صحت مند اور باصلاحیت بچے ہی مضبوط قوم کی ضمانت
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
صحت مند اور باصلاحیت بچے ہی مضبوط قوم کی ضمانت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
بچے کسی بھی قوم کا روشن مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی بہتر تعلیم، صحت اور تربیت ہی ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔ جدید دور میں جہاں تعلیمی معیار کو ترقی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے، وہیں جسمانی صحت، اخلاقی تربیت اور ذہنی نشوونما کو بھی یکساں اہمیت حاصل ہے۔ چین میں گزشتہ برسوں کے دوران نئی نسل کی فلاح و بہبود کو قومی ترقی کی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا گیا ہے اور اس حوالے سے مختلف سطحوں پر جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یکم جون کو منائے جانے والے بین الاقوامی یومِ اطفال کے موقع پر ایک بار پھر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملک کا مستقبل صحت مند، باصلاحیت اور ذمہ دار نوجوان نسل سے وابستہ ہے۔
چینی صدر مملکت شی جن پھنگ بچوں کی فلاح و بہبود کو ہمیشہ قومی ترجیحات میں شامل رکھتے ہیں۔ بچوں کی بینائی، جسمانی صحت، تعلیمی ترقی اور مجموعی نشوونما کے حوالے سے وہ متعدد مواقع پر اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ ایک مضبوط قوم کی تعمیر کے لیے صحت مند اور قابل نوجوان نسل ناگزیر ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بچوں کو نہ صرف محنت سے تعلیم حاصل کرنی چاہیے بلکہ باقاعدگی سے ورزش، جسمانی سرگرمیوں اور مثبت طرزِ زندگی کو بھی اپنانا چاہیے تاکہ وہ مضبوط ذہن اور توانا جسم کے حامل بن سکیں۔
شی جن پھنگ کی بچوں کی جسمانی صحت سے متعلق دلچسپی مختلف تعلیمی اداروں کے دوروں کے دوران بھی نمایاں طور پر سامنے آئی ہے۔ اپریل 2020 میں ایک پرائمری اسکول کے دورے کے دوران انہوں نے طلبہ سے ملاقات کی، ان کی تعلیم اور روزمرہ زندگی کے بارے میں دریافت کیا اور خاص طور پر ان کی صحت پر توجہ دی۔ اس موقع پر انہوں نے یہ دیکھ کر اطمینان کا اظہار کیا کہ نسبتاً کم طلبہ عینک استعمال کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں میں عینک کے استعمال کی بڑھتی ہوئی شرح ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر وہ کافی عرصے سے توجہ دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور ورزش کے فقدان کے باعث نوجوان نسل کی جسمانی صلاحیتوں پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بچوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی ذہنی استعداد کے ساتھ ساتھ جسمانی قوت کو بھی بڑھائیں کیونکہ صحت مند جسم بچوں کی متوازن اور صحت مند نشوونما کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی یومِ اطفال 2023 سے قبل بیجنگ کے ایک اسکول کے دورے کے دوران بھی شی جن پھنگ نے بچوں کو باسکٹ بال کھیلتے، رسی کودتے اور جسمانی تعلیم کی مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا۔ کھیل کے میدان میں بچوں کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کی جسمانی نشوونما اولین ترجیح ہونی چاہیے اور کھیل کود ہی بچوں اور نوجوانوں کی جسمانی صحت بہتر بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسکولوں میں جسمانی تعلیم کے لیے کافی تعداد میں تربیت یافتہ اور اہل اساتذہ موجود ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق خاندان، اسکول اور معاشرہ مل کر ایسا ماحول فراہم کریں جہاں بچے اور نوجوان اپنی جسمانی صحت کو بہتر بنانے کے لیے مناسب مواقع حاصل کر سکیں۔
بچوں کی صحت اور فٹنس پر دی جانے والی اس توجہ کے ساتھ ملک بھر میں صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ 2024 میں متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نوٹس میں ہدایت دی گئی کہ پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے طلبہ کو وقفے کے دوران کلاس رومز سے باہر نکل کر جسمانی سرگرمیوں اور آرام کے لیے وقت گزارنے کی ترغیب دی جائے۔اسی طرح اسکولوں میں روزانہ کم از کم تیس منٹ کی جسمانی ورزش کو بھی معمول کا حصہ بنایا گیا تاکہ بچوں کی آنکھوں پر دباؤ اور بصری تھکاوٹ کو کم کیا جا سکے۔
ان کوششوں کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں پرائمری اور مڈل اسکولوں کے روایتی دس منٹ کے وقفے کو بڑھا کر پندرہ منٹ کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو زیادہ وقت تک کھلی فضا میں کھیلنے اور جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
ان پالیسیوں کے مثبت نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ وزارتِ تعلیم کے 2024 کے ایک سروے کے مطابق ملک بھر میں طلبہ میں نظر کی کمزوری کی مجموعی شرح مسلسل چار برس تک کم ہوتی رہی۔ 2024 میں یہ شرح کم ہو کر 50.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو سالانہ مقررہ ہدف کے مطابق ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
تاہم شی جن پھنگ کی بچوں سے وابستہ توقعات صرف جسمانی صحت تک محدود نہیں ہیں۔ وہ بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ نئی نسل کو مضبوط اخلاقی اقدار، علمی صلاحیت، جسمانی توانائی، جمالیاتی شعور اور عملی مہارتوں سے آراستہ ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو ایسی تعلیم حاصل کرنی چاہیے جو ملک کی ترقی، قومی احیا اور سماجی خدمت میں معاون ثابت ہو سکے۔
انہوں نے مختلف مواقع پر بچوں کو تلقین کی ہے کہ وہ اپنے والدین، قوم اور معاشرے کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھیں۔ 2014 میں بین الاقوامی یومِ اطفال سے قبل طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے ایک قدیم چینی کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ عظیم شخصیات اور ہیرو اکثر نوجوانی ہی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔
چین میں بچوں کی جسمانی صحت، معیاری تعلیم، اخلاقی تربیت اور ہمہ جہت نشوونما کے لیے جاری کوششیں اس عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ مستقبل کی ترقی کا انحصار نئی نسل کی صلاحیتوں پر ہے۔ صحت مند جسم، مضبوط کردار اور بلند تعلیمی معیار سے آراستہ نوجوان ہی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کی فلاح و بہبود کو قومی ترقی کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ آنے والی نسلیں ایک مضبوط، خوشحال اور جدید معاشرے کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ |
|