اردو ادب میں مغرب (یورپ و امریکہ) کی نمائندگی: اصناف، ترجمہ اور معنوی تشکیل: قسط دوم تحقیق: ڈاکٹر افضل رضوی۔۔۔آسٹریلیا

یہ تحقیق اردو ادب میں مغرب، خصوصاً یورپ اور امریکہ، کی نمائندگی کا ایک بین المتنی، بین الثقافتی اور تنقیدی مطالعہ پیش کرتی ہے۔ اردو ادب میں مغرب کی شبیہ ایک طویل تاریخی تعامل کا نتیجہ ہے جس میں نوآبادیاتی دور کی فکری کشمکش، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے مباحث (1)،علمی و سائنسی ترقی اور سیاسی و تہذیبی تصورات شامل ہیں۔ اس مطالعے میں نظم، غزل، افسانہ، ناول، سفرنامہ، تنقیدی تحریروں اور ترجمہ شدہ ادب کے بنیادی بیانیوں کا تجزیہ کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اردو ادیبوں نے مغرب کی شناخت کو کس طرح بنایا، مسخ کیا یا نئے معنیاتی رشتے قائم کیے۔(2)۔
اس تحقیق کے ذریعے چار بنیادی سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ: (الف) اردو ادب میں مغرب کس ثقافتی و نظریاتی فریم میں پیش کیا جاتا ہے؟(ب) کیا مغربی دنیا کو محض ایک مہذب، ترقی یافتہ اور سائنسی معاشرت کے طور پر دکھایا گیا ہے یا بطور تہذیبی چیلنج بھی؟(ج) ترجمہ کا عمل مغربی معانی، استعاروں اور علمی حوالوں کی اردو تعبیر میں کیا پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے (3)؟(د) اردو قاری کے ذہن میں مغرب کی جو ساخت بنتی ہے وہ کس حد تک ادبی تشکیل ہے اور کس حد تک تاریخی تجربہ (4)؟
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اردو ادب میں مغرب کی نمائندگی نہ یک رُخی ہے اور نہ متفقہ؛ بعض ادبی متون مغرب کی علمی بالادستی، سائنسی ترقی اور ادارہ جاتی نظم کو سراہتے ہیں (5)، جبکہ دیگر میں مغرب کے روحانی زوال، اخلاقی بحران، اور مادیت پرستی پر شدید تنقید ملتی ہے (6)۔ سفرناموں میں مشاہداتی بیانیہ غالب ہے، جہاں مصنفین مغرب کے قانون، تحقیق، علم، شہری تہذیب اور نظم و ضبط کی تعریف کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ثقافتی بیگانگی، تنہائی اور تہذیبی فاصلوں کو بھی ابھارتے ہیں (7)۔ترجمہ شدہ ادب میں کئی معنوی تبدیلیاں اور سیاقی تراجم سامنے آتے ہیں جو مغرب کی شبیہ کو اردو تناظر میں نئے زاویے فراہم کرتے ہیں (8)۔
مجموعی طور پر اس تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اردو ادب میں مغرب ایک فکری، ادبی اور تہذیبی مکالمے کا حصہ بنتا ہے، جو کبھی مزاحمت، کبھی تقلید اور کبھی تبادلہ ئخیال کی صورت اختیار کرتا ہے۔آخر میں سفارشات دی گئی ہیں کہ ادارہ جاتی سطح پر ترجمہ اسٹڈیز، تقابلی ادب اور بین الثقافتی تنقید کو فروغ دیا جائے تاکہ اردو ادب میں مغرب کی تعبیری جہات مزید علمی توضیح حاصل کریں۔
اردو ادب میں مغرب (یورپ و امریکہ) کی نمائندگی: اصناف، ترجمہ اور معنوی تشکیل: قسط دوم
تحقیق: ڈاکٹر افضل رضوی۔۔۔آسٹریلیا
