لفظ لڑائی سے ذہن میں آجکل چلنے والی خبریں ہی آتی ہیں۔اِن سب پر تو ہمارا بس نہیں صرف اپنی ذات پر ہے۔اِسی لئے تو دل چاہتا ہے کسی بس پر بیٹھ کر لمبی سی سیر کو چل پڑیں۔
جتھے نہ بندہ ہووے نہ بندے دی ذات
پر کیا کیا جائے ہم نے رہنا اِنھی لوگوں کے درمیان ہے اِسی لئے انکے ساتھ رہنا سیکھنا پڑتا ہے۔ 'سکھا کوئی کسی کو بھی کچھ نہیں سکتا جب تک وہ کوئی خود نہ سیکھنا چاہے'
|