بشیر بدر: جدید اردو غزل کو نئے فکری اور جمالیاتی امکانات عطا کرنے والے شاعر تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی۔۔۔آسٹریلیا

بشیر بدر: جدید اردو غزل کو نئے فکری اور جمالیاتی امکانات عطا کرنے والے شاعر
تحریر: ڈاکٹر افضل رضوی۔۔۔آسٹریلیا
اردو ادب کی دنیا میں بعض نام صرف شاعر نہیں ہوتے، بلکہ ایک عہد، ایک احساس اور ایک تہذیبی روایت کی علامت بن جاتے ہیں۔ بشیر بدر بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے لاکھوں دلوں کو محبت، درد، ہجرت، تنہائی اور انسانی رشتوں کی نزاکتوں سے آشنا کیا۔ ان کے انتقال کی خبر اردو زبان و ادب کے لیے ایک ایسے چراغ کے گل ہونے کے مترادف ہے جس کی روشنی کئی نسلوں تک پھیلی رہی۔بشیر بدر جدید اردو غزل کے اُن ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی بصیرت سے غزل کو نئے فکری اور جمالیاتی امکانات عطا کیے۔ انہوں نے غزل کی روایت میں تازہ لفظیات، منفرد حسی پیکروں اور نئے عہد کے انسان کی نفسیاتی کیفیتوں کو اس مہارت سے سمویا کہ ان کا شعری لہجہ اپنے معاصرین سے الگ اور نمایاں نظر آتا ہے۔ بشیر بدر نے نہ تو کلاسیکی موضوعات کی تکرار پر اکتفا کیا اور نہ ہی ترقی پسند یا جدیدیت پسند نظریاتی دباؤ کو قبول کیا، بلکہ انہوں نے عام انسان کی روزمرہ زندگی، اس کے جذبات، مشاہدات اور تجربات کو سادہ مگر دلکش شعری اظہار عطا کیا۔ اسی وجہ سے ان کی شاعری نہ صرف اردو کے قارئین میں مقبول ہوئی بلکہ غیر اردو داں طبقے میں بھی غیر معمولی پذیرائی حاصل کر سکی۔
بشیر بدر کی غزل کا عمومی مزاج روایت شکن اور تازہ فکر کا آئینہ سمجھنا چاہیے۔ محبوب کے حسن و جمال کا ذکر ہو یا زندگی اور کائنات کے دیگر مظاہر، انہوں نے ہر موضوع کو ایک نئے زاویۂ نظر سے دیکھا اور پیش کیا۔ ان کی شاعری میں ایک لطیف ڈرامائی کیفیت پائی جاتی ہے جس کے باعث ان کے اشعار محض جذبات کے اظہار تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک مکمل واقعے یا کہانی کا تاثر پیدا کرتے ہیں۔ استعاروں اور علامتوں کی ہلکی سی دبیز چادر ان اشعار کو مزید معنی آفرینی عطا کرتی ہے۔ متحرک تصویری پیکر اور واقعاتی فضا ان کی غزل کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
ان کی سب سے بڑی ادبی خدمات میں یہ بات شامل ہے کہ انہوں نے غزل کی زبان میں ایسے بے شمار الفاظ اور تراکیب شامل کیں جو اس سے پہلے غزل کی روایت میں کم ہی استعمال ہوئے تھے۔ اس کامیابی کی بنیاد ان کا روزمرہ بول چال کی سادہ اور رواں اردو سے گہرا تعلق تھا۔ چونکہ ان کی زبان مصنوعی عربی و فارسی آمیز اسلوب سے نسبتاً آزاد تھی، اس لیے نئے الفاظ اور جدید زندگی کے تجربات اس میں آسانی سے جذب ہو گئے۔ ان کی شاعری میں لفظوں کی تازگی، احساس کی شگفتگی، فنی لطافت اور جمالیاتی حسن ایک ایسی دلکشی پیدا کرتے ہیں جو انہیں اپنے عہد کے دیگر شاعروں سے ممتاز کرتی ہے۔
بشیر بدر، جن کا اصل نام سید محمد بشیر تھا، 15 فروری 1935ء کو کانپور میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی تعلق ضلع فیض آباد کے گاؤں بکیا سے تھا۔ ان کے والد سید محمد نظیر محکمہ پولیس سے وابستہ تھے۔ ابتدائی تعلیم کانپور کے حلیم مسلم کالج میں حاصل کی، تاہم والد کے تبادلے کے بعد اٹاوہ منتقل ہوگئے جہاں انہوں نے محمد صدیق اسلامیہ کالج سے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔
شاعری سے ان کی وابستگی بچپن ہی سے تھی۔ ساتویں جماعت کے طالب علم تھے جب ان کی ایک غزل معروف ادبی رسالے ’’نگار‘‘ میں شائع ہوئی اور ادبی حلقوں میں ان کی صلاحیت کا چرچا ہونے لگا۔ نوجوانی تک پہنچتے پہنچتے ان کا کلام برصغیر کے اہم ادبی جرائد میں شائع ہونے لگا اور وہ ادبی دنیا میں ایک معتبر نام بن گئے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا، جامعہ علی گڑھ کے ادیب ماہر اور ادیب کامل امتحانات پاس کیے اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کا تحقیقی مقالہ ’’آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ‘‘ تھا جس کی نگرانی معروف نقاد آل احمد سرور نے کی۔ 1974ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور بعد ازاں میرٹھ یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ ان کی ادبی شہرت مسلسل بڑھتی رہی، تاہم زندگی نے انہیں کئی کٹھن آزمائشوں سے بھی گزارا۔
1984ء میں شائع ہونے والے اپنے مجموعۂ کلام ’’آمد‘‘ میں انہوں نے اپنی شاعری کی اہمیت اور اثرات کے بارے میں پُراعتماد انداز میں اظہارِ خیال کیا، جسے بعض ناقدین نے خود ستائی قرار دیا۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بشیر بدر نے اردو غزل میں نئے موضوعات، نئے تناظرات اور عصر حاضر کے انسانی مسائل کو ایک منفرد اور دلکش اسلوب میں پیش کر کے اسے نئی جہتیں عطا کیں۔ ان کی شاعری میں دیہی زندگی کی سادگی اور خوشبو بھی موجود ہے اور شہری تہذیب کے پیچیدہ اور تلخ تجربات بھی۔ انہوں نے تغزل کو ایک نئی معنویت بخشی جہاں روحانی اور جسمانی محبت، حقیقت اور تخیل، اور مقامی ثقافت و انسانی جذبات کا حسین امتزاج ملتا ہے۔معروف نقاد گوپی چند نارنگ کے مطابق بشیر بدر نے اردو شاعری میں نئی بستیاں آباد کیں۔ اگرچہ ان کی عوامی شناخت ان کی مقبول اور آسان فہم شاعری سے وابستہ ہے، لیکن ان کا شعری سرمایہ اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے۔ ان کی شاعری ہندوستانی تہذیب، مقامی ثقافت، گنگا جمنی روایت اور مختلف علاقائی زبانوں کے مزاج سے ایک مضبوط رشتہ قائم کرتی ہے۔ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں ’’پدم شری‘‘ سے نوازا، جبکہ ساہتیہ اکادمی اور مختلف ریاستی اردو اکادمیوں نے بھی انہیں متعدد اعزازات سے سرفراز کیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’اکائی‘‘، ’’امیج‘‘، ’’آمد‘‘، ’’آس‘‘، ’’آسمان‘‘ اور ’’آہٹ‘‘ شامل ہیں، جبکہ ان کا کلیات بھی شائع ہو چکا ہے اور اردو ادب کے اہم سرمایہ جات میں شمار ہوتا ہے۔
بشیر بدر کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف اس کی سادگی اور اثر آفرینی ہے۔ انہوں نے مشکل فلسفیانہ مباحث یا پیچیدہ لفظیات کے بجائے روزمرہ زندگی کے تجربات کو اس انداز سے بیان کیا کہ ہر شخص کو اپنی کہانی ان کے اشعار میں نظر آنے لگی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار نہ صرف ادبی حلقوں میں مقبول ہوئے بلکہ عام لوگوں کی زبان پر بھی جاری و ساری رہے۔
ان کا یہ شعر آج بھی زندگی کی حقیقتوں کا آئینہ معلوم ہوتا ہے:
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
