شاید نہیں
(Tooba Khan , Dera Ghazi Khan)
یہ کہانی عمیر کی ہے — ایک ایسے لڑکے کی جو آج دولہا ہے مگر اپنی ہی شادی کی رات اپنی بیوی کے قریب نہیں جا سکتا۔ وجہ کوئی کمزوری نہیں — بلکہ وہ زخم ہیں جو بچپن میں کسی اپنے نے دیے، جنہیں گھر والوں نے محبت سمجھا اور معاشرے نے چھپا دیا۔ یہ کہانی اس سوال کو اٹھاتی ہے کہ جب ہم اپنے بچوں کی بے چینی کو نظرانداز کرتے ہیں، جب ہم اعتماد غلط جگہ رکھتے ہیں — تو اس کی قیمت صرف وہ بچہ نہیں بلکہ اس کی پوری زندگی چکاتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو سنیں، Good Touch اور Bad Touch سکھائیں — اور اگر کچھ ہو جائے تو چھپانے کی بجائے مدد لیں۔ کیونکہ خاموشی علاج نہیں، خاموشی زخم کو گہرا کرتی ہے۔ |
|
|
ٹروما |
|
شاید نہیں
عمیر اس وقت واش روم میں خود کو آئینے میں دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے، پورا بدن پسینے سے شرابور ہے۔ اور اپنی رخصتی سے کچھ دیر پہلے کا منظر دماغ میں گھوم رہا ہے۔
عمیر جلدی تیار ہو جاؤ کہاں ہو تم۔ یہ لڑکا بھی آج شادی ہے اس کی اور اسے دیکھو پتہ نہیں کہاں غائب ہے ابھی تک۔ عمیر تم اندر ہو بیٹا؟ بیٹا جلدی باہر آؤ واش روم سے اور تیار ہو جاؤ، میں تمہاری شیروانی رکھ کر جا رہی ہوں۔ تمہاری آنٹی بھی پوچھ رہی ہیں کہ کہاں ہو تم؟ آنٹی کا نام سن کر اس کے پاؤں جیسے زمین سے چپک گئے۔ یہ وہی ممانی تھیں جن کی عمیر سے محبت کو گھر والے ہمیشہ محبت ہی سمجھتے آئے تھے۔ خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر حد سے زیادہ گھبرایا ہوا ہے، جو خوف اس کے چہرے پر آیا وہ حیران کن اور پریشان کن تھا۔
نہ نہ م م میں ش شا شادی ن ن نہیں
کنٹرول عمیر تم بڑے ہو اب کنٹرول۔ پر آنٹی نہیں میں نہیں جاؤں گا باہر۔
بغیر جواب کے دوبارہ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ عمیر کہاں ہو دیکھو تمہاری آنٹی آئی ہیں۔ آنٹی کے پاس نہیں آؤ گے کیا؟ دیکھو یہ غلط بات ہے آنٹی اتنے عرصے بعد آئی ہیں چلو دروازہ کھولو کھولو دروازہ۔
ن ن ن نہیں۔
یہ کیا بات ہوئی کھولو دروازہ فوراً ورنہ میں آ جاؤں گی اندر۔ عمیر نے ڈر کر دروازہ کھول دیا مگر باہر نہیں آیا۔ اندر آتے ہی انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا — اسی طرح جیسے ہمیشہ پکڑتی تھیں۔ عمیر کے اندر کچھ سکڑ گیا، وہی پرانی بے بسی جو بچپن سے آتی تھی اور آج بھی نہیں گئی تھی۔
آنٹی نے اسے لے کر بیڈ پر اس کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ ہمم تو آج شادی ہے تمہاری آؤ میں پھر کچھ ٹپس ہی دے دیتی ہوں آخر شادی ہے تمہاری۔ آنٹی نے کہتے ہوئے اس کے بازو پر ہاتھ پھیرا۔
نہیں عمیر ہچکچاتے انداز میں انہیں خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں نے کہا نہ ادھر آؤ سمجھ نہیں آتی؟ آنٹی نے چیخ کر کہا پھر اچانک لہجہ بدلا۔ میں نے کہا ہے نہ کہ تھوڑی دیر ٹائم اسپینڈ کر لیں گے، پھر تو تمہاری بیوی آ جائے گی۔ لیکن دیکھو میرا وقت میرا ہے۔
