد محض شعری صناعی نہیں بلکہ قرآنِ حکیم ہے۔ ان کا اصل سرچشمہ وہ قرآنی شعور ہے جس نے ان کے ہاں انسان کو شاہین، مومن، مردِ حر، اور خلیفہ ارضی کے استعاروں میں ڈھالا۔ اسی لیے ان کا کلام وقتی ادبی فیشن کا محتاج نہیں۔ وہ کل بھی زندہ تھا، آج بھی زندہ ہے، اور ان شاء اللہ آنے والے زمانوں میں بھی زندہ رہے گا۔کتنے ہی ناقد، معترض، اور وقتی شہرت کے طلبگار وقت کی گرد میں گم ہو گئے، مگرعلامہ اقبالؒ کا چراغ بجھ نہ سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ: یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی علامہ اقبال کی شاعری صرف ادب نہیں، ایک فکری امانت اور روحانی تحریک ہے۔ اس لیے اُن پر قلم اٹھانے سے پہلے صرف لغوی یا تقابلی مطالعہ کافی نہیں؛ قرآنی شعور، اسلامی فلسفہ، تاریخِ تہذیب، اورعلامہ اقبالؒ کے پورے فکری نظام پر گہری دسترس درکار ہے۔ ورنہ تنقید، تحقیق کے بجائے محض اعتراض بن کر رہ جاتی ہے۔ سطور ذیل میں محولہ تحریر کو سامنے رکھتے ہوئے احقر العباد ایک ہلکا سا تجزیہ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہے تا کہ نسل نو جب ایسے مضامین کا مطالعہ کرے تو قرطاس ابیض نہ ہو بلکہ ان کے سامنے ایسی حقیقت ہو جس کے مطالعہ سے ان کے دماغ کے در وا ہوں اور وہ تنقید برائے تنقید اور سچی ومثبت تنقید میں فرق روا رکھ سکیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ علامہ محمد اقبالؒ کے فکری اور شعری سرمائے کے بارے میں اس نوع کی آراء نئی نہیں ہیں۔ مستشرقین، جدید نقادوں، مارکسی ناقدین، اور مابعد نوآبادیاتی مفکرین نے بھی اقبال کے ماخذات پر گفتگو کی ہے۔ مگر کسی بھی بڑے شاعر یا مفکر کے مطالعے میں یہ بنیادی اصول پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ اثر پذیری، اکتساب، ترجمہ، اور تخلیقی تشکیلِ نو ایک دوسرے سے مختلف اصطلاحات ہیں۔علامہ اقبالؒ کے معاملے میں یہ فرق نظرانداز کر دیا جائے تو تنقید یک رخی ہو جاتی ہے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ علامہ اقبالؒ نے خود اپنے فکری مآخذات کبھی نہیں چھپائے (دیکھیے میرا مقالہ پی ایچ ڈی)۔ انہوں نے مولانا روم، گوئٹے، نطشے، بھرتری ہری، اور خوشحال خان خٹک سمیت درجنوں شعرا ء و فلاسفہ کا نام لے کر ان سے استفادے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ طرزِ عمل کسی فکری سرقے کا نہیں بلکہ ایک ایسے مفکر کا ہے جو انسانی تہذیب کو مشترک ورثہ سمجھتے ہیں۔ نیز ان کا یقین ِ کامل ہے کہ اس دنیا میں ازل تا ابد منفی سوچ رکھنے والے اور مثبت کردار کے حامل آتے رہے ہیں اور تاابد آتے رہیں گے۔ بانگِ درا کی ایک چھوٹی سی نظم بعنوان”ارتقا“میں اسی ابدی ازلی حقیقت کو آشکار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغِ مُصطفویؐ سے شرارِ بُولہبی حیات شُعلہ مزاج و غیور و شور انگیز سرِشت اس کی ہے مشکل کشی، جفا طلبی سکُوتِ شام سے تا نغمہئ سحَرگاہی ہزار مرحلہ ہائے فعانِ نیم شبی کشا کشِ زم و گرما، تپ و تراش و خراش ز خاکِ تِیرہ درُوں تا بہ شیشہ ئ حلبی مقامِ بست و شکست و فشار و سوز و کشید میانِ قطرہئ نیسان و آتشِ عِنبی اسی کشاکشِ پیہم سے زندہ ہیں اقوام یہی ہے رازِ تب و تابِ مِلّتِ عربی ”مغاں کہ دانہئ انگور آب می سازند ستارہ می شکنند، آفتاب می سازند“ یہ نظم فنی لطافت، فکرِعلامہ اقبالؒ، معنوی گہرائی، موسیقیت اور آفاقی صداقت کا ایک حسین امتزاج ہے۔ تاہم، اس کے الفاظ اور استعاراتی انداز کی پیچیدگی کے باعث اسے وہ عوامی مقبولیت حاصل نہ ہوسکی جو ان کی دیگر نظموں کو نصیب ہوئی۔ اس نظم میں علامہ اقبال ؒ نے ابو لہب کی قوت کو ایک معمولی ”شرارے“ سے تعبیر کیا ہے، جب کہ حضور اکرم ﷺ کی نسبت سے ”چراغ“ کا استعارہ استعمال کرکے حق، نور اور دائمی روشنی کی عظمت کو نمایاں کیا ہے۔ چراغ پائیدار روشنی کی علامت ہے، جبکہ شرارہ لمحاتی چمک کے بعد بجھ جاتا ہے۔ بعینہ وہ لوگ جو حکیم الامت پر طرح طرح کی موشگافیاں کرتے ہیں جیسے ان کی آنکھ بند ہوتی ہے زمانہ انہیں فراموش کر دیتا ہے۔علامہ اقبالؒ کا نام اس لیے زندہ ہے اور زندہ رہے گا کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو دربارِ رسول اللہ ﷺ میں بیچ دیا تھا اور غلامیئ رسول ﷺ جسے نصیب ہو جائے وہ مر کر بھی نہیں مرتا۔اس چھوٹی سی نظم میں علامہ اقبال ؒ نے زندگی کی کئی حقیقتیں آشکار کی ہیں، مثلاً زندگی کی حرکی اور انقلابی فطرت کا ذکر، رات کی خاموشی سے لے کر صبح کی نغمگی تک زندگی کی مسلسل بیداری اور اضطراب کا نقشہ، عظمت اور آزمائش، وغیرہ۔ المختصر یہ کہ اس نظم میں انہوں نے قوموں کی حیات اور ترقی کے رازکو مسلسل کوشش، محنت اور جدوجہد سے منسلک کیا ہے۔ جو قومیں راحت طلبی اور جمود کا شکار ہوجاتی ہیں، وہ تاریخ کے دھارے سے کٹ جاتی ہیں۔لیکن اس نظم کو یہاں لانے کا مقصد یہ ہے کہ بلاوجہ تنقید برائے تنقید کرنے والوں کو یہ باور کرایا جاسکے کہ علامہ ؒ جہاں کہیں کسی دوسرے شاعر یا فلسفی سے اپنے مطمعئ نظر کی وضاحت کے لیے کچھ مستعار لیتے ہیں تو اس کا ہمیشہ اقرار کرتے ہیں اور اہل علم و ادب اس بات سے بخوبی آگا ہ ہیں کہ نظم یا غزل میں جب تضمین لگائی جاتی ہے تو اس کا واضح مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ مصرع یا شعر شاعر کا نہیں بلکہ کسی دوسرے کا ہے اور علامہ اقبال ؒ اس سلسلے میں نہایت ہی ایماندار رہے ہیں۔چنانچہ اس نظم کا آخری شعر جو فارسی میں وہ علامہ اقبال ؒ کا نہیں ہے۔ اس طرح کی بیسویوں مثالیں کلام علامہ اقبال میں موجود ہیں۔اس نظم کے آخری شعر میں علامہ اقبال ؒ نے نامعلوم فارسی شاعر کے شعر کو اپنے فلسفہ ئارتقاء اور کشاکش کی تائید کے طور پر شامل کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال ؒکے کلام کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے صرف اردو زبان نہیں بلکہ فارسی ادب، اسلامی فکر اور استعاراتی اسالیب سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ ان کے اشعار معانی کے کئی جہات رکھتے ہیں، اور انہی جہات میں ان کی فکری عظمت پوشیدہ ہے۔ اب جہاں تک ”پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر“کا تعلق ہے، یہ درست ہے کہ اس کا بنیادی خیال بھرتری ہری کی حکمت سے قریب ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف خیال ہی شاعری ہوتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی بیشتر شاعری محض”نقل“قرار پاتی۔ اردو، فارسی، عربی اور مغربی شاعری میں ایک ہی خیال مختلف شعرا ء کے ہاں نئے آہنگ، نئی جمالیات اور نئے فکری تناظر کے ساتھ ظاہر ہوتا رہا ہے۔ خود میر تقی میر، غالب، اور فیض احمد فیض کی شاعری میں فارسی روایت کے سیکڑوں اثرات موجود ہیں۔ اس سے ان کی تخلیقی عظمت کم نہیں ہوتی۔ علامہ اقبال ؒکے ہاں اصل اہمیت”خیال کی تشکیلِ نو“کی ہے۔ بھرتری ہری کے قول میں ایک اخلاقی حکمت ہے، مگر علامہ اقبالؒ اسے اردو شعریت کے ایسے پیکر میں ڈھالا ہے جو تہذیبی حافظے کا حصہ بن گیاہے: پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر مردِ ناداں پہ کلامِ نرم و نازک بے اثر یہاں صرف ترجمہ نہیں بلکہ صوتی آہنگ، استعاراتی شدت، اور اخلاقی طنز کی نئی تشکیل موجود ہے۔اسی طرح”عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی“کو محض کسی سنسکرت مقولے کا عکس قرار دینا بھی سطحی بات ہے۔علامہ اقبالؒ کے ہاں ”عقل“اور”عشق“کی کشمکش ایک مستقل فلسفیانہ نظام رکھتی ہے، جس کی جڑیں مولانا رومؒ، اسلامی تصوف، قرآنی فکر، اور جدید یورپی فلسفے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ایک مصرع کو الگ کر کے پورے فکری نظام کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ علامہ اقبالؒ نے بعض جگہوں پر ترجمے یا ماخوذ نظموں کو واضح طور پر درج کیاہے۔ مثال کے طور پر”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری“کے بارے میں بعض محققین نے بچوں کی انگریزی دعائیہ نظموں سے مشابہت کی نشاندہی کی ہے، لیکن یہ کہنا کہ اس نظم میں علامہ اقبال ؒکی اپنی فکر صرف شعر کی بنت تک محدود ہے، علمی طور پر مبالغہ ہے۔کیونکہ علامہ اقبالؒ کے فلسفہ خودی کی اولین شکل اسی نظم میں موجود ہے اور ان کے بچوں کے تصورِ اخلاق، دعا، خودی، اور خدمتِ خلق کے عناصر ان کے پورے فکری نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ رفیع رضا صاحب نے حکیم الامت کے کل کلام ہی کو ترجمہ قرار دے دیا۔ احقر العباد ان کو باور کرانا چاہتا ہے کہ ان اپنے اقتباس میں ایک اہم مسئلہ ”تخلیق“ کے تصور کو حد سے زیادہ محدود کر دینا ہے۔ اگر ہر اثر پذیری کو”صرف ترجمہ“کہہ دیا جائے تو پھر:شیکسپیئر کے بیشتر ڈرامے قدیم قصوں سے ماخوذ تھے،دانتے نے مذہبی و کلاسیکی روایت سے استفادہ کیا،ٹی ایس ایلیٹ کی شاعری حوالوں سے بھری ہوئی ہے،اور مولانا رومؒ خود قرآن، حدیث اور سنائی و عطار سے گہرے طور پر متاثر تھے۔پھر کیا ان سب کو ”صرف مترجم“کہا جائے گا؟ اصل سوال یہ نہیں کہ علامہ اقبال ؒنے کہاں کہاں سے استفادہ کیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ انہوں نے ان افکار کو کس نئی روح، نئی معنویت، اور نئے تاریخی شعور کے ساتھ پیش کیا۔ علامہ اقبالؒ کا امتیاز یہ نہیں کہ انہوں نے خلا میں بیٹھ کر خیالات پیدا کیے، بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے مشرق و مغرب، اسلام و جدیدیت، تصوف و سیاست، اور فرد و ملت کے منتشر افکار کو ایک مربوط فلسفہ خودی میں تبدیل کیا۔ خوشحال خان خٹک سے علامہ اقبالؒ کی قربت بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ علامہ اقبالؒ نے پشتون حریت، جرأت اور خودداری کے عناصر کو سراہا، مگر ان کا پیغام صرف قومی نہیں بلکہ آفاقی بن گیا۔”ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند“صرف ایک شعری ترجمہ نہیں بلکہ علامہ اقبالؒ کے مردِ مومن، شاہین، اور تسخیرِ کائنات کے تصور سے جڑا ہوا استعارہ ہے۔ یہ اعتراض کہ ”ضیا الحق کے دور میں علامہ اقبال ؒ کو غیر ضروری طور پر بلند کیا گیا“، جزوی طور پر سیاسی استعمال کے تناظر میں قابلِ بحث ہو سکتا ہے۔ ریاستوں نے اکثر شعراء و مفکرین کو اپنے نظریاتی بیانیے کے لیے استعمال کیا ہے۔ مگر کسی مفکر کے ”ریاستی استعمال“اور اس کی”علمی قدر“میں فرق کرنا ضروری ہے۔ علامہ اقبالؒ کو محض ریاستی بیانیے کی پیداوار قرار دینا تاریخی ناانصافی ہوگی، کیونکہ ان کی فکر برصغیر، ایران، ترکی، افغانستان اور مغربی جامعات تک زیرِ مطالعہ رہی ہے۔تنقیدی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ: علامہ اقبالؒ کے مآخذات کو تسلیم کیا جائے،ان کے تخلیقی تصرف کو بھی سمجھا جائے،اور اثر پذیری کو سرقہ یا محض ترجمہ قرار دینے سے گریز کیا جائے۔ علامہ اقبالؒ کی عظمت ان کے بے مثال سینتھسیزمیں ہے۔ وہ تہذیبوں کے درمیان ایک پُل ہیں۔ ان کی شاعری میں سنسکرت حکمت، فارسی عرفان، قرآنی فکر، اور جدید فلسفہ ایک نئی شعری کائنات میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہی ان کا اصل کمال ہے۔ رفیع رضا صاحب کے مضمون کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ انہوں نے علامہ اقبالؒ کے مآخذات کی نشاندہی کی؛ علمی دنیا میں یہ ایک جائز اور ضروری عمل ہے۔ اصل مسئلہ اُن کے استدلال کا وہ لہجہ اور نتیجہ ہے جس میں تحقیق کم اور پیشگی ذہنی فیصلہ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ تنقید اُس وقت معتبر بنتی ہے جب وہ فکری دیانت، تاریخی تناظر اور ادبی اصولوں کے ساتھ آگے بڑھے، نہ کہ کسی عظیم ادبی شخصیت کوڈی کنسٹرکٹ کرنے کے شوق میں خود علمی توازن کھو بیٹھے۔ یہ کہنا کہ علامہ اقبالؒ”صرف ایک اچھے شاعر مترجم“تھے، دراصل شاعری اور فکر دونوں کی ماہیت سے ناواقفیت ہے۔ اگر اثر پذیری ہی کسی شاعر کی عظمت کے خاتمے کا معیار ہے تو پھر دنیا کی تقریباً پوری کلاسیکی روایت منہدم ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مولانا روم، حافظ شیرازی، شیکسپیئر، یا ٹی ایس ایلیٹ بھی محض”مترجم“تھے؟ اگر نہیں، تو علامہ اقبالؒ کے لیے یہ پیمانہ کیوں؟ رفیع رضا صاحب کے استدلال میں ایک دلچسپ تضاد بھی ہے۔ وہ ایک طرف کہتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ نے اپنے مآخذات خود بیان کیے، دوسری طرف یہ تاثر دیتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ کی عظمت خواہ مخواہ میں دورِ ضیا میں بڑھائی گئی۔ سوال یہ ہے کہ جو شاعر اپنے فکری منابع چھپا ہی نہیں رہا، وہ بددیانتی کیسے کر رہا ہے؟ بددیانتی تو تب ہوتی جب علامہ اقبالؒ خاموش رہتے اور دوسروں کے خیالات کو مکمل اپنی اختراع بنا کر پیش کرتے۔ رفیع رضا صاحب کی تنقید میں ایک اور کمزوری”خیال“اور”تخلیق“کو ایک ہی چیز سمجھ لینا ہے۔ شاعری صرف خیال نہیں ہوتی؛ اسلوب، تہذیبی شعور، علامت، صوتیات، استعاراتی نظام، اور فکری ربط بھی شاعری کا حصہ ہوتے ہیں۔”پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر“اگر صرف ترجمہ ہے تو پھر یہ مصرع آج بھی اجتماعی حافظے میں کیوں زندہ ہے جبکہ اصل سنسکرت متن محدود علمی حلقوں تک کیوں رہ گیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ علامہ اقبال ؒ نے محض الفاظ منتقل نہیں کیے بلکہ ایک نئی تہذیبی توانائی پیدا کی۔ رفیع رضا صاحب کا اندازِ استدلال بعض مقامات پر علمی تنقید سے زیادہ استغاثہ محسوس ہوتا ہے؛ یعنی پہلے نتیجہ طے کر لیا گیا کہ علامہ اقبالؒ کی اوریجنیلیٹی کم ثابت کرنی ہے، پھر شواہد اُس مقصد کے لیے جمع کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ علامہ اقبالؒ کے پورے فکری نظام__ خودی، عشق، ملت، اجتہاد، حرکت، اور قرآنی تصورِ انسان__کو تقریباً نظر انداز کر دیتے ہیں اور چند ماخوذ اشعار کو بنیاد بنا کر پورے شاعر کی حیثیت متعین کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص غالب کے فارسی اثرات گنوا کر اُن کی پوری شاعری کوفارسی کا اردو ترجمہ قرار دے دے۔ حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ پر اعتراض کرنے والے بعض ناقدین خود اُس فکری سطح تک نہیں پہنچ پاتے جہاں علامہ اقبالؒ سوال اٹھاتے ہیں کیونکہ علامہ اقبالؒ محض شاعر نہیں، تہذیبی مفکر ہیں۔ اُن سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ضرور کیا جانا چاہیے، مگر اُنہیں ”صرف مترجم“کہنا تنقید نہیں، ادبی بد دیانتی ہے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ رفیع رضا صاحب جیسے بعض ناقدین ”اثر پذیری“کو صر ف علامہ اقبالؒ کے خلاف استعمال کرتے ہیں، جبکہ یہی اصول دیگر شعراء پر لاگو نہیں کرتے۔ یہ سیلکٹو کریٹیسزم علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اگرعلامہ اقبالؒ کے یہاں سنسکرت، فارسی یا پشتو روایت کے اثرات ہیں تو یہی اثرات اردو کے تقریباً ہر بڑے شاعر کے ہاں موجود ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ نے انہیں ایک فعال فکری منصوبے میں تبدیل کیا۔ علامہ اقبال ؒ کی اصل عظمت یہ نہیں کہ اُنہوں نے ہر خیال پہلی بارپیدا کیا؛ بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے منتشر افکار کو ایک زندہ روح، ایک انقلابی شعور، اور ایک تہذیبی سمت عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام صرف ادبی نہیں بلکہ فکری اور تمدنی قوت بھی رکھتا ہے۔ رفیع رضا صاحب اگر واقعی علمی دیانت کے ساتھ علامہ اقبالؒ کا مطالعہ کریں تو شاید انہیں اندازہ ہو کہ علامہ اقبالؒ کی فکر کو کم کرنے کی کوشش میں وہ خود تنقید کے معیار کو محدود کر رہے ہیں۔ کیونکہ بڑے شعراء خیالات کے مالک نہیں ہوتے؛ وہ خیالات کو نئی تاریخ، نئی روح اور نئی زبان عطا کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور علامہ اقبالؒ اسی قبیلے کے شاعر ہیں۔
|