��������ملحد سائینسی نظریات
(Tariq Zafar Khan, Karachi)
باطِل مؤقف (ملحد سائینسی نظریات)، الذاریات کی روشنی میں:
سورہ الذاریات کی ابتدائی آیات کی تفسیر کے مندرجات کو فی ظلال قرآن میں جب پڑھا تو اسے بعینہی سائنس اور فلسفہ کے ان علماء کے احوال سے مطابق پایا جو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے اس عالمِ اسباب کے حوالے سے ان جزوی قوانینِ قدرت کے جال میں غلطاں و پیچاں ہیں جو انسانی حواس کے محدود دائرے میں اب تک آچکے ہیں، انہی حواس سے ادراک شدہ علمِ ناقص کی اساس پر یہی ملحد سائنسدان کائنات کی شروعات سے متعلق ایک نہ ختم ہونے والے بدلتے نظریات کا سلسلہ جاری وساری رکھے ہوئے ہیں جن کی "تصدیق" ہونے سے پہلے ہی یا کچھ دیر بعد کوئی اور دریافت اس "تصدیق" پر شکوک وشبہات پیدا کر دیتی ہے ۔ ذرا قطب شہید کی اس تفسیر کو مندرجہ بالا بیان کی روشنی میں پڑھیں تو مفسر کی زیرک اور حق شناس سوچ روزِ روشن کی طرح آشکار ہوتی ہے ۔ یہ فکر ہمارے قرآن مجید پر ایمان کو تازہ اور قوی تر کرتی ہے کہ ایمانِ بلا حجت رکھنے والے کو ہی اللّٰہ تعالیٰ بھٹکنے نہیں دیتا اور صحیح راستے پر گامزن رکھتا ہے ۔ ایسے ہی افراد کو اللَٰہ گمراہ ہونے نہیں دیتا ۔ سید قطب شہید فرماتے ہیں:
اچھے طریقے سے بنے ہوئے آسمان کی قسم اٹھا کر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے بارے میں تمہاری باتیں یکساں نہیں۔ تمہارے دلائل میں اضطراب ہے۔ ان میں نہ مضبوطی ہے اور نہ قرار ہے بلکہ یہ تمہاری باتیں حیرانی اور پریشانی کی عکاسی کرتی ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ان میں کوئی قرار وثبات نہیں بلکہ ہمیشہ حیرت اور قلق اور بےیقینی پر مشتمل باتیں ہیں اور باطل موقف ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ متزلزل اور متغیر اور آئے دن بدلنے والا۔ باطل ہمیشہ سرگرداں رہتا ہے۔ اس کے سامنے نہ نشانات راہ ہوتے ہیں اور نہ روشنی ہوتی ہے جس میں وہ راہ پر صحیح طرح چل سکے۔ پھر باطل کا کوئی اصول بھی نہیں ہوتا۔ وہ ڈولتا ہے کیونکہ اس کی کوئی مضبوط اساس نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی متعین پیمانہ ہوتا ہے۔ اگر اہل باطل کبھی کسی بات پر مجتمع ہوجائیں تو بھی ایک عرصے کے بعد وہ باہم لڑپڑتے ہیں اور ان کے درمیان اختلافات اور دشمنیاں قائم رہتی ہیں۔ اہل باطل کا اضطراب ، ان کا اختلاف اور ان کے متذبذب خیالات اس وقت اور اچھی طرح ہوجاتے ہیں جب ان کو نظام سماوی کے رنگ میں دیکھا جائے جو نہایت ہی مضبوط ہے اور جس کے حلقے ایک دوسرے سے پیوست ہیں اور مرتب ہیں۔ یہی بیان آگے جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ محض ظن وتخمین بلکہ وہم کی دنیا میں بستے ہیں۔ آخرت کے بارے میں ان کے خیالات حق ویقین سے ماخوذ نہیں ہیں۔ حق تو بالکل عیاں ہے لیکن اس موضوع پر ان کے افکار پریشاں ہیں۔
سائنس اور عقل کے موضوع پر سوچ بچار کرنے کے لیے اس لنک پر جائیں: https://youtu.be/hgGYnrvOKTQ?si=7n8EMcZ0Z9zVEnqF
|
|