تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے محتاط استعمال کا تقاضا

تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے محتاط استعمال کا تقاضا
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

تعلیم کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار پیش رفت دنیا بھر میں تدریسی اور تعلیمی طریقہ کار کو تبدیل کر رہی ہے۔ معلومات کے حصول، امتحانات کی تیاری، تعلیمی مشاورت اور انتظامی امور میں مصنوعی ذہانت کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔ چین میں بھی یہ رجحان نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، جہاں قومی کالج داخلہ امتحان، یعنی "گاؤ کھاؤ"، کی تیاری سے لے کر یونیورسٹیوں کے انتخاب تک مصنوعی ذہانت کے مختلف استعمالات دیکھے جا رہے ہیں۔ تاہم متعلقہ حکام اور تعلیمی حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اگرچہ ایک مفید معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن یہ محنت، تنقیدی سوچ اور امتحانی دیانت داری کا متبادل نہیں بن سکتی۔

چین کا گاؤ کھاؤ امتحان دنیا کے سب سے بڑے اور اہم تعلیمی امتحانات میں شمار ہوتا ہے۔ 2026 میں تقریباً ایک کروڑ انتیس لاکھ امیدواروں نے اس امتحان کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے۔ اس تناظر میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے تعلیم کے شعبے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بعض آن لائن پلیٹ فارمز اور ادارے مصنوعی ذہانت کے ذریعے امتحانی سوالات کی پیش گوئی جیسے دعوے بھی کر رہے ہیں۔

چینی وزارتِ تعلیم نے امتحان سے قبل طلبہ اور والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے گمراہ کن اشتہارات اور دعوؤں سے محتاط رہیں جن میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے اصل امتحانی سوالات کی پیش گوئی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق گاؤ کھاؤ کے سوالات اس انداز میں تیار کیے جاتے ہیں کہ محض اندازوں یا مخصوص پیٹرنز کی بنیاد پر ان کی پیش گوئی ممکن نہیں ہوتی۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت طلبہ کے لیے ایک مفید تعلیمی معاون کا کردار ضرور ادا کر سکتی ہے۔ غلط سوالات کا تجزیہ، کمزور موضوعات کی نشاندہی، مشق کے لیے نئے سوالات کی تیاری اور مختلف علمی نکات کی وضاحت جیسے شعبوں میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود بعض پیچیدہ یا غیر روایتی سوالات میں مصنوعی ذہانت بعض اوقات غلط یا نامکمل جوابات بھی فراہم کر سکتی ہے، جس کی وجہ سے اس پر مکمل انحصار مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

اساتذہ کا بھی یہی مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت اس وقت زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے جب طلبہ پہلے خود سوالات حل کریں اور بعد ازاں اپنی غلطیوں کا جائزہ لینے کے لیے اس ٹیکنالوجی سے مدد حاصل کریں۔ اگر طلبہ صرف مصنوعی ذہانت کے فراہم کردہ جوابات نقل کرنے لگیں تو وقتی طور پر ان کا کام آسان ہو سکتا ہے، لیکن بنیادی علمی کمزوریاں برقرار رہتی ہیں اور وقت کے ساتھ مزید بڑھ سکتی ہیں۔

امتحان کے بعد یونیورسٹی اور شعبہ جات کے انتخاب کے مرحلے میں بھی مصنوعی ذہانت کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ برس امتحانی نتائج کے اعلان کے بعد لاکھوں طلبہ نے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر موجود مصنوعی ذہانت پر مبنی مشاورتی خدمات سے استفادہ کیا۔ یہ نظام امیدوار کے نمبرات، صوبائی درجہ بندی، مضامین کے انتخاب اور ذاتی ترجیحات کی بنیاد پر مختلف جامعات اور شعبوں کی تجاویز پیش کرتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران چین میں یونیورسٹی داخلوں سے متعلق نجی مشاورتی خدمات ایک بڑی صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ بعض ادارے انفرادی مشاورت کے لیے ہزاروں بلکہ بعض اوقات دسیوں ہزار یوآن تک فیس وصول کرتے ہیں۔ تاہم اس شعبے میں معیار کا فرق بھی موجود ہے، جہاں بعض مشیر وسیع تجربہ رکھتے ہیں جبکہ بعض افراد محدود تربیت کے بعد یہ خدمات فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔

ایسے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی مشاورتی پلیٹ فارمز نسبتاً کم لاگت اور زیادہ تیز رفتار متبادل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ خاص طور پر دور دراز یا نسبتاً کم ترقی یافتہ علاقوں کے طلبہ کے لیے یہ ٹیکنالوجی معلوماتی خلا کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ذریعے مختلف جامعات کے داخلہ معیار، سابقہ ریکارڈ اور شعبہ جاتی ضروریات تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔

تاہم تعلیمی ماہرین، مشیران اور اساتذہ اس بات پر متفق ہیں کہ مصنوعی ذہانت انسانی مشاورت کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ ایک کمپیوٹر نظام ماضی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر سفارشات تو دے سکتا ہے، لیکن وہ کسی طالب علم کی شخصیت، دلچسپیوں، خاندانی حالات، مستقبل کے پیشہ ورانہ اہداف یا مقامی سماجی حقائق کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا۔

جہاں امتحان کی تیاری اور بعد از امتحان مشاورت میں مصنوعی ذہانت کا کردار بڑھ رہا ہے، وہیں امتحانی مراکز کے اندر اس کا استعمال سخت نگرانی اور سکیورٹی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ تعلیم نے امتحانی عمل کی مکمل حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں ذہین نگرانی کے نظام، جدید سکیورٹی گیٹس، دھاتی اشیاء کی جانچ کے آلات اور بایومیٹرک شناختی نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔

امتحانی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے امیدواروں کی شناخت امتحان سے قبل، دورانِ امتحان اور بعد میں جدید بایومیٹرک ٹیکنالوجی کے ذریعے تصدیق کی جاتی ہے۔ اسی طرح امتحانی پرچوں کی ترسیل، محفوظ ذخیرہ اندوزی اور امتحانی کمروں کی نگرانی میں بھی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نظاموں سے مدد لی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا دھوکہ دہی کو روکا جا سکے۔

مصنوعی ذہانت بلاشبہ تعلیم کے میدان میں ایک اہم تبدیلی کی علامت بن چکی ہے اور مستقبل میں اس کا کردار مزید وسیع ہونے کا امکان ہے۔ تاہم گاؤ کھاؤ جیسے اہم امتحانات اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی صرف ایک ذریعہ ہے، منزل نہیں۔ کامیابی کا انحصار اب بھی علم، محنت، نظم و ضبط اور درست فیصلہ سازی پر ہے۔ اسی لیے چین میں تعلیمی ادارے اور حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو ایک معاون کے طور پر استعمال کیا جائے، نہ کہ ایک ایسے ذریعے کے طور پر جس پر اندھا اعتماد کر لیا جائے۔ مستقبل کی تعلیم یقیناً زیادہ ڈیجیٹل ہوگی، لیکن اس کی بنیاد اب بھی انسانی صلاحیت، ایمانداری اور مسلسل سیکھنے کے جذبے پر ہی قائم رہے گی۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1987 Articles with 1163388 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More