اسلامی زوال کی ایک کڑی

:
مسجد کے جس مین کمرے میں اے سی اور پنکھے زیادہ لگے ہوئے ہیں وہ ایک گھنٹے یا ڈیڑھ گھنٹے بعد بند کر دیا جائے۔ صحن کا وہ حصہ یا پورشن جہاں پر وضو کرنے کی بھی جگہ ہو وہ حصہ 24 گھنٹے یا 12 گھنٹے کم از کم کھلا رہنا چاہیے۔ اگر ضرورت ہو تو سیکورٹی کیمرے بھی لگوائی جا سکتے ہیں تاکہ نگرانی کی جا سکے عشاء کی نماز کے دو گھنٹے کے بعد بند کر دینا چاہیے فجر تک۔ میری نظر میں یہ بہترین حل ہے۔
اسلامی زوال کی ایک کڑی!

(مسجدوں کا ایک گھنٹے کے بعد بند ہونا؟)

یوں تو ہمارے معاشرے میں انگنت برائیاں پروان چڑھ رہی ہیں انہی کے بیچ معاشرے میں حقیقی علم کا فقدان تیزی سے بڑھ رہا ہے. یعنی اصلی دین کا علم۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا ہمارے حکمران اس جانب توجہ مرکوز کرتے مگر افسوس انہوں نے اپنے اپ کو مسجدوں کے ممبروں سے ہٹا کر دنیاوی کاموں تک محدود کر لیا ہے دوسری جانب علماء اکرم بھی توجہ دلاتے مگر افسوس وہ بھی اس کام سے اپنی توجہ ہٹا دی. بہتی گنگا سے انہوں نے بھی ہاتھ دھونے کو ثواب سمجھا. اور رہی کسر عوام الناس سے پوری کر دی.
2۔ مسجد ایک درسگاہ:
قدیم معاشرے میں مسجد ایک درسگاہ کا کام کرتی تھی صحابہ کرام کی مثال ہمارے سامنے ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھ کر لوگوں کو علم سکھاتے تھے اور ان کی زندگی میں پیش انے والے مسائل کا ان کو حل بتاتے تھے مگر افسوس اج ایسا نہ ہو سکا
اج کے علماء اپنے اس قدیم پیشے سے وابستہ ہونے کے باوجود لوگوں کو حقیقی علم دینے سے قاصر رہے ہیں کیونکہ ان کو خود علم نہیں کہ معاشرے میں کیا چل رہا ہے. مزید یہ کہ وہ سنت سے ہٹ کر انہوں نے ہر کام کرنا شروع کر دیا ہے مثال کے طور پر اس ملک کے اندر ہر نماز کے بعد مسجد 45 منٹ یا گھنٹے کے بعد بند ہو جاتی ہے یہ اسلام پر انہوں نے ایسی کاری ضرب لگائی ہے جس کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑھ رہا ہے
3۔ علماء کے نظریات اور ماضی کا پس منظر :

ہر نماز کے ایک گھنٹے بعد یا 45 منٹ بعد مسجد بند کرنا علماء کی رائے میں درست اقدام ہے انہوں نے سکیورٹی وجوہات کو اعلی کار بنایا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اس جدید دور میں جنگ تقریبا نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر ہم پہلے کے زمانے کا مشاہدہ کریں تو یہ بات ہم بخوبی جان سکتے ہیں 1950 تک مسجدیں کھلی رہتی تھیں یعنی اباد رہتی تھی۔ خلفائے راشدین کے زمانے اس سے لے کر انیسویں صدی تک وہی نظام قائم رہا جبکہ اسی بیچ میں کئی جنگیں اور خانہ جنگی کے ادوار گزر چکے ہیں۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ پورے ملک کے علماء ایک صفحے پر موجود ہے کہ مسجد کو ایک گھنٹے بعد بند کر دینا چاہیے اوپر سے وہ فتوے بھی جاری کرتے ہیں حالانکہ اللہ کی کتاب کے اوپر کوئی شخص بھی فتوی جاری نہیں کر سکتا. "بقول ڈاکٹر اسرار کے ایک وقت آئے گا کہ آسمان کے نیچے سب سے بدترین مخلوق علماء کرام ہوں گے"۔

4۔ عام تاثر علماء کرام کا:
ان کے بقول مسجد کو نقصان سے بچانے یعنی چوری چکاری کے ڈر سے بند کرنا ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے لیکن 100 فیصد درست نہیں۔ یہاں میں ایک مثال دینا چاہوں گا ہمارے ملک میں 24 گھنٹے اے ٹی ایم کی مشینیں کھلی رہتی ہیں وہاں تو چوری چکاری کا ڈر نہیں ہوتا۔


