گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات اور جماعتِ اسلامی کا سیاسی امتحان
(Sardar Muhammad Shoaib Saifi, Islamabad)
|
گلگت بلتستان کی سیاست ہمیشہ سے ایک منفرد سیاسی، جغرافیائی اور سماجی پس منظر کی حامل رہی ہے۔ یہاں کے انتخابی نتائج اکثر قومی سیاست سے مختلف رجحانات ظاہر کرتے ہیں، جہاں مقامی مسائل، علاقائی شناخت، برادری سسٹم اور ترقیاتی ترجیحات سیاسی فیصلوں میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ آئندہ انتخابات بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہیں، جن میں مختلف سیاسی جماعتیں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔ انہی جماعتوں میں جماعت اسلامی پاکستان بھی شامل ہے، جو نظریاتی سیاست کی نمائندہ ہونے کے ناطے ایک خاص سیاسی شناخت رکھتی ہے۔
جماعتِ اسلامی کی سیاست ہمیشہ سے اصولی، نظریاتی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی یہ جماعت اپنے مخصوص سیاسی بیانیے کے ساتھ موجود ہے، تاہم انتخابی میدان میں اسے اکثر محدود کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خطے کا وہ سیاسی ڈھانچہ ہے جس میں شخصیات، برادریاں اور مقامی اثر و رسوخ زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ نظریاتی سیاست کو نسبتاً کم پذیرائی ملتی ہے۔
گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ کچھ سالوں میں سیاسی طور پر زیادہ باشعور ضرور ہوئے ہیں، مگر انتخابی فیصلوں میں اب بھی زمینی حقائق فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ سڑکیں، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی انفراسٹرکچر جیسے مسائل ووٹر کے لیے زیادہ اہم ہیں، جبکہ نظریاتی نعروں کی اہمیت نسبتاً کم ہو جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں جماعتِ اسلامی کے لیے اپنی سیاسی جگہ بنانا ایک مسلسل چیلنج رہا ہے۔
تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جماعتِ اسلامی کے پاس ایک منظم تنظیمی ڈھانچہ اور نظریاتی کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ کارکنان ہر انتخاب میں جماعت کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جماعت کا بنیادی نعرہ اسلامی نظام، عدل اور شفاف حکمرانی ہے، جو ایک بڑی حد تک عوامی جذبات سے ہم آہنگ بھی ہے، لیکن عملی سیاست میں اسے ووٹ میں تبدیل کرنا ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔
گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک اور اہم پہلو مقامی اتحاد اور سیاسی مفاہمت ہے۔ اکثر اوقات بڑی سیاسی جماعتیں مقامی رہنماؤں کے ساتھ اتحاد کر کے انتخابی میدان میں اترتی ہیں، جس سے جماعتِ اسلامی جیسی نظریاتی جماعتوں کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ یہاں ووٹر اکثر پارٹی سے زیادہ امیدوار کی شخصیت کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے، جو جماعتِ اسلامی کے لیے ایک مستقل سیاسی چیلنج ہے۔
آئندہ انتخابات میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا جماعتِ اسلامی اپنی روایتی حکمتِ عملی کو برقرار رکھے گی یا کوئی نئی سیاسی حکمتِ عملی اختیار کرے گی۔ خاص طور پر نوجوان ووٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک اہم عنصر ہے۔ یہ نوجوان طبقہ اب سوشل میڈیا، تعلیم اور روزگار کے مواقع کو زیادہ اہمیت دیتا ہے اور روایتی سیاست سے کچھ حد تک دور ہوتا جا رہا ہے۔ اگر جماعت اس طبقے کو مؤثر انداز میں متوجہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے لیے نئے سیاسی امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
دوسری طرف گلگت بلتستان کی عوامی توقعات بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اب ووٹر صرف وعدوں پر یقین کرنے کے بجائے عملی اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے۔ انفراسٹرکچر کی بہتری، سیاحت کا فروغ، روزگار کے مواقع اور صحت و تعلیم کی سہولیات وہ بنیادی نکات ہیں جو انتخابی مہمات کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ اس ماحول میں جماعتِ اسلامی کو بھی اپنی سیاسی حکمتِ عملی میں عملی پہلو کو زیادہ نمایاں کرنا ہوگا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جماعتِ اسلامی کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے نظریاتی بیانیے کو زمینی حقائق کے ساتھ کیسے جوڑتی ہے۔ صرف نعرہ بازی یا روایتی سیاست اب کافی نہیں رہی، بلکہ عوامی مسائل کے عملی حل کو سامنے لانا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر جماعت اس سمت میں پیش رفت کرتی ہے تو اس کی انتخابی پوزیشن بہتر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاسی ماحول مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ نئی سیاسی جماعتیں، آزاد امیدوار اور بدلتے ہوئے اتحاد اس خطے کی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ایسے میں ہر جماعت کے لیے اپنی سیاسی موجودگی برقرار رکھنا ایک امتحان سے کم نہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے انتخابات گلگت بلتستان کے سیاسی مستقبل کے لیے نہایت اہم ہیں۔ یہ انتخابات نہ صرف سیاسی جماعتوں کی طاقت کا تعین کریں گے بلکہ عوامی رجحانات اور ترجیحات کو بھی واضح کریں گے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے لیے یہ انتخابات ایک موقع بھی ہیں اور امتحان بھی—موقع اس لیے کہ وہ اپنے نظریاتی پیغام کو نئی نسل تک پہنچا سکتی ہے، اور امتحان اس لیے کہ اسے زمینی سیاست کے سخت حقائق کا سامنا کرنا ہوگا۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ گلگت بلتستان کے عوام کو بہتر فیصلوں کی توفیق عطا فرمائے، ان کے انتخابی عمل کو شفاف اور بامقصد بنائے، اور جو بھی لوگ اخلاص، دیانت اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ میدانِ عمل میں ہیں، اللہ ان کی کوششوں میں برکت ڈالے۔ خاص طور پر جماعت اسلامی پاکستان اور دیگر تمام جماعتوں کو اگر وہ واقعی عوامی خدمت اور دیانت کے راستے پر قائم ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں استقامت عطا فرمائے اور ان کے ذریعے عوام کے مسائل میں آسانی پیدا ہو۔ اللہ کرے کہ گلگت بلتستان میں وہ قیادت سامنے آئے جو امن، ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہو۔ آمین۔ |
|