فضلے کو توانائی اور وسائل میں بدلنے کی کامیاب کہانی

فضلے کو توانائی اور وسائل میں بدلنے کی کامیاب کہانی
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

جدید شہری زندگی کے ساتھ ایک بڑا چیلنج ہمیشہ سے کچرے کا بڑھتا ہوا حجم رہا ہے۔ دنیا کے بیشتر بڑے شہروں کی طرح چین کو بھی کئی دہائیوں تک اس مسئلے کا سامنا رہا، یہاں تک کہ بعض ماحولیاتی حلقے بڑے شہروں کو "کچرے کے محاصرے" میں گھرا ہوا قرار دیتے تھے۔ تیزی سے بڑھتی آبادی، شہری توسیع اور معاشی سرگرمیوں کے باعث لینڈ فل سائٹس بھر چکی تھیں اور کچرے کے بڑے بڑے ڈھیر شہروں کے لیے ماحولیاتی اور ترقیاتی رکاوٹ بن رہے تھے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں چین نے فضلہ تلف کرنے کے روایتی طریقوں سے آگے بڑھتے ہوئے ایک ایسا ماڈل اختیار کیا ہے جس نے کچرے کو مسئلے کے بجائے ایک قیمتی وسیلہ بنا دیا ہے۔ آج چین نہ صرف کچرے کے پہاڑ ختم کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے بلکہ اسی فضلے سے بجلی، حرارت اور تعمیراتی مواد بھی حاصل کر رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین کے بڑے شہروں میں روزانہ گھریلو کچرے کی پیداوار بیس ہزار ٹن سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ اگر صرف ایک بڑے شہر کے ایک دن کے کچرے کو ایک میٹر اونچائی تک پھیلا دیا جائے تو وہ تقریباً بیس معیاری فٹ بال میدانوں کے برابر رقبہ گھیر سکتا ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں پیدا ہونے والا کچرا ماضی میں شہروں کے لیے ایک سنگین مسئلہ تھا، لیکن اب صورتحال یکسر مختلف ہے۔
چین کے شہر شین زین میں واقع یولونگ لینڈ فل اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ مقام 1983 سے 1997 تک شہر کے گھریلو کچرے کا بڑا مرکز رہا جبکہ 2005 میں اسے مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ ایک وقت تھا جب یہ لینڈ فل شہر کے کنارے واقع تھا، لیکن شہری توسیع کے باعث اب اس کے اردگرد بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں۔

2024 میں یہاں چین کا سب سے بڑا لینڈ فل کھدائی اور بحالی منصوبہ شروع کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت روزانہ تقریباً چھ ہزار ٹن پرانا کچرا نکالا جا رہا ہے۔ پلاسٹک اور ربڑ جیسے آتش گیر مواد کو قریبی ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس میں بھیج کر بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد صرف ماحولیاتی مسائل کا حل نہیں بلکہ شہری ترقی کے لیے نئی زمین حاصل کرنا بھی ہے۔

متوقع طور پر رواں سال کے اختتام تک یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد تقریباً تین لاکھ مربع میٹر زمین دستیاب ہوگی جہاں ایک جدید ڈیجیٹل صنعتی مرکز اور ماحولیاتی گرین ویلی قائم کی جائے گی۔ اس طرح ماضی کا کچرے کا پہاڑ مستقبل کی معاشی ترقی اور ماحولیاتی بہتری کا مرکز بن جائے گا۔

