نور محمد نور کپور تھلوی ۔۔ اک عہد بے مثال تحریر ؛ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار ( پی ایچ - ڈی )
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad, Pakistan)
نور محمد نور کپور تھلوی ۔۔ اک عہد بے مثال
تحریر ؛ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار ( پی ایچ - ڈی ' اردو )
|
|
|
نور محمد نور کپور تھلوی ۔۔ اک عہد بے مثال تحریر ؛ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار ( پی ایچ - ڈی ) |
|
نور محمد نور کپور تھلوی ۔۔ اک عہد بے مثال
تحریر ؛ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
نہ جگ میرا، نہ جگ تیرا... جوگی والا سب کا پھیرا" کچھ شخصیات تاریخ کے ماتھے پر ایسا جھومر بن کر چمکتی ہیں جن کی روشنی زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔ وہ علم و ادب کے افق پر ایک آفتاب کی مانند طلوع ہوتی ہیں اور اپنے افکار کی ضیا پاشیوں سے جہانِ دانش کے گوشے گوشے کو منور کر دیتی ہیں۔ اردو اور پنجابی زبان و ادب کے ایسے ہی ایک مایہ ناز درخشندہ ستارے، ممتاز ماہرِ لسانیات، مؤرخ اور صاحبِ طرز تخلیق کار کا نام نور محمد نور کپور تھلوی ہے۔ جب ستمبر ۱۹۹۷ء کی ایک تپتی دوپہر کو علم و ہنر کا یہ سر بہ فلک ہمالہ اجل کے ہاتھوں زمین بوس ہوا، تو ادبی حلقوں میں ایک ایسا اندھیرا چھا گیا جس کی تلافی ممکن نہیں۔ سات عشروں تک قرطاس و قلم سے رشتہ استوار رکھنے والا یہ جری تخلیق کار اگرچہ عدم کی بے پناہ وادیوں کی طرف رختِ سفر باندھ گیا، مگر ان کا اسلوب اور افکار آج بھی زندہ و جاوید ہیں۔ پاکستان کے ممتاز شاعر، ادیب ، ماہر لسانیات ، مؤرخ ، ماہرِ علم بشریات و فنونِ لطیفہ اور دانشور جناب نور محمد نور کپور تھلوی نے ۱۹ ستمبر ۱۹۹۷ء جمعہ کے روز دوپہر ڈیڑھ بجے فیصل آباد (لائل پور) پاکستان میں اس دھوپ بھری دنیا کو چھوڑ کر عدم کی بے پناہ وادیوں کی طرف رختِ سفر باندھ لیا۔ علم و ادب کا خورشید جہانِ تاب جو ۵/اگست ۱۹۱۷ء کو ہندوستان کے ضلع جالندھر کی ریاست کپور تھلہ کے ایک گاؤں نور پور راجپوتاں میں طلوع ہوا اور ۱۹ ستمبر ۱۹۹۷ء کو فیصل آباد پاکستان میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ فیصل آباد کے نواح میں واقع ایک گاؤں چک نمبر ۸۷ گ ب بابے دی بیر (براہ ڈجکوٹ) کی بے آباد زمین نے عالمی ادبیات کے اس آسمان کو ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں چھپا لیا۔ خرابات آرزو پر اس کی دائمی مفارقت کا غم اس طرح برسا کہ میرے وجود کی تمام توانائیاں کمزور پڑ گئیں۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور کچھ بھی تو سجھائی نہیں دیتا۔ آنکھوں سے جوئے خوں رواں ہے اور دل کی ویرانی کا اب کیا مذکور؟ الفاظ میرے ہونٹوں پر پتھرا گئے ہیں اور میں اپنے جذباتِ حزیں کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کرتے ہوئے دشواری اور دُکھ محسوس کر رہا ہوں۔ فرشتۂ اجل نے اس فطین، فعال، مستعد اور زِیرک تخلیق کار سے قلم چھین لیا جو گزشتہ سات عشروں سے تخلیق ادب میں ہمہ وقت مصروف تھا۔ نور محمد نور کپور تھلوی کا یہ لافانی شعر دنیا کی بے ثباتی کا نوحہ بیان کر رہا ہے ۔ نہ جگ میرا ، نہ جگ تیرا جوگی والا سب کا پھیرا دُنیا ہے اِک رین بسیرا اِک آئے ، اِک جائے بابا دُنیا اِک سرائے
