سارا عالم ہے منور آپ ﷺ کے انوار سے‘‘ تحریر : عبدالشکور ساجد انصاری (صدارتی سیرت ایوارڈ یافتہ)
(Dr.Izhar Ahmad Gulzar, Faisalabad, Pakistan)
سارا عالم ہے منور آپ ﷺ کے انوار سے‘‘
تحریر : عبدالشکور ساجد انصاری (صدارتی سیرت ایوارڈ یافتہ) |
|
|
نور محمد نور کپور تھلوی دی پنجابی شاعری وچ پاکستانیت تحریر ؛ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار |
|
’’سارا عالم ہے منور آپ ﷺ کے انوار سے‘‘
تحریر : عبدالشکور ساجد انصاری (صدارتی سیرت ایوارڈ یافتہ)
ہمارے پیارے آقا و مولا سیدِ عرب و عجم سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ رحمۃ اللعالمین کی خلعتِ فاخرہ پہنے، ختمِ نبوت کا تاج سر پر سجائے اور شفاعتِ کبریٰ کا دوشالہ اوڑھے جب اس کائنات میں تشریف لائے تو آپ ﷺ اپنی مثال آپ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بے مثال و بے نظیر پیدا فرمایا۔ آپ ﷺ کو حسن و جمال میں یکتا فرمایا تو سیرت و کردار میں بھی تاریخِ انسانی آپ ﷺ کا ثانی ڈھونڈنے سے قاصر ہے۔ ولادتِ با سعادت سے لے کر غارِ حرا کی تنہائیوں میں عبادت گزاری تک اور صفا کی چوٹی پر اعلانِ نبوت سے وصالِ مبارک کی ساعتوں تک یہ عالمِ انسانیت آپ ﷺ کے کردار، گفتار اور قول و فعل کی عظمت، رفعت اور یکتائی کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ کفارِ مکہ آپ ﷺ کی صداقت، دیانت اور امانتوں کی پاسداری کے باعث آپ ﷺ کو صادق اور امین کہہ کر پکارتے تھے۔ کفار آپ ﷺ کے عقائد، آپ ﷺ کی تبلیغ پر تو معترض تھے لیکن کسی کو آپ ﷺ کے کردار پر انگلی اٹھانے کی جرات نہ تھی۔ اپنے بیگانے سبھی آپ ﷺ کی حسنِ سیرت کے گرویدہ تھے۔ حسنِ سیرت کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس حسن و جمال کا پیکر تھا، ساری کائنات کا حسن و زیبائی ایک طرف اور آپ ﷺ کا چہرہ والضحیٰ ایک طرف۔ نبی کریم ﷺ کا حسن و جمال اور سیرت و کردار کے انوار سے جہاں شیدائیانِ مصطفیٰ ﷺ حلقۂ الفت میں شامل ہوئے وہاں غیر مسلم بھی آپ پر فریفتہ ہوئے۔ انہوں نے آپ ﷺ کی عظمت و رفعت کا اعتراف کیا اور آپ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں کھلے دل سے ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔ کہتے ہیں کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ عربی کا مقولہ ہے کہ ”فضل و کمال وہ ہے جس کی گواہی دشمن بھی دیں۔ سید العالمین حضور نبی کریم ﷺ کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ مخالفین بھی آپ ﷺ کی سیرت، کردار کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ مخالفین بھی آپ ﷺ کی سیرت، کردار اور گفتار کی پاکیزگی کی گواہی دیتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ ازل سے ابد تک جاری و ساری رہے گا۔ نبی رحمت آنحضرت ﷺ کی شخصیت کا کمال ہے کہ برنارڈ شاہ کو کہنا پڑا ”میں بغور مطالعہ اور مشاہدہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ محمد (ﷺ) ایک عظیم ہستی اور صحیح معنوں میں انسانیت کے نجات دہندہ ہیں۔“ سر ولیم میور اپنی کتاب ”دی لائف آف محمد“ میں رقمطراز ہیں: ”محمد (ﷺ) کے ایام جوانی میں آپ (ﷺ) کے اخلاق کی پاکیزگی، راستی اور عادات کریمہ کی طہارت پر سب مصنفین متفق ہیں۔ حالانکہ یہ روایت اہل مکہ میں نہایت کامیاب تھی۔“ اعترافِ عظمت اور ہدیہ تحسین پیش کرنے کا یہ سلسلہ غیر مسلم شعراء تک بھی جا پہنچا۔ غیر مسلم شعراء کا ہدیہ نعت بحضور سرورِ کائنات سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ پیش کرنے کی وجوہات بہت سی ہیں۔ تاہم سب سے اول اور سب سے اہم وجہ یہی ہے کہ چونکہ نبی اکرم ﷺ پوری کائنات اور اس کی جملہ مخلوقات کے لیے نبی مبعوث ہوئے اور آپ ﷺ کی رحمت کا دائرہ جن و انس سے بھی ماوراء، وہاں تک پھیلا ہوا ہے جہاں تک رب العالمین کی خدائی موجود ہے۔ اس لیے غیر مسلم بھی حق بجانب ہیں کہ وہ نبی رحمت حضرت محمد ﷺ سے رشتۂ الفت جوڑتے ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی اپنے آپ کو وابستۂ غلامیِ رسول ﷺ سمجھتے ہیں جیسا کہ ایک ہندو شاعر عیش چند طالب دہلوی نے کہا ہے: یہ ذاتِ مقدس تو ہر انسان کی ہے محبوب مسلم ہی نہیں وابستۂ دامانِ محمد ایک اور ہندو شاعر سرداری لال نشتر میرٹھی یوں کہتا ہے: فقط ایک نشتر ہی کیا مدح خواں ہے ثنا خواں محمد ﷺ کا سارا جہاں ہے
