17 مئی: ہائی بلڈ پریشر — ایک خاموش وبا اور ہماری اجتماعی غفلت
(Muhammad Arslan Shaikh, Karachi)
*از قلم : محمد ارسلان شیخ*
17 مئی کو دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure) سے متعلق آگاہی کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دل اور شریانوں کی بیماریاں اب کسی مخصوص عمر یا طبقے تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ایک عالمی صحتی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ مسئلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، مگر اس کی شدت کے مطابق اجتماعی سطح پر سنجیدگی اب بھی کم دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان میں دل کی بیماریاں اور ہائی بلڈ پریشر ایک خاموش وبا کی طرح پھیل چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس بیماری کا شکار ہیں، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ پاکستان بھی اسی رجحان کی لپیٹ میں ہے، جہاں غیر رسمی اندازوں کے مطابق شہری علاقوں میں ہر تیسرا یا چوتھا فرد کسی نہ کسی درجے میں بلڈ پریشر یا دل کے عارضے سے متاثر ہے۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ بیماریاں اب صرف بڑی عمر کے افراد تک محدود نہیں رہیں۔ نوجوان نسل بھی تیزی سے اس کا شکار ہو رہی ہے۔ غیر متوازن غذا، فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال، جسمانی سرگرمی کی کمی، ذہنی دباؤ اور نیند کی خرابی وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ روایتی گھریلو خوراک کی جگہ باہر کے غیر صحت مند کھانوں نے لے لی ہے، جن میں نمک اور چکنائی کی زیادتی وقت کے ساتھ دل اور شریانوں کو کمزور کر رہی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں احتیاطی صحت کے بجائے علاج کا رجحان زیادہ ہے۔ زیادہ تر افراد اس وقت ہی ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں جب بیماری شدت اختیار کر چکی ہوتی ہے، حالانکہ ہائی بلڈ پریشر ایک ایسی بیماری ہے جو خاموشی سے جسم کو نقصان پہنچاتی رہتی ہے۔
اسی تناظر میں کراچی کے معروف ادارے National Institute of Cardiovascular Diseases جیسے طبی مراکز کا ذکر کیا جائے تو وہاں کے ڈاکٹرز اور ماہرین اپنی انفرادی کوششوں سے سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر آگاہی پھیلا رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں ڈاکٹر فواد فاروق جیسے ماہرِ امراضِ قلب کی کاوشیں بھی قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا، لیکچرز اور ویڈیوز کے ذریعے مختلف اوقات میں ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ، اس کی بروقت تشخیص اور طرزِ زندگی میں تبدیلی جیسے اہم پہلوؤں پر بھرپور آگاہی فراہم کی ہے۔ ان کی یہ مسلسل علمی و طبی کاوش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عوامی صحت کے مسائل کے حل میں انفرادی سطح پر ڈاکٹروں کا کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے، اور ایسے اقدامات معاشرے میں شعور بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ملک بھر میں مختلف ہسپتال اور غیر سرکاری تنظیمیں (NGOs) بھی وقتاً فوقتاً آگاہی واکس، اسکریننگ کیمپس اور لیکچرز کا اہتمام کرتی ہیں، جو یقیناً قابلِ تحسین اقدامات ہیں۔
تاہم ایک اہم اور قابلِ غور حقیقت یہ ہے کہ ان تمام کوششوں کے باوجود اس دن کے حوالے سے وفاقی یا صوبائی حکومت کی سطح پر کوئی نمایاں، مربوط اور بڑے پیمانے کی سرکاری سرپرستی یا قومی مہم واضح طور پر نظر نہیں آتی۔ زیادہ تر سرگرمیاں انفرادی اداروں، ڈاکٹروں اور NGOز کے ہی حصے میں آتی ہیں۔
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو وقتی مہمات کے بجائے ایک مستقل قومی صحت پالیسی کے تحت لیا جائے |