گوئٹے نے کسی شاعر کے مرنے پر کہا تھا’’کہ شاعر کا مرنا آسمان پر جگمگاتے ہوئے ستارے کا مرنا ہے جس سے لوگ سمت نمائی اور روشنی حاصل کرتے ہیں‘‘۔ نور محمد نور کپور تھلوی چپکے سے یہ جہاں چھوڑ گئے۔ ہمارے عہد میں درخشندہ ستارہ ٹوٹ گرااور ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا۔ اردواور پنجابی زبان و ادب کے ہمالہ کی ایک سر بہ فلک چوٹی اجل کے ہاتھوں زمین بوس ہو گئی۔
نور محمد نور کپور تھلوی کی موت ایک فرد کی نہیں بلکہ ہماری نصف صدی کی تہذیب کی موت ہے۔ اُن کا جامع کمالات وجود اس ویرانے میں ایک ایسا بلند مینارۂ تابندہ تھا جو بہت دور سے دمکتا نظر آتا تھا۔ ان کی موت سے محفل ثقافت درہم برہم ہو کر رہ گئی ۔۔۔ایک کے بعد دوسرا مسافر اس جگہ آ جاتا ہے لیکن جناب نور محمد نور کپور تھلوی کی شخصیت اس قدر غیر معمولی تھی کہ اُن کی مسند خالی رہے گی اور سینہ علم وہنر سے حشر کے دن تک دُھواں اُٹھتا رہے گا۔ مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انساں نکلتے ہیں
بلند پایہ شاعر اور دانشور منظر فارانی اپنے ایک مضمون ’’نور۔۔۔کبھی نہیں مر سکتا‘‘ میں نور محمد نور کپور تھلوی کو نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں: ’’نور محمد نور کپور تھلوی اِس لیے مقدر کے سکندر ٹھہرے ہیں کہ اُن کی موت کے بعد بھی اُن کو زندہ رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔۔۔جس بندے کے رانا افتخار احمد جیسے ہونہار بیٹے ہوں جو اُس کے نام پر مسجدیں بنوا سکتے ہوں اور ڈاکٹر اظہار احمد گلزار جیسے مخلص اور ان تھک بھتیجے ہوں جو اُس کی یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے ادبی محفلیں سجانے کا حوصلہ رکھتے ہوں اور اُس کی پچیس تیس سالوں کی کمائی کی بکھری سطروں کو اکٹھا کر کے ’’کُلیاتِ نور‘‘ کی شکل دینے کا معجزہ دکھا سکتے ہوں۔۔۔وہ بندہ کبھی نہیں مرتا۔۔۔وہ زندہ رہے گا ، ہمیشہ زندہ رہے گا۔‘‘(۱۶)
سچ تو یہ ہے کہ اب دُنیا میں کہیں ایسا دانش ور دکھائی نہیں دیتا جسے نور محمد نور کپور تھلوی جیسا کہا جائے۔ نور محمد نور کپور تھلوی کا اسلوب لافانی ہے۔۔۔وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ دُنیا میں جہاں بھی بزمِ ادب سجے گی وہاں اُن کا ذکر ضرور ہو گااور ہر عہد کے ادب میں اُن کے اسلوب کے مثبت اثرات موجود رہیں گے ۔ علم و ادب کا یہ خورشید جہاں کبھی غروب نہیں ہو سکتا اور یہ کسی اور اُفق پر اپنے نام کی تفسیربن کر علم و نور کی تابانیاں پھیلا رہا ہو گا ۔ نور محمد نور کپور تھلوی اپنی ذات میں ایک انجمن اور دبستان ِ علم و ادب تھے۔ اُن کی وفات ایک بہت بڑا قومی سانحہ ہے۔ اس پر ہر دل سوگوار اور ہر آنکھ سے جوئے خوں رواں ہے۔ یہ دُنیا بلاشبہ دائم رہے گی لیکن نور محمد نور کپور تھلوی کی وفات کے بعد جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ اس جری تخلیق کار کی زندگی ستائش اور صلے کی تمنا سے بے نیاز پرورش ِ لوح وقلم میں گزری لیکن اُن کے افکار میں سمندر کی سی بے کرانی ہے۔ زندگی کا کوئی بھی عکس سامنے آئے ہر عکس میں ان کے خدوخال قلب و نظر کو مسخر کر لیتے ہیں۔۔۔اُن کی وفات کے بعد ادبی محفلوں میں ضُو فشاں چراغوں کی روشنی ماند پڑ گئی ہے اور وفا کے سب ہنگامے عنقا ہو گئے ہیں۔ حیف صد حیف ایک سراپا خلوص شخصیت نشیبِ زینۂ ایام پر عصا رکھتے ہوئے عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب سدھار گئی۔ تقدیر کے چاک کوسوزن تدبیر سے کبھی رفو نہیں کیا جا سکتا۔ دائمی مفارقت دے کر پیوند خاک ہونے والوں کے الم نصیب مداح اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سیر جہاں کا حاصل حیرت اور حسرت کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔۔۔۔قلم میں اتنی سکت نہیں کہ تقدیر کے ستم حرف حرف لکھ کر اپنے جذباتِ حزیں کا اظہار کر سکے۔
