ہمدردی کا بحران

ہمدردی کا بحران
Empathy Crisis
جدید معاشرے میں دوسروں کے احساس کی روز افزوں کمی — ایک نفسیاتی جائزہ

تعارف
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آج کل لوگ کسی کی تکلیف سن کر بھی بے حس رہتے ہیں؟ کہ ہمارے اردگرد کے لوگ اپنی دنیا میں اس قدر محو ہیں کہ دوسروں کا درد انہیں چھوتا ہی نہیں؟ یہ بے حسی محض احساس کی کمی نہیں — نفسیات کی زبان میں یہ empathyہمدرادنہ احساس میں کمی کی علامت ہے ۔
Empathy وہ نفسیاتی صلاحیت ہے جس کے ذریعے انسان دوسروں کے جذبات، خیالات اور تکلیف کو نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ خود بھی محسوس کرتا ہے۔ ماہرِ نفسیات Carl Rogers نے اسے انسانی تعلقات کی بنیاد قرار دیا تھا۔ آج تحقیق بتاتی ہے کہ یہ صلاحیت تیزی سے زوال پذیر ہے۔
"Empathy is about finding echoes of another person in yourself." — Mohsin Hamid
ماہرِ نفسیات Sara Konrath کی 2010ء کی تحقیق — جو University of Michigan میں کی گئی — یہ ثابت کرتی ہے کہ گذشتہ تیس برسوں میں نوجوانوں میں Empathy کی سطح میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک سنگین سماجی اور نفسیاتی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اپنے مقاصد کا حصول بذاتِ خود غلط نہیں، مگر جب یہ حصول دوسروں کے مفادات کو پامال کر کے کیا جائے تو یہ صحت مند خود پسندی سے نکل کر نرگسیت (Narcissism) کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ ایک مہذب اور فعال معاشرے کی بنیاد باہمی احترام، ہمدردی اور جذباتی وابستگی پر ہوتی ہے — اور یہی آج خطرے میں ہے۔
Empathy میں کمی کے نفسیاتی اور سماجی اسباب
Empathy کے زوال کو کسی ایک وجہ سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نفسیاتی، سماجی، تکنیکی اور تربیتی عوامل کا پیچیدہ امتزاج ہے۔ ذیل میں اہم ترین اسباب کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔
۱۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ثقافت
سوشل میڈیا نے جہاں انسانوں کو ایک دوسرے سے قریب کیا، وہیں نفسیاتی سطح پر ایک خطرناک فاصلہ بھی پیدا کر دیا ہے۔ امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کی تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال نرگسیت Narcissism))اورسماجی موازنے (Social Comparison) کے رجحان کو نمایاں طور پر تقویت دیتا ہے۔
ہر شخص اپنی بہترین تصویر پیش کرنے اور دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں شریک ہے۔ اس مقابلے کی فضا میں دوسروں کے جذبات اور تکلیف سمجھنے کی صلاحیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ہم اسکرین کے پیچھے سے دوسروں کو دیکھتے ہیں مگر انہیں محسوس نہیں کرتے۔ انفرادیت پرستی اور خود نمائی کو فروغ ملتا ہے اور Empathy دم توڑتی رہتی ہے۔
۲۔ والدین کا کردار اور تربیت کے انداز
نفسیات میں Parenting Styles کا بچوں کی جذباتی نشوونما پر گہرا اثر ثابت ہو چکا ہے۔ Diana Baumrind کی تحقیق کے مطابقparenting کے تین بنیادی انداز ہیں — Authoritative,-----Authoritarian اور Permissive — اور ان میں سے دو کے اثرات Empathy پر منفی پڑتے ہیں۔
آج کل خاندانی رشتے کمزور پڑ رہے ہیں۔ بہن بھائیوں کے درمیان جذباتی وابستگی سرد پڑ رہی ہے اور والدین بچوں کو ہمدردی سکھانے کے بجائے انفرادی کامیابی پر زور دیتے ہیں — 'ہر جگہ نمبر ون آؤ' کا پیغام بچے کو خود مرکزی
(Self-Centeredness) کی طرف دھکیلتا ہے۔ اسی وجہ سے ہم آجکل جب بچوں سے گفتگو کریں تو زیادہ تر وہ اپنی کامیابیوں یا اپنی پسندیدہ چیزوں کی باتیں کرتے نظر آئیں گے۔
دوسری طرف Permissive Parenting — جہاں بچے کی ہر خواہش پوری کی جائے اور کوئی حد نہ لگائی جائے — بچے میں یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ دنیا اس کے گرد گھومتی ہے۔ ایسے بچے بڑے ہو کر دوسروں کی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہیں آج کل یہ سٹایل ہمیں عموماً دکھائی دیتا ہے ۔
اس کے برعکس سخت گیر (Authoritarian) ماحول میں پلنے والے بچے — جہاں ان کی ضروریات کو اہمیت نہیں دی جاتی — وہ بھی Empathy سے محروم رہتے ہیں کیونکہ وہ جذباتی بقا کی خاطر اپنی ذات کو اولین ترجیح بنا لیتے ہیں۔کیونکہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہماری کوئی پروا نہیں کرتا اس لیے ہم نے خود ہی اپنا خیال رکھنا ہے۔
۳۔ جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) کی کمی
Daniel Goleman 1995ء میں Emotional Intelligence (EQ) کا تصور پیش کیا اور ثابت کیا کہ زندگی میں کامیابی کے لیے IQ سے زیادہ EQ اہم ہے۔ EQ میں خود آگاہی (Self-Awareness ) خود ضبطی (Self-Regulation) ، ہمدردی (Empathy)،سماجی مہارت (Social Skills)اور داخلی محرک (Motivation)شامل ہیں۔
ہمارے تعلیمی نظام میں EQ کو کوئی جگہ نہیں دی جاتی۔ بچوں کو حساب اور سائنس پڑھائی جاتی ہے مگر یہ نہیں سکھایا جاتا کہ اپنے جذبات کو کیسے پہچانیں، دوسروں کی بات کو کیسے سنیں اور انکے زاویے سے اسکو سمجھیں، اور تعلقات میں توازن کیسے قائم رکھیں۔ نتیجتاً ایسے افراد پیدا ہوتے ہیں جو ذہین ہونے کے باوجود جذباتی طور پر ناپختہ اور دوسروں سے بے نیاز ہوتے ہیں۔
۴۔ سماجی ناانصافی اور قانونی عدم مساوات
جب ایک معاشرے میں امیر اور غریب کے لیے قانون مختلف ہو، جب طاقت ور کو کوئی نہ روک سکے اور کمزور کو کوئی نہ سنے، تو انسان کا قدرتی ردعمل یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے خود غرضی اختیار کر لے۔
نفسیاتی اصطلاح میں اسے Learned Helplessness کی ایک شکل کہا جا سکتا ہے — جب انسان دیکھتا ہے کہ اچھائی کا کوئی بدلہ نہیں اور نظام میں بھروسے کی کوئی گنجائش نہیں، تو وہ دوسروں کی پرواہ کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ سماجی ناانصافی Empathy کو خاموشی سے قتل کرتی ہے۔