بایں ہمہ ترجمہ شدہ ادب اس پورے مباحثے میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ مغربی فلسفہ، سماجیات، نفسیات، فکشن، ادبی نظریات اور سیاسی فکر جب اردو میں منتقل ہوئیں تو صرف مواد ہی منتقل نہیں ہوا بلکہ معانی، استعارات اور ثقافتی حوالے بھی تبدیل ہوئے (34)۔ یاورسعید اور فتحی منصوری(35) کے مطابق ترجمے نے اردو ادب میں مغرب کے تعبیری بحران کو بھی جنم دیا اور نئے تخلیقی امکانات بھی پیدا کیے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مغرب کی شبیہ کا ایک بڑا حصہ براہِ راست مشاہدے کے بجائے ترجمہ شدہ متن سے تشکیل پاتا ہے، جس کے اندر ثقافتی تبدیلی، معنوی کمی یا اضافہ اور تشریحی جہتوں میں فرق شامل ہوتا ہے۔
بین الثقافتی نظریات بھی اردو ادب میں مغرب کے معنیاتی تصورکو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔اسٹورٹ ہال(36) کی نمائندگی سے متعلق تھیوری بتاتی ہے کہ مغرب کی شبیہ محض حقیقت کا عکس نہیں بلکہ فکری، تہذیبی اور ادبی تشکیل ہوتی ہے۔ اسی طرح شہلابرنی (37)کے مطابق ایڈورڈ سعید (38) کانظریہ شرق و غرب اس بات کا ثبوت مہیا کرتا ہے کہ مشرق و مغرب کے تصورات ہمیشہ طاقت، سیاست اور علمی بیانیے کے باہمی تعلقات کے ذریعے بنتے رہے ہیں۔ اردو ادب میں بھی یہ نظریاتی جہتیں نمایاں دکھائی دیتی ہیں، خصوصاً جب ادیب مغرب کو یا تو استعماری طاقت کے طور پر دیکھتا ہے یا تہذیبی مکالمے کے نئے امکان کے طور پر (39)۔
مجموعی طور پرلٹریچر ریویو اس نتیجے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اردو ادب میں مغرب کی نمائندگی نہ تو یک سطحی ہے اور نہ غیر متغیر؛ بلکہ یہ ایک ہمہ گیر، ارتقائی اور فکری عمل ہے جس میں تاریخی تجربہ، ادبی اظہار، ترجمہ، شخصی مشاہدہ اور تہذیبی ترجیحات سب شامل ہیں۔ یہی تنوع اردو ادب میں مغرب کے تصور کو ایک مستقل اور قابلِ توجہ علمی موضوع بناتا ہے۔
اس تحقیق میں بنیادی طور پر معیاری اور متناتی منہج اپنایا گیا ہے کیونکہ مقصد اردو ادب میں ”مغرب“' کی نمائندگی کی معنوی، فکری اور بین المتنی جہات کی گہری تشریح ہے۔ معیاری منہج کا انتخاب اس لیے مناسب ہے کہ یہ ادبی متون کے اندر چھپے مفہوم، علامتوں اور بیانیاتی ساختوں کو تفصیلی طور پر کھولنے میں مدد دیتا ہے ۔(40) متناتی مطالعے کے ذریعے ادبِ اردو کے منتخب نمونوں کی لسانی، استعارتی اور سیاقی پرتیں برآمد کی گئی ہیں، جبکہ گفتمانی مطالعہ نے ان بیانیوں کے پس منظر میں موجود طاقت، تاریخ اور ثقافتی مفروضات کو آشکار کیاہے (41)۔تحقیق کا نمونہ مقصدی/غیر احتمالی ہے۔ اس طریقہ انتخاب کا مقصد وہ متون اکٹھا کرنا تھا جو مغرب کے موضوع پر نمایاں، مؤثر اور متنوع ادبی اظہار فراہم کرتے ہوں۔ چنانچہ نمونہ میں کلاسیکی اور جدید شاعری (مثلاً اقبال، حالی، فیض)، افسانوی و ناول متون (قرۃ العین حیدر، انتظار حسین، فاطمہ ثریا بجیا)، معروف سفرنامے (قدرت اللہ شہاب، ابنِ انشاء، مستنصر حسین تارڑ) اور چند اہم اردو تراجم کو شامل کیا گیا۔ ترجمہ شدہ متون کے انتخاب میں اُن تراجم کو ترجیح دی گئی جو مغربی فکروں، ناولوں یا نظریاتی مضامین کے اثرات واضح کرتے ہوں۔ نمونے کے انتخاب کے عمل میں معیاری تنوع، تاریخی دوراور موضوعاتی مطابقت کو خاص توجہ دی گئی تاکہ نتائج کی تغیریت و عامیت کا بہتر اندازہ ہو سکے (42)۔
ڈیٹا حصول کے ذرائع ثانوی نوعیت کے ہیں: یعنی کتابی اشاعتیں، جرنل آرٹیکل، اردو تراجم، اصلاً شائع شدہ ناول و افسانے، ادبِ سفر کی کتب اور ادبی تنقید۔ ہر متن کو معیارِ شمولیت کے تحت منتخب کیا گیا: (الف) متن میں مغرب یا مغربی ثقافت/تجربے پر واضح اظہار موجود ہو؛ (ب) ادب کی صنف، تاریخی مقام اور ادبی قدر کے اعتبار سے نمائندہ ہو؛ (ج) ٹیکسٹ تک قابلِ رسائی حوالہ موجود ہو۔ اس کے علاوہ، ثانوی ذرائع کے طور پر ادبی نظریاتی مطالعے، بعد از نوآبادیاتی تنقید اور ترجمہ مطالعہ جات کو شامل کیا گیا تاکہ تجزیاتی فریم ورک مضبوط ہو (43)۔
تجزیاتی عمل کئی مرحلوں میں انجام دیا گیا۔ سب سے پہلے ہر منتخب متن کا گہرامطالعہ کیا گیا تاکہ اہم موضوعاتی اشارات، کثیر المعنوی علامات اور استعارے تلاش کیے جاسکیں۔ پھر موضوعاتی کوڈنگ کی گئی:۔ متن میں بار بار آنے والے موضوع، استعارے، رویّے اور مقامات کو کوڈز میں تبدیل کیا گیا۔ موضوعاتی کوڈنگ کے لیے بران اور کلارک( 44)کے مراحل کو مدِ نظر رکھا گیا۔ اس کے بعد تقابلی مطالعہ کیا گیا تاکہ مختلف اصناف، ادوار اور تراجم کے مابین مماثلتیں اور اختلافات واضح ہوں۔ جہاں مناسب سمجھا گیا، متناتی اقتباسات کو سیاق کے ساتھ شامل کیا گیا تاکہ تشریحی دعووں کی معروضیت برقرار رہے۔
تحقیق میں استعمال شدہ نظریاتی فریم ورک میں بعد از نوآبادیاتی تنقید، نمائندگی کے تصورات، اور تراجم کا مطالعہ شامل ہیں۔ بعد از نوآبادیاتی نقطہ نظر نے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ کس طرح مغرب کا ادبی تصور طاقت، علم اور سیاسی تسلط کے مباحث سے منسلک ہے (45) اور ترجمہ جاتی نقطہ نظر یہ واضح کرتا ہے کہ زبانِ وسط کے ذریعے خیالات کس طرح لوکلائز اور معنیاتی طور پر تبدیل ہوتے ہیں (46)۔
تحقیق کی معتبریت و صداقت کو یقینی بنانے کے لیے متعدد تدابیر اپنائی گئیں۔ معیاری تحقیق میں شماریاتی کارکردگی کے بجائے صداقت، منتقلی پذیری ، انحصاریت اور تصدیق پزیری اہم سمجی جاتی ہیں؛ ان معیارات کو لنکن اور گابا (47)نے مفصل طور پر بیان کیا ہے۔ اس مطالعے میں صداقت کے لیے ٹرائی اینگولیشن اپنایا گیا۔یعنی مختلف صنفوں کے متون، نظریاتی ذرائع اور ثانوی مطالعات کو ایک ساتھ ملا کر نتائج کی تصدیق کی گئی۔ مزید برآں، تفصیلی کوڈنگ میموز اور آڈٹ ٹریل برقرار رکھی گئی تاکہ تجزیاتی فیصلے شفاف ہوں۔ ریسرچر نے ریفلیکٹو نوٹس بھی رکھے تاکہ اپنے مفروضات اور ممکنہ تعصبات کی نشاندہی ہو سکے (48)۔