ڈاکٹر اِفضا ل احمد انور نے چودھری نور محمد نور کپور تھلوی کی وفات حسر ت آیات پر قطعہ تاریخ رقم کیا ہے: راہِ سُخن کا قائد ، نور محمد چودھری عابد ہے اور زاہد ، نور محمد چودھری تاریخِ رحلت اُس کی افضال انور نے کہی مغفور عبدِ واحد ، نور محمد چودھری 19.9.1997
ہماری محفل کے وہ آفتاب و ماہتاب جو غروب ہو گئے ہیں۔ ہم اُنھیں پرنم آنکھوں سے یاد کر کے اپنے دل کی انجمن میں اُن کی حسین یادوں کی شمع فروزاں رکھنے کی سعی کرتے ہیں۔ نور محمد نور کپور تھلوی سات عشروں سے زیادہ عرصے تک افق علم و ادب پر مثل آفتاب ضو فشاں رہے ۔ ان کے افکار کی ضیاء پاشیوں سے اکناف علم و ادب کا گوشہ گوشہ بقۂ نور ہو گیا۔ انسانیت کے وقار اور سربلندی کی خاطر انھوں نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ ان کی اصلاحی اور فلاحی خدمات نے خزاں کے بے شمار لرزہ خیز مناظر میں بھی طلوعِ صبحِ بہاراں کے امکانات کو روشن تر کر دیا ۔ دُنیا کا نظام ایسی ہی یگانۂ روز گار ہستیوں کا مرہونِ منت ہے، جن کا وجود شجرِ سایہ کے مانند ہوتا ہے۔ وہ خود تو آلام روزگار کی تمازت برداشت کرتے ہیں لیکن آنے والی نسلوں کے لیے سکون اور راحت کی ٹھنڈی چھاؤں کا اہتمام کرتے ہیں۔ آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے سبزۂ نورستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے
ان کی زندگی دردمندوں اور ضعیفوں سے محبت کی شاندار مثال تھی۔ آلام روزگار کے مہیب پاٹوں میں پسنے والی مجبور مظلوم اور بے بس و لاچار انسانیت کے مسائل پر وہ تڑپ اُٹھتے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی انھوں نے قلم و قرطاس سے اپنا تعلق برقرار رکھا۔موت ایک اٹل حقیقت ہے لیکن موت میں اتنا دم خم کہاں کہ ایسی ہفت اختر شخصیات کے اشہب قلم کی جولانیوں اور اصلاحی و فلاحی خدمات کی تابانیوں کو ماند کر سکے۔ جناب نور محمد نور کپور تھلوی نے اپنی تخلیقی فعالیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اصلاح اور مقصدیت کی جو شمع فروزاں کی وہ ہمیشہ ضُو فشاں رہے گی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی تابانیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔
اردو شاعری پر مبنی اُن کی تصانیف ’’زنبیلِ سخن‘‘ ،’’جہانِ رنگ و نور‘‘ اور ’’تھوہر کے پھول‘‘ کے علاوہ پنجابی شاعری پر مبنی ان کا ضخیم ’’کلیاتِ نور‘‘ اُنھیں شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار میں منفرد مقام پر فائز کریں گی۔
جب تک دُنیا باقی ہے اُن کا نام زندہ رہے گا ۔ حریتِ ضمیر سے جینے کی تمنا کرنے والوں کے لیے اُن کا کردار لائقِ تقلید رہے گا۔ زمانہ بڑے شوق سے سُن رہا تھا ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے
