سندھی ثقافت کاعالمی دن ہر سال دسمبر کے پہلے اتوار کو مذہبی تہوار کے انداز میں منایا جاتا ہے تحریر: رفیع عباسی آج ماہ دسمبر کا پہلا اتوار ہے اور اس روز سندھی ثقافت کا عالمی دن نہ صرف خطہ سندھ بلکہ دنیا بھر میں مقیم سندھی باشندے ایک مذہبی تہوار کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ ’ ’ایکتادیھاژو‘‘ یعنی یوم یکجہتی یا ’’اجرک ٹوپی ڈے‘‘ بھی کے طور پر بھی معروف ہے۔ سندھی ٹوپی اور اجرک کا شمار دنیا کے قدیم نوادرات میں ہوتا ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق موئن جو دڑو کی کھدائی کےدوران اس دور کے پروہت ’’کنگ پریسٹ ‘‘ کی مورتی ملی جس کے کاندھوں پرمختلف رنگوں سے مزین جو چادر ڈلی ہوئی تھی وہ اجرک کی طرح کی تھی جب کہ اس کے سر پر منقش سندھی ٹوپی بھی تھی۔ اس سے اس بات کے شواہد ملتے ہیں کہ ساڑھے پانچ ہزار سال قبل موئن جو دڑو کے باشندوں میں اجرک کا استعمال عام تھا اور اس کا ڈیزائن آج کے دور میں تیار ہونے والی ککر والی اجرک سے ملتا جلتا ہے۔ایک روایت کے مطابق موئن جو دڑو کے پروہت روزانہ صبح نہانے کےبعدچادر اوڑھا کرتے تھے۔ ایک روز انہیں چادر کی بجائےاجرک اوڑھنے کو ملی جو انہیں بے حد بھلی لگی، اس وقت سے وہ اجرک استعمال کرنے لگے۔ قدیم آثار کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق اس دور کے دست کار ہاتھ کی کھڈیوں پر بنے کپڑےکو 100 جڑی بوٹیوں سے رنگنے کے بعد انہی جڑی بوٹیوں کے ذریعے خاص رنگ تیار کرنے کے بعد ٹھپے لگا کر اجرکیں بناتے تھے جو سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈی رہتی تھیں۔ اس کے طبی خواص بھی معلوم ہوئے ہیں۔ اجرک استعمال کرنے والے لوگ سانس سمیت مختلف امراض سے محفوظ رہتے تھے۔ آج اجرک صرف سندھی ثقافت ہی نہیں بلکہ ملک کے معاشرتی تہذب و تمدن کی علامت بن چکی ہے اور لوگ سیاسی و سماجی تقاریب میں شرکاء اور معزز مہمانوں کو اجرک بطور تحفہ پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کے دیگر صوبوں میں ثقافتی ایام اور علاقائی تہواروں کا انعقاد عرصہ دراز سےہوتا آرہا ہے۔مارچ کے مہینے میں بلوچ ثقافت کا دن منایا جاتا ہے جب کہ اگست میں ’’پشتوفیملی کلچر شو اینڈ لٹریچر ڈے‘‘ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ پنجاب کے صوبے کا کوئی مخصوص ثقافتی تہوار تو نہیں البتہ وہاں بسنت سمیت نصف درجن سے زائد تہوار انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منائے جاتے تھے۔ لیکن گزشتہ سال سے ملیر بار میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی طرف سے سالانہ ’’مفلر لنگی ڈے ‘‘کا آغاز کیا گیا ہے۔ سندھ کی تہذیب انتہائی قدیم ہونے کے باوجود یہاں کے باسی اپنی تہذیب و ثقافت سے 16 سال قبل تک ناواقف تھے ۔ عالمی شخصیات جب کسی غیر ملک کا دورہ کرتی ہیں تو وہاں کے باشندوں کو اپنے ملک کی شناخت، تہذیب و ثقافت سے روشناس کرانے کے لیے قومی لباس زیب تن کرکےجاتی ہیں جب کہ ہمارے ملک کے سربراہان یورپی پہناوے کو ترجیح دیتے ہیں۔ رواں صدی کے آغا میں سال 2009 میں ایک افسوس ناک واقعے کی بنا پر سندھ کے باسیوں میں اپنی تہذیب و ثقافت کوعالمی سطح پر روشناس کرانے کا شعور اجاگر ہوا۔ دسمبر 2009ء میں صدر آصف علی زرداری افغانستان کے دورے پر گئے، اس موقع پر انہوں نے سندھ کی روایتی ٹوپی پہنی ہوئی تھی۔ ایک ٹی وی نیوز چینل کے اینکر نے صحافتی اخلاقیات کو پامال کرتے ہوئے اپنے پروگرام میں صدر زرداری کے سندھی ٹوپی پہن کر غیر ملکی دورے کا تمسخر اڑایا۔ مذکورہ ٹی وی اینکر کے اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل پر سندھ کے عوام میں اشتعال پھیل گیا۔ اس موقع پر ایک سندھی نیوز چینل سے تعلق رکھنے والے صحافی، علی قاضی نے 6 دسمبر کو ’’سندھ کے یوم ثقافت ‘‘کے طور پر منانے کا اعلان کیا جس پر صوبے کے تمام مکاتب فکر کے افراد نے لبیک کہا۔ 6 دسمبر 2009 کو سندھ کے پہلے یوم ثقافت اور سندھی ٹوپی اور اجرک کی تقریبات کا انعقاد رات بارہ بجے کے بعد کراچی پریس کلب کے سامنے مشعلیں روشن کرکے کیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ مری، سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا اور دیگر اکابرین نے سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ہمراہ نعرے لگائے اور سندھی ٹوپی کے حق میں تقاریر کیں۔اس موقع پر، ’’جئے سندھ‘‘ ، ’’جئے سندھ وارا جیئن‘‘ ، ’’سندھی ٹوپی اجرک وارار جیئن‘‘ ، جیسے نغموں پر رقص بھی کیا گیا۔ بدین میں صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا، دادو میں صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہرالحق، لاڑکانہ میں صوبائی وزیر ایاز سومرو، قمبر شہدادکوٹ میں صوبائی وزیر نادر مگسی کی قیادت میں ’’سندھی ٹوپی‘‘ ریلی نکالی گئی۔ متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے بھی کراچی میں سندھی ٹوپی پہن کر ریلیاں نکالیں۔دوسرے روز کراچی سمیت سندھ کی تمام سڑکوں پر سارا دن لوگ اجرک اور سندھی ٹوپی پہن کر جلوس اور ریلیوں کی صورت میں گشت کرتے رہے جن میں خواتین بھی کثیر تعداد میں شریک تھیں۔ اس روز صوبہ سندھ کے چپےچپے پر رنگ و نور کی بہار نظر آرہی تھی اور عید کا سا سماں تھا۔ 2009کے بعد سے سندھ کا یوم ثقافت ہر سال دسمبر کے پہلے اتوار کو انتہائی تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔ اسے ایکتادیھاژو( یوم یکجہتی ) کا نام بھی دیا گیا ہے۔اس سلسلے میں کراچی کے مختلف علاقوں سمیت کراچی پریس کلب پر سندھ کی ثقافتی تنظیموں کی جانب سے رات گئے’’ مچ کچہری ‘‘کے انعقاد کے بعد تقریبات کا آغاز کر دیا جاتا ہے جس کے تحت اسٹیج کے سامنے اس کچہری کی مناسبت سے آگ کا الائو روشن کیا جاتا ہے اور صوبے بھر سے آنے والے شعرائے کرام اپنے کلام کے ذریعے سندھ کی قدیم تاریخ اور ثقافت کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ دسمبر 2010 میں سندھ کا دوسرا ’’یوم ثقافت‘‘ سرکاری سطح پر منایا گیا اور وزیر اعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کی طرف سے اس روز عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ 2011اور 2012میں بھی اس کا انعقاد ہوا ۔2013میں اس دن کی مناسبت سے مختلف علاقوں میں رنگا رنگ تقریبات کےعلاوہ قوالی کی محافل کا بھی انعقاد کیا گیا جن میں قوالوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی اور دیگر سندھی شعراء کاصوفیانہ کلام قوالی کی صورت میں پیش کرکے داد و تحسین حاصل کی۔ اس روز کراچی میں امریکی قونصلیٹ جنرل میں بھی سندھ کا ثقافتی دن انتہائی شایان شان طریقے سے منایا گیاجس میں خصوصی تقاریب منعقد کی گئیں۔ اس موقع پر امریکہ سے آئے ہوئے قوالوں کے طائفے نے شرکاء کے سامنے صوفیانہ کلام پیش کیا۔ اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ امریکی قونصل جنرل ،مائیکل ڈاڈمین اور ان کی اہلیہ نے روایتی سندھی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ 2014میں سندھی ثقافت کے حوالے سےکراچی پریس کلب میں ایک رنگارنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں عمائدین شہر نے شرکت کی۔2015میں اس یوم کو منانے کے لیے امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ پر محفل موسیقی کا انعقاد کیا گیا جس میں سندھ کے لوک فن کاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ 4دسمبر 2016کو دو سندھی چینلز کے اشتراک سے سندھ کے ثقافتی تہوار کے حوالے سے کراچی پریس کلب میں ایک رنگا رنگ تقریب منعقد ہوئی۔ اس دن کے حوالے سے امریکی قونصل جنرل کی جانب سے بھی قونصل خانے میں ثقافتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا تھا۔2017میں اس دن کو سندھ کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک میں شایان شان طریقے سے منایا گیا۔2دسمبر 2018 کو یہ دن "ایکتادیھاژو‘‘یعنی یوم یکجہتی کے طور پر منایا گیا۔ اس سلسلے میں پورے سندھ میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیاجب کہ یوم ثقافت کا مرکزی پروگرام حیدرآباد کے سندھ میوزیم میں منعقد ہوا۔ اگرچہ"سندھ کلچرل ڈے‘‘ یا ’’سندھی ٹوپی اجرک ڈے" منانے کا رواج صرف16 سال پرانا ہےلیکن اس تہوار کےحوالے سے منایا جانے والا جشن دیکھیں تو اس کے آگے عید بھی پھیکی پڑتی نظر آئے گی۔ روایتی گیتوں کی دھن پر رقص، ڈھول اور دھمال، نت نئے ڈیزائن کے ملبوسات، بڑی بڑی ریلیاں، فتح کے نشان، ہوائی فائرنگ، جلوس اور مبارکبادوں کا شور، یہ ان کے ملّی شعور کا مظہر ہےجس کی تشہیر عالمی پیمانے پر ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں سندھ کے باشندے ،مختلف تقریبات میں سندھ کے ثقافتی ٹیبلوز پیش کرکے یا علاقائی گیتوں پر والہانہ طور پرجھومتے ہوئے اپنی ثقافت سےمحبت کا اظہار کر تے ہیں۔ کراچی کے مختلف مقامات پر سندھی کلچرل ڈے کے حوالے سے تقریبات میں بچے، بڑے اور نوجوان روایتی جوش و خروش کا مظاہرہ کر تے ہیں۔ نوجوان سندھی نغموں اور لوک دھنوں پر رقص کرتے ہیں جبکہ بچوں کی جانب سے ٹیبلو پیش کرکے سندھ کی ثقافت کے دلکش رنگوں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ صبح کے وقت نوجوان، بچے اور بوڑھے ان تقریبات میں شرکت کے لئے سندھی اجرک، ٹوپی اور ملبوسات میں ملبوس ہوکر گھروں سے نکلتے ہیں۔سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے موٹر سائیکلوں پر ریلیاں بھی نکالی جاتی ہیں جن پر سندھی ٹوپی، اجرک اور پگڑیوں میں ملبوس نوجوان سندھ کے لوک گیتوں کی دھن پر رقص کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ کی ثقافت نہایت سادہ مگر رلی کے تمام رنگوں کی آمیزش لیے رنگین بھی ہے۔ سندھ کی تہذیب نہایت قدیم ہے اور یہ پرانی روایات کی امین بھی ہے۔ خوشی اور غمی کے مواقع پر مختلف گیت گائے جاتے ہیں۔ رنگ برنگی ساڑھیاں اور بازوئوں میں رنگ برنگی چوڑیاں پہنے صحرائے تھر کی خواتین سندھ کے تمام رنگوں کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں۔ خوشی کے مواقع پر ’’ہو جمالو‘‘ کا گیت گایا جاتا ہےـ اس گیت میں سکھر کے ریلوے پل سےجان پر کھیل کر پہلی مر تبہ ٹرین گزارنے کا تذکرہ موجود ہے ۔ سندھی مورخ رحیم داد خان مولائی شیدی نے اپنی کتاب ’’تاریخ سکھر ‘‘ میں تحریر کیا ہے کہ 1889 کے میں سکھر اور روہڑی کو ملانے کے لیے دریائے سندھ پر لینس ڈاؤن پل تعمیر کیا گیا۔ اس کی مضبوطی کا اندازہ لگانے کے لئے تجرباتی طور پر اس پل پر سے ٹرین کو گزارنے کے لیے ٹرین ڈرائیورز کو طلب کیا گیا لیکن کوئی بھی ڈرائیور اس پل پر سے ٹرین چلا کر گزارنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔سندھ میں تعینات برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے تعینات سندھ کے گورنر نے اعلان کیا کہ جو شخص اس پل پر سے ٹرین چلا کر دریا کے پار لے جائے گا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ جمالو شیدی نامی ایک شخص کو کسی جرم پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسر، بریگیڈئیر جنرل جان جیکب نے پھانسی کی سزا سنائی تھی اور وہ سکھر جیل میں قید اپنی موت کا انتظار کررہا تھا۔ یہ وہی جنرل جان جیکب تھا جس کے نام پر جیکب آباد نامی شہر بسایا گیا۔ حکومت سندھ کی طرف سے کیا جانے والا اعلان جمالو شیدی نے بھی سنا تو اس نے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ جمالو نےجنرل جان جیکب کو ایک مراسلہ لکھا، جس میں ٹرین کے ذریعے پل عبور کرنے کی پیش کش اس شرط پر کی گئی کہ اگر وہ بحفاظت ٹرین کو پل سے گزار کر دریا کے دوسرے کنارے پر لے جانے میں کامیاب ہوگیا تو اس کی سزا ختم کرکے اسے آزاد کر دیا جائے گا۔جنرل جیکب کی سفارش پرگورنر سندھ نے یہ پیشکش منظور کرلی۔ جمالو کو ٹرین پر سوار کیا گیا، اس نے ٹرین کو چلاتے ہوئے بحفاظت پل عبور کر لیا ۔اس کارنامے پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر نے نہ صرف اس کی سزا ختم کرکے اسے تمام الزامات سے بری کردیا بلکہ اسے انعام و اکرام سے بھی نوازا گیا۔جمالو ؒکی اہلیہ نے اپنے شوہر کی گھر آمد اور اسے نئی زندگی ملنے کی خوشی میں اس واقعے کو ایک گیت کی صورت میں گایا ’’ہو منھنجو کھٹی آیو خیر ساں، ہو جمالو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہو جیکو روہڑی واری پل تاں، ہو جمالو، ۔ ۔ ۔ ۔ ہو جیکو سکھر واری پل تاں، ہو جمالو‘‘ ۔ 1889ء کے بعد سے یہ سندھ کی سرزمین کا مقبول نغمہ بن چکا ہے اور سندھ کے باشندے ہر خوشی کے موقع پر اس گیت کو ڈھول بجاتے ہوئے رقص کی صورت میں گاتے ہیں۔ سندھ کے یوم ثقافت کے موقع پر بھی یہ گیت ہر جگہ سنائی دیتا ہے۔ اس سال کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ڈپٹی میئر سلمان عبداللہ مراد نے جمعرات 4 دسمبر کو بلدیہ عظمیٰ کراچی کے مرکزی دفتر کے سبزہ زار پر سندھ کے ثقافتی تہوار کا انعقاد کیا۔اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کی شاندار تہذیب، روایات اور ثقافتی ورثہ ہماری قومی شناخت ہے اور اس دن کو پورے جوش و خروش کے ساتھ منانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ سندھی ثقافت کے عالمی دن ، ’’ایکتادیھاژو‘‘یعنی’’ یوم یکجہتی‘‘ یا ’’اجرک ٹوپی ڈے‘‘کی ابتدا ڈپٹی میئر نے سرکاری سطح پر منا کر ایک نئی روایت قائم کی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ لیکن اتوار کا دن تو آج 7دسمبر کو شروع ہوا ہے جو اس تہوار کا اصل دن ہےجس کی عوامی سطح پرتقریبات کا آغاز رات بارہ بجے کے بعد مچ کچہری کے انعقاد سے کیا جائے گاـ
|