اخلاقی پہلوؤں پر دیانتداری کے ساتھ عمل کیا گیا۔ چونکہ مطالعہ بنیادی طور پر شائع شدہ متون اور ثانوی ذرائع پر مبنی ہے، اس لیے انسانی موضوعات کے متعلق براہِ راست انٹرویو یا فیلڈ ورک شامل نہیں تھا؛ تاہم، تمام اقتباسات درست حوالہ کے ساتھ دیئے گئے اور ہر متن کا حوالہ ایپااسٹائل کے مطابق درج کیا گیا۔ جہاں بھی کسی مترجم، ادیب یا محقق کے خصوصی مواد کا حوالہ لیا گیا، اس کے اصل مآخذ کو واضح کیا گیا تاکہ حقوقِ ملکیت اور علمی شفافیت برقرار رہ سکے۔
طریقہ کار کی حدود میں یہ بات شامل ہے کہ تحقیق میں مقداری ڈیٹا یا فی الواقعی تجرباتی سروے شامل نہیں تھے، اس لیے عوامی رائے یا قارئین کے شعوری تاثرات کا براہِ راست احاطہ موجودہ مطالعے میں نہیں ہے۔ نیز نمونہ مقصدی نوعیت کا تھا(جو وسیع کلیکشن کی جگہ انتخابی متون پر مشتمل ہے)اس لیے نتائج کے تمام اردو متون پر مطابقتِ عامیت محدود رہے گی۔ تاہم، تحقیق کا مقصد تسلسل، تنقیدی بصیرت اور نظریاتی گہرائی فراہم کرنا تھا، نہ کہ شماریاتی عمومی نتائج حاصل کرنا۔
مختصراً، یہ طریقہ کار معیاری، متناتی اور بین الثقافتی نقطہ نظر کو یکجا کرتا ہے تاکہ اردو ادب میں مغرب کی نمائندگی کے پیچیدہ اور پرت دار معانی کو واضح اور معروضی انداز میں پیش کیا جا سکے۔ تجزیاتی مراحل، موضوعاتی کوڈنگ، نظریاتی اطلاق اور معتبریت کے اقدامات مل کر اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ حاصل شدہ نتائج تحقیقی دعووں کے تقاضوں کو پورا کریں۔
تجزیہ و بحث
اردو ادب میں مغرب کی نمائندگی ایک یک رخی یا جامد تصور نہیں بلکہ کثیرالجہتی، تاریخی طور پر متغیر اور ادبی ضابطوں کے مطابق تشکیل پانے والا بیانیہ ہے۔ اس حصے میں منتخب متون کا موضوعاتی اور بین المتنی تجزیہ پیش کیا جاتا ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ مغرب اردو شاعری، نثر، فکشن، سفرنامے اور تراجم میں کن صورتوں میں متعین ہوتا ہے۔
اردو ادب میں مغرب کی نمائندگی ایک یک رخی یا جامد تصور نہیں بلکہ کثیرالجہتی، تاریخی طور پر متغیر اور ادبی ضابطوں کے مطابق تشکیل پانے والا بیانیہ ہے۔ اس حصے میں منتخب متون کا موضوعاتی اور بین المتنی تجزیہ پیش کیا جاتا ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ مغرب اردو شاعری، نثر، فکشن، سفرنامے اور تراجم میں کن صورتوں میں متعین ہوتا ہے۔
شاعری میں مغرب کا علامتی، فکری اور تہذیبی بیانیہ
اردو شاعری خصوصاً اقبال، حالی اور فیض میں مغرب براہِ راست کسی جغرافیائی وحدت کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری و تہذیبی قوت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ علامہ اقبال نے مغربی تہذیب کی عقل پرستی، صنعتی ترقی اور تنظیمی قوت کو سراہا، مگر ساتھ ہی اس کی مادیت پسندی اور روحانی تصور پر شدید تنقید کی (49)۔علامہ اقبال کے نزدیک مغرب انسانی تخلیقی روح کو مادے میں مقید کر کے خود انسان کو کمزور کرتا ہے چنانچہ یہ دوہرا تناظر اردو شاعری میں مغرب کی منفی تصویر بن جاتا ہے۔