اس کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہہ رہی تھیں اور وہ خوف سے سفید پڑ رہا تھا۔ دیکھو ایسے ہی میری بات مانا کرو مجھے ایسے ہی غصہ دلاتے ہو تم ہمیشہ سے۔
یہ کہتے ہوئے وہ اس کے قریب آنے لگیں کہ اچانک باہر سے عمیر کی امی کی آواز آئی۔ عمیر دروازہ کھولو کیوں لاک کیا ہے تیار ہو گئے ہو کیا؟
ایک لمحے کے لیے سب جم گیا۔ آنٹی کا ہاتھ رکا۔ عمیر کی سانس رکی۔ اور پھر وہ فوراً دروازے کی طرف بڑھا اور کھول دیا۔
ارے یہ کیا تم تیار نہیں ہوئے اور اتنا پسینہ کیوں آ رہا ہے تمہیں۔ وہ بھابھی میں آئی تھی عمیر سے ملنے پھر تو میں نے کہا کہ جب اس کی بیوی آ جائے گی تو یہ اپنی آنٹی کو بھول ہی جائے گا نہ تو بس۔ اچھا اچھا صحیح کیا بھابھی چلو عمیر تم تیار ہو جاؤ۔
آنٹی گال پر ہاتھ رکھ کر باہر چلی گئیں اور اس کی امی بھی۔ جو ہوا تھا وہ چار دیواری کے اندر ہی رہ گیا — جیسے ہمیشہ رہتا آیا تھا۔
اس کی دلہن کمرے میں اس کا انتظار کر رہی تھی — خاموش، انجان، اس سب سے بے خبر جو ابھی ہوا تھا۔ اور وہ واش روم میں بند خود کو دیکھ رہا ہے۔ آخر خود کو کنٹرول کر کے وہ باہر جاتا ہے۔
اپنی دلہن کے سامنے جاتے ہی — د د دیکھیں آپ ریسٹ کریں میں وہاں صوفے پر سو جاتا ہوں۔ یہ کہتے ہی وہ وہاں چلا جاتا ہے بغیر اس کی کوئی بات سنے۔ اور وہاں لیٹے ہوئے یہی باتیں اس کے ذہن میں گردش کرتی رہتی ہیں کہ اپنے ان ٹراؤمے کی وجہ سے کیا وہ کبھی نارمل زندگی گزار سکتا ہے
اندر کہیں سے جواب آتا ہے — شاید نہیں۔
اس کے ایک ٹراؤمے کی وجہ سے وہ اور اس کی بیوی بھی کبھی ایک خوشحال زندگی نہیں گزار سکتے — اور یہ سب اس لیے کیونکہ وہ بچپن سے جنسی استحصالsexual) abuse) کا شکار ہوتا آیا ہے۔
جنسی اور ذہنی استحصال کا شکار بچوں کو مسلسل تھراپی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اس ٹراؤمے سے نکل کر ایک نارمل زندگی جی سکیں۔ مگر ہمارے یہاں اگر پتہ بھی چل جائے تو اس بات کو چھپایا جاتا ہے بجائے اس کے کہ ڈاکٹر کے پاس لے جائیں۔ ایسے بچے کبھی نارمل نہیں ہو پاتے، یہ ٹراؤمے ساری زندگی ان کی زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اور اکثر ایسے کیسز میں بچے یا تو فوبیا کا شکار ہو جاتے ہیں،یعنی اپنے ہی سائے سے ڈرتے ہیں — یا پھر ردعمل میں کچھ اور (جانور)بن جاتے ہیں ۔
اور اس ان جیسے cases کے پیچھے اکثر کوئی اپنا ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے میری تمام والدین کو نصیحت ہے کہ اپنے بچوں کے معاملے میں کسی پر بھی اندھا بھروسہ نہ کریں، بلکہ اپنے بچوں کو Good Touch اور Bad Touch کے بارے میں بتائیں اور انہیں یہ کہیں کہ اگر کچھ ایسا ہو تو وہ آپ کو فوراً بتائیں۔ اور اگر خدانخواستہ کچھ ایسا وہ فیس کر رہے ہوں تو ان کی کاؤنسلنگ کروائی جائے۔
ہماری سوسائٹی کی وجہ سے ہی ایسا ہے کہ اگر ایسا کوئی کیس ہو بھی تو اس متاثرہ کو ساری زندگی اسی انسان کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے گھر والوں کی عزت کی خاطر — اور یوں کئی زندگیاں برباد ہو کر رہ جاتی ہیں۔
oobà~ |
|