دوسروں کا دل رکھنے کے فضائل


دوسروں کا دل رکھنے کے فضائل
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّـلٰوةُ وَالسَّـلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیٖن ط اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط
دُرُود شریف کی فضیلت
دوعالَم کے مالک و مختار،مکی مدنی سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ ذِی وَقار ہے: جس نے مجھ پر 100مرتبہ دُرُودِ پاک پڑھا اللہ پاک اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ نِفاق اور جہنم کی آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قیامت شُہَدا کے ساتھ رکھے گا ۔ ( مجمع الزوائد، 10/253،
حدیث :17298
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
بزرگ خاتون کی خوش قسمتی
ایک مرتبہ مدینۂ مُنَوَّرہ میں 1405ھ کی حاضری کے دوران حضرتِ علّامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کے)ایک پیر بھائی مرحوم حاجی اسماعیل نے یہ واقعہ سنایا کہ دو یا تین سال پہلے تقریباً 85 سالہ ایک حَجَّن
سُنہری جالیوں کے رُوبرو سلام عرض کرنے حاضر ہوئیں اور اپنے ٹوٹے پھوٹے اَلفاظ میں صلوٰۃ وسلام عرض کرنا شروع کیا،ناگاہ ایک خاتون کتاب سے دیکھ کر نہایت عمدہ اَلقاب کے ساتھ صلوٰۃ و سلام کا نذرانہ عرض کر رہی تھی ، یہ دیکھ کر بے چاری اَن پڑھ بوڑھی عورت کا دل ڈوبنے لگا،اس نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یَارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !میں تو پڑھی لکھی نہیں ہوں جو اچھے اچھے الفاظ کے ساتھ سلام عرض کر سکوں،مجھ اَن پڑھ کا سلام آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو کہاں پسند آئے گا! اس بوڑھی عورت کا دِل بھر آیا، رو دھوکر چُپ ہورہی۔ رات جب سوئی تو سوئی ہوئی قسمت اَنگڑائی لے کر جاگ اُٹھی! کیا دیکھتی ہے کہ سرہانے اُمَّت کے والی،سرکارِ عالی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لائے ہیں، لب ہائے مُبارَکہ کوجُنْبِش ہوئی،رحمت کے پھول جھڑنے لگے، الفاظ کچھ یوں ترتیب پا ئے : تم مایوس کیوں ہوتی ہو؟ سُن لو! ہم نے سب سے پہلے تمہارا سلام قبول فرمایا۔ اے عاشقانِ رسول!دیکھا آپ نے! پیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے غلاموں کی دلجوئی کا کتنا خیال فرماتے ہیں کہ کسی بھی طرح میرے غلام کا دل نہ ٹوٹے ۔ تم اُس کے مددگار ہو تم اُس کے طَرفدار جو تم کو نِکمّے سے نکمّا نظر آئے
اَخلاقِ نبوی کی ایک جھلک
پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہمیشہ اپنے غلاموں کا دِل خوش رکھتے اور کبھی کسی کا دل نہ توڑتے تھے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ جو تقریباً دس سال تک آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں رہے، فرماتے ہیں:میں دس سال خدمتِ اَقدس میں رہا لیکن کبھی بھی میرے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے کیوں کیا؟ اور یہ کام کیوں نہیں کیا؟ (ابو داود ،4/324،حدیث:4774ملتقطاً)
گردنیں پھلانگنا
بعض لوگ اس طرح بھی دوسروں کا دل دُکھاتے ہیں کہ تاخیر سے آنے کے باوُجود مسجد کی پہلی صَف میں نماز پڑھنے کے لیے پِچھلی صَفوں کو پھلانگتے اور دوسروں کو دَھکّے مارتے ہوئے وہاں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ، نہ جانے کتنوں کے دل توڑے،کتنوں کو دھکے دئیے اور کتنوں کو مَعاذَ اللہ! کُہْنی اور لات ماری حالانکہ ایسا کرنے سے واضح طور پر منع کیا گیا ہے ۔ چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے: جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اُس نے جہنّم کی طرف پُل بنایا۔ (ترمذی، 2/48،حدیث:513)
خوشی کا فرشتہ
مسلمان کے دل میں خوشی داخل کرنےکے کیا کہنے!چنانچہ حضرتِ علّامہ جلالُ الدّین سُیُوطی شافعی رحمۃُ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں:جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کےدل میں خوشی داخل کرتا ہے تو اللہ پاک اس خوشی سے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے جو اللہ پاک کی عبادت اور توحید بیان کرتا ہے اور پھر جب بندہ مر جاتا ہے تو یہ خوشی کا فرشتہ اس کی قبر میں آکر پوچھتا ہے :کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ بندہ کہتا ہے: آپ کون ہیں؟ تو خوشی کا فرشتہ جواب دیتا ہے:میں اس خوشی کی شکل ہوں جو تُو نے فلاں مومن کو عطا کی تھی، اب میں وَحْشَت (یعنی قبر کی گھبراہٹ )میں تجھے راحت پہنچاؤں گا، تجھے تیری حُجّت (یعنی مُنکَرنَکِیر کے سُوالات کے جوابات) بتاؤں گا ، قولِ ثابت(یعنی حق بات) سے تجھے ثابِت قدمی عطا کروں گا ، بروزِ قیامت تیرے پاس آکر تیری شفاعت کروں گا اور جنّت میں تجھے تیرا مقام دکھاؤں گا۔ ( شرح الصدور،ص 159)
دلجوئی کی ایک آسان صورت
اے عاشقانِ رسول!ہماری زندگی میں دلجوئی کے بہت سے ایسے مَوَاقع آتے ہیں جن میں کوئی پائی پیسا خرچ نہیں کرناپڑتا، کسی قِسم کی محنت نہیں کرنی پڑتی اور نہ ہی کوئی زحمت اٹھانی پڑتی ہے مثلاً کسی نے آپ سے کہا: ” مجھے فُلاں جگہ جانا ہے ایڈریس سمجھا دیجئے ۔“ اب اگر آپ نے مسکرا کر اُسے ایڈریس سمجھا دیا یا اس کے ساتھ دو قدم چل کر مطلوبہ گلی بتا دی تو یہ بھی مسلمان کی دلجوئی کی ایک صورت اور ثواب کا کام ہے۔ اسی طرح کوئی بےچارہ وزنی سامان اُٹھا کر سَر یا کندھے پر رکھنا چاہ رہا ہے مگر رکھ نہیں پارہا تو اُٹھا کر اس کے سر پر رکھوا دیجئے بلکہ ہو سکے تواپنے کندھے پر اُٹھاکر مطلوبہ مقام تک پہنچا دیجئے۔
یہ کچھ مثالیں ہیں چھوٹے چھوٹے ایسے کاموں کی جن میں ہمارا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا، مگر ان سے ایک مسلمان کے کام آ کر اور اُس کے دل میں خوشی داخل کر کے ہم اپنے لیے کتنی بڑی نیکی اپنے نامۂ اعمال میں شامل کر لیتے ہیں، اس کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
ایسے ہی ہم لوگ جب سڑک پر گاڑی لے کر نکلتے ہیں، تو کبھی سگنل پر یا ویسے ہی کوئی ہمیں اوور ٹیک کر جاتا ہے، یا غلطی سے کسی کی گاڑی لگ جاتی ہے۔ اُس وقت ہمیں اپنے غصّے پر قابو رکھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ ایسے مواقع پر ہم لوگ اپنا صبر ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ بدتمیزی کا طوفان کھڑا کر دیتے ہیں۔ اُس میں کتنے لوگوں کی دل آزاری ہو رہی ہوتی ہے، ہمیں اُس کی کوئی فکر بھی نہیں ہوتی۔
بازاروں میں دکاندار اور گاہک کے درمیان، اور محلّوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر جو میدانِ جنگ قائم ہو جاتا ہے، شاید اُس کو بیان کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ پھر ایک دوسرے کے گھروں کی خواتین، بچوں اور مردوں کی جو “عزّت افزائی” کی جاتی ہے، اللہ کی پناہ!
مزید یہ کہ کبھی گھروں اور گلی محلّوں میں بچوں کی آپسی لڑائی میں بڑے شامل ہو کر ایک دوسرے سے گالی گلوچ، مار دھاڑ اور جھگڑے شروع کر دیتے ہیں، اور کبھی تو سگے بھائی بہنوں کے آپسی رشتے ٹوٹتے تک دیکھنے میں آتے ہیں۔ حالانکہ جن بچوں کی وجہ سے بڑوں میں علیحدگی پیدا ہوتی ہے، وہی بچے کچھ وقت بعد آپس میں دوبارہ کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ہم اپنے آپ کو بہت عقل مند سمجھتے ہیں، مگر ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ کس مسئلے کو کس طریقے سے سلجھانا چاہیے۔ اُلٹا غصّے میں آ کر معاملہ سنوارنے کے بجائے زندگی بھر کا پچھتاوا اپنے ذمّے لے لیتے ہیں۔

