بلند پہاڑوں سے ابھرتی معاشی و سماجی ترقی کی نئی داستان
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
بلند پہاڑوں سے ابھرتی معاشی و سماجی ترقی کی نئی داستان تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
دنیا کے بلند ترین سطح مرتفع پر واقع چین کا شیزانگ خوداختیار علاقہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران نمایاں معاشی، سماجی اور بنیادی ترقی کے سفر سے گزرا ہے۔ قدرتی جغرافیائی مشکلات، سخت موسمی حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود اس خطے میں جدید انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، سیاحت اور صنعتی ترقی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ آج شیزانگ نہ صرف اپنی منفرد ثقافت، خوبصورت قدرتی مناظر اور روایتی ورثے کی وجہ سے توجہ کا مرکز ہے بلکہ جدید ترقی، سبز معیشت اور علاقائی رابطہ سازی کے ایک ابھرتے ہوئے ماڈل کے طور پر بھی سامنے آ رہا ہے۔
23 مئی کو شیزانگ کی پُرامن آزادی کی 75 ویں سالگرہ منائی گئی ہے۔ 23 مئی 1951 کو بیجنگ میں مرکزی حکومت اور شیزانگ کی مقامی انتظامیہ کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے بعد خطے میں ترقی اور جدیدیت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق 1951 میں شیزانگ کی مجموعی اقتصادی پیداوار صرف 129 ملین یوان تھی، جو 2025 تک بڑھ کر 303.19 ارب یوان تک پہنچ گئی۔ عالمی اقتصادی سست روی کے باوجود 2026 کی پہلی سہ ماہی میں شیزانگ کی اقتصادی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، جو قومی سطح پر سب سے زیادہ قرار دی جا رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار خطے کی معاشی مضبوطی اور ترقیاتی حکمت عملی کی کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں۔
چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کے ساتھ شیزانگ میں جدید اور خطے کے جغرافیے سے ہم آہنگ صنعتی نظام کی تشکیل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس حکمت عملی میں خصوصی زرعی پیداوار، مویشی بانی، صاف توانائی، ثقافتی سیاحت، سبز کان کنی اور جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد مقامی آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری لانا اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔
حالیہ برسوں میں شیزانگ نے اپنی مقامی خصوصیات کو استعمال کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ بعض علاقوں میں مقامی فصلوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر پراسیس کیا جا رہا ہے۔ جدید پیداواری لائنوں کے قیام کے بعد مقامی زرعی صنعت کی مالیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔
روایتی دستکاری کی صنعت بھی ترقی کر رہی ہے۔ بعض علاقوں میں روایتی خوشبودار مصنوعات اور مقامی ثقافتی اشیاء تیار کرنے والی چھوٹی ورکشاپس اب جدید پیداواری مراکز میں تبدیل ہو چکی ہیں، جن کی مصنوعات نہ صرف ملکی منڈی بلکہ بیرونی ممالک تک بھی برآمد کی جا رہی ہیں۔ اس عمل سے مقامی ثقافت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی تقویت مل رہی ہے۔
شیزانگ میں سیاحت کا شعبہ بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ قدرتی مناظر، مذہبی و ثقافتی ورثہ، روایتی تہوار، ثقافتی گلیاں اور رات کے سیاحتی پروگرام ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ مختلف ثقافتی و سیاحتی تقریبات ہر سال لاکھوں سیاحوں کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ 2025 میں شیزانگ میں 70.7 ملین سے زائد سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جبکہ سیاحتی آمدنی 81.68 ارب یوان تک پہنچ گئی۔
شیزانگ میں سیاحت کو صرف قدرتی مناظر تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ ثقافتی ورثے، روایتی فنون اور مقامی طرزِ زندگی کو بھی سیاحتی ترقی کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جس سے مقامی آبادی کو براہِ راست معاشی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔
انفراسٹرکچر کی ترقی بھی شیزانگ کی حالیہ پیش رفت کا اہم حصہ ہے۔ خطے میں ریلوے، شاہراہوں، لاجسٹک مراکز اور جدید ٹرانسپورٹ نظام کی تعمیر پر مسلسل کام جاری ہے۔ جنوبی ایشیا سے منسلک زمینی اور بحری راہداریوں کی بدولت شیزانگ علاقائی تجارت اور رابطہ سازی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں شیزانگ کے کسٹمز راستوں کے ذریعے چینی ساختہ تقریباً 12 ہزار 938 نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں برآمد کی گئیں، جو ایک ریکارڈ ہے۔ اسی طرح چھنگ ہائی۔شیزانگ ریلوے کے ذریعے سامان کی ترسیل میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ریلوے اب کوئلہ، تعمیراتی سامان اور زرعی مصنوعات کی تیز رفتار نقل و حمل کے لیے ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔
اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح کے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ شیزانگ میں اس وقت 15 سالہ مفت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے جبکہ جدید ڈیجیٹل تعلیمی پلیٹ فارمز بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ شہری اور دیہی علاقوں تک پھیلے پانچ سطحی طبی نظام کے ذریعے صحت کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں شیزانگ میں اوسط متوقع عمر 72.5 برس تک پہنچ گئی۔ 2012 سے 2025 کے دوران فی کس قابلِ تصرف آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور یہ خطے بھر میں 33 ہزار 600 یوان تک پہنچ گئی، جبکہ شہری آبادی کی اوسط آمدنی 58 ہزار 794 یوان اور دیہی آبادی کی آمدنی 23 ہزار 184 یوان ریکارڈ کی گئی۔
شیزانگ اس وقت صنعتی ترقی، جدید انفراسٹرکچر، سیاحت، سبز معیشت اور عوامی فلاح کے امتزاج سے ایک منفرد ترقیاتی ماڈل تشکیل دے رہا ہے۔ چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز کے ساتھ ہی یہ خطہ اعلیٰ معیار کی اقتصادی و سماجی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں خوشحالی اور پائیدار ترقی کو یکجا کرنے کی کوشش جاری ہے۔ |
|