ممتاز نعت گو شاعر ، محقق اور سکالر پروفیسر ڈاکٹر اِفضا ل احمد انور نے نور محمد نور کپور تھلوی کی وفات پر منظوم تاثرات قلم بند کیے ہیں: دُنیا کو اُس نے چھوڑ دیا ہے خفا کے ساتھ واصل ہوا ہے نور محمد بقا کے ساتھ اُس کی ہر ایک بات کی تھی بات ہی الگ اُس کا ہر ایک کام تھا صِدق و صفا کے ساتھ آئے ہیں اُس کی زیست میں صد ہا تغیرات ثابت قدم رہا وہ دلِ باوفا کے ساتھ گو ایک شام اُس کی نظر بند ہو گئی دیکھا گیا وہ نورِ بصیرت فزا کے ساتھ اُس کا خلوص بے غرض و بے نیاز تھا دل اُس کا دھڑکتا دمِ اِتقا کے ساتھ رکھتا تھا اُس کا فقر بھی شانِ شہنشہی اُس نے بتائی زیست ہے صبر و رضا کے ساتھ اولاد ، بھائی ، دوست سبھی اُس سے خوش رہے ملتا تھا سب سے وہ دل درد آشنا کے ساتھ رکھیں گے یاد اہلِ ہنر دیر تک اُسے آیا وہ بزمِ شعر میں طرفہ نوا کے ساتھ سالِ وفات اُس کا ہے انورؔ نے یوں لکھا وہ ’’عظمتِ ادب‘‘ ہے سرِ ارتقا کے ساتھ
اُردو زبان و ادب کے ہمالہ کی ایک سر بہ فلک چوٹی اجل کے ہاتھوں زمین بوس ہو گئی۔ حریت فکر و عمل کا یہ عظیم علم بردار اب ہمارے درمیان موجود نہ رہا۔ 19ستمبر 1997ء کی دوپہر اردو ادب کا یہ خورشید جہاں تاب فیصل آباد (پاکستان) کے افق سے غروب ہو کر عدم کی وادیوں میں غروب ہو گیا۔ تاریخ اور اس کے مسلسل عمل پر گہری نظر رکھنے والا اتنا عظیم دانش ور جس خاموشی کے ساتھ زینۂ ہستی سے اُتر گیا ۔ اس پر ہر دل شدت سے سوگوار ہے اور آنکھ ساون کی طرح برس رہی ہے اور جذباتِ حزیں سے یہ صفحات لکھتے ہوئے میری آنکھیں اُن کی یاد میں بھیگ گئی ہیں۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ۔ جہاں بیٹھتے وہیں محفل لگا لیتے تھے۔ محفلوں کی جان تھے۔ جس محفل یا مجلس میں بیٹھ جاتے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کا فن اُن کو بخوبی آتا تھا۔ انھوں نے بڑی بھرپور اور کامیاب زندگی گزاری ہے۔ ان کی اولاد اﷲ کے فضل سے پڑھی لکھی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز کامیاب زندگی گزار رہی ہے۔ان کے بیٹوں نے ان کی یاد اور محبت میں اپنے آبائی گاؤں 87گ ب (بابے دی بیر) میں ’’جامع مسجد نورِ مدینہ‘‘ بنوائی ہے۔ جو اُن کی بخشش اور بلندیٔ درجات کا موجب بن رہی ہے۔ نو رمحمد نور کپور تھلوی اپنی آل اولاد سے خوش ہو کر ملکِ عدم کی طرف روانہ ہوئے۔ اپنے بچوں کی اچھی تربیت، اپنی بیوی کی فرمانبرداری پر وہ ہمیشہ فخر اور اﷲ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے رہے۔ اپنی ایک دُعائیہ غزل میں وہ اس شکرانے کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں۔یہ دُعائیہ غزل ان کے بڑے بیٹے کیپٹن محمد اکرم کے ہاں09-01-1988کی ایک دعوت کے موقع پر لکھی اور پڑھی گئی۔ نور کا باغ رہے سبز و سلامت مولا! اس پر آنچ آئے نہ تا روزِ قیامت مولا! منفرد بزم طرب ہو یہ زمانے بھر میں پیار ہی پیار ہو بس جس کی علامت مولا! اکرمؔ و اسلمؔ و افتیؔ حوالے تیرے ان کو رکھ شاد یہ ہیں تیری امانت مولا! سب کو اولادِ نرینہ کی ہے خواہش یارب ہو میرے جِیتے ہی یہ پوری کرامت مولا! اپنے ماں باپ کی خدمت میں رہیں یہ کوشاں اِن سے سرزد نہ کبھی کچھ ہو خیانت مولا! ہر جگہ ان کی دیانت کا سدا ہو چرچا ان پہ وا نہ ہوکبھی کوئے ملامت مولا! راہ جو نیک ہے اُس رہ پہ چلانا اِن کو میری اولاد سے ہے میری شناخت مولا! نظر حاسد کی نہ لگ جائے میرے گلشن کو کرم فرماؤ ، کرو اِس کی حفاظت مولا!
