حضرت غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ
(Md Mudassir Ansari, kerala india)
اس حقیقت پر تمام تر علمائے اہل سنت والجماعت اتفاق رکھتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت اور مذہب اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے ادم علیہ السلام سے لے کر ہمارے نبی سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تک بے شمار انبیاء کرام اور رسول نے عظام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور لوگوں کی فلاح و بہبودی کا ذمہ ان کے حق میں سونپا پھر رب کائنات کا فضل و کرم ہوا کہ اس نے اپنے مقرب اور برگزیدہ اولیاء کرام کی نورانی جماعت کو اس خاک دان گیتی پر مبعوث فرما کر انسانوں کی حقوق کا ذمہ ان کے کاندھوں کے اوپر سونپ دیا تاکہ لوگ گمراہی کی دلدل میں نہ پھنسیں اور ہمیشہ اللہ کے بتائے گئے راستے پر گامزن رہیں سلطان الاولیاء شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی غوث اعظم دستگیر رحمت اللہ علیہ کی ولادت باسعادت بروز پیر جیلان میں شب اول ماہ رمضان کے اندر میں ہوئی جب اپ اپنے ماں کی شکم میں تھے تو اس وقت آپ کی والدہ محترمہ کی عمر 60 سال کی تھی اس عظیم الشان ذات گرامی کی توصیف و تعریف کسی علم کار اور کسی زبان میں ممکن ہی نہیں کہ غوث اعظم کی مکمل طور پر تعریف کر سکے اپ محبوب کبریا تھے اپ سرکردہ اولیاء تھے اور اپ زندگی بھر مخلوق خدا کی حاجت روائی کرتے رہے اور اب تک کر رہے ہیں اس روئے زمین پر جتنے بھی اولیاء کرام اور علمائے کرام ہیں سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اپ پیدائشی ولی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ جب اپ کی پیدائش ہوئی تو اس وقت جتنے بھی لڑکے پیدا ہوئے وہ سب کے سب اپنے زمانے کے ایک بڑے ولی کا مل بن کر روئے زمین پر چمکے جب اپ کی پیدائش ہوئی اس وقت سے اپ نے رمضان المبارک کے مہینے میں طلوع افتاب سے لے کر غروب افتاب تک اپنی والدہ محترمہ کا دودھ نہیں پیا جیسا کہ کہا جاتا ہے”ولد الاشرف ولد ولا يرضع في رمضان”یعنی سادات کے گھر انے میں ایک ایسا پرنور بچہ پیدا ہوا جو رمضان میں دن بھر دودھ نہیں پیتا ہے نیز کھیل کود سے بھی اپ کو بہت ہی زیادہ نفرت تھی غوث اعظم دستگیر رحمۃ اللہ علیہ کی چار ازواج سے انچاس بچے پیدا ہوئے 20 لڑکے اور بانکی لڑکیاں شیخ سیف الدین عبدالوہاب شیخ تاج الدین عبدالرزاق شیخ شرف الدین عیسی شیخ ابو اسحاق ابراہیم شیخ ابوبکر عبدالعزیز شیخ ابو زکریا یا شیخ عبدالجبار شیخ ابو نصر موسی شیخ ابو الفضل محمد اور شیخ عبداللہ غوث اعظم دستگیر رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ رب العزت نے ماں کے شکم سے ہی حافظ قران اور تمام تر علوم و فنون کا ایک بڑا عالم بنا کر بھیجا تھا اسی وجہ سے اپ کی ولادت سے قبل اپ کے کشف و کرامات کا ظہور ہونے لگا تھا ایک مرتبہ ایک سائل نے دروازے پر ا کر صدا لگائی وہ بدبخت اپ کی والدہ محترمہ کو گھر میں تنہا پا کر گھستا چلا ایا تو اسی وقت غیب سے ایک شعر نمودار ہوا جو اسے و ہیں چیر پھاڑ کر غائب ہو گیا جب اپ ابو الخیر ابو سعید کے مرید بنے تب سے لے کر لگ بھگ 25 سال تک اپ جنگلوں میں مستانہ طور پر پھرتے رہے ہوش اتا تو عبادت میں مصروف ہو جاتے ہیں اس عمر میں اپ نے بڑی بڑی ریاضت کی اور کئی کئی دنوں تک اپ نے پتوں اور گھاس پر اپنا گزارا کیا 40 سال تک عشاء کی وضو سے صبح کی نماز ادا فرماتے رہے اور سر تکیہ پر نہ رکھا 15 سال اسی عالم میں گزرے کہ تمام شب ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے ایک ایک رکعت میں ایک قران شریف ختم کیا کرتے تھے یوں تو جتنے بھی اولیاء کرام علیہم السلام اس خاک دانے گی پر جلوہ گر ہوئے ہیں سبھی نے اپنے اپنے کرامات سے لوگوں کو مشرف با اسلام کیے ہیں مگر جو خدمات بطور کشف و کرامات حضور غوث اعظم دستگیر رحمۃ اللہ علیہ نے کی کسی دوسرے ولی کی حیات میں دور دور تک اس کی جھلک کبھی دیکھنے کو نہیں ملتی ہے ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ایک عورت حضور غوث اعظم دستگیر رحمۃ اللہ علیہ کے ایک شیخ کے پاس اتی ہے اور کہنے لگتی ہے یا شیخ میرا ایک ہی بیٹا تھا اور میرے بڑھاپے کا سہارا تھا جس کا انتقال ہو چکا ہے اب میرے بڑھاپے کا سہارا کون بنے گا اس کے علاوہ کوئی میرا پریشان حال نہیں ہے میں چاہتی ہوں کہ میرا بیٹا دوبارہ زندہ ہو جائے تو وہ شیخ صاحب کہتے ہیں اے خاتون دیکھ وہاں کچھ بچے مرنے اور جینے کا کھیل کھیل رہے ہیں ان میں سے ایک ایسا بچہ بھی ہے جسے ولایت کا درجہ حاصل ہو چکا ہے تو وہ جب سب بچوں کو مرنے کو کہے گا تو تو اپنے بچے کو ان مرے ہوئے بچے میں رکھ دینا حسب فرمان جب حضور غوث اعظم دستگیر رحمت اللہ علیہ تمام بچوں کو مرنے کے لیے کہتے ہیں تو تمام بچے حقیقت میں مل جاتے ہیں اور جب غوث اعظم دستگیر رحمۃ اللہ علیہ ان سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں چلو اب اٹھ جاؤ تو سب کے سب بچے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اس بیچاری خاتون کا بچہ بھی غوث اعظم دستگیر رحمت اللہ علیہ کے حکم سے زندہ ہو جاتا ہے عدی بن مسافر کا بیان ہے کہ ایک روز اپ مدرسے کے صحن میں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے کہ بارش ہونے لگی اور لوگ افرا تفریح کا شکار ہوئے اور گھبرا ہٹ محسوس کرنے لگے تو اپ نے اسمان کی جانب رخ کر کے ارشاد فرمایا کہ میں لوگوں کو جمع کرتا ہوں اور تو منتشر کرتا ہے اپ کا یہ کہنا تھا کہ مدرسے کے صحن میں بارش بند ہو گئی اور مدرسے کے باہر بارش جاری رہی ” ہوا موقوف فوراہی برسانا اہل مجلس پر جو پایا ابر بار ان نے اشارہ غوث اعظم کا “سلطان الاولیاء قدوۃ العارفین قدوۃ العارفین پیران پیر روشن ضمیر قتب الاقتاب الشیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی غوث اعظم دستگیر کا انتقال 11866 کو ہفتہ کے شب 156 ہجری کو 89 سال کی عمر میں ہوئی اور اپ کی تدفین اپ کے مدرسے کے خاطر میں ہوئی اپ نے بے شمار خدمات ادا کیے اور اس دار فانی سے دار اخرت کی طرف روانہ ہوئے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں غوث اعظم دستگیر رحمۃ اللہ علیہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور راہ حق پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ائمہ دائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہد سید الامین”
واہ کیا مرتبہ غوث ہے بالا تیرا اونچے اونچوں کے سروں سے ہے قدم اعلی تیرا سر بھلا کیا کوئی جانے کہہ کیسا تیرا اولیا ملتے ہیں انکھیں وہ ہے تلوا تیرا”
محمد مدثر بن مزمل حسین انصاری
دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرالا، ہندستان |