فضیلتِ ماہِ محرم اور یومِ عاشورہ کی تاریخی حقیقت

ماہِ محرم الحرام حرمت و فضیلت والا مہینہ ہے جس میں یومِ عاشورہ کو تاریخی طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات اور حق کی فتح کی یادگار کے طور پر خاص اہمیت حاصل ہے۔
اس دن کا روزہ سنتِ نبوی ﷺ ہے جو ایک سال کے صغیرہ گناہوں کی مغفرت کا سبب بنتا ہے اور مسلمانوں کو شکر، صبر اور دینی تشخص کی یاد دلاتا ہے۔
قرآن وسنت کی روشنی میں اس کاجائزہ لیاگیاہے۔
فضیلتِ ماہِ محرم اور یومِ عاشورہ کی تاریخی حقیقت

✍️تحریر: محمد اکرام صافی

اسلامی کیلنڈر کا آغاز کسی دنیاوی جشن یا ہنگامے سے نہیں، بلکہ امن، حرمت اور عظمت کے پیامبر مہینے 'محرم الحرام' سے ہوتا ہے۔ قمری سال کا یہ پہلا مہینہ اپنے اندر بے پناہ فضائل اور گہرے تاریخی نقوش سموئے ہوئے ہے۔ دینِ اسلام میں وقت اور مہینوں کی تقسیم کو فطری نظام پر رکھا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے شمسی سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، قمری سال بھی بارہ مہینوں پر ہی مشتمل ہے۔ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے ایسے ہیں جنہیں باری تعالیٰ نے خصوصی شرف اور 'حرمت' سے نوازا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورہ التوبہ (آیت: 36) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے، جو اللہ کی کتاب (لوحِ محفوظ) کے مطابق اس دن سے نافذ چلی آتی ہے جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔"
سرورِ کائنات ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ان چار مہینوں کی واضح تعیین فرمائی۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "سال پورے بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینے