وہ اپنی بھرپور کوشش کے باوجود اپنی جگہ سے ہل نہیں پا رہا تھا جبکہ اسے اپنی زندگی بچانے کے لئے صرف دو گز کی مسافت ہی طے کرنا تھی۔ اس کا تمام جسم شدید درد سے ٹوٹ رہا تھا اور اردگرد گزرنے والے افراد میں کچھ تو اسے دیکھ کر تھوڑی دیر کے لیے رک جاتے تاہم کسی نے میں بڑھ کر اسے تھامنے کی زحمت نہ کی۔ اس کی کراہوں میں درد کی شدت اور ہذیان کے ساتھ ساتھ بے بسی صاف ظاہر تھی۔ خون کی کافی مقدار ضائع ہونے کے باعث اس پر نقاہت کا غلبہ ہو چکا تھا چند لمحوں کے لیے اس کے تمام احساسات ختم ہو گئے تھے اور اس کی آنکھوں کے سامنے گھپ اندھیرا چھا گیا اور سانسوں نے بھی جیسے چلنے سے انکار کردیا تھا، کہ یکدم اسے شدید درد کا احساس ہوا اس نے نیم وا آنکھوں سے دیکھا کہ ایک نوجوان ہاتھوں پر پلاسٹک کا لفافہ چڑھا کر اسے سڑک کے کنارے کی طرف گھسیٹ رہا تھا اور ساتھ ہی اپنے دوست سے کہہ رہا تھا کہ "آج کل کے ڈرائیوروں کو پتا نہیں کس بات کی عجلت ہوتی ہے انسان تو انسان جانوروں کا دھیان بھی نہیں رکھتے، اب دیکھو! اس بیچارے کتے کی پچھلی ٹانگ بالکل ہی کچل ڈالی ہے"۔ یہ سن کر اس نوجوان کا دوست بولا! "اگر یہ بچ بھی گیا تو ہمیشہ کے لئے لنگڑا کتا کہلائے گا۔" |