خود غرضی: فطری جبلت یا سماجی رویہ؟
یہ سوال نفسیات اور فلسفے میں صدیوں سے زیرِ بحث ہے۔ Evolutionary Psychology کے مطابق انسان بنیادی طور پر اپنی بقا کے لیے خود کو اولین ترجیح دیتا ہے — یہ ایک فطری جبلت ہے۔ اس جبلت نے انسان کو قوم، قبیلے اور ملت کی شکل میں متحد کیا اور اجتماعی بقا ممکن بنائی۔
امریکہ میں کی گئی ایک مشہور تحقیق میں شرکاء سے پوچھا گیا کہ کیا کامیاب لوگ اپنے مقاصد کے حصول میں خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ اکثریت نے اثبات میں جواب دیا — مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ کامیاب ترین افراد وہ نکلے جنہوں نے دوسروں کے ساتھ مل کر کام کیا، ان کی مدد کی اور سماجی سرمائے (Social Capital)کو پروان چڑھایا۔
خود پسندی (Self-Interest)اور خود غرضی (Selfishness)میں ایک باریک مگر اہم فرق ہے۔ خود پسندی انسان کو آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے — یہ تعمیری ہے۔ مگر جب یہ خود غرضی میں بدل جائے اور دوسروں کا حق مارنا معمول بن جائے، تو یہ نہ صرف سماجی بلکہ ذاتی نفسیاتی صحت کے لیے بھی نقصاندہ ہے۔

