پاکستان میں برداشت کا فقدان، اختلافِ رائے سے دشمنی تک۔
( Arshad Qureshi, Karachi)
| وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی گفتگو، اپنے رویوں اور اپنی سوچ کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ کسی شخص کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے بھی اس کا احترام برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جا سکتا ہے اور مخالف رائے رکھنے والا شخص لازماً دشمن نہیں ہوتا۔ اگر ہم نے یہ بنیادی اصول سیکھ لیا تو نہ صرف ہمارے سماجی تعلقات بہتر ہوں گے بلکہ قومی سطح پر بھی اتحاد، ہم آہنگی اور استحکام کو فروغ ملے گا۔ |
|
|
کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد صرف مضبوط اداروں، بلند و بالا عمارتوں یا جدید ٹیکنالوجی پر نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل قوت وہاں کے لوگوں کے رویوں، سوچ اور ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ایک صحت مند معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہاں مختلف خیالات رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے وجود، حقِ رائے دہی اور عزتِ نفس کو تسلیم کرتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ خوبی تیزی سے معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ اختلافِ رائے جو کسی بھی زندہ قوم کی علامت ہوتا ہے، اب آہستہ آہستہ دشمنی، نفرت اور انتقام کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
پاکستانی معاشرہ ہمیشہ سے مختلف سیاسی، مذہبی، ثقافتی اور سماجی نظریات کا حامل رہا ہے۔ ماضی میں بھی اختلافات موجود تھے لیکن ان اختلافات کے باوجود باہمی احترام کا رشتہ قائم رہتا تھا۔ ایک ہی خاندان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی موجود ہوتے تھے، دوستوں کی محفلوں میں گرما گرم بحثیں ہوتیں لیکن چائے کا آخری گھونٹ ہمیشہ محبت کے ساتھ پیا جاتا تھا۔ اختلاف اپنی جگہ اور تعلق اپنی جگہ۔ آج صورتحال خاصی مختلف نظر آتی ہے۔ اب کسی شخص کی رائے سننے سے پہلے ہی اس کے بارے میں فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ اگر وہ ہماری سوچ سے مختلف بات کرے تو فوراً اس کی نیت، کردار، حب الوطنی یا عقیدے پر سوال اٹھا دیا جاتا ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں سوشل میڈیا کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی آسان بنائی، اظہارِ رائے کے دروازے کھولے اور عام آدمی کو اپنی بات کہنے کا موقع فراہم کیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے معاشرے میں برداشت کی کمی کو بھی بے نقاب کر دیا۔ آج فیس بک، ایکس، ٹک ٹاک یا دیگر پلیٹ فارمز پر کسی بھی موضوع پر ہونے والی گفتگو کو دیکھ لیا جائے تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہم دلیل سے زیادہ جذبات اور برداشت سے زیادہ ردعمل کے عادی ہو چکے ہیں۔ کسی پوسٹ سے اختلاف ہو تو اس کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے ذاتی حملے، تمسخر اور تضحیک کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ عدم برداشت صرف سیاسی معاملات تک محدود نہیں رہی۔ مذہبی مسائل، سماجی موضوعات، کھیل، فنونِ لطیفہ اور یہاں تک کہ روزمرہ زندگی کے معمولی معاملات میں بھی لوگ ایک دوسرے کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہر شخص خود کو مکمل طور پر درست اور دوسروں کو مکمل طور پر غلط سمجھنے لگا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے کے مختلف پہلو ہو سکتے ہیں اور ایک ہی موضوع پر مختلف آراء کا وجود فطری امر ہے۔
ہمارے تعلیمی نظام کا بھی اس صورتحال میں خاصا کردار ہے۔ ہم اپنے بچوں کو امتحان میں نمبر لینے کا ہنر تو سکھاتے ہیں لیکن اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی تربیت نہیں دیتے۔ کلاس روم میں سوال پوچھنے، تنقیدی سوچ اپنانے اور مختلف نکتہ ہائے نظر کو سمجھنے کی حوصلہ افزائی کم ہی کی جاتی ہے۔ نتیجتاً نئی نسل یہ سمجھنے لگتی ہے کہ صرف ایک ہی رائے درست ہو سکتی ہے اور باقی سب غلط ہیں۔ جب ایسا ذہن معاشرے میں قدم رکھتا ہے تو مکالمے کے بجائے تصادم کو جنم دیتا ہے۔
سیاسی قیادت بھی اس مسئلے سے بری الذمہ نہیں۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت اکثر اپنے کارکنوں کو تحمل، برداشت اور جمہوری رویوں کی تعلیم دینے کے بجائے مخالفین کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرتی ہے۔ جب عوام اپنے رہنماؤں کو مخالفین کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے دیکھتے ہیں تو وہ بھی اسی طرزِ عمل کو اختیار کر لیتے ہیں۔ یوں اختلافِ رائے آہستہ آہستہ دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
بدقسمتی سے اس عدم برداشت نے خاندانی اور سماجی تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے بے شمار خاندان موجود ہیں جہاں سیاسی یا مذہبی اختلافات نے رشتوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ دوستیاں ختم ہو رہی ہیں، تعلقات کمزور پڑ رہے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے کیونکہ معاشرے کی اصل طاقت اس کی یکجہتی اور باہمی اعتماد میں ہوتی ہے۔
اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں برداشت، رواداری اور حسنِ اخلاق کا درس ملتا ہے۔ ہمارے اسلاف کے درمیان علمی اختلافات بھی ہوتے تھے اور فقہی آراء میں بھی فرق پایا جاتا تھا، لیکن اس کے باوجود ایک دوسرے کے احترام میں کوئی کمی نہیں آتی تھی۔ انہوں نے اختلاف کو علم کی ترقی کا ذریعہ بنایا، دشمنی کا ہتھیار نہیں۔ یہی رویہ آج ہمیں دوبارہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اختلافِ رائے کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے کا حسن ہوتا ہے۔ اگر سب لوگ ایک جیسا سوچنے لگیں تو تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو جائیں، نئے خیالات جنم نہ لیں اور معاشرہ جمود کا شکار ہو جائے۔ ترقی ہمیشہ مختلف سوچوں کے باہمی مکالمے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اختلاف کو خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع سمجھنا چاہیے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی گفتگو، اپنے رویوں اور اپنی سوچ کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ کسی شخص کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے بھی اس کا احترام برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جا سکتا ہے اور مخالف رائے رکھنے والا شخص لازماً دشمن نہیں ہوتا۔ اگر ہم نے یہ بنیادی اصول سیکھ لیا تو نہ صرف ہمارے سماجی تعلقات بہتر ہوں گے بلکہ قومی سطح پر بھی اتحاد، ہم آہنگی اور استحکام کو فروغ ملے گا۔
پاکستان کو آج معاشی، سیاسی اور انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ایک فکری اور اخلاقی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ برداشت، رواداری اور مکالمے کی ثقافت کو فروغ دیے بغیر ہم ایک مضبوط معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے اگر اسے سیکھنے اور سمجھنے کا ذریعہ بنا لیا جائے تو یہی اختلاف ہماری اجتماعی ترقی کا سبب بن سکتا ہے۔ آخرکار قوموں کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہاں کتنے لوگ ایک جیسا سوچتے ہیں، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ مختلف سوچ رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کتنے احترام اور وقار کے ساتھ رہتے ہیں۔
|