اسی نوعیت کی تبدیلیاں ملک کے دیگر حصوں میں بھی دیکھی جا رہی ہیں۔ دارالحکومت بیجنگ میں موجود گارڈن ایکسپو پارک کبھی ریت کے طوفانوں، بجری کے گڑھوں اور کچرے کے ڈھیروں کے لیے مشہور تھا۔ تاہم لاکھوں ٹن تعمیراتی فضلے کو ری سائیکل کر کے زمین کی تزئین نو کی گئی، آبی پودے متعارف کرائے گئے اور تقریباً تین سال کے عرصے میں اس علاقے کو ایک خوبصورت ماحولیاتی پارک میں تبدیل کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق آج چین کے چار بڑے شہروں بیجنگ، شنگھائی، گوانگ جو اور شین زین میں کوئی بھی ایسا لینڈ فل موجود نہیں جو بغیر پراسیس کیے گئے گھریلو کچرے کو قبول کرتا ہو۔ مزید برآں، ملک بھر میں 80 فیصد سے زیادہ پرانے کچرے کے پہاڑوں کی بحالی کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے اور لینڈ فل سائٹس کی ماحولیاتی بحالی ایک معمول بن چکی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں پیدا ہونے والا کچرا آخر جاتا کہاں ہے؟ اس کا جواب جدید ویسٹ ٹو انرجی ٹیکنالوجی میں پوشیدہ ہے۔ چین میں اب گھریلو کچرے کا بیشتر حصہ جدید بھٹیوں میں جلایا جاتا ہے، لیکن یہ عمل ماضی کی آلودگی پھیلانے والی ٹیکنالوجی سے یکسر مختلف ہے۔ جدید پلانٹس نہ صرف بجلی پیدا کرتے ہیں بلکہ حرارت اور دیگر قابلِ استعمال وسائل بھی حاصل کرتے ہیں۔صوبہ گوانگ دونگ کے شہر فوشان میں قائم ایک ماحولیاتی صنعتی پارک روزانہ تقریباً 4,500 ٹن گھریلو کچرے کو پراسیس کرتا ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی بجلی کے ساتھ ساتھ بھاپ بھی تیار کی جاتی ہے جو قریبی فیکٹریوں کو فراہم کی جاتی ہے، یوں روایتی ایندھن کے استعمال میں کمی آتی ہے۔

شنگھائی کے لاوگانگ ویسٹ ڈسپوزل بیس میں کچرے کو اتارنے، خمیر کرنے، جلانے اور اخراج کی نگرانی تک کا بیشتر عمل خودکار نظام کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ متعلقہ حلقوں کے مطابق یہاں فضائی آلودگی کے اخراج کی سطح قومی اور یورپی معیار سے بھی بہتر ہے۔

ماضی میں عوام کو کچرا جلانے والے پلانٹس سے زہریلے دھوئیں اور ڈائی آکسن جیسی خطرناک گیسوں کے اخراج کا خدشہ رہتا تھا، لیکن جدید ٹیکنالوجی نے ان خدشات کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ موجودہ نظام میں بھٹیوں کا درجہ حرارت 850 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ رکھا جاتا ہے، جس سے نقصان دہ مرکبات مکمل طور پر تحلیل ہو جاتے ہیں جبکہ فلٹرز اور دیگر جدید آلات باقی ماندہ آلودگی کو بھی قابو میں رکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جلنے کے بعد بچنے والی راکھ بھی ضائع نہیں کی جاتی۔ اس میں موجود لوہا، تانبا، ایلومینیم اور دیگر دھاتیں دوبارہ حاصل کی جاتی ہیں جبکہ باقی مواد کو ماحول دوست اینٹوں اور تعمیراتی سامان میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ گوانگ جو کے ایک بڑے سرکلر اکانومی صنعتی پارک میں صرف 2025 کے دوران چھ لاکھ ٹن راکھ کو تعمیراتی مواد میں تبدیل کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2025 تک چین کی شہری گھریلو فضلہ پراسیسنگ صلاحیت میں کچرا جلانے کا حصہ 78.1 فیصد تک پہنچ چکا تھا، جو 2020 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ آج چین دنیا کی تقریباً 60 فیصد ویسٹ ٹو انرجی صلاحیت کا مالک ہے، جو یورپ، امریکہ اور جاپان کی مجموعی صلاحیت سے بھی زیادہ ہے۔

چین نے صرف ایک دہائی کے اندر وہ پیش رفت حاصل کی ہے جس میں کئی ترقی یافتہ ممالک کو تین دہائیاں لگیں۔ اب ملک کی توجہ محض کچرے کے محفوظ تصرف سے آگے بڑھ کر وسائل کی بازیابی اور سرکلر معیشت کے فروغ پر مرکوز ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران بھی اس شعبے میں مزید جدید اقدامات متوقع ہیں۔


کچرے کے ڈھیروں سے لے کر بجلی پیدا کرنے والے جدید پلانٹس تک کا یہ سفر اس بات کی واضح مثال ہے کہ درست منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے وژن کے ذریعے بڑے ماحولیاتی چیلنجز کو ترقی کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ چین کی یہ کامیابی نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کی ایک اہم مثال ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ مستقبل کی معیشت میں فضلہ ایک بوجھ نہیں بلکہ ایک قیمتی وسیلہ بن سکتا ہے، جو صاف توانائی، صنعتی ترقی اور ایک خوبصورت ماحول کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1902 Articles with 1110640 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More