قدیم محلہ گرونانک پورہ (فیصل آباد): تاریخ کے آئینے میں تحقیق و تحریر: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار (پی ایچ۔ ڈی، اردو)
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad, Pakistan)
|
قدیم محلہ گرونانک پورہ (فیصل آباد): تاریخ کے آئینے میں تحقیق و تحریر: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار (پی ایچ۔ ڈی، اردو) |
|
قدیم محلہ گرونانک پورہ (فیصل آباد): تاریخ کے آئینے میں تحقیق و تحریر: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار (پی ایچ۔ ڈی، اردو) پنجاب کی دھرتی اپنے اندر تاریخ، ثقافت اور تہذیب کے ان گنت رنگ سمیٹے ہوئے ہے۔ اسی تاریخی تسلسل میں، ٹیکسلا اور گندھارا کی قدیم ترین تہذیبوں سے لے کر رگ وید کے شلوکوں تک، اور سائرس سے لے کر اسکندرِ اعظم جیسے فاتحین کی یلغار تک، اس خطے نے زمان و مکاں کے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ جب مغلوں کی شوکتِ رفتہ کے بعد برطانوی راج نے اس دھرتی پر قدم جمائے، تو محبت کی دیوی ہیر کے دریا—چناب—کے ڈیلٹا سے بنے سرسبز و شاداب شیشم کے گھنے جنگلات کو کاٹ کر ایک نئے صنعتی و تجارتی مرکز کی داغ بیل ڈالی گئی۔ یہ مرکز 'لائل پور' تھا، جسے آج دنیا اسے 'فیصل آباد' کے نام سے جانتی ہے۔ 1896ء میں جب سر جیمز لائل نے اس شہر کی بنیاد رکھی، تو برطانوی حاکمِ وقت کی نگرانی میں کیپٹن پوپہم ینگ نے اس کا نقشہ برطانیہ کے پرچم (یونین جیک) کی طرز پر ایک منفرد مکعب (Cube) کی صورت میں ڈیزائن کیا۔ شہر کے عین وسط میں ایستادہ 'گھنٹہ گھر' (کلاک ٹاور) اس کے آٹھ بازاروں کے مرکز کے طور پر ابھرا۔ ابتدائی طور پر محض 110 ایکڑ پر محیط اس شہر میں جب آبادی کا دباؤ بڑھا، تو آٹھ بازاروں کی حدود سے باہر نئی آبادکاری کا آغاز ہوا۔ اسی دورِ تعمیر میں، سکھ اور ہندو برادری کی اکثریت کے لیے دو اہم رہائشی علاقے وجود میں آئے؛ ایک ڈگلس پورہ اور دوسرا گرو نانک پورہ۔ گرو نانک پورہ فیصل آباد کے ان اولین اور تاریخی رہائشی علاقوں میں شمار ہوتا ہے جو شہر کے بنیادی ڈھانچے کے فوراً بعد آباد ہوئے۔ اس علاقے کا رقبہ 50 ایکڑ پر محیط تھا اور یہ زمین سکھوں اور ہندوؤں نے خرید کر یہاں اپنے مساکن تعمیر کیے۔ سکھ مت کے بانی بابا گرو نانک کے نام سے منسوب یہ علاقہ تقسیمِ ہند سے قبل لائل پور کی سماجی، مذہبی اور تجارتی سرگرمیوں کا محور تھا۔ قیامِ پاکستان تک یہاں آبادی کا تناسب تقریباً 85 فیصد ہندو اور سکھ جبکہ 15 فیصد مسلمان تھا، جو انتہائی مثالی باہمی رواداری کے ساتھ رہائش پذیر تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد، جب یہاں کے قدیم رہائشی ہجرت کر گئے، تو جالندھر اور دیگر مشرقی پنجاب کے علاقوں سے آنے والے مسلم مہاجرین کو یہ مکانات الاٹ کیے گئے۔ گرو نانک پورہ اپنی طرزِ تعمیر میں اس قدر منفرد اور تاریخی محلہ ہے کہ ملک بھر میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس کا نام بدل کر 'فرید گنج' رکھنے کی کوششیں بھی کی گئیں، لیکن عوامی سطح پر اس کی تاریخی شناخت اتنی گہری تھی کہ یہ کوششیں بارآور نہ ہو سکیں۔ وقت کے بے رحم دھارے نے جہاں لائل پور کو ایک 'بڑے گاؤں' سے نکال کر (صدر ایوب خان اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے صنعتی وژن کے باعث) ایشیا کے بڑے ٹیکسٹائل ہب میں تبدیل کیا، وہاں گرو نانک پورہ کا جغرافیہ بھی بدل گیا۔ کسی زمانے میں یہاں کی پرانی طرز کی عمارتیں، لکڑی پر کیا گیا شاندار نقش و نگار، کشادہ صحن، بڑی کھڑکیاں اور چبوترے تقسیم سے پہلے کے لائل پور کی یاد دلاتے تھے۔ آج اگر سکھوں کا کوئی وفد اپنے پرانے مکانات کو دیکھنے آتا ہے، تو وہ بدلتے ہوئے نقشے، لوہے کے دروازوں، تنگ دکانوں اور کمروں کے ہجوم میں اپنے آبائی گھروں کو پہچاننے سے قاصر رہتا ہے۔ اسی طرح آٹھ بازاروں سے باہر گوبند سنگھ کی قائم کردہ کالونی 'گوبند پورہ' میں نہال سنگھ اور گوبند سنگھ کا بڑا مکان آج بھی موجود تو ہے، لیکن وہ کئی حصوں میں بٹ چکا ہے۔ تعلیم کے میدان میں سنت رام سکول اور خالصہ سکول جو کبھی ساتھ ساتھ تھے، اب 'اسلامیہ پوسٹ گریجویٹ کالج فار ویمن' میں ضم ہو چکے ہیں، اور وقت کی ضرورت کے تحت ان کی قدیم عمارتوں کی جگہ نئے ایڈمن بلاک تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ تاہم خالصہ سکول کی عمارت کو گرا کر ایڈمن بلاک بنا دیا گیا ہے جبکہ 'سنت رام سکول کی عمارت کو بھی گرا کر نئے بلاک بنائے جائیں گے کیونکہ کالج کو مزید جگہ کی ضرورت ہے۔ تقسیم ہند کے بعد اس محلہ کے نامور سپوت میاں زاہد سرفراز دو مرتبہ وفاقی وزیر رہ چکے ہیں ۔ایک مرتبہ قومی اتحاد کے دور میں ان کے پاس وفاقی وزیر تجارت اور دوسری مرتبہ ان کے پاس نگران وفاقی وزیر داخلہ کے قلم دان رہے ہیں۔ اب ان کے بیٹے میاں علی سرفراز ایم این اے ہیں اور ان کا تعلق بھی اسی محلہ سے بے۔ بے نظیر دور حکومت کے صوبائی وزیر صحت بدر دین چودھری کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہے ۔۔۔۔سابق چیف سیکرٹری پنجاب چودھری محمد صدیق کا تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے۔ان کے ایک بھائی چودھری سعید احمد چیف کلکٹر پنجاب اور ایک بھائی چودھری منظور احمد جو تعلیمی بورڈ سرگودھا کے چیئرمین تھے ان کا تعلق بھی اسی محلہ سے تھا۔ اس محلہ کے دوسرے میئر میونسپل کارپوریشن میاں احسان الحق ثانی کا تعلق بھی گرونانک پورہ سے رہا ہے ۔ مشہور محقق اور کالم نویس خالد سعید فائق راوی ہیں کہ ایک دفعہ معروف شاعر اور دانشور صدف جالندھری نے بتایا تھا کہ سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق گرو نانک پورہ کی گلی نمبر دو میں ڈاکٹر بشیر احمد کے بھائی منیر احمد کے گھر دو ماہ سے زائد عرصہ قیام پذیر رہے۔ نعت کے معروف شاعر صدف جالندھری اور عوامی شاعر نور محمد نور کپور تھلوی کا تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے ۔ممتاز محقق اور نقاد ڈاکٹر صدیق جاوید بھی اس محلہ میں قیام پذیر رہے ۔۔