فریبِ ہستی اور جستجوئے سکون

ہر چہرہ گردِ ملال سے اٹا ہوا اور ہر دل کسی انجانے خوف میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آخر اس شورِ قیامت اور نفسا نفسی کے عالم میں ”شادمانی“ اور ”مسرت“ کا گوہرِ نایاب کیسے حاصل کیا جائے؟
آج کا انسان اگرچہ تسخیرِ کائنات کے دعوے کرتا دکھائی دیتا ہے، ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے اور فاصلوں کو سمیٹ کر اپنی مٹھی میں قید کر چکا ہے، لیکن صد حیف! کہ اپنے ہی من کی دنیا سے بیگانہ ہے۔ مادی ترقی کے اس اوجِ کمال پر پہنچنے کے باوجود، دورِ حاضر کا انسان ایک عجیب قسم کے اضطراب، بے چینی اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ ہر چہرہ گردِ ملال سے اٹا ہوا اور ہر دل کسی انجانے خوف میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آخر اس شورِ قیامت اور نفسا نفسی کے عالم میں ”شادمانی“ اور ”مسرت“ کا گوہرِ نایاب کیسے حاصل کیا جائے؟
سب سے پہلے ہمیں اس تلخ حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ خوشی کا تعلق ”سامان“ سے نہیں بلکہ ”اطمینان“ سے ہے۔ ہم نے آسائش کو آرام اور لذت کو سرور سمجھ لیا ہے، حالانکہ یہ دونوں قطعی مختلف کیفیات ہیں۔ نرم و گداز بستر نیند تو لا سکتا ہے مگر پرسکون خواب نہیں، اور انواع و اقسام کے کھانے شکم تو بھر سکتے ہیں مگر روح کی بھوک نہیں مٹا سکتے۔
حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے کیا خوب نسخہ کیمیا تجویز کیا ہے کہ سکون باہر کی دنیا میں نہیں بلکہ انسان کے اپنے اندر پوشیدہ ہے۔ جب تک انسان اپنی ذات کے عرفان تک نہیں پہنچتا، وہ بھٹکتا ہی رہے گا۔ آپ فرماتے ہیں:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
یعنی خوشی کا سرچشمہ تمہارے اپنے وجود کے اندر پھوٹتا ہے، اسے باہر کی مصنوعی روشنیوں میں تلاش کرنا عبث ہے۔
کلاسیکل دانشور اور صوفیاء اس بات پر متفق ہیں کہ ”قناعت“ ایک ایسی لازوال دولت ہے جس کا خزانہ کبھی خالی نہیں ہوتا۔ خوش رہنے کا پہلا قرینہ یہ ہے کہ انسان اپنی نظر ان نعمتوں پر رکھے جو اسے میسر ہیں، نہ کہ ان محرومیوں پر جو اس کی دسترس میں نہیں۔
دنیا کے عظیم صوفی شاعر مولانا جلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں کہ انسان کی بے چینی کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اس دنیا کو اپنا گھر سمجھ بیٹھا ہے، حالانکہ یہ تو ایک سرائے ہے۔ مولانا کا مفہوم ہے کہ: ”تو سونے کی ان زنجیروں پر کیوں خوش ہوتا ہے جو تجھے قید کیے ہوئے ہیں؟ اپنی روح کو آزاد کر، کیونکہ اصل خوشی آزادی اور فقر میں ہے۔“
جب انسان خواہشات کے بوجھ کو اتار پھینکتا ہے تو روح ہلکی پھلکی ہو کر پرواز کرتی ہے اور یہی حقیقی مسرت ہے۔
انسانی نفسیات کا ایک گہرا راز یہ بھی ہے کہ خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ خود غرضی اور انانیت کے خول میں بند انسان کبھی حقیقی معنوں میں شاداں و فرحاں نہیں ہو سکتا۔ جب ہم اپنے سے کمزور، نادار اور دکھی انسانوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں، تو قدرت انعام کے طور پر ہمارے دل میں ایک ایسی ٹھنڈک اور طمانیت اتارتی ہے جس کا نعم البدل دنیا کی کوئی دولت نہیں ہو سکتی۔ کسی روتے ہوئے کو ہنسانا اور کسی گرتے ہوئے کو سہارا دینا، عبادت بھی ہے اور حصولِ مسرت کا بہترین ذریعہ بھی۔
دورِ جدید کا ایک بڑا المیہ ”موازنہ ہے۔ سوشل میڈیا اور ظاہری نمائش کے اس دور میں ہر شخص اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی ظاہری چمک دمک سے کر رہا ہے۔ یاد رکھیے! حسد ایک ایسی آگ ہے جو انسان کو اندر ہی اندر بھسم کر دیتی ہے۔ ہر انسان کی تقدیر، آزمائش اور حالات جداگانہ ہیں۔ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرنا دراصل اپنی خوشیوں کا قتلِ عام ہے۔
الغرض، خوشی کسی بازار میں بکنے والی جنس نہیں جسے دام دے کر خرید لیا جائے، بلکہ یہ تو ایک باطنی کیفیت اور رویے کا نام ہے۔ اگر آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو اپنی توقعات کو محدود کیجیے، شکر کے جذبے کو بیدار کیجیے اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کیجیے۔خوش رہنا صرف آپ کا حق نہیں بلکہ آپ کی ذمہ داری بھی ہے، کیونکہ ایک پرسکون فرد ہی ایک پرامن معاشرے کی ضمانت ہے۔
 
akramsaqib
About the Author: akramsaqib Read More Articles by akramsaqib: 81 Articles with 88489 views I am a poet, writer and dramatist who writes for changing himself... View More