مثال کے طور پر، علامہ اقبال اپنی شاعری میں ”طلسمِ افکارِ فرنگ“ یا ”کارخانہ ٔمادیت“ جیسے استعارات کے ذریعے مغرب کی روحانیت سے دوری اور مادیت پسندی کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ مشرقی روحانیت اور خودی کے احیا کو اس کا متوازن حل قرار دیتے ہیں (50)۔ فیض احمد فیض کے ہاں مغرب استعماری طاقت اور سرمایہ دارانہ جبر کا استعارہ ہے، مگر ساتھ ہی جدیدیت، آزادی اور انسانی حقوق کی تحریکوں کا سرچشمہ بھی (51)۔ یوں مغرب دو انتہاؤں کے درمیان ارتعاش رکھتا ہے---تعمیری بھی، تخریبی بھی۔
شاعری سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مغرب کے بیانیے میں جمالیاتی اور فکری پیچیدگی نمایاں ہے۔ یہ پیچیدگی بعد از نوآبادیاتی نظریے کے اس مؤقف سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے کہ نوآبادیاتی طاقت صرف سیاسی غلبہ نہیں بلکہ علمی اور فکری ڈھانچوں کی تشکیل میں بھی گہرے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں (52‍)۔
افسانہ و ناول میں مغرب: بیگانگی، کشمکش اور تہذیبی گفتگو
اردو فکشن میں مغرب زیادہ تر نفسیاتی، تہذیبی اور تجرباتی تناظر میں ظاہر ہوتا ہے۔ قرۃ العین حیدر کے ناولوں میں مغرب ترقی اور وسعتِ نظر کا استعارہ بھی ہے اور تہذیبی بیگانگی کا ذریعہ بھی۔ اُن کے کردار مغرب کی کشش اور اپنی ثقافتی جڑوں کے درمیان مستقل دباؤ کا شکار رہتے ہیں ---یہ کشمکش عالمی ادبیات میں معروف hybridityکے تصور سے مماثلت رکھتی ہے (53)۔انتظار حسین کے ہاں مغرب روایت کے زوال کا پس منظر بنتا ہے، جہاں کہانیوں میں تہذیبی یادداشت کھو جانے کا المیہ شدید رنج و الم پیدا کرتا ہے (54)۔ مستنصر حسین تارڑ کے سفرنامےاورناول مغربی شہروں کی خوبصورتی، نظم، اور آزاد مزاجی کی تعریف بھی کرتے ہیں اور اُن کے شخصی اور خاندانی نظام کے بکھراؤپر ملائم تنقید بھی۔
فکشن کے تجزیے سے یہ واضح ہوا کہ مغرب کا تصور نہ مکمل رد ہے نہ مکمل قبولیت؛ بلکہ ایک جاری تہذیبی مکالمہ ہے جو روایات، جدیدیت اور فرد کی شناخت کے درمیان مسلسل جھولتا رہتا ہے۔ یہ تھیوری اسٹورٹ ہال (55) کے اس نظریے کے مطابق ہے کہ شناخت ہمیشہ انڈر کنسٹرکشن رہتی ہے اور بیرونی ثقافتیں اس کی تشکیلِ نو میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سفرناموں میں مغرب: مشاہدہ، تنقید، حیرت اور تقابل
سفرنامہ اردو ادب میں مغرب کی نمائندگی کا سب سے براہِ راست ذریعہ ہے، کیونکہ اس میں مصنف مشاہدہ اور تجربہ دونوں بیان کرتا ہے۔ سر سید سے لے کر ابنِ انشاء اور تارڑ تک سفرنامہ نگاروں نے مغرب کے بارے میں مثبت بھی لکھا ہے اور تنقیدی بھی۔مثلاً، مغرب کی سائنسی ترقی، شہری نظم، صفائی، تحقیق کے نظام اور ادارہ جاتی شفافیت کی تعریف اکثر سفرناموں میں ملتی ہے (56)۔ مگر یہی مصنفین مغربی معاشرت کی تنہائی، انفرادیت، جارحانہ سرمایہ داری، شادی و خاندان کے ادارے کی کمزوری اور اخلاقی بے ربطی پر بھی تنقید کرتے ہیں (57)۔
