پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ — مہنگائی کا ایک نیا طوفان

نئی صبح :۔تحریر شیراز گل

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ — مہنگائی کا ایک نیا طوفان
حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں 14 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک کا عام شہری پہلے ہی شدید معاشی دباؤ، بے روزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ محض گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات براہِ راست ہر شعبۂ زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں زیادہ تر اشیائے ضروریہ کی ترسیل سڑکوں کے ذریعے کی جاتی ہے، وہاں ڈیزل کی قیمت بڑھنے کا مطلب ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافہ ہے۔ جب ٹرانسپورٹ مہنگی ہو گی تو سبزیاں، آٹا، چینی، دالیں، دودھ اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء خود بخود مہنگی ہو جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے ایک نئے طوفان کو جنم دیتا ہے۔
غریب آدمی جو پہلے ہی محدود آمدنی میں گھر کا نظام چلانے کی کوشش کر رہا ہے، اب اس کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ مزدور طبقہ، رکشہ ڈرائیور، چھوٹے کاروباری افراد اور دیہاڑی دار طبقہ اس اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ عوام کا کہنا ہے کہ تنخواہیں اور آمدن تو وہی پرانی ہیں مگر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے زندگی کا توازن بگڑتا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے اکثر یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث یہ فیصلے ناگزیر ہوتے ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس کا سارا بوجھ صرف عوام ہی کیوں اٹھائیں؟ کیا حکومتی اخراجات کم نہیں کیے جا سکتے؟ کیا اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات ختم نہیں ہونی چاہئیں؟ اگر حکمران طبقہ اپنی آسائشوں میں کمی کرے تو شاید عوام پر اس قدر بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہ پڑے۔
اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح پہلے ہی تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ بجلی، گیس، آٹا، چینی اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ ہو گا بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی اور صنعتی شعبہ مزید دباؤ کا شکار ہو گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقتی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی معاشی پالیسی اختیار کرے۔ عوام کو ریلیف دینے کے لیے ٹیکسوں میں کمی، پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری، مقامی وسائل کے استعمال اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی جیسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غریب طبقے کے لیے خصوصی سبسڈی اور ریلیف پیکج بھی متعارف کروانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مہنگائی کے اس طوفان کا مقابلہ کر سکیں۔
اگر حکومت نے عوامی مشکلات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو مہنگائی کا یہ بوجھ نہ صرف عوام کی قوتِ خرید ختم کر دے گا بلکہ معاشرتی بے چینی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے کمزور اور غریب طبقے کا سہارا بنے، نہ کہ ان پر مزید بوجھ ڈالے۔
تحریر: شیراز گل

 

sheraz gul
About the Author: sheraz gul Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.