قلم چھوڑ ہڑتال یا “قلم پہلے ہی چھوڑا ہوا نظام”؟

عجیب بات ہے کہ آج خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کے ملازمین “قلم چھوڑ ہڑتال” کر رہے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ آخر وہ کون سا قلم ہے جسے چھوڑا جا رہا ہے، کیونکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں تو پہلے ہی زیادہ تر دفاتر میں قلم کا استعمال صرف ایک رسمی سا شو پیس رہ گیا ہے۔اصل صورتحال یہ ہے کہ صوبے میں کام کا نظام پہلے ہی اس سطح پر پہنچ چکا ہے جہاں “قلم چھوڑنے” کی ضرورت کم اور “کام چھوڑنے” کی عادت زیادہ نظر آتی ہے۔ اب اگر کسی نے اعلان کر دیا کہ ہم قلم چھوڑ رہے ہیں تو عوام کا پہلا ردعمل یہی ہے: “بھائی آپ نے کب پکڑا تھا؟”

اگر آپ خیبرپختونخوا کے کسی بھی سرکاری دفتر کا دورہ کریں تو ایک دلچسپ سائنسی مشاہدہ سامنے آتا ہے۔ میز پر قلم تو موجود ہوتا ہے، مگر اس کا بنیادی استعمال صرف دو کاموں تک محدود ہوتا ہے: یا تو کوئی وزٹنگ کارڈ کو دبانے کے لیے یا پھر کسی فائل پر دستخط کرنے کے لیے۔اب دستخط بھی ایسا عمل بن چکا ہے جیسے کوئی قومی فریضہ نہیں بلکہ ایک میکانیکل ایکشن ہو۔ فائل آتی ہے، دستخط ہوتا ہے، فائل جاتی ہے۔ بیچ میں اگر کوئی کام ہو بھی جائے تو وہ اتفاقیہ سمجھا جاتا ہے، منصوبہ بندی نہیں۔

یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ صوبے میں کام کے دن کم اور چھٹیاں زیادہ ہیں۔ سات دن میں تین چھٹیاں ایک ایسا ماڈل ہے جس پر اگر کوئی ملک بنا لے تو شاید وہ سیاحت میں دنیا میں پہلے نمبر پر آ جائے۔اب ایسے ماحول میں اگر کوئی قلم چھوڑ ہڑتال کر رہا ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ ہڑتال کس چیز کے خلاف ہے؟ کام کے خلاف؟ یا اس یاد کے خلاف کہ کبھی واقعی کام بھی ہوتا تھا؟آج کا دور ڈیجیٹل ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت، کلاو¿ڈ سسٹم اور ای فائلنگ کی طرف جا رہی ہے۔ مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ فائل اب بھی ایک دفتر سے دوسرے دفتر “خود چل کر” جاتی ہے۔

کمپیوٹر صرف اس لیے رکھا گیا ہے کہ اگر کوئی مہمان آ جائے تو اسے دکھایا جا سکے کہ “ہمارا نظام بھی جدید ہے”۔ اصل کام پھر بھی وہی پرانی فائل، وہی پرانا رجسٹر اور وہی پرانی تاخیر ہے۔ایسے میں قلم واقعی ایک بے چارہ سا آلہ بن گیا ہے جو صرف اس وقت زندہ ہوتا ہے جب کوئی آڈیٹر یا فوٹوگرافر آ جائے۔ اب قلم چھوڑ ہڑتال کا نعرہ سن کر عام آدمی کے ذہن میں ایک سیدھا سوال آتا ہے: “آپ پہلے کون سا تیر مار رہے تھے جو اب چھوڑ دیا؟”

یہ ہڑتال بعض اوقات زیادہ ایک علامتی مزاح لگتی ہے، جیسے کوئی شخص اعلان کرے کہ میں آج سے سانس لینا بند کر رہا ہوں، حالانکہ وہ پہلے ہی آدھی زندگی آن لائن میٹنگز میں گزار رہا ہو۔اصل سوال یہ نہیں کہ قلم چھوڑا جا رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ قلم سے کام کب لیا جا رہا تھا؟

عوام کا ردعمل اس پورے معاملے پر تین مراحل میں تقسیم ہوتا ہے،،پہلا مرحلہ: حیرت، “یہ لوگ ہڑتال بھی کرتے ہیں؟”،دوسرا مرحلہ: ہنسی،“بھائی کام تو پہلے ہی بند ہے، ہڑتال کس چیز کی؟”تیسرا مرحلہ: تھکن،“چھوڑو یار، فائل پھر بھی نہیں ہلنی۔”، یہ تھکن دراصل وہ اصل حقیقت ہے جو ہر نئی ہڑتال کے بعد مزید گہری ہو جاتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ قلم چھوڑا جا رہا ہے یا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پورا نظام اس حالت میں پہنچ چکا ہے جہاں کام کا تصور ہی دھندلا گیا ہے۔ اگر کوئی واقعی کام کرنا بھی چاہے تو اسے سب سے پہلے سسٹم کی رفتار کے خلاف لڑنا پڑتا ہے، جو عام طور پر “زیرو” پر چل رہا ہوتا ہے۔ایک فائل کا سفر بعض اوقات اتنا طویل ہوتا ہے کہ لگتا ہے وہ سرکاری نہیں بلکہ بین الاقوامی سیاحتی منصوبہ ہے۔شروع دفتر سے ہوتی ہے، پھر سیکشن، پھر برانچ، پھر دوبارہ واپس، پھر کسی اور میز پر، اور آخر میں یا تو دستخط ہو جاتا ہے یا فائل اپنی عمر پوری کر لیتی ہے۔ اس پورے عمل میں قلم صرف ایک مختصر کردار ادا کرتا ہے، جیسے کسی فلم میں ایک اضافی اداکار۔

سوال جو کوئی نہیں پوچھتا اصل سوال یہ ہے کہ اگر قلم چھوڑ دیا جائے تو کیا واقعی کوئی فرق پڑے گا؟یہ سوال اتنا خطرناک ہے کہ اس کا جواب شاید کوئی دفتر نہیں دینا چاہتا۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ نظام پہلے ہی “قلم سے آزاد” ہو چکا ہے، صرف اس کا اعتراف باقی ہے۔

یہ پورا منظر کسی نتیجے سے زیادہ ایک آئینہ ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسئلہ صرف ہڑتال نہیں، بلکہ وہ پورا کلچر ہے جس میں کام ایک رسمی لفظ بن چکا ہے اور چھٹی ایک بنیادی حق نہیں بلکہ بنیادی معمول۔قلم چھوڑ ہڑتال شاید ایک دن ختم ہو جائے، مگر اصل سوال وہی رہے گا کیا واقعی کبھی قلم سے کچھ لکھا بھی جا رہا تھا، یا ہم سب صرف دستخطوں کے تماشے میں مصروف تھے؟ اور اگر جواب ہاں بھی ہو، تو اگلا سوال یہ ہے کہ وہ تحریریں آخر گئیں کہاں؟ اگر سادہ لفظوں میں کہا جائے تو صورتحال یہ ہے قلم چھوڑا نہیں جا رہا، صرف ایک ایسے نظام سے اعلانِ لاتعلقی کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی خود کو چھوڑ چکا ہے۔
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 999 Articles with 775806 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More