سکرین کی غلامی اور ریکارڈ شدہ لمحات کا مرثیہ
(Dr. Imran Sabir, Islamabad)
|
سکرین کی غلامی اور ریکارڈ شدہ لمحات کا مرثیہ تحریر: عمران صابر برسوں پہلے کا ذکر ہے، فرانس کے ایک دور افتادہ پہاڑی گاؤں میں میری ملاقات ایک ضعیف فرانسیسی فلسفی سے ہوئی جو زندگی کے آخری ایام ایک قدیم لکڑی کے کیبن میں گزار رہا تھا ۔ اس کے پاس نہ تو کوئی جدید برقی آلہ تھا اور نہ ہی دنیا سے رابطے کا کوئی ذریعہ۔ میں نے حیرت سے پوچھا، ’’جناب! آپ اس تنہائی میں کیسے زندہ رہ لیتے ہیں؟ کیا آپ کو خوف نہیں آتا کہ دنیا آپ کو بھول جائے گی؟‘‘ بوڑھے فلسفی نے سگار کا ایک گہرا کش لیا، کھڑکی سے باہر برستی برف کی طرف دیکھا اور دھیمے لہجے میں بولا: ’’نوجوان! دنیا کا سب سے بڑا خوف یہ نہیں کہ دنیا تمہیں بھول جائے، بلکہ سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ تم خود کو بھول جاؤ اور خود کو یاد رکھنے کے لیے تمہیں دنیا کے گواہوں کی ضرورت پڑے۔‘‘ آج جب میں پاکستان کے ڈیجیٹل شورستان پر نگاہ دوڑاتا ہوں، تو مجھے وہ بوڑھا فلسفی شدت سے یاد آتا ہے ۔ آج ہم ایک ایسے ہولناک المیے کا شکار ہیں جس پر نہ تو اسمبلیوں میں شور مچتا ہے، نہ پریس کلبوں میں قراردادیں پاس ہوتی ہیں، اور نہ ہی ٹاک شوز کے میزبان اس پر دھواں دھار بحث کرتے ہیں۔ یہ المیہ ہے ’’ فکر ی اسقاطِ حمل کا‘‘ اور ’’بے نمائش وجود کی موت کا‘‘۔ انسان کی ہزاروں سالہ تاریخ میں تمدن کا سب سے خوبصورت اثاثہ وہ خلوتِ فکر تھی جہاں انسان اپنے خدا، اپنی روح اور اپنے باطن سے مکالمہ کرتا تھا۔ ماضی کا انسان جب کسی جنگل سے گزرتا اور ایک مسحور کن غروبِ آفتاب کا منظر دیکھتا، تو وہ اس لمحے کو اپنی آنکھوں کے راستے روح کے نہاں خانے میں اتار لیتا تھا۔ وہ لمحہ اس کا ذاتی اثاثہ بن جاتا تھا ۔ لیکن آج کا المیہ دیکھیے! اب اگر کافی کا مگ میز پر سجا ہو، تو وہ حلق میں اترنے اور معدے کا حصہ بننے سے پہلے کیمرے کی بے رحم آنکھ سے گزرتا ہے۔ کافی کی سوندھی خوشبو اب ناک کے احساس کے لیے نہیں، بلکہ انسٹاگرام کی ریلز پر ویوز اور لائیکس بٹورنے کے لیے کشید کی جاتی ہے۔ اگر کوئی خوبصورت منظر سامنے آ جائے، تو ہم اسے جینے سے پہلے اپنے موبائل کی سکرین میں قید کرتے ہیں، جیسے ہمیں یہ خدشہ لاحق ہو کہ اگر اس لمحے کا ریکارڈ ڈیجیٹل دنیا میں اپ لوڈ نہ ہوا، تو ہمارا وجود ہی مٹ جائے گا! ہم نے اپنے احساسات، اپنی خوشیوں اور اپنے دکھوں کو سکرین کا غلام بنا دیا ہے۔ یہ ایک ایسا نفسیاتی زوال ہے جہاں انسان کا باطن مکمل طور پر بنجر ہو چکا ہے کیونکہ اس کے پاس اب کوئی ایسا لمحہ ہی نہیں بچا جو صرف اس کا اپنا ہو، جسے اس نے دنیا کے سامنے لبرل یا رجعت پسند طبقے کی واہ واہ کے لیے پیش نہ کیا ہو۔ مشتاق احمد یوسفی صاحب نے اپنے مخصوص شگفتہ اور کاٹ دار انداز میں ’چراغ تلے‘ میں لکھا تھا کہ وہ تاجروں کی دل سے عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ بڑی خوش اسلوبی سے دو اور دو کو پانچ کر لیتے ہیں۔ کاش یوسفی صاحب آج زندہ ہوتے اور دیکھتے کہ ہمارے ڈیجیٹل تاجروں نے ہمارے اکیلے پن، ہماری خاموش سسکیوں اور ہماری نامکمل مناجات کا سودا کر کے دو اور دو کو پچاس بنا دیا ہے! یوسفی صاحب نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اژدھا سالم نگلتا ہے، شارک دانتوں سے خون کر کے کھاتی ہے، اور مچھر حسبِ مقدور خون کی چسکی لگاتا ہے ۔ آج کا یہ سکرین نامی اژدھا ہماری سوچنے کی صلاحیت کو سالم نگل چکا ہے ۔ رحیم بخش کو چوان سے مسکین کوئی نہ تھا، لیکن اس کے باطن کی جو امانتیں تھیں، وہ انکم ٹیکس کے ڈبل کھاتوں سے زیادہ محفوظ تھیں۔ مگر آج کے رحیم بخش کے پاس اپنی روح کی چوری بچانے کا کوئی راستہ نہیں، وہ اپنے ہر نجی آنسو کو فیس بک کے اسٹیٹس کی چتا پر جلانے پر مجبور ہے ۔ محمد حسن عسکری نے پچھلی صدی کے وسط میں ’استعارے کے خوف‘ کا رونا رویا تھا اور لکھا تھا کہ نوآبادیاتی جدیدیت نے ہمارے تخیل کو بانجھ کر دیا ہے۔ اگر آج عسکری صاحب ہمارے درمیان ہوتے، تو وہ لکھتے کہ اب ہمیں ’باطن کا خوف‘ لاحق ہو چکا ہے۔ ہم اکیلے بیٹھنے سے کتراتے ہیں کیونکہ جب موبائل فون کی سکرین تاریک ہوتی ہے، تو اس کے سیاہ شیشے میں ہمیں اپنا ہی چہرہ ایک اجنبی بھوت کی طرح دکھائی دیتا ہے ۔ ہم اس خاموشی کا بوجھ اٹھانے کے سکت سے محروم ہو چکے ہیں ۔ اگر ہم حسن نثار صاحب کے بے لچک اور تیکھے اسلوب کی عینک لگا کر دیکھیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ہم نے ماتم کرنے کی صلاحیت بھی کھو دی ہے اور اب ہم صرف تماش بین بن چکے ہیں ۔ یہ کس قدر غلیظ اور نوحہ کناں منافقت ہے کہ سڑک پر کسی غریب کا حادثہ ہو جائے، تو وہاں کھڑا ہجوم مقتول کو ہسپتال پہنچانے کے بجائے اپنے کیمرے کھول لیتا ہے تاکہ حادثے کی ’ایچ ڈی‘ ویڈیو سب سے پہلے شیئر کر کے وائرل ہو سکے! ہم نے عقل کو قدرت کا معجزہ تو مانا، لیکن اس عقل کو سکرولنگ کے کوئلے کی کان میں جھونک کر راکھ بنا دیا ۔ لوہا لوہا ہی رہتا ہے اور سونا سونا ہی رہتا ہے، لیکن جب سونا خود کو لوہے کی سستی پتریوں پر پگھلانے کی ضد کر بیٹھے، تو پھر کیمیا گری کے سب اصول خاموش ہو جاتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ ہماری آخری خاموش سوچ بھی سکرین کے کسی کونے میں دفن ہو جائے، اپنے فونز کو الٹا رکھنا سیکھنا ہوگا، کیونکہ جو پرندہ آسمان کی وسعتوں کو چھوڑ کر پنجرے کی سلاخوں کو چمکانے میں مگن ہو جائے، وہ اڑنا نہیں، صرف تماشا بننا سیکھتا ہے۔
|
|