تحریک کا استحکام ۔دیانت ، اصلاح اورجراتِ احتساب
(Farooq Tahir, Hyderabad - India)
یہ مضمون اس حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے کہ کسی بھی تحریک کی بقا اور مضبوطی صرف نعروں یا جذبات سے نہیں بلکہ **دیانت، اصلاحِ نفس، اجتماعی تربیت اور جراتِ احتساب** سے وابستہ ہوتی ہے۔ تحریک کا استحکام اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب اس کے افراد اخلاص، امانت اور اصول پسندی کو اپنا شعار بنائیں، اپنی کمزوریوں کی اصلاح کریں، اور حق و انصاف کی خاطر بے لاگ احتساب کا حوصلہ رکھیں۔ مضمون اس بات پر زور دیتا ہے کہ احتساب سے فرار تحریکوں کو کمزور کرتا ہے، جبکہ دیانت دار قیادت، مسلسل اصلاح اور جرات مندانہ خود احتسابی ہی کسی تحریک کو زندہ، مؤثر اور باوقار بناتی ہے۔
|
|
تحریک کا استحکام ۔دیانت ، اصلاح اورجراتِ احتساب فاروق طاہر ، حیدرآباد۔[email protected],9700122826 دینی و دعوتی تحریکیں محض افراد کے مجموعے یا انتظامی ڈھانچوں کا نام نہیں بلکہ نظریات، اخلاقی ذمہ داریوں اور اجتماعی امانت کی نمائندہ ہوتی ہیں۔ کسی بھی تحریک کی اصل قوت اس کے وسائل، دفاتر ادارے یا افرادی قوت نہیں بلکہ ا س کی اخلاقی ساکھ، دیانت دار قیادت، نظریاتی استقامت اور عوامی اعتماد ہوتا ہے۔جب کوئی تحریک یاتنظیم اپنے اندر امانت، شفافیت ،احتساب اور اصولوں پسندی کو روا رکھتی ہے تو تب وہ معاشرے میں اعتماد اور اثر پیدا کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔ لیکن جب ان اصولوں میں کمزوری پیدا ہو جائے تو تنظیمی قوت اور اخلاقی وقار دونوں بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔تاریخِ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ جب تک قیادت امانت و دیانت کے اصولوں پر قائم رہی ، اسلامی معاشرہ مضبوط اور مستحکم ہوا۔ جب ان اصولوں میں کمزوری آئی تو اجتماعی اعتماد متزلزل ہو گیا۔ اسی لیے قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ نے مالی معاملات، اجتماعی ذمہ داریوں اور امانت کے باب میں نہایت واضح اور سخت ہدایات دی ہیں۔اسلامی تعلیمات میں امانت اور عدل کو صرف اخلاقی فضیلت نہیں بلکہ اجتماعی نظم و قیادت کی بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کی روشنی میں عدل اور اصلاح قرآن مجید اسلامی معاشرے کی بنیاد عدل، احسان اورباہمی اصلاح پر قائم کرتا ہے۔ إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ (سورۃ النحل 16:90)امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ آیت شریعت کے بنیادی اصولوں کو جامع انداز میں بیان کرتی ہے کیونکہ عدل ہر حق کی ادائیگی اور ظلم کے خاتمے کا نام ہے۔ جبکہ احسان اس سے بھی بلند درجہ ہے جس میں انسان اپنے فرائض سے بڑھ کر خیر خواہی کا مظاہرہ کرتا ہے۔قرآن مسلمانوں کو باہمی اصلاح کا حکم دیتا ہے۔ فَأَصْلِحُوا بَیْنَ أَخَوَیْکُمْ(سورۃ الحجرات 49:10)امام قرطبی لکھتے ہیں کہ یہ آیت اسلامی معاشرے میں اجتماعی اتحاد اور اصلاح کی بنیاد ہے۔(الجامع لاحکام القرآن)۔ کسی بھی معاشرے میں اختلافات کا پیدا ہونا فطری امر ہے لیکن ان اختلافات کو عدل اور حکمت کے ساتھ حل کرنا اسلامی معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ قرآن اجتماعی تعاون پر بھی زوردیتا ہے وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَیٰ(سورۃ المائدہ 5:2)امام طبری کے مطابق اس آیت میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اجتماعی معاملات کو نیکی اور تقویٰ کی بنیاد پر قائم کریں اور ہر اس چیز سے بچیں جو ظلم، فساد یا بددیانتی کا سبب بن سکتی ہو۔