Empathy کے زوال کے نتائج
جب کسی معاشرے میں ہمدردی ختم ہونے لگتی ہے تو اس کے اثرات انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔
انفرادی سطح پر: تنہائی (Loneliness)،اضطراب (Anxiety)،ذہنی دباؤ (Depression)اور بامعنی تعلقات کی کمی۔ Journal of Personality and Social Psychology کی تحقیق بتاتی ہے کہ Empathy کی کمی والے افراد میں تنہائی اور ذہنی صحت کے مسائل زیادہ پائے جاتے ہیں۔
اجتماعی سطح پر: سماجی اعتماد (Social Trust )کا خاتمہ، تعاون کی فضا کا زوال، تشدد میں اضافہ اور بالآخر معاشرتی انتشار۔ وہ معاشرے جہاں Empathy کم ہو وہاں جرائم، نفرت اور استحصال زیادہ ہوتا ہے۔

تجاویز اور راہِ نجات
یہ صورتحال مایوس کن ضرور ہے مگر ناقابلِ تبدیل نہیں۔ نفسیات نے ثابت کیا ہے کہ Empathy ایک سیکھی جانے والی صلاحیت ہے — اسے پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔
۱۔ تعلیم میں جذباتی ذہانت کا نصاب
اسکولوں میں Social-Emotional Learning (SEL) کو لازمی حصہ بنایا جائے۔ بچوں کو بچپن سے سکھایا جائے کہ اپنے جذبات کو کیسے پہچانیں، دوسروں کی بات کیسے سنیں اور اختلاف کو کیسے پُرامن انداز میں حل کریں۔
۲۔ Authoritative Parenting کی ترویج
والدین کو تربیت دی جائے کہ نہ ضرورت سے زیادہ سخت بنیں اور نہ حد سے زیادہ نرم۔ بچوں کو محبت کے ساتھ حدود سکھانا، ان کے جذبات کو سننا اور دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ڈالنا — یہی Empathy کی اصل تربیت ہے۔
۳۔ ڈیجیٹل توازن
سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے۔ آمنے سامنے بات چیت، اجتماعی سرگرمیاں اور رضاکارانہ خدمت Empathy کو فروغ دینے کے مؤثر ترین ذرائع ہیں۔
۴۔ سماجی انصاف
جب قانون سب کے لیے برابر ہو، جب کمزور کو بھی انصاف ملے، تو لوگ سماج پر بھروسہ کرنا سیکھتے ہیں اور خود غرضی کم ہوتی ہے۔ سماجی انصاف Empathy کی بیرونی بنیاد ہے۔

خلاصہ
Empathy محض ایک جذبہ نہیں — یہ انسانی تہذیب کی بنیاد ہے۔ جس دن انسان نے پہلی بار کسی دوسرے کا درد محسوس کیا، اسی دن سے انسانی سماج کا آغاز ہوا۔ آج اس بنیاد کو خطرہ لاحق ہے۔
ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر Empathy کو ترجیح دینی ہوگی۔ اپنے گھروں میں، اپنے اسکولوں میں، اپنی پالیسیوں میں اور اپنی روز مرہ زندگی میں۔ دوسروں کا احساس کرنا کمزوری نہیں — یہ انسانیت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
"جب آپ کسی دوسرے کو سمجھتے ہیں تو آپ ایک بہتر انسان بن جاتے ہیں — اور ایک بہتر انسان ایک بہتر معاشرہ بناتا ہے۔"


 
Mahrukh Nazir
About the Author: Mahrukh Nazir Read More Articles by Mahrukh Nazir: 15 Articles with 6778 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.