پروفیسر محمد اعظم چودھری ، پروفیسر محمّد اشرف خان شرف ، پروفیسر کلیم اللہ، اور پروفیسر محمد صدیق ، پروفیسر جاوید اسلم باجوہ ، پروفیسر احسان الحق، پروفیسر محمد نواز چودھری، پروفیسر عبدالخالق ندیم اور انڈیپنڈنٹ میڈیکل کالج کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر محمد شجاع طاہر اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر مہناز روحی ، گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر الطاف بشیر اور گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر حمیرا ارشد کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہے ۔اپنے وقت کے معروف چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد انیس خواجہ ، ٹی بی اینڈ چیسٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد ارشد بشیر ، ٹی بی سپیشلسٹ ڈاکٹر بشیر احمد ، معروف سینیئر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر الطاف بشیر ، ڈاکٹر خالد جاوید ، ڈاکٹر عبد المجید ، ای این ٹی سپیشلسٹ ڈاکٹر فیاض شیخ ، سوشل سکیورٹی ہسپتال فیصل آباد کے ایم ایس ڈاکٹر اعجاز ممتاز شیخ ، پتھالوجسٹ ڈاکٹر محمد عثمان انصاری ، ڈاکٹر اشتیاق احمد ، میجر ڈاکٹر محمد اسلم ، میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر سرفراز احمد ، سرجن ڈاکٹر نسیم احمد مرزا اور ٹی بی اسپیشلسٹ ڈاکٹر مسعود احمد ، چلڈرن سپیشلسٹ ڈاکٹر محمد الیاس ، ڈاکٹر غلام سرور شیخ ، ڈاکٹر محمد شاہد اور ان کی اہلیہ گائنا کالوجسٹ راحت رشید کا بنیادی تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے۔ سول انجینیئر محمد انور چودھری برادر اکبر ڈاکٹر ارشد بشیر جن کی نگرانی میں نشاط آباد کے اور ہیڈ برج کی تکمیل ہوئی۔بعد ازاں انہوں نے سعودی عرب میں بن لادن کنسٹرکشن گروپ میں 40 سال اپنی پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دیں ۔، محلہ کی پہچان کا باعث بنے ۔۔ تاج اخبار کے مالک شاد بادشاہ ، اور اخبار "جمہوریت پسند" کے بانی / چیف ایڈیٹر میاں عبدالسلام کا تعلق بھی اسی محلہ سے تھا۔ ممتاز کالم نگار اور افسانہ نگار رانا محمد گلزار خان کپور تھلوی اور ان کے بیٹے ادیب ، کالم نگار اور پی ایچ- ڈی محقق ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہے ۔معروف اسکن اسپیشلسٹ اور ممتاز سیرت نگار ڈاکٹر عبدالشکور ساجد انصاری کا تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے ۔ممتاز سماجی شخصیت اور صنعت کار رانا افتخار احمد کا بنیادی تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے ۔ جماعت اسلامی کے اہم رکن اور معروف ماہر تعلیم علامہ عبدالرشید ارشد نے بھی اپنی جولانیوں سے اس محلے میں اپنے یادگار نقوش چھوڑے ہیں۔ محلہ کی قدیم جامع مسجد امیر حمزہ میں نامور مذہبی سکالر مولانا عبدالرحمن کائناتی نے ایک طویل عرصہ تک امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیے ۔جامع مسجد نور حنفیہ میں جامعہ رضویہ کے فارغ التحصیل مولانا محمد بخش رضوی نے چار عشروں سے زائد امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیے ۔