نور محمد نور کپور تھلوی کی وفات کے بعد لفظ ہونٹوں پر پتھرا گئے ہیں۔ ایسا فطین، زیرک دانشور کہاں سے لائیں گے جسے نور محمد نور کپور تھلوی جیسا کہا جا سکے ۔ نور محمد نور کپور تھلوی کی رحلت سے عالمی ادبیات کا ایک درخشاں عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔ انسانیت کے وقار اور سربلندی کی ایک عظیم روایت ختم ہو گئی ۔ پاکستان کے قومی تشخص کی علامت اور انسانیت کے وقار اور سربلندی کا مظہر نادر و نایاب کوہ پیکر ادیب ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا۔ حریتِ ضمیر سے جینے کی راہ دکھانے والے محبِ وطن کی وہ آواز جس نے دلوں کو جاوداں اور مرکز مہر و وفا کیا۔ اُس کی آواز سننے کے لیے کان اور دیکھنے کو آنکھیں ترس جائیں گی۔ جس نے علم و ادب کے لیے ابھی بہت ساری خدمات سرانجام دینی تھیں۔ اسی لیے اس نے بلند آواز میں موت سے التجا کی کہ’’ساہ لے موتے کاہلیے، میں اجے نہ ویہلی‘‘میرے ابھی بہت سے کام تشنہ تکمیل پڑے ہیں لیکن موت کے بے رحم ہاتھوں نے اس جری تخلیق کار سے ہمیشہ کے لیے قلم چھین لیا۔ موت وہ آفاقی سچائی ہے جس کو تمام مذاہب کے لوگ مانتے ہیں اور اس ابدی سچائی کے آگے ہر شخص ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔ یہ دُنیا یہ کائنات بے ثبات ہے ، سب کو موت کی شام میں کھو جانا ہے اور انسانی زندگی کا حاصل یہی ہے۔ انسان کی منزل وادیٔ خاموشاں ہی ٹھہری ہے۔
نور محمد نور کپور تھلوی کے ضخیم پنجابی شعری مجموعہ ’’کلیاتِ نور‘‘ میں ایک نظم ’’موت‘‘ اسی بات کی عکاسی کر رہی ہے جو خود اُن پر صادق آتی ہے ۔ ایسی ہوائے ستم چلی جس کے تندو تیز بگولے، پیمان وفا کے ہنگامے، ایثار ، دردمندی ، مروت اور بے لوث محبت کی سب داستانیں اُڑا کر لے گئے اور سچ بھی یہی ہے کہ ایسے زیرک ، فعال، مستعد اور ہمدر د انسان’’چراغِ رُخِ زیبا لے کر‘‘ بھی ڈھونڈنے نکلیں تو نہیں ملیں گے۔ ’’ڈھونڈو گے ہمیں مُلکوں مُلکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‘‘ دلوں کو مسخر کرنے والے بے لوث ، صداقت ، ایثار اور خلوص ووفا جیسے اوصاف کے حامل لوگ واقعی اب نایاب ہو گئے ہیں ۔ اپنے پنجابی دیوان ’’کلیاتِ نور‘‘ میں نظم ’’موت‘‘ میں انھوں نے یہاں اپنے فن کی جولانیاں دکھائی ہیں وہاں سراپا محبت چہروں کے بچھڑنے کا نوحہ بھی خوب صورت انداز میں بیان کیا ہے ۔ ایک ایک حرف سے آنسو رواں ہے۔ یہ نظم بھی اُن کی دیگر پنجابی نظموں کی طرح شہرتِ دوام حاصل کیے ہوئے ہے اور یہی اشعار اُن کی قبر کے کتبہ پر بھی کندہ ہیں۔ چن جہیاں صورتاں نوں مٹی نے لُکا لیا جِت دی اے موت جیہنے ساریاں نوں ڈھا لیا جگ اُتوں اوہلے ہوئیاں شکلاں پیاریاں کم سارے چھڈ اوہناں کیتیاں تیاریاں تکیا نہ پِچھے اوہناں واجاں اساں ماریاں کیہڑا سی اوہ بیلی جیہنے اوہناں نُوں بُلا لیا کیہنے ایس جگ وچ سدا بیٹھے رہنا اے اَت نہ سہیڑ بھائیا! میرا ایہو کہنا اے نورؔ تیرے کول بس عملاں دا گہنا اے رُسا ہویا رب جے توں ایہدے ناں منا لیا چن جہیاں صورتاں نوں مٹی نے لُکا لیا (ترجمہـ:چاند جیسی حسین صورتوں کو مٹی نے اپنے دامن میں چھپا لیا ہے ، موت ایک ایسی طاقت ہے جس نے بڑے بڑے سورماؤں ، بہادروں کو بھی شکست دے دی ہے۔ دُنیا سے بہت سے حسین چہرے غائب ہو گئے ہیں اور جنھوں نے اپنے کام چھوڑ کر عدم کی بے پناہ وادیوں میں پناہ لے لی ہے۔ ہم نے بچھڑنے والوں کو بہت آوازیں دیں مگر انھوں نے پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ اس فانی دُنیا میں کس نے ہمیشہ قیام کیا ہے اس لیے کسی کے لیے مصیبت کا باعث نہ بن اے بھائی! یہ دُنیا مسافر خانہ ہے۔ نور تیرے پاس نیک اعمال کا خزانہ ہے اور اس سے ہی تو اپنے مالک حقیقی کو راضی کر سکتا ہے ۔) تاحشر تیرے سائے کو ترسیں گی نگاہیں تجھ سے بچھڑنے کا وہم و گمان بھی نہ تھا
"زمانہ بڑے شوق سے سُن رہا تھا... ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے" الامان و الحفیظ! موت ایک ایسی تلخ اور آفاقی سچائی ہے جس کے آگے ہر ذی روح سرنگوں ہے، مگر نور محمد نور کپور تھلوی جیسے تاریخ ساز لوگ مر کر بھی فنا نہیں ہوتے۔ انہوں نے اپنی حیاتِ مستعار کا ایک ایک لمحہ حریتِ ضمیر، انسانیت کے وقار اور علم و ادب کی ترویج کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ان کی تصانیف ’’زنبیلِ سخن‘‘، ’’جہانِ رنگ و نور‘‘، ’’تھوہر کے پھول‘‘ اور ضخیم ’’کلیاتِ نور‘‘ اس بات کی گواہ ہیں کہ جب تک دُنیا میں بزمِ ادب سجتی رہے گی، ان کے اسلوب کے مثبت اثرات دلوں کو مسخر کرتے رہیں گے۔ وہ اپنی ذات میں ایک دبستان اور ایک بھرپور انجمن تھے، جن کی رخصت سے محفلِ ثقافت درہم برہم ہو کر رہ گئی۔ چودھری نور محمد نور کپور تھلوی اپنی فرمانبردار آل اولاد، مخلص رفقاء اور "جامع مسجد نورِ مدینہ" جیسے صدقہ جاریہ کی صورت میں آج بھی ہمارے درمیان ایک روشن مینارۂ نور بن کر موجود ہیں۔ اگرچہ تقدیر کے چاک کو سوزنِ تدبیر سے رفو نہیں کیا جا سکتا اور قلم ان کی دائمی مفارقت کا الم لکھنے سے قاصر ہے، مگر ان کا نام اور کردار آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ لائقِ تقلید رہے گا۔ بلاشبہ، وہ ایک ایسے نایاب انسان تھے جنہیں اب دُنیا "چراغِ رُخِ زیبا" لے کر بھی ڈھونڈے تو پا نہیں سکتی۔ آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے سبزۂ نورستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے |
|