مذکورہ بالاآیات واضح کرتی ہے کہ اجتماعی زندگی کا نظام خیر خواہی، دیانت اور تقویٰ پر قائم ہونا چاہیے۔ اگر کسی تنظیم یا تحریک میں یہ اصول کمزور پڑ جائیں تو اس کا داخلی نظم متاثر ہو جاتا ہے۔ قرآن تعلیمات کی روشنی میں امانت اور مالی دیانت قرآن مجید میں امانت کو ایمان کا بنیادی جزو قرار دیا گیا ہے۔ إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلٰى أَهْلِهَا (سورۃ النسا 4:58)۔امام طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس میں ہر قسم کی امانت شامل ہے، خواہ وہ مال ہو، منصب ہو یا اجتماعی ذمہ داری۔(تفسیر طبری)اسی طرح قرآن معاشی معاملات میں دیانت کا حکم دیتا ہے۔ وَأَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْط(سورۃ الانعام 6:152)۔امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں کہ یہ آیت معاشی انصاف کی بنیاد ہے اور اس میں ہر قسم کی مالی دیانت شامل ہے، خواہ وہ تجارت میں ہو یا اجتماعی مالی معاملات میں(تفسیر کبیر)۔قرآن مجید بار بار اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ مالی معاملات میں خیانت اجتماعی فساد کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے اسلامی معاشرے میں مالی دیانت صرف انفرادی اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ سنت نبوی ﷺ میں مالی دیانت رسول اللہ ﷺ نے مالی معاملات میں دیانت کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا(صحیح مسلم)’’جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔مَطْلُ الْغَنِیِّ ظُلْمٌ(صحیح بخاری)’’مالدار کا قرض واپس کرنے میں تاخیر کرنا ظلم ہے‘‘۔ایک اور حدیث میں فرمایا مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ یُرِیدُ أَدَائَہَا أَدَّی اللّٰہُ عَنْہ(صحیح بخاری)’’جو شخص لوگوں کا مال واپس کرنے کی نیت سے لیتا ہے اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔‘‘ امام نووی لکھتے ہیں کہ یہ احادیث ہر قسم کی مالی بددیانتی اور دھوکہ دہی کی شدید مذمت کرتی ہیں۔ ان احادیث کی شرح میں امام نووی لکھتے ہیں کہ اسلام مالی معاملات میں نہایت سخت احتسابی نظام قائم کرتا ہے تاکہ معاشرے میں اعتماد اور دیانت برقرار رہے۔(شرح النووی علی مسلم)۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ" ( صحیح بخاری و مسلم)یعنی منافق کی علامتوں میں ایک علامت یہ ہے کہ جب اسے امانت دی جائے تو وہ خیانت کرے۔ دنیا پر آخرت کو ترجیح دینا ایک مرتبہ حضرت عمرؓ رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور چٹائی کے نشانات آپ کی مبارک پیٹھ پر پڑ گئے ۔یہ منظر دیکھ کر حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا’’یا رسول اللہ! قیصر و کسریٰ اپنے محلات میں عیش کرتے ہیں اور آپ یہاں اس حالت میں ہیں؟‘‘رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟‘‘یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلامی قیادت کا اصل معیار سادگی، دیانت اور آخرت کی جواب دہی کا احساس ہے۔ قیادت کی شفافیت،حضرت ابوبکر صدیقؓ کی امانت داری خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کی زندگی بھی مالی دیانت کی عظیم مثال ہے۔جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے وصیت کی’’یہ پیالہ، یہ چادر اور یہ اونٹ مجھے بیت المال سے ملا تھا۔ میرے مرنے کے بعد انہیں بیت المال میں واپس کر دینا۔‘‘جب یہ اشیاحضرت عمرؓ کے پاس پہنچیں تو وہ رو پڑے اور فرمایا’’ابوبکر نے اپنے بعد آنے والوں کو مشکل میں ڈال دیا۔‘‘یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اسلامی قیادت میں امانت کا معیار کس قدر بلند تھا۔ یہ واقعہ اسلامی قیادت کے اس بلند معیار کو ظاہر کرتا ہے جس میں ذاتی اور اجتماعی مال کے درمیان واضح فرق قائم رکھا جاتا تھا۔ قیادت کا احتساب اور سوال کی آزادی: حضرت عمرؓ اور بدو کا واقعہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ خطبہ دے رہے تھے۔ اس دوران ایک بدو کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا’’ہم نہ آپ کی بات سنیں گے اور نہ آپ کی اطاعت کریں گے‘‘!حضرت عمرؓ نے پوچھا: کیوں؟اس نے کہا’’آپ کے پاس جو لمبا کرتا ہے وہ کیسے بنا؟ ہمیں تو بیت المال سے صرف ایک کپڑا ملا تھا۔آپ کا قد اونچا ہے اور ایک کپڑے میں ہمارا کرتا نہیں بن سکتا آپ کا کیسے بن گیا۔کیا آپ نے اپنے لیے زیادہ کپڑا رکھ لیا۔حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ سے فرمایا کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں۔عبداللہ بن عمرؓ نے بتایا کہ’’میرا حصہ میں نے اپنے والد کو دے دیا تھا تاکہ وہ اس سے کرتا بنوا سکیں۔‘‘یہ سن کر بدونے کہا’’اب ہم آپ کی بات بھی سنیں گے اور اطاعت بھی کریں گے۔‘‘یہ واقعہ اسلامی نظام میں عوامی احتساب اور سوال کرنے کی آزادی کی عظیم مثال ہے۔اسلامی تاریخ میں قیادت کے احتساب کی روشن ترین مثالیں خلافتِ راشدہ میں ملتی ہیں۔ خصوصاً حضرت عمر بن خطابؓ نے حکومتی ذمہ داران کے لیے ایک باقاعدہ احتسابی نظام قائم کیا تھا۔ تقرریسے پہلے مالی جائزہ حضرت عمرؓ جب کسی شخص کو گورنر یا کسی اہم منصب پر مقرر کرتے تو سب سے پہلے اس کے مال و دولت کی تفصیل درج کرواتے تھے۔مورخین لکھتے ہیں کہ یہ دراصل اسلامی تاریخ کا ابتدائی مالی آڈٹ نظام تھا(تاریخ الطبری، الطبقات الکبریٰ، البدایہ والنہایہ)۔اس کا مقصد یہ تھا کہ منصب ملنے کے بعد اگر کسی کے اموال میں غیر معمولی اضافہ ہو تو اس کا حساب لیا جا سکے۔ گورنروں کے احتساب کی نمایاں مثالیں،حضرت ابو ہریرہؓ کا احتساب حضرت ابو ہریرہؓ بحرین کے گورنر تھے۔ ان کے اموال میں اضافہ دیکھ کر حضرت عمرؓ نے ان سے اس کی وضاحت طلب کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مال گھوڑوں کی افزائش اور تجارت سے حاصل ہوا ہے۔ حضرت عمرؓ نے تحقیق کروائی اور احتیاطاً اس کا ایک حصہ بیت المال میں جمع کرا دیا(تاریخ الطبری، البدایہ والنہایہ) ۔یہ واقعہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی نظام میں احتساب کا معیار شخصیت نہیں بلکہ اصول ہوتے ہیں۔ سعد بن ابی وقاصؓ کی معزولی حضرت سعد بن ابی وقاصؓ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ قادسیہ کی عظیم فتح انہی کی قیادت میں حاصل ہوئی۔ حضرت عمرؓ نے انہیں کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔ کچھ عرصے بعد بعض لوگوں نے ان کے بارے میں شکایات پیش کیں۔حضرت عمرؓ نے فوراً تحقیق کا حکم دیا اور محمد بن مسلمہؓ کو کوفہ بھیجا۔ انہوں نے مساجد میں جا کر لوگوں سے پوچھا کہ سعدؓ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔اکثر لوگوں نے ان کی دیانت اور عدالت کی تعریف کی۔ ایک شخص نے الزام لگایا کہ وہ نماز اچھی طرح نہیں پڑھاتے۔ اس پر حضرت سعدؓ نے جواب دیا’’میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی طرح نماز پڑھاتا ہوں، رکوع و سجود میں کمی نہیں کرتا۔‘‘تحقیق کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ شکایات مضبوط نہیں تھیں، لیکن حضرت عمرؓ نے پھر بھی انہیں گورنری سے ہٹا دیا اور فرمایا’’میں نے تمہیں اس لیے نہیں ہٹایا کہ تم کمزور یا خائن ہو بلکہ اس لیے کہ لوگوں کے دلوں میں شبہ باقی نہ رہے۔‘‘یہ واقعہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ اسلامی نظام میں عہدہ شخصیت سے بڑا نہیں ہوتا بلکہ عوامی اعتماد سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ حضرت سعد بن عامر الجمحیؓ کا واقعہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں حمص کے گورنر حضرت سعد بن عامر الجمحیؓ تھے۔ ان کے بارے میں کچھ لوگوں نے شکایت کی کہ وہ صبح دیر سے باہر آتے ہیں۔رات کو لوگوں سے نہیں ملتے۔مہینے میں ایک دن مکمل طور پر گھر میں رہتے ہیں۔کبھی کبھی بے ہوش ہو جاتے ہیں۔حضرت عمرؓ نے فوراً انہیں مدینہ بلایا اور تحقیق کی۔حضرت سعدؓ نے وضاحت کی کہ صبح دیر سے آنے کی وجہ یہ ہے کہ گھر میں کوئی خادم نہیں، اس لیے میں خود گھر کے کام کرتا ہوں۔رات کو عبادت کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔مہینے میں ایک دن کپڑے دھونے کے لیے رکھتا ہوں۔بے ہوشی اس لیے ہوتی ہے کہ مجھے وہ منظر یاد آجاتا ہے جب میں اسلام سے پہلے حضرت خبیب بن عدیؓ کی شہادت کے وقت موجود تھا اور میں نے ان کی مدد نہیں کی تھی۔یہ سن کر حضرت عمرؓ رو پڑے اور فرمایا’’الحمد للہ! دنیا نے سعد کو نہیں بدلا۔‘‘یہ واقعہ اس بات کی عظیم مثال ہے کہ اسلامی قیادت میں تحقیق، انصاف اور دیانت کس قدر اہم تھی۔ مالی بددیانتی: تحریکوں کے لیے زہر قاتل ’’تحریک کی اصل قوت اس کی اخلاقی پاکیزگی ہے، اور جب جذبہ دیانت کمزور ہو جائے تو تحریک کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔‘‘اگر کسی تحریک کے اندر ایسے افراد موجود ہوں جومالی بددیانتی کے مرتکب ہوں،جماعتی اعتماد کو نقصان پہنچائیں،یا تحریک کواپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کریں،تب ایسے افراد کے خلاف کارروائی تحریک کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ ’’وہ شخص جو ملت کے سرمایے کی حفاظت نہ کر سکے ملی مفادات کا بھی تحفظ نہیں کر سکتا‘‘۔اس قسم کی بددیانتی کے تین بڑے نتائج سامنے آتے ہیں۔1۔ عوام کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔2۔ کارکنوں کا جذبہ ٹوٹ جاتا ہے۔3۔ مخالفین کو حملے کا موقع مل جاتا ہے بددیانت رہنماؤں کی پہچان تاریخ میں ایسے افراد بھی ملتے ہیں جو تحریکوں میں شامل ہو کر اسے اپنے ذاتی فائدے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ان کی چند علامات ذیل میں بیان کی جاتی ہیں۔ 1۔نظریے سے زیادہ مالی وسائل میں دلچسپی۔2۔تحریک کے تعلقات کو ذاتی تجارت ومفادات کے لیے استعمال کرنا۔3۔عہدوں کے ذریعے اثر و رسوخ اور دولت جمع کرنا۔4۔احتساب سے بچنے کے لیے گروہ بندی کرنا۔ خیانت پر قیادت کی خاموشی کے نتائج بددیانتی کا علم ہونے کے باوجود اگر قیادت خاموش رہے تو اس کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔1۔ تحریک کی اخلاقی بنیاد کمزور ہوجاتی ہے۔2۔ عوامی اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔3۔ داخلی انتشار بڑھ جاتا ہے۔4۔ دشمنوں کو پروپیگنڈا کا موقع مل جاتا ہے۔قرآن حکم دیتاہے وَلَا تَکْتُمُوا الشَّہَادَۃَ وَمَنْ یَّکْتُمْہَا فَاِنَّہٓ اٰثِمٌ قَلْبُہ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ (سورہ بقرہ (283اور گواہی کو نہ چھپاؤ، اور جو شخص اسے چھپائے گا تو بے شک اس کا دل گناہگار ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ خوب جانتا ہے۔ َ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا حکم رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’أفضل الجہاد کلمۃ حق عند سلطان جائر‘‘۔افضل جہاد ظالم حاکم یا امیر کے سامنے کلمہ حق و انصاف کہنا ہے۔یہ حدیث بتاتی ہے کہ حق بات کہنا ایمان کا تقاضا ہے۔ داخلی اضطراب اور بیرونی دشمن کسی بھی تحریک کے لیے سب سے خطرناک صورت حال وہ ہوتی ہے جب داخلی اختلافات عوامی انتشار میں تبدیل ہوجائیں۔قرآن مجید فرماتا ہے و َلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْہَبَ رِیحُکُمْ(سورۃ الانفال: 46)۔جب کسی تنظیم کے اندرونی معاملات کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ پوری تحریک مشکوک نظر آنے لگے تو بیرونی مخالفین کو موقع مل جاتا ہے اور وہ رائی کا پہاڑبنانے لگ جاتے ہیں۔ اصلاح کے نام پر نقصان بعض افراد بظاہر خیر خواہ ہوتے ہیں لیکن ان کا طرزِ عمل نقصان دہ بن جاتا ہے۔ وہ ہر معاملے کو عوامی بحث بنا دیتے ہیں۔یہ خیر خواہی نہیں تحریک کوسبوتاژ(تخریب کاری)کرنے کے مترادف ہے۔ بعض اوقات اصلاح کے نام پر ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جاتا ہے جو درحقیقت انتشار کا سبب بن جاتا ہے۔قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْۤا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ (سورۃ الحجرات: 6)۔خیر خواہی کے پردے میں یا پھر خیر خواہی کے جذبے سے نادانی میں ایک انتشار پیدا کردیا جاتا ہے۔کسی بھی تحریک سے وابستہ افراد کو اصلاح اور انتشار کے درمیان کے اس باریک فرق کا علم ہونا چاہیے اور اس تخریبی عمل سے اجتناب لازم ہے۔کیونکہ قرآن فرماتا ہے وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ(سورۃ البقرہ: 191) لائحہ عمل تنظیمی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ1۔ ہرمعاملے میں بالخصوص مالی معاملات میں مکمل شفافیت سے کام لیا جائے۔2۔ احتساب کا موثر نظام نافذ کیا جائے اور اس نظام سے کوئی بالا تر نہ ہو۔3۔ارکان کی دینی واخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔4۔کسی بھی ذمہ دار، ارکان و کارکنان کے ذاتی مفادات کے لیے تحریک کو استعمال کرنے یا اس کے استحصال سے تحریک کو محفوظ رکھاجائے۔5۔ اختلافات کو حکمت کے ساتھ فوری حل کرنا چاہیے۔ قرآ ن اور سنت کے مطابق قیادت عہدے یا منصب کا نہیں بلکہ امانت اور جواب دہی کا نام ہے۔ دیانت داری بالخصوص مالی دیانت کسی بھی تحریک کی اخلاقی بنیاد ہوتی ہے۔ شفافیت اور احتساب کا عمل اعتماد کو مضبوط بناتا ہے ۔اسی طرح اصلاح کاعمل تحریکوں کو زندہ رکھتا ہے۔جب تک یہ اصول زندہ رہتے ہیں تحریکیں مضبوط رہتی ہیں، اور جب یہ کمزور پڑ جاتے ہیں تو تحریکیں اندر سے ٹوٹنے لگتی ہیں۔ اس لیے ہر تنظیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر امانت، احتساب اور نظریاتی وفاداری کو زندہ رکھے۔اللہ تعالیٰ ہمیں امانت اور دیانت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین |
|