گلی نمبر پانچ میں علامہ عبدالرشید ارشد نے ایک طویل عرصہ تک امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیے ۔۔یہ مسجدیں محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ علم و ادب اور روحانیت کے مراکز رہے ہیں، جہاں ایسی قد آور شخصیات نے وقت گزارا۔ مسجدیں اپنے عہد کے بہترین علمی و روحانی نفوس کا مسکن رہی ہیں ۔ چھوٹے قد و قامت کے صوفی برکت علی کا بطور (موذن): 40 سال مسجد امیر حمزہ گلی نمبر 11 میں اذان کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو گرمانا ایک بہت بڑی سعادت ہے۔ ان کی آواز میں سوز و گداز کا ہونا اس بات کی دلیل تھی کہ وہ محض ڈیوٹی نہیں بلکہ عشقِ الٰہی میں ڈوب کر پکارتے تھے۔ علامہ عبدالرحمن کائناتی جیسی شخصیات اپنی خطابت سے فکر و فلسفہ کے نئے در وا کرتی تھیں۔ مولانا محمود الحسن توحیدی کی اسی مسجد سے وابستگی بھی اس امر کی تائید کرتی ہے کہ یہ مسجد حق و صداقت اور توحید کے پیغام کو عام کرنے کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔ گلی نمبر 10 برلب راجباہ مولانا حافظ علی احمد نے امامت و خطابت کے فرائض ایک طویل عرصہ تک ادا کیے اور سامنے محلہ پنج پیر میں اپنے قائم کردہ اسلامی مدرسہ میں تشنگان علم کے قلوب و اذہان کو روحانیت کے نور سے منور کیا ۔ گلی نمبر 14 میں واقعہ جامعہ مسجد صادق کی تعمیر کے لیے ایک غریب محنت کش نے اپنا گھر مسجد کے لیے مختص کر دیا تھا اور وہیں پر مسجد کی تعمیر ہوئی ۔پھر اس کی اڑھائی مرلہ مختص کی گئی جگہ پر اس کے نام پر جامع مسجد صادق تعمیر ہوئی ۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک اور مکان مخیر حضرات کے تعاون سے اس میں شامل کیا گیا ۔ اور اب یہ جگہ خاصی وسیع ہو گئی ہے۔اس مسجد میں پہلے خطیب مولانا مشتاق احمد تھے اور ان کے بعد اب مولانا محمد سجاد نقشبندی ایک عرصہ سے خطابت و امامت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔۔ بلا شبہ ان جیسے اساتذہ ہی معاشرے کی اخلاقی بنیادیں استوار کرتے ہیں ۔اسی محلہ میں قائم ایک قدیم اسلامی درسگاہ اشرف المدارس(قائم شدہ 21/ اپریل 1948) جس کے سنگ بنیاد رکھنے والوں میں علامہ عبدالرحمن کائناتی کا نام نمایاں ہے۔علامہ عبدالرحمن کائناتی نے یہاں تقریبا چار سال کے لگ بھگ طلباء کو اسلامی تعلیم سے بہرہ ور کیا۔ یہاں پر دنیا کے طول و ارض سے حصول تعلیم کے لیےلوگ آتے ہیں اور قندیل علم سے اپنے قلوب و اذہان کو منور کرتے ہیں ۔یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے معروف ناموں میں مولانا ضیاء الحق قاسمی ، مولانا طارق اعظم اور مولانا حق نواز جھنگوی کے نام نمایاں ہیں۔شعبہ تعلیم میں سینیئر ترین ماہر تعلیم ماسٹر بابو خان کا نام بہت اہم اور محترم ہے جو پاکستان ماڈل ہائی سکول کے پرائمری حصہ کے ایک طویل عرصہ تک ہیڈ ماسٹر رہے اور جناح کالونی میں واقع جامعہ مسجد سے ملحقہ سرکاری سکول کے بانی ہونے کا بھی انہیں اعزاز حاصل ہے ۔انہوں نے کئی نسلوں کی آبیاری کی اور علم کی شمع روشن کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ۔