سفرناموں کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ اردو ادب میں مغرب کی تصویر ”مخلوط“ ہے--ایک ساتھ کشش بھی، خوف بھی؛ احترام بھی، مزاحمت بھی۔ اس میں تعجب کی بات نہیں کیونکہ سفرنامہ صنفِ ادب ہی تقابل اور دریافت کا بیانیہ ہے، جو ہمیشہ دو تہذیبوں کے درمیان معنوی پل بناتی ہے (58)۔
ترجمہ شدہ ادب: مغرب کی علمی منتقلی اور معنیاتی تبدیلی
ترجمہ اردو ادب میں مغرب کی نمائندگی کا سب سے مؤثر مگر غیر مستقیم ذریعہ ہے۔ جب مغربی فلسفہ، نفسیات، سائنسی فکر، ناول یا تھیوری اردو میں منتقل ہوتے ہیں تو صرف زبان نہیں بدلتی بلکہ مفہوم، سیاق اور نظریاتی زاویے بھی نئی صورت اختیار کر لیتے ہیں (59)۔مثلاً ،سارٹرے، فرائڈ، مارکس اور ایلیٹ کے خیالات جب اردو میں منتقل ہوتے ہیں تو اُن کی معنوی جہات؛ سماجی ساخت اور ادبی روایت کے مطابق نئے رنگ اختیار کرتی ہیں (60)۔ یہ تبدیلیاں نہ صرف نئے نظریاتی مکالمے پیدا کرتی ہیں بلکہ مغرب کے پورے فکری نظام کو اردو ذہن کے لیے نئے پیرائے میں وضع کرتی ہیں۔
ترجمے کے تجزیے سے یہ واضح ہوا کہ اردو میں مغرب کا تصور درآمد شدہ ہونے کے باوجود جامد نہیں رہتا، بلکہ مقامی فکری ڈھانچے میں ضم ہو کر نئی معنوی پرتیں پیدا کرتا ہے۔
مجموعی بحث: اردو ادب میں مغرب ---ایک مسلسل مکالمہ
تمام متون کے تقابلی تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ: مغرب علامتی بھی ہے (شاعری)، تجرباتی و نفسیاتی بھی ہے (فکشن)، مشاہداتی و تقابلی بھی ہے (سفرنامے)، اور نظریاتی و مفہومی بھی ہے (تراجم)۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اردو ادب میں مغرب کی نمائندگی نہ سادہ ہے نہ یک رخی؛ بلکہ ایک تہہ دار، ارتقائی اور مسلسل جاری رہنے والا بین الثقافتی مکالمہ ہے جس میں تعظیم، تنقید، مزاحمت، کشمکش، اور تخلیقی اخذ و اثر سب شریک ہیں۔
یہ نتیجہ اسٹورٹ ہال(61) کے اس بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے کہ نمائندگی ہمیشہ طاقت، شناخت اور معنی کے باہمی امتزاج سے تشکیل پاتی ہے، اور ایڈورڈ سعید(62) کے مطابق شرق و غرب کا تعلق ہمیشہ سیاسی، علمی اور تہذیبی دباؤ کے تحت وجود پاتا ہے۔
اس تحقیق کے تجزیاتی مطالعے سے اردو ادب میں مغرب کی نمائندگی کے متعدد رجحانات، بیانیے، اور فکری جہات سامنے آئی ہیں۔ نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اردو ادب میں مغرب کی تصویر نہ یکساں ہے اور نہ سادہ؛ بلکہ یہ مختلف ادبی اصناف، مصنفین اور تاریخی ادوار میں بدلتی ہوئی ایک کثیرالجہتی معنوی ساخت ہے۔ مجموعی طور پر نتائج کو پانچ اہم زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 171 Articles with 250488 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More