خود شناسی سے خدا شناسی تک” کا سفر انسان کے دل کے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ جب انسان خاموشی میں اپنے وجود، اپنی کمزوریوں، اپنے خوف اور اپنی حقیقت کو پہچان لیتا ہے تو اُس کے دل پر اللہ کی معرفت کے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔ جو شخص خود کو سمجھ لیتا ہے، وہ جان لیتا ہے کہ وہ بےبس ہے اور ایک طاقت ہے جو ہر لمحہ اُسے سنبھال رہی ہے۔ انسان جب اپنے اندر کے اندھیروں کو دیکھتا ہے تو اُسے اللہ کے نور کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اور یہی احساس اُسے خدا کے قریب لے جاتا ہے۔ خود شناسی انسان کو غرور سے نکال کر عاجزی سکھاتی ہے، اور عاجزی وہ راستہ ہے جہاں بندہ اپنے رب کو دل کی آنکھ سے پہچاننا شروع کر دیتا ہے۔ ........ خود شناسی سے خدا شناسی تک
انسان اس دنیا میں بے شمار سوالات کے ساتھ آنکھ کھولتا ہے۔ میں کون ہوں؟ میری حقیقت کیا ہے؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ یہ سوالات ہر اُس دل میں جنم لیتے ہیں جو صرف دنیا کی چمک دمک میں کھو جانا نہیں چاہتا بلکہ اپنی اصل حقیقت تک پہنچنے کی جستجو رکھتا ہے۔ یہی جستجو انسان کو “خود شناسی” کی طرف لے جاتی ہے، اور جب انسان اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے تو اُسے اپنے رب کی پہچان بھی نصیب ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ “جس نے خود کو پہچان لیا اُس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔”
خود شناسی صرف یہ جان لینے کا نام نہیں کہ انسان کا نام کیا ہے یا اُس کی شخصیت کیسی ہے، بلکہ یہ اپنے دل، اپنی روح، اپنے اعمال اور اپنی کمزوریوں کو سمجھنے کا نام ہے۔ انسان جب تنہائی میں اپنے دل کا جائزہ لیتا ہے تو اُسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کتنا کمزور، محتاج اور بےبس ہے۔ اُسے سمجھ آنے لگتا ہے کہ وہ اپنی سانسوں تک کا مالک نہیں۔ یہی احساس اُس کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے، اور عاجزی وہ دروازہ ہے جہاں سے خدا شناسی کا سفر شروع ہوتا ہے۔
آج کا انسان دنیا کی بھیڑ میں خود کو کھو چکا ہے۔ وہ دوسروں کو پہچاننے میں تو کامیاب ہو گیا مگر اپنے آپ سے ناواقف ہے۔ اُس نے دنیا کی ہر چیز کو وقت دیا مگر اپنے دل کی آواز سننے کے لیے چند لمحے بھی نہ نکال سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دل بےچین ہو گئے، روحیں خالی ہو گئیں اور سکون کہیں کھو گیا۔ کیونکہ سکون مال، شہرت یا لوگوں کی تعریف میں نہیں بلکہ اپنے رب سے تعلق میں ہے، اور رب سے تعلق تب مضبوط ہوتا ہے جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے۔
خود شناسی انسان کو اُس کے گناہوں کا احساس بھی دلاتی ہے۔ جب بندہ اپنے اندر جھانکتا ہے تو اُسے اپنی غلطیاں نظر آتی ہیں، اپنی کمزوریاں دکھائی دیتی ہیں، اور اُسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کامل نہیں۔ یہی احساس اُسے توبہ کی طرف لے جاتا ہے۔ انسان جب سچے دل سے اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے تو اُس کے دل پر رحمت کے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔ پھر بندہ صرف زبان سے نہیں بلکہ دل سے اللہ کو پکارنے لگتا ہے۔ اُس کی نماز بدل جاتی ہے، اُس کی دعائیں بدل جاتی ہیں اور اُس کی زندگی کا مقصد بدل جاتا ہے۔
خدا شناسی کا مطلب صرف اللہ کے وجود کو مان لینا نہیں بلکہ اللہ کو دل سے محسوس کرنا ہے۔ ہر خوشی میں اُس کا شکر ادا کرنا، ہر غم میں اُس کی حکمت کو سمجھنا، اور ہر مشکل میں اُس پر بھروسہ رکھنا خدا شناسی ہے۔ جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے تو اُسے یہ حقیقت سمجھ آتی ہے کہ دنیا عارضی ہے اور اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے۔ پھر اُس کی سوچ بدل جاتی ہے، اُس کے خواب بدل جاتے ہیں اور اُس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔
یہ سفر آسان نہیں ہوتا۔ خود شناسی کا راستہ انسان کو اپنی انا توڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ انسان کو اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے، اپنی خواہشات کو قابو کرنا پڑتا ہے اور اپنے دل کو پاک کرنا پڑتا ہے۔ مگر جو شخص اس راستے پر ثابت قدم رہتا ہے، اللہ اُس کے دل کو نور سے بھر دیتا ہے۔ پھر اُسے ہر چیز میں اللہ کی قدرت نظر آنے لگتی ہے۔ ہوا کے چلنے میں، بارش کے برسنے میں، رات کی خاموشی میں اور اپنی دھڑکنوں میں بھی اُسے اپنے رب کی نشانیاں محسوس ہونے لگتی ہیں۔
اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان دنیا میں کتنا مشہور ہوا، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے کتنا قریب ہوا۔ خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر دراصل دل کی بیداری کا سفر ہے۔ یہ سفر انسان کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لے جاتا ہے۔ جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے تو اُسے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں، اُس کا رب ہر لمحہ اُس کے ساتھ ہے، اُسے سن رہا ہے، اُسے دیکھ رہا ہے اور اُس سے بےحد محبت کرتا ہے۔
اور شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان پہلی بار حقیقت میں جینا شروع کرتا ہے۔
|