ماسٹر بابو خان کے ایک بیٹے بشیر احمد کرمانی تعلیمی بورڈ سرگودھا کے چیئرمین بھی رہے ہیں اور ایک بیٹا چودھری نذیر احمد زرعی انجینیئر تھے ۔ سکول ایجوکیشن میں ماسٹر محمد انور طاہر ،ماسٹر احسان الحق ثانی ، ماسٹر طفیل محمّد ، ماسٹر گلزار محمد ، ماسٹر محمد انور ، ماسٹر محمد اشرف اور زاہد حسین شیرازی نے اپنی ساری زندگیاں درس و تدریس کے شعبہ میں گزار دیں ۔ فیصل آباد میں اپنی منفرد پہچان کی حامل بدر بیکری کے مالکان کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہے۔ معروف قانون دان میاں ارشد خیال ، سابق صدر ڈسٹرکٹ بار چودھری محمّد حسین(کے ٹو) ، فاروق احمد خان، چودھری زوالقرنين کے علاوہ نوجوان وکلاء میں آفتاب احمد بٹ ، محمد عمر پاشا ، عثمان پاشا، میاں ساجد محمود، رانا شکیل الرحمن ، میاں عارف جاوید ، منزہ حسین ، ابوبکر صدیق ، رانا افتخار احمد ، کیپٹن محمد اکرم ایڈووکیٹ کے علاوہ ٹیکسٹائل انجینیئر رانا عامر ذوالفقار کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہے ۔لیبر آفیسر محمد اصغر پاشا کا تعلق بھی اسی محلہ سے ہی ہے۔چودری نذیر احمد ایڈووکیٹ کے فرزند ممتاز کالم نگار اور سماجی شخصیت خالد سعید فائق ، ان کے بڑے بھائی ممتاز شوکت سٹیٹیکل آفیسر ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ ، شپنگ کارپوریشن کے تجارتی بحری جہازوں کے مایا ناز کپتان محمد اکرم کا تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے۔۔ معروف سماجی تنظیم" ہیومن گائیڈ " کے سرپرست اور معروف شاعر میاں اقبال اختر کا بنیادی تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے ۔۔۔ہڈی جوڑ کے مصروف دیسی معالج پھمبی پہلوان اور معروف نباض شناس نابینا حکیم فتح محمد، حکیم مشتاق احمد خان بھی اسی محلہ کی پہچان رہے ہیں ۔۔۔چارٹرد اکاؤنٹنٹ رانا عامر گلزار خان ، ملک گیر شہرت کے حامل نعت خواں محمد رفیق چشتی ، نعت خوان دیدار حسین وارثی اور ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر انعام الحق سہری ، مجسٹریٹ چودھری عبدالرشید ارشد گجر اور ایس ایس پی محمد اسلم چودھری نے بھی اسی محلہ گرونانک پورہ کو پہچان دی ۔۔سماجی خدمت کے حوالہ سے بھورے خان ، شیر خان اور خواجہ چنے فروش والے بھی اس محلے کی شہرت کا باعث بنے ۔۔۔حافظ محمد ناصر گجر مرحوم (سابق مرکزی ڈپٹی سیکٹری پنجاب جمیعت علما اسلام) بھی اسی محلہ کے فرزند تھے ۔ معروف مذہبی رہنما صوفی محمد اشرف شاکر قادری ، معروف مذہبی رہنما محمد انوار قمرالقادری ، معروف مذہبی رہنما صاحبزادہ محمد افتخار اور معروف صوفی محمد رمضان نوشاہی بھی اسی محلے سے ہیں۔ اس محلہ میں کریانہ مرچنٹ کے شعبہ میں وسیع پیمانے پر کریانہ سٹور کو فروغ دینے میں بابا رحمت علی مرحوم اور ان کے بیٹے شیخ طالب حسین کا بڑا کلیدی کردار رہا ہے ۔ شہر فیصل آباد میں میاں بیوی کی جوڑی جن کو ایک ہی رنگ اور ڈیزائن کا لباس زیب تن کرنے میں انفرادیت اور شہرت حاصل ہے ۔