سارا عالم ہے منور آپ ﷺ کے انوار سے‘‘ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی ایک بہترین تحقیقی کاوش/ تحریر : پروفیسر مفتی عبدالرؤف خان
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad, Pakistan)
|
سارا عالم ہے منور آپ ﷺ کے انوار سے‘‘ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی ایک بہترین تحقیقی کاوش تحریر : پروفیسر مفتی عبدالرؤف خان |
|
’’سارا عالم ہے منور آپ ﷺ کے انوار سے‘‘ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی ایک بہترین تحقیقی کاوش
تحریر : پروفیسر مفتی عبدالرؤف خان نعت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ثنا، تعریف اور مدح کے ہیں، اصطلاح میں حضور اکرم ﷺ کی تعریف میں نظم کو نعت کہا جاتا ہے۔ یہ فن بھی ہے اور عبادت بھی، عقیدت بھی ہے، ریاضت بھی کیونکہ اس میں شاعر سراپا پیکرِ نیاز بن کر اس ذاتِ اقدس ﷺ کی شان و عظمت اور صفات و کمالات کو موضوع بناتا ہے۔ جس کا ذکرِ جمیل خود خدائے ذوالجلال اپنی نورانی مخلوق کے ساتھ درود و سلام کی صورت میں بیان کرتے ہیں۔ جب ہم نعت کے ماخذوں کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں صحیفۂ قدسی یعنی قرآنِ پاک جو ایک کامل، اعلیٰ اور مکمل دستور العمل اور ضابطۂ حیات میں حضورِ ختمی مرتبت ﷺ کے مقامِ رفیع الشان کی ایک ایسی تصویر دکھائی دیتی ہے جس کے آگے انسانی زبانیں گنگ اور انسانی ذکر و تخیل عاجز دکھائی دیتے ہیں کیونکہ صحیفۂ کاملہ میں خدائے بزرگ و برتر نے اپنی توحید کے روح پرور تذکروں کے ساتھ اپنے محبوب ﷺ کی عظمتوں کو بھی اُجاگر کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ’’اور ہم نے آپ ﷺ کی خاطر آپ ﷺ کے ذکر کو بلند کیا ہے۔‘‘ یہ ایک مختصر سی آیت ہے مگر مطلب و معانی کے اعتبار سے انتہائی جامع اور انتہائی فصیح و بلیغ ہے، اس کی تفسیر و تعبیر ہمیں اذان کی صورت میں ملتی ہے جو پانچوں وقت کائنات کے گوشے گوشے میں گونجتی ہے اور آپ ﷺ کی عظمت و رفعت کی گواہی دیتی ہے۔ اسی طرح نعت کی صورت میں آپ ﷺ کے محامد و فضائل کا بیان زمانۂ نبوت سے لے کر آج تک تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور یہ سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا بقول شاعر: نہ آئی کمی یہ کسی طور میں ہوئے نعت گو ان کے ہر دور میں جب ہم نعت گوئی کی تاریخ کے آغاز پر نظر ڈالتے ہیں تو ہماری نگاہیں دربارِ نبوت ﷺ کے اس نعت گو پر ٹھہر جاتی ہیں جن سے میرے آقا و مولا ﷺ فرمائش کر کے نعت لکھواتے اور نعت سنتے وقت صورت یہ ہوتی کہ نعت گو منبر پر بیٹھتے ہیں اور آنحضور ﷺ فرشِ مسجد پر تشریف فرما ہیں، یہ خوش قسمت نعت گو حضرت حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا نام نعت گوئی کے ضمن میں ایک مضبوط حوالہ ہی نہیں بلکہ یہ نعت کی معراج ہے۔ روایت ہے کہ ایک دن حضور ﷺ نے بھری مجلس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ مخالف شعراء کی ہرزہ سرائیاں حد سے بڑھتی جا رہی ہیں تم لوگوں نے تلوار سے تو میری مدد کی، کیا کوئی ایسا بھی ہے جو زبان سے میری مدد کرے؟ اس موقع پر حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہنے لگے! یا رسول اللہ ﷺ! اس خدمت کے لیے یہ ناچیز حاضر ہے، حضور ﷺ ان کے جذبہٴ خلوص سے خوش ہو کر بولے۔ اُن میں سے کچھ لوگ میرے قبیلے قریش سے تعلق رکھتے ہیں اور میرے قریبی عزیز ہیں مثلاً ابوسفیان میرا عم زاد ہے۔ اس کے خلاف بھلا تم کس انداز سے کہو گے؟ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا حضور ﷺ میں آپ ﷺ کو اُن کے بیچ سے یوں الگ کر لوں گا جیسے گندھے ہوئے آٹے میں سے بال کو کھینچ کر نکال لیا جاتا ہے۔ حق یہ ہے کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مخالفین کے طعنوں، اُن کی تصنیفی ہزلیات اور تعریضات سے حضور ﷺ کی شان میں قصیدے لکھے۔ اُن کے کلام میں ابتذال اور فحش کی آلودگی نہیں بلکہ اسلام کے پاکیزہ تبلیغی تحریکی مزاج سے مناسبت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ذرا چشمِ تصور میں وہ منظر لائیں کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عقیدت و وارفتگی سے شانِ نبوت کو نعت کی صورت میں بیان فرما رہے ہیں اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان اشعار کو سن کر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں سرشار ہو رہے ہیں اور خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور خوش ہو کر خدا کے حضور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے یہ دعا مانگ رہے ہیں: عربی دعا اَللّٰهُمَّ اَیِّدْهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ترجمہ: "اے اللہ روح القدس سے ان کی مدد فرما۔"
ایک نعت گو کے لیے اس سے بڑا اکرام اور کیا ہو سکتا ہے کہ خود پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے دعا فرمائیں۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی Each کا اندازہ ملاحظہ فرمائیں:
عربی نعت / اشعار وَاَحْسَنُ مِنْكَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِیْ وَاَجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النِّسَاءُ خُلِقْتَ مُبَرَّاءً مِّنْ کُلِّ عَیْبٍ کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَاءُ دربارِ رسالت کے دوسرے شعراء میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بصری رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے نام آتے ہیں۔ نعتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دائرہ کار آفاقی ہے۔ جس میں اپنے پرائے سبھی شامل ہیں جہاں اپنوں نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے ، وہیں غیر مسلموں نے بھی نظم و نثر کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور اعلیٰ سیرت کا اعجاز ہے کہ غیر مذہب کے ماننے والے بھی آپ کے بلند اخلاق اور عظیم کردار کے معترف ہو کر نظم و نثر میں آپ کے قصیدے پڑھ رہے ہیں، ان میں عیسائی، ہندو، سکھ سبھی شامل ہیں۔ بعض غیر مسلم شعراء کی لکھی ہوئی نعتیں جذب و مستی کی کیفیت میں اس قدر ڈوبی ہوئی ہیں کہ اگر مقطع سے شاعر کا نام خارج کر دیا جائے تو
مسلم اور غیر مسلم کی تفریق مشکل ہو جائے گی اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نعتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مذہب کے ماننے والوں میں اپنا مقام بنایا ہے، اسی لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف کے مراحل سے گزرنا ہر ذی شعور دانشور، ادیب و شاعر اپنے لیے معزز و اعزاز کا باعث سمجھتا ہے۔ نمونہ کلام: ہندو شعراء کا کلام ملاحظہ فرمائیں: |
|