فہمِ قران کے واسطے شرائط
(Tariq Zafar Khan, Karachi)
| قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے سے پہلے سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات ہی میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ قرآن سے ہدایت لینے کے لیے چند باتوں کا پہلے سے ماننا ضروری ہے ۔ صرف وہی فلاح پانے والے ہیں۔ |
|
فہمِ قران کے واسطے شرائط قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے سے پہلے سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات ہی میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ قرآن سے ہدایت لینے کے لیے چند باتوں کا پہلے سے ماننا ضروری ہے ۔ صرف وہی فلاح پانے والے ہیں۔
یہ مانے کہ:
١- یہ کتاب شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ یہ ایسی کتاب ہے جس کا مصنف وہ ہے جو تمام حقیقتوں کا علم رکھتا ہے، اس لیے فی الواقع اس میں شک کے لیے کوئی جگہ نہیں ، یہ سراسر علمِ حقیقت پر مبنی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انسان اپنی کم علمی اور نادانی کی بنا پر اس کے بیانات میں شک کریں۔ ٢- انسان متقی ہو اس میں بَھلائی اور بُرائی کی تمیز ہو۔ بُرائی سے بچنا چاہتا ہو۔ بَھلائی کا طالب ہو اور اس پر عمل کرنے کا خواہش مند ہو۔ یعنی آدمی ” پرہیزگار“ ہو۔
۴- غیب پر ایمان رکھتا ہو غیب سے مُراد وہ حقیقتیں ہیں جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہیں مثلاً خدا کی ذات و صفات ، ملائکہ، وحی، جنّت، دوزخ اور وہ ساری چیزیں جو مشاہدے میں نہیں آسکتی ہیں ۔ اِن حقیقتوں کو اس اعتماد پر ماننا کہ نبی ان کی خبر دے رہا ہے، ایمان بالغیب ہے۔ یعنی جو شخص ان غیر محسوس حقیقتوں کو ماننے کے لیے تیار ہو صرف وہی قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔۔ وہ شخص جو ثبوت مانگے اور جو کہے کہ میں کسی ایسی چیز کو نہیں مان سکتا جو ناپی اور تولی نہ جا سکتی ہو تو وہ اس کتاب سے ہدایت نہیں پا سکتا۔
٥- نماز قائم کرے۔ آدمی ایمان لانے کے بعد فوراً ہی عملی اطاعت کے لیے آمادہ ہو جائے۔ جس کی اوّلین علامت نماز ہے۔ جو لوگ صرف مان کر بیٹھ جانے والے ہوں وہ قرآن سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ ترکِ نماز دراصل ترکِ اطاعت ہے ، ایسے شخص کے لیے ہدایت دینا اور نہ دینا یکساں ہے۔
٦-رزق میں سے خرچ کرے آدمی تنگ دل نہ ہو، زر پرست نہ ہو، اس کے مال میں خدا اور بندوں کے جو حقوق مقرر کیے جائیں اُنہیں ادا کرنے کے لیے تیار ہو، جس چیز پر ایمان لایا ہے اس کی خاطر مالی قربانی کرنے میں بھی دریغ نہ کرے۔
٧-تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر ایمان لائے جو اپنے کو خدائی ہدایت کا محتاج بھی مانتا ہو، اور تسلیم کرتا ہو کہ خدا کی یہ ہدایت انبیاء اور کتبِ آسمانی کے ذریعے سے ہی خلق تک پہنچتی ہے، اُن تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرے جو وحی کے ذریعے سے خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان سے پہلے کے انبیاء پر مختلف زمانوں اور ملکوں میں نازل کیں۔ قرآن کی ہدایت نہیں پا سکتے جو سرے سے اس ضرورت ہی کے قائل نہ ہوں کہ انسان کو خدا کی طرف سے ہدایت ملنی چاہیے، یا اس ضرورت کے تو قائل ہوں مگر خود کچھ نظریات قائم کر کے انہی کو خدائی ہدایت قرار دے بیٹھیں ، یا آسمانی کتابوں کے بھی قائل ہوں ، مگر صرف اُس کتاب یا اُن کتابوں پر ایمان لائیں جنہیں ان کے باپ دادا مانتے چلے آئے ہیں،
٨-آخرت پر یقین ہو۔ یعنی یہ مانتا ہو کہ (۱) انسان اپنے تمام اعمال کے لیے خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ (۲) دُنیا کا موجودہ نظام ایک وقت پر، جسے صرف خدا ہی جانتا ہے ختم ہوجائے گا۔ (۳) پھر خدا ایک دُوسرا عالم بنائے گا اور اس میں پوری نوعِ انسانی کو جو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک زمین پر پیدا ہوئی تھی، بیک وقت دوبارہ پیدا کرے گا، اور سب کو جمع کر کے ان کے اعمال کا حساب لے گا، اور ہر ایک کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ (۴) جو لوگ نیک قرار پائیں گے وہ جنّت میں جائیں گے اور جو لوگ بد ٹھہریں گے وہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔
البقرہ ١-٧ و ترجمہ
الم ۛۚ ذٰ لِكَ الۡڪِتٰبُ لَا رَيۡبَ ۛۚ ۖ فِيۡهِ ۛۚ یہ اللہ کی کتاب ہے ،اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ هُدًى لِّلۡمُتَّقِيۡنَۙ پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں وَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ اور نماز قائم کرتے ہیں وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَۙ جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے ،اس میں سے خرچ کرتے ہیں وَالَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِمَۤا اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِكَۚ جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں، وَبِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ يُوۡقِنُوۡنَؕ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں اُولٰٓـئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَاُولٰٓـئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں
|
|