لوگ مسٹر اینڈ مسز ناصر محمود کو "کپل آف فیصل آباد" کے نام سے پہچانتے ہیں۔ان کا تعلق بھی گرو نانک پورہ سے ہے۔ ٹیسٹ کرکٹر ذوالفقار احمد کینچی اور پاکستان لیول پر پاکستان فٹ بال کی نمائندگی کرنے والے غلام رسول سولی ، ڈی ایس پی عامر وحید ، پروفیسر اوقاف چودھری احسن بٹ ، چودھری محمد سلیم گجر ڈائریکٹر زراعت ، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر چودھری صابر علی ، زرعی ڈاکٹر لیاقت علی ، لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار چودھری تاج دین_کسٹم کلیکٹر چودھری محمد شریف ، ڈی ایس پی رشید احمد ، ڈی ایس پی عمران شریف ٹیپو ، ڈی ایس پی پنجاب پولیس بھی غلام حسین کا بنیادی تعلق بھی اسی محلہ سے رہا ہے ۔مہر بھولا آف جرمنی کی ساری زندگی گرونانک پورہ میں ہی گزری ۔۔جو اپنے پلاسٹک اور کراکری کے وسیع تر کاروبار کی وجہ سے معروف ہیں ۔وہ بھی گرو نانک پورہ کی شناخت کا سبب بنے ۔۔معروف ایکسپورٹر حاجی عبدالحق کلسی ،مشہور کاروباری شخصیت مہر بھولا آف جرمنی ، خوش ذائقہ کھانوں کی بدولت ملک گیر شہرت پانے والے جہانگیر ملک پلاؤ کچہری بازار کے مالک میاں غلام محمد اور اسی خانوادے کے چشم و چراغ سٹیج کامیڈین طارق جاوید کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر اور دو مرتبہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والے چودھری عدیل تاج ، پاکستان مسلم لیگ کی ٹکٹ ہولڈر خواجہ محمد رضوان کا تعلق بھی گرو نانک پورہ سے ہے۔۔ ٹیکسٹائل کے شعبہ میں شہرت پانے والے ٹیکسٹائل ملز " بی بی جان انڈسٹریز کے چیف ایگزیکٹو شیخ ثاقب الہی اور لائل پور پلائی وڈ اینڈ چپ بورڈفیکٹری کے مالکان خواجہ محمد اویس صادق اور خواجہ محمد امین صادق کا تعلق بھی اس محلہ گرو نانک پورہ سے رہا ہے۔۔ دوران میچ سینہ پر گیند لگنے سے جان بحق ہونے والے ٹیسٹ کرکٹر ذوالفقار علی کا تعلق بھی گرو نانک پورہ سے تھا.۔حاجی محمد طیب صدر اے ٹی آئی پاکستان، محمود احمد صدر یوتھ فرنٹ پاکستان اور پروفیسر جاوید اسلم باجوہ صدر اے ٹی آئی فیصل آباد اور بینکرز مشتاق احمد بٹ، رانا افضل قانوں گو ، لالہ راج ، چاند کلاتھ ہاؤس والے اور خالد شریف بھائی کا تعلق بھی اسی قدیم محلہ گرو نانک پورہ سے رہا ہے۔ لوم انڈسٹری میں شہرت رکھنے والے حاجی محمد عمر انصاری کا تعلق بھی اسی محلہ گرو نانک پورہ سے ہے۔۔ خوش ذائقہ کھانوں میں شانی سری پائے نے بھی شہر بھر میں ایک پہچان بنا کر اس محلہ کی شناخت کی علامت بنا ۔۔۔۔۔قیام پاکستان کے بعد میڈیکل سٹورز کی دنیا میں جالندھر میڈیکل سٹور نے بھی اس محلہ کو ایک شناخت بخشی ۔۔ تعلیم کے شعبہ میں نجی تعلیمی اداروں میں عثمان بلیسنگ سکولز سسٹم کے ڈائریکٹر محمد افضل ملک نے شہر فیصل آباد میں اپنی متعدد برانچیں کھول کر ایک منفرد مقام حاصل کیا اور اس محلہ کی شناخت کا باعث بنا ۔۔۔۔ پرویز اکرم میدانی نے ڈسٹرکٹ امن کمیٹی اور بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان کے متحرک رکن کے طور پر مختلف مذاہب اور مسالک کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی کوششوں سے مذہبی رواداری اور بھائی چارے کو فروغ ملا، جو موجودہ دور کی ایک بڑی ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے علماء و مشائخ ونگ کے صدر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں ۔ سیاست کے شعبہ میں میاں زبیر عزیز متعدد باConclلر کی سیٹ پر منتخب ہوئے، جبکہ میاں احسان الحق ثانی میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کے میئر جیسے معزز عہدے پر متمکن ہوئے۔ ان کے علاوہ میاں عارف جاوید، حاجی نور انصاری، میاں محمد عظیم، احسان الحق شامی، سلطان محمود بٹ، میاں فضل الحق، میاں قمر، غلام رسول سولی، میاں محمد رضوان، اور شاہد علی جٹ جیسی فعال شخصیات بھی وقت کے ساتھ ساتھ اس خار زارِ سیاست میں اترتی رہیں اور اپنے اپنے تئیں عوامی خدمت کے چراغ روشن کیے۔ سیاست کی یہ خاردار اور پرپیچ راہیں دراصل کسی بھی معاشرے کے عروج و زوال کی داستان ہوتی ہیں، اور گرو نانک پورہ کے ان سپوتوں نے اس کٹھن میدان میں بھی اپنے محلے کی لاج رکھی۔ اقتدار کے ایوانوں سے لے کر گلی محلوں کی کونسلر شپ تک، ان رہنماؤں نے عوامی مسائل کے حل اور اس قدیم بستی کے بنیادی ڈھانچے کو سنوارنے میں اپنے حصے کا کردار ادا کیا۔ گرو نانک پورہ محض ایک جغرافیائی رقبے یا چند گلیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ فیصل آباد (سابقہ لائل پور) کی دھڑکتی ہوئی تاریخ کا ایک زندہ استعارہ ہے۔ بابا گرو نانک کے نام سے منسوب اس مٹی نے تقسیمِ ہند سے قبل جہاں سکھ اور ہندو برادری کی رواداری اور تہذیبی حسن کو دیکھا، وہیں ہجرت کے بعد مشرقی پنجاب سے آنے والے دل فگار مہاجرین کو اپنے دامن میں پناہ دے کر ایک نیا سحر انگیز روپ دھارا۔ آج وقت کے بے رحم دھارے اور تیزی سے بڑھتے ہوئے تجارتی مراکز نے اگرچہ اس محلے کے قدیم چبوتروں، لکڑی کے منقش (نقش و نگار والے) دروازوں اور کشادہ صحنوں کو جدید لوہے اور کنکریٹ کے ہجوم میں کہیں گم کر دیا ہے، لیکن یہاں کی گلیوں سے اٹھنے والی علم و ادب، سیاست، طب اور روحانیت کی خوشبو آج بھی لائل پور کی فضاؤں میں رچی بسی ہے۔ اشرف المدارس کی قندیلِ علم ہو یا جامع مسجد امیر حمزہ اور جامع مسجد صادق سے اٹھنے والی الٰہی عشق کی سحر انگیز اذانیں؛ ہڈی جوڑ کے دیسی معالج ہوں یا ملک گیر شہرت پانے والے مایہ ناز ڈاکٹرز، کسٹمز و پولیس افسران، نامور وکلا اور "کپل آف فیصل آباد" جیسی جاندار سماجی شناختیں— اس محلے نے ہر شعبہ ہائے زندگی کو اپنے لعل و گہر دیے۔(راقم)ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی یہ تاریخی اور تحقیقی کاوش اس بات کی گواہ ہے کہ عمارتیں بھلے ہی مٹ جائیں، لیکن تاریخ کے آئینے میں گرو نانک پورہ کی عظمت، اس کے نامور فرزندوں کے یادگار نقوش اور اس کی منفرد شناخت رہتی دنیا تک فیصل آباد کی تاریخ کا ایک درخشاں اور ان مٹ باب بن کر چمکتی رہے گی۔
تحقیق و تحریر : ڈاکٹر اظہار احمد گلزار ۔۔۔۔۔۔۔پی ایچ ڈی ' اردو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|