سیتا پال اختر رضوان کہتے ہیں:
ہم دیر نشیں بھی ہیں ترے مدح سرا رہبر جو تجھے اہلِ حرم مانتے ہیں بہر حال غیر مسلم شعراء نے اگر توصیفِ مصطفیٰ ﷺ کے لیے قلم اٹھایا ہے تو سب سے بڑی وجہ آپ ﷺ کی بے عیب اور پاکیزہ شخصیت اور بے مثال کردار ہے۔ جس نے ان لوگوں کے دلوں کو مسخر کر لیا، غیر مسلم شعراء کے نعت کہنے کی وجوہ کا تفصیلی تذکرہ دورِ حاضر کے عظیم نعت گوشاعر راجہ رشید محمود نے اپنے "ماہنامہ نعت" کے غیر مسلم شعراء کے خصوصی شمارے میں اپنے ایک مقالے میں کیا ہے، غیر مسلم شعراء نے بعض اوقات صوفیاء کرام اور اولیائے کاملین کی صحبت میں بیٹھ کر یا تصوف کی روحانی اقدار کا مطالعہ کرنے کے بعد نعتِ مصطفیٰ ﷺ لکھنے کے لیے قلم اٹھایا، بعض غیر مسلم شعراء نے مسلمان مفکرین، دانشوروں، اساتذہ اور مسلم معاشرے سے اکتساب کرتے ہوئے بھی نعت لکھی۔ مثلاً اگر کسی غیر مسلم شاعر نے کسی جید مسلم شاعر سے سلسلہ تلمذ جوڑا تو پھر اس کے زیرِ سایہ وہ بھی نعت کہنے لگے مثلاً امکان ہے کہ پنڈت ہری چند اختر نے حفیظ جالندھریؒ کے زیرِ اثر نعت لکھنی شروع کی اور اسی طرح رونق دہلوی نے اپنے استاد لطف بریلوی کے زیرِ سایہ نعت کہنی شروع کی ہو۔ مسلم معاشرت کے اثر نے بھی غیر مسلموں کو نعت کہنے پر مجبور کر دیا۔ جس طرح مسلم معاشرے نے بعض ہندو رسوم کو اپنایا ہوا تھا جو کہ الحمد للہ اب آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہیں۔ اسی طرح نعت گوئی اور توصیفِ نبی ﷺ کی روایت بھی اردو پڑھنے سننے والے غیر مسلموں نے اپنائی۔ بہر حال غیر مسلم شعراء کا نعت کہنا بہت خوش آئند اور متاثر کن فعل ہے، یہی وجہ ہے کہ مسلمان جب ان کی لکھی نعتیں سنتے ہیں تو حیران اور متعجب ہوتے ہیں اور اپنے اندر جذبہءِ عشقِ رسول ﷺ مزید بڑھانے کے لیے کوشاں و سرگرمِ عمل ہو جاتے ہیں۔ تاہم ماضی قریب غیر مسلم شعراء کا کلام یکجا کر کے اُسے بہ اندازِ احسن پیش کرنے کا شرف نامور ادیب، شاعر، محقق، افسانہ نویس، سیرت نگار اور ریسرچ اسکالر ’’ڈاکٹر اظہار احمد گلزار‘‘ کے حصے میں آیا ہے، جنہوں نے اس کتاب کو ہندو شاعر ساحر ہوشیاری کے شعر کے اس مصرعے ’’سارا عالم ہے منور آپ ﷺ کے انوار سے‘‘ کے خوبصورت اور روح پرور نام سے پیش کرنے کی سعادت کو اچھے انداز سے نبھایا ہے۔ ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کی شخصیت ادبی اور علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ وہ اُردو اور پنجابی کے متوالے ہیں۔ خود بھی خوب لکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی لکھنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں۔ قبل ازیں اُن کا ذوق شاعری اور کہانی لکھنے تک محدود تھا۔ لیکن اُن پر نبی کریم ﷺ کی خاص نظرِ کرم ہے کہ اب اُن کی تمام تر صلاحیتیں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے فروغ کے لئے وقف ہو چکی ہیں۔ حال ہی میں اُن کی سیرت النبی ﷺ پر مبنی کتاب ’’فخرِ کائنات ﷺ‘‘ خوبصورت اور دیدہ زیب انداز میں شائع ہو کر اپنی معنویت اور پرمغز تحریروں کی بناء پر اہل علم و عرفان سے داد و تحسین وصول کر رہی ہے۔ اُن کی زیرِ نظر کاوش ’’سارا عالم ہے منور آپ ﷺ کے انوار سے‘‘ بھی یقیناً قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی اور اس کے صلے میں ان کو ان شاء اللہ دین و دنیا میں سرفرازی نصیب ہوگی۔ میں ڈاکٹر اظہار احمد گلزار کو اس تحقیقی کاوش پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے دعا گو ہوں کہ ان کا قلم اسی طرح عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے انوار بکھیرتا رہے اور ظلم ظلمت قضا عالم کو منور و تابع کرتا رہے ۔امین
عبدالشکور ساجد انصاری (صدارتی سیرت ایوارڈ یافتہ) |
|