5۔ مسجدوں اور مندر میں فرق ختم کرنا

میری نظر میں مندر اور مسجد میں صرف ایک چیز کا فرق ہے وہ یہ کہ مسجد میں اللہ کی عبادت کی جاتی ہے اور مندر میں بتوں کی عبادت کی جاتی ہے۔ باقی کوئی فرق نہیں۔ مہنگی سے مہنگی کلین اشیات مسجد اور مندروں میں رکھی جاتی ہیں چڑھاوے مندروں میں بھی چڑھا جاتے ہیں اور مسجدوں میں بھی۔ مندروں میں سونا چاندی اور قیمتی جواہرات لوگ نظرانے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اور اسی طرح مسجد میں مہنگے اے سی, خوبصورت پنکھے, اور جنریٹر وغیرہ کی سہولیات دستیاب ہوتی ہیں تاکہ ان میں جو مکین رہتے ہیں وہ سکون کے ساتھ رہ سکیں۔

6۔ مساجد اللہ کا گھر ہے:

اللہ کے گھر کو صاف ستھرا رکھنا چاہیے اور عبادت کرنے والوں کے لیے ہمیشہ کھلا رکھنا چاہیے قران پاک میں ہے ترجمہ: جو لوگ اللہ کے گھروں سے روکتے ہیں وہی ظالم ہے۔ قران پاک میں ایک اور جگہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو دلوں سے مومن ہیں۔ جو لوگ اس کی ویرانی کی کوشش کرتے ہیں انہی کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے۔
بے شک نماز اپنے مقررہ اوقات میں پڑھنا فرض ہے اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا لیکن مسجد کو بند رکھنا اور ایک گھنٹے تک پابندی لگانا شریعت میں کہیں بھی نہیں لکھا ہوا۔ اگر سکیورٹی وجوہات کا کوئی بہانہ بناتا ہے تو اس کو چوکیدار رکھنا چاہیے یا خادموں کی ڈیوٹی لگانی چاہیے جو کہ وہاں قیام پذیر ہوتے ہیں۔

7۔ نظریہ ضرورت کا پودا:
انہوں نے(یعنی علماء) سیاست دانوں کو دیکھتے ہوئے نظریہ ضرورت کا ایسا پودا لگایا جس سے پورے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا چلا گیا۔ 45 منٹ بعد یا گھنٹے کے بعد مسجد بند ہونا جس نے بھی فتوی دیا ہے وہ نظریہ ضرورت کے تحت دیا گیا ہے جس کو ہر علماء کرام نے فرض سمجھ کر ادا کیا اور یہ نہیں دیکھا کہ قرآن اس کے متعلق کیا ہدایت کرتا ہے۔ اپنی مکمل ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے انہوں نے نظریہ ضرورت کا پودا اگنے دیا۔ دوسری طرف میں صرف یہ کہوں گا ہر شخص کو خود کفیل ہونا چاہیے کہ وہ نماز بھی پڑھ سکے اور نماز جنازہ بھی صرف علماء پہ تکیہ کرنا سراسر غلط اقدام ہے جو کسی طرح بھی جائز نہیں

8۔ اس مسئلے کا حل:
مسجد کے جس مین کمرے میں اے سی اور پنکھے زیادہ لگے ہوئے ہیں وہ ایک گھنٹے یا ڈیڑھ گھنٹے بعد بند کر دیا جائے۔ صحن کا وہ حصہ یا پورشن جہاں پر وضو کرنے کی بھی جگہ ہو وہ حصہ 24 گھنٹے یا 12 گھنٹے کم از کم کھلا رہنا چاہیے۔ اگر ضرورت ہو تو سیکورٹی کیمرے بھی لگوائی جا سکتے ہیں تاکہ نگرانی کی جا سکے عشاء کی نماز کے دو گھنٹے کے بعد بند کر دینا چاہیے فجر تک۔ میری نظر میں یہ بہترین حل ہے۔

 

shah Nawaz Bokhari
About the Author: shah Nawaz Bokhari Read More Articles by shah Nawaz Bokhari: 157 Articles with 176065 views You will have to work hard to achieve success as there is no gain no pain. Subscribe my channel: @Bokhari786 on youtube (The Apex Court)
My hobbies
.. View More