ڈیجیٹل کلچر کا نوحہ
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
شہر کی شام جب اپنے دھندلے سائے پھیلانے لگتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے لمحہ بھر کے لیے اپنی رفتار کو روک لیا ہو، مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ وقت رکتا نہیں، صرف انسان کی گرفت اس پر کمزور پڑنے لگتی ہے۔ سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں، روشنیوں میں نہائی ہوئی دکانیں، بے شمار چہروں کا ہجوم، اور ان سب کے درمیان ایک ایسی خاموش بے ربطی جو جدید زندگی کی سب سے بڑی علامت بنتی جا رہی ہے۔ ہر شخص موجود ہے مگر مکمل طور پر حاضر نہیں۔ جسم ایک مقام پر ہے مگر ذہن مسلسل کسی اور دنیا میں سفر کر رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے انسان نے اپنے اندر ایک متوازی کائنات آباد کر لی ہو؛ ایک ایسی دنیا جو نظر نہیں آتی مگر اس کی گرفت حقیقت سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جدید انسان کی نئی شناخت جنم لیتی ہے۔ اب انسان اپنی پہچان آئینے میں کم اور اسکرین میں زیادہ تلاش کرتا ہے۔ اس کا چہرہ اب صرف چہرہ نہیں رہا بلکہ ایک “پروفائل” بن چکا ہے، اس کی آواز محض گفتگو نہیں بلکہ “اسٹیٹس” ہے، اور اس کے جذبات اب دل کے اندر نہیں بلکہ ردعمل کے خانوں میں قید ہوتے جا رہے ہیں۔ گویا انسان آہستہ آہستہ اپنی اصل ذات سے نکل کر اپنے ہی ڈیجیٹل عکس میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے۔ اسی شہر کے ایک مختصر سے کمرے میں ایک نوجوان بیٹھا ہے۔ کمرے کی خاموش دیواروں پر اسکرین کی نیلی روشنی بار بار لرزتی ہے۔ اس کی انگلیاں مسلسل حرکت میں ہیں، جیسے وہ کسی بے کنار سمندر میں کنکریاں پھینک رہا ہو۔ اس کی آنکھیں اسکرین پر جمی ہیں مگر ان آنکھوں کے پیچھے ایک ایسی تھکن موجود ہے جو جسمانی نہیں بلکہ فکری اور روحانی ہے۔ وہ ہنستا ہے، کبھی کسی تصویر پر ٹھہرتا ہے، کبھی کسی تبصرے پر ردعمل دیتا ہے، مگر اس کے باوجود یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود اپنی ہی موجودگی سے دور ہوتا جا رہا ہو۔ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، یہ پورے عہد کا استعارہ ہے۔ ایک ایسا عہد جہاں انسان کے عمل سے زیادہ اس کے اظہار کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اظہار بھی ایسا جو مسلسل ناپا جاتا ہے، پرکھا جاتا ہے اور ردعمل کی صورت میں انسان کی طرف لوٹایا جاتا ہے۔ گویا پوری دنیا ایک وسیع ہال میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں ہر شخص دوسروں کی نگاہوں کے سامنے کھڑا ہے، اور ہر لمحہ اپنی قبولیت ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ اسی مقام پر ایک عجیب تضاد جنم لیتا ہے۔ جتنا انسان دنیا سے جڑتا جا رہا ہے، اتنا ہی اندر سے بکھرتا جا رہا ہے۔ رابطوں کی تعداد بڑھ رہی ہے مگر تعلق کی گہرائی کم ہوتی جا رہی ہے۔ گفتگو موجود ہے مگر اس میں وہ سکون، وہ ٹھہراؤ اور وہ تہذیبی شائستگی نہیں رہی جو کبھی انسانی مکالمے کا حسن ہوا کرتی تھی۔ لفظ باقی ہیں مگر ان کے اندر احساس کی حرارت کم ہوتی جا رہی ہے۔ انسان بول تو بہت رہا ہے مگر سمجھ کم رہا ہے۔ یہی بکھراؤ آہستہ آہستہ گھروں کی فضا میں بھی سرایت کر جاتا ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے سے ایسے دور محسوس ہوتے ہیں جیسے ان کے درمیان زمانوں کا فاصلہ حائل ہو۔ ماں کی آواز کسی پس منظر میں کھو جاتی ہے، باپ کی نصیحت غیر ضروری محسوس ہونے لگتی ہے، اور بہن بھائیوں کی ہنسی ایک اجنبی شور بن جاتی ہے۔ ہر فرد اپنی اسکرین میں قید ہے، جیسے ہر انسان نے اپنے گرد ایک نادیدہ دیوار تعمیر کر لی ہو۔ یہاں سے انسانی تعلقات کی وہ روایت بھی کمزور ہونے لگتی ہے جس کی بنیاد قربت، احترام اور تہذیبی شعور پر قائم تھی۔ اب کسی کے قریب ہونے کا مطلب اس کے ساتھ بیٹھنا نہیں بلکہ اس کا “آن لائن” ہونا ہے۔ محبت، دوستی، ہمدردی اور خلوص جیسے جذبات بھی مختصر علامتوں اور فوری ردعمل میں سمٹتے جا رہے ہیں۔ گویا جذبات کی پوری تہذیب اختصار کے بوجھ تلے دبتی جا رہی ہے۔ اسی تبدیلی کا سب سے گہرا اثر ادب پر بھی مرتب ہو رہا ہے۔ اردو ادب جو کبھی انسانی شعور، تہذیب، شائستگی اور فکری بالیدگی کا مظہر تھا، اب تیز رفتار ڈیجیٹل زندگی کے شور میں دبنے لگا ہے۔ وہ ادب جس نے انسان کو سوچنے کا سلیقہ دیا، گفتگو کی نزاکت سکھائی، اختلاف میں احترام کا ہنر عطا کیا، اور جذبات کو تہذیبی وقار کے ساتھ بیان کرنا سکھایا، آج اسی ادب سے فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ کبھی یہی معاشرہ تھا جہاں شامیں کتابوں کے نام ہوتی تھیں۔ محفلوں میں شعر پڑھے جاتے تھے، مکالموں میں حوالۂ ادب شامل ہوتا تھا، اور گفتگو محض الفاظ کا تبادلہ نہیں بلکہ ذہنی تربیت کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ مطالعہ ایک مشکل عادت بنتا جا رہا ہے۔ طویل تحریریں انسان کو بوجھ محسوس ہونے لگی ہیں، اور فکر کی گہرائی فوری تفریح کے سامنے کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ اردو ادب کا المیہ یہ نہیں کہ اسے پڑھنے والے کم ہو گئے ہیں، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ انسان کے اندر وہ سکون کم ہو گیا ہے جو ادب کو سمجھنے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ ادب ہمیشہ ٹھہراؤ مانگتا ہے، غور و فکر چاہتا ہے، جبکہ جدید ڈیجیٹل دنیا مسلسل انسان کی توجہ کو منتشر کر رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان معلومات تو بہت حاصل کر رہا ہے مگر فہم کی گہرائی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زبان سے شائستگی بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ گفتگو میں تحمل کی جگہ جلد بازی نے لے لی ہے۔ اختلاف اب دلیل سے نہیں بلکہ شور سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ طنز، تمسخر اور سطحی جملے فکری مکالمے کی جگہ لینے لگے ہیں۔ ادب جو انسان کو برداشت، تہذیب اور وقار سکھاتا تھا، اس کی غیر موجودگی نے معاشرتی رویوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ علامہ اقبال نے کبھی انسان کو “خودی” کا شعور دیا تھا، فیض نے دکھ کو اجتماعی احساس میں بدلنا سکھایا تھا، منٹو نے معاشرے کے تلخ سچ کو آئینے کی طرح سامنے رکھا تھا، اور اشفاق احمد و بانو قدسیہ نے روحانی اور اخلاقی سوالات کے ذریعے انسان کو اس کے باطن سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔ مگر آج کا انسان انہی سوالات سے دور بھاگتا محسوس ہوتا ہے۔ وہ اپنی تنہائی کو خاموشی میں سمجھنے کے بجائے اسکرین کے شور میں دفن کر دیتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔ یہی دنیا علم تک رسائی کو آسان بناتی ہے، فاصلے سمیٹ دیتی ہے، اور اظہار کے نئے امکانات پیدا کرتی ہے۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان ذریعہ اور مقصد کے درمیان فرق کھو بیٹھتا ہے۔ جب سہولت انسان پر حاوی ہو جائے تو وہ آزادی کے بجائے انحصار بن جاتی ہے۔ آج کا انسان بظاہر بہت مصروف ہے مگر اندر سے شدید تنہائی کا شکار بھی ہے۔ وہ مسلسل دوسروں سے جڑا ہوا ہے مگر اپنی ذات سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی خود اعتمادی دوسروں کے ردعمل سے وابستہ ہو چکی ہے۔ ایک تعریف اسے خوش کر دیتی ہے اور ایک خاموشی اسے اندر سے توڑ دیتی ہے۔ یوں اس کی شخصیت ایک غیر مستحکم بنیاد پر کھڑی ہونے لگتی ہے۔ اس پورے منظرنامے میں ادب ایک چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ادب انسان کو دوبارہ اپنے اندر لوٹنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ خاموشی بھی گفتگو ہو سکتی ہے، مطالعہ بھی عبادت بن سکتا ہے، اور الفاظ صرف اظہار نہیں بلکہ تہذیب کی علامت بھی ہوتے ہیں۔ ادب انسان کو اس کے اندر کی شکستگی سے آشنا کرتا ہے اور پھر اسی شعور کے ذریعے اسے جوڑنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ شاید اسی لیے آج کے دور میں ادب کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کیونکہ انسان جتنا ترقی کر رہا ہے، اتنا ہی اندر سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ مشینیں تیز ہو رہی ہیں مگر احساس سست پڑتے جا رہے ہیں۔ معلومات بڑھ رہی ہیں مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے۔ آوازیں بلند ہو رہی ہیں مگر مکالمہ خاموش ہوتا جا رہا ہے۔ اسی کمرے میں بیٹھا وہ نوجوان ایک لمحے کے لیے رک جاتا ہے۔ اس کی انگلیاں ساکن ہو جاتی ہیں۔ اسکرین کی روشنی اب بھی اس کے چہرے پر پڑ رہی ہے مگر اس کی آنکھوں میں پہلی بار ایک سوال ابھرتا ہے۔ شاید اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف وقت گزار نہیں رہا بلکہ آہستہ آہستہ اپنے اندر کی کسی قیمتی شے کو کھوتا جا رہا ہے۔ کوئی ایسی شے جس کا تعلق انسان کی روح، تہذیب، احساس اور ادب سے ہے۔ باہر شہر اپنی رفتار سے چل رہا ہے۔ شور بدستور قائم ہے۔ روشنیوں کی چکاچوند پہلے کی طرح موجود ہے۔ مگر اس تمام شور کے بیچ کہیں ایک خاموش سوال مسلسل زندہ ہے: کیا انسان ترقی کے سفر میں اپنی تہذیب، شائستگی، ادب اور داخلی سکون کو پیچھے چھوڑتا جا رہا ہے؟ اور شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والا وقت انسان سے طلب کرے گا۔ |
|