20 سال تک نابینا رہے
حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد غَزالی رحمۃُ اللہ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ ایک نیک سیرت لڑکے کی ایک لڑکی سے نسبت (یعنی منگنی)قائم کی گئی جو بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت تھی،اچانک اس لڑکی کو چیچک کے دانے نکل آئے اور وہ بد صو ر ت ہو گئی۔اس لڑکی کے گھر والے گھبرا گئے کہ اب کیا ہو گا؟ اتنے میں اس لڑکی کے گھر والوں کو خبر پہنچی کہ دولہے کی بینائی آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگی ہےاور پھر اطلاع آئی کہ وہ نابینا ہوچکا ہے ۔لڑکی کے گھر والے مطمئن ہوگئے کہ اگر ہماری لڑکی کو بیماری لاحِق ہوگئی ہے تو لڑکا بھی نابینا ہو گیا ہے ،پھر ان دونوں کی شادی ہوگئی اور 20 سال تک خوشی خوشی گھر چلا۔20 سال بعد جب لڑکی کا انتقال ہوا تو اس نابینا کی آنکھیں روشن ہوگئیں،سب حیرت میں پڑگئے کہ ماجرا کیا ہے؟ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:اس لڑکی کو چیچک کی بیماری لاحِق ہوگئی تھی اور اس کے گھر والوں کا دل ڈوب گیا تھا تو میں نے ان کی دلجوئی کی خاطر 20 سال تک اپنے آپ کو اندھا کئے رکھا تاکہ ان کا دل نہ ٹوٹے۔ ( احیاء العلوم ،3/127مفہوماً)

محمود و اَیاز اور ککڑی کی قاش
منقو ل ہے، مشہور عاشقِ رسول بادشاہ، سلطان محمود غَزْنَوِی رحمۃُ اللہ علیہ کے پاس کوئی شخص ککڑی لے کر حاضِر ہوا۔ سُلطان نے ککڑی قبول فرما لی اور پیش کرنے والے کو انعام دیا ۔ پھر اپنے ہاتھ سے ککڑی کی ایک قاش تراش کر اپنے منظورِ نظر غلام ایاز کو عطا فرمائی۔ ایاز مزے لے لے کر کھا گیا۔پھر سلطان نے دوسری پھانک کاٹی اور خود کھانے لگے تو وہ اس قَدَر کڑوی تھی کہ زَبان پر رکھنا مشکل تھا ۔ سلطان نے حیرت سے ایاز کی طرف دیکھا اور فرمایا: ایاز! اتنی کڑوی پھانک تُو کیسے کھا گیا ؟ واہ ! تیرے چہرے پر تو ذرّہ برابر ناگواری کے اثرات بھی نُمُودار نہ ہوئے ؟ایاز نے عرض کیا:عالی جاہ! ککڑی واقِعی بَہُت کڑوی تھی۔ مُنہ میں ڈالی توعَقْل نے کہا : ” تھوک دے ۔“مگر عشق بول اُٹھا:”ایاز خبردار! یہ وُہی ہاتھ ہیں جن سے روزانہ میٹھی اَشیا کھاتا رہا ہے، اگر ایک دن کڑوی چیز مل گئی تو کیاہوا! اِس کو تھوک دینا آدابِ مَحَبَّت کے خلاف ہے لہٰذا عشق کی رہنمائی پرمیں ککڑی کی کڑوی قاش کھا گیا۔“ اللہ پاک کی اُن پر رَحْمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

بھلائی کے ساتھ بات کرنے کے سبب بخشش
شیخ سَعْدی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ایک شخص کا انتقال ہوگیا،اس کے انتقال کے بعد کسی نے اُسے خواب میں دیکھ کر پوچھا: مَافَعَلَ اللہ بِکَ یعنی اللہ پاک نے آپ کے ساتھکیا معاملہ فرمایا؟ جواب دیا:میں نے کبھی کسی کو ناراض نہیں کیا، ہر ایک کو خیر کے ساتھ یاد کیا اور بھلائی کے ساتھ بات کی تو اللہ پاک نے اس عمل کے سبب مجھے خوش کردیا اور میری بخشش فرمادی۔




 

Muhammad Salman
About the Author: Muhammad Salman Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.