فخرِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔۔ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی ایک روحانی اور ایمانی عاجزانہ کاوش / تحریر : ڈاکٹر عبدالشکور ساجد انصاری

فخرِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔۔ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی ایک روحانی اور ایمانی عاجزانہ کاوش / تحریر : ڈاکٹر عبدالشکور ساجد انصاری

فخرِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔۔ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی ایک روحانی اور ایمانی عاجزانہ کاوش / تحریر : ڈاکٹر عبدالشکور ساجد انصاری

​(مقالاتِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
​صلی اللہ علیٰ سیدنا محمد نبي الأمي وعلیٰ آلہ وبارک وسلم تسلیماً

​اللہ تعالیٰ کی ذات انتہائی برتر، افضل، اعلیٰ اور ہر عیب سے پاک ہے۔ جس نے "کُن" کی جلوہ گری سے اس کائناتِ رنگ و بو کو تخلیق کیا۔ لوح و قلم، کرسی و عرش اور زمین و زمن پیدا کئے۔ گلشن و صحراء، بحر و بر، شجر و حجر، دشت و دریا اور سبزہ و گل سے اس دھرتی کو حُسنِ بہار بخشا۔ پھر ہم جیسے انسانوں کو زیورِ تخلیق سے آراستہ کر کے اسے ہمارا مسکن بنایا۔
​اللہ رب العزت کی رحمت و شفقت کا شکر جتنا بھی ادا کیا جائے کم ہے کہ اس نے ہم انسانوں کی بہتری، فلاح اور اخروی نجات کے لئے رُشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا اور اس مقصد کے لئے اپنے برگزیدہ اور محبوب بندوں کو نبوت و رسالت کے تاجِ رفعت سے سرفراز کر کے اس دنیا میں مبعوث کیا۔ رُشد و ہدایت کے اس سلسلہ کو نکتہ کمال تک پہنچانے کے لئے ہمارے ہادی و رہبر، سید و سرور، سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ بابرکات کو ہمارے درمیان مبعوث فرمایا۔
​ہمارے خالق و مالک کا ہم انسانوں پر کتنا کرم اور رحمت ہے کہ ہماری خطاؤں، لغزشوں اور بے باکیوں کے باوجود ہمیں نبی رحمت، شفیع امت ﷺ کے دامنِ اقدس سے وابستہ رکھا۔ آپؐ سے وابستگی اور نسبت سب عطائے ربِ قدوس ہے اور مصطفیٰ کریم ﷺ کی نظرِ رحمت کا تصدق ہے۔ اس میں نہ تو ہمارا کوئی کمال ہے اور نہ ہم کسی قسم کے استحقاق کے دعویدار ہو سکتے ہیں۔
​اللہ تعالیٰ کی یہ خصوصی عنایت ہے کہ اس
​وسخا، اُخوت و مساوات، صلہ رحمی اور غریب پروری، مجبوروں کی حاجت روائی، غمز دوں کی غمخواری جیسی صفات آپ کے اندر بدرجہ اتم موجود تھیں۔ بلکہ وہ تمام اوصاف اور کمالات جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے انبیاء کرام کو عطا کئے گئے تھے، وہ مجموعی طور پر آپ کی ذاتِ والا صفات میں جمع کر دیئے گئے تھے۔

​حسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند، تو تنہا داری

​جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسن و جمال کا پیکر تھے اور زیبائی و رعنائی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی ثانی نہ پہلے تھا اور نہ بعد میں ممکن ہے۔ اسی طرح آپ کی سیرت اور اسوۂ حسنہ بھی احسن ترین صورت میں جلوہ افروز تھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اعلیٰ ترین اخلاق پر فائز قرار دیا اور آپ کے اسوۂ حسنہ کو تمام بنی نوع انسان کے لئے باعثِ تقلید قرار دیا۔
​الحمد للہ یہ بات باعثِ تسکین اور موجبِ قرارِ جاں ہے کہ غلامانِ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ سے آپ کی سیرت، فضائل، عادات، معمولات، فضائل اور اوصافِ جمیلہ کو مرتب کیا ہے۔ یہ سلسلہ ابنِ ہشام، امام طبری، امام بخاری، امام ترمذی، امام جلال الدین سیوطی، ابنِ خلدون، مولانا جامی جیسے اکابر محدثین اور مفسرین سے شروع ہوتا ہوا دورِ حاضر کے جید علما کرام علامہ نور بخش توکلی، امام احمد رضا، علامہ شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، پیر محمد کرم شاہ، پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری تک جاری و ساری ہے۔ بے شمار کتابیں، ان گنت صفحات کو سیرت و جمالِ مصطفوی سے ضیاء بخشی گئی ہے لیکن ابھی تیرے اوصاف کا اک باب بھی پورا رقم نہ ہوا کے مصداق یہ سب کاوشیں ہیچ اور ناتمام ہیں۔ مدحت و توصیفِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ سلسلہ تا ابد اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر جاری و ساری رہے گا۔
​نبی آخر الزمان سیدِ انس و جاں سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ برکات سے عشق و محبت کا دعویٰ رکھنے والے ہر مسلمان خاص طور پر وہ مسلمان جسے اللہ تعالیٰ نے تحریر کی قوت عطا کی ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا نام بھی ان عشاقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمرے میں آئے چاہے سب سے آخر میں ہی ہو، جن کو سیرت نگار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ہمارے دوست پیارے بھائی ڈاکٹر اظہار احمد گلزار بھی انہی سعادت مند اور خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جن کو یہ سعادت حاصل ہو رہی ہے کہ وہ بھی سیرت نگاروں اور سرکارِ دو عالم ﷺ کے مدحت سراؤں میں شامل ہو گئے ہیں۔

​"ایں سعادت بزورِ بازو نیست

​ڈاکٹر صاحب کی یہ کاوش جو ”فخرِ کائنات ﷺ“ کے انتہائی خوبصورت اور دلآویز نام سے زیورِ طباعت سے شائع ہو رہی ہے یقیناً ان کے لئے عالمِ برزخ میں زادِ راہ ہے۔ قیامت میں وجہِ شفاعت ہے اور پل صراط پر منبعِ نُور ہے۔ دوسری جانب یہ خوبصورت کاوش سیرت کے ادب میں خوشگوار اور حسین اضافہ ہے۔ نیز نوجوان مقررین اور ادب دوست طلباء کے لئے ایک انمول تحفہ ہے جو ان کی صلاحیتوں کو نکھار بخشنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔۔​ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی شخصیت فیصل آباد بلکہ ملک بھر کے علمی و ادبی حلقوں میں جانی پہچانی ہے۔ اُردو اور پنجابی لٹریچر میں ان کا نام چمکتے ستارے کی مانند ہے۔ ایک کہانی کار، ناول نگار اور کالم نویس کے حوالے سے وہ معروف ہیں تو شاعری کی دنیا میں بھی ان کی ذات معتبر ہے۔ خاص طور پر نعتیہ شاعری ان کا خصوصی شوق ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ اُن کے دل میں نبیِ آخرالزماں، سرکارِ مدینہ، سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت کی شمع ضوفشاں ہے۔ اپنے آقا و مولا ﷺ سے انہیں بے انتہا عشق اور محبت ہے۔ اس لئے وہ کوشاں رہتے ہیں کہ اپنے اخلاق و اطوار اور عادات و معمولات میں بھی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے درخشاں اصولوں کو مدِّنظر رکھیں۔ بہر حال مجھے یہ کہتے ہوئے عار نہیں کہ عشقِ رسولِ ﷺ ان کی نس نس میں شامل ہے۔ اور وہ اپنی تمام کاوشیں حبِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی سے اندھیرے میں ڈوبے دلوں کو فروزاں کرنے کے لئے مصروفِ عمل رہتے ہیں۔

​"ع
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
ڈاکٹر عبدالشکور ساجد انصاری

(صدارتی سیرت ایوارڈ یافتہ)

 

Dr.Izhar Ahmad Gulzar
About the Author: Dr.Izhar Ahmad Gulzar Read More Articles by Dr.Izhar Ahmad Gulzar: 71 Articles with 49147 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.