بشیر بدر نے انسانی تعلقات میں پیدا ہونے والی دوریوں، بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں اور محبت کی ناپائیداری کو نہایت لطیف انداز میں بیان کیا۔ ان کے ہاں شکایت بھی ہے، محبت بھی، امید بھی اور زندگی کے تلخ تجربات کی گہری بصیرت بھی۔ ان کی شاعری میں ہجرت اور بچھڑنے کے دکھ کا ایک مستقل رنگ موجود ہے۔ خاص طور پر ان کے گھر اور کتب خانے کے فسادات میں جل جانے کا واقعہ ان کی زندگی پر گہرے اثرات چھوڑ گیا۔ اس سانحے کے بعد ان کی شاعری میں درد کی ایک نئی کیفیت پیدا ہوئی جو قاری کے دل تک براہ راست پہنچتی ہے۔ انہوں نے ذاتی غم کو اجتماعی احساس میں تبدیل کر دیا، اور یہی بڑے شاعر کی پہچان ہوتی ہے۔
ان کا ایک اور مقبول شعر ملاحظہ ہو:
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
یہ شعر محض ایک فرد کا دکھ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر دستک دیتا ہے۔ اس میں محبت، امن اور انسانی ہمدردی کا وہ پیغام پوشیدہ ہے جس کی آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ بشیر بدر کی غزل نے جدید اردو شاعری کو ایک نیا لہجہ عطا کیا۔ انہوں نے کلاسیکی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید انسان کے مسائل اور جذبات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کے اشعار میں نہ صرف جمالیاتی حسن ہے بلکہ فکری گہرائی بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل بھی ان سے اسی طرح متاثر ہوئی جیسے ان کے ہم عصر قارئین۔ان کی شاعری کا ایک نمایاں وصف امید کا چراغ روشن رکھنا ہے۔ زندگی کی تلخیوں اور محرومیوں کے باوجود وہ قنوطیت کا شکار نہیں ہوتے بلکہ انسان کو جینے، محبت کرنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ ان کا یہ شعر اس رویے کی بہترین مثال ہے:
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
بشیر بدر کی شاعری کی مقبولیت کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ ان کے اشعار انسانی رشتوں، محبت، تنہائی اور وقت کی بے ثباتی جیسے موضوعات کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے متعدد اشعار عوامی حافظے کا حصہ بن چکے ہیں۔ مثال کے طور پر:
اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
آج جب ہم بشیر بدر ہم میں نہیں رہے تو یہ خیال بارہا آیا کہ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھےبلکہ ایک تہذیب، ایک شائستہ لہجے اور ایک محبت بھرے احساس کا نام تھے۔ ان کی شاعری آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کا سرچشمہ رہے گی۔ وقت گزر جائے گا، نسلیں بدل جائیں گی، مگر بشیر بدر کے اشعار دلوں میں زندہ رہیں گے کیونکہ سچی شاعری زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔بشیر بدر کا جسمانی وجود اگرچہ ہم سے جدا ہو گیا ہے، لیکن ان کی آواز، ان کے اشعار اور ان کے احساسات اردو ادب کے آسمان پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔ ان کی یاد میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے محبت کو لفظوں میں ڈھال کر امر کر دیا، اور یہی ایک شاعر کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ بشیر بدر کی مغفرت فرمائے اور انہیں اپنی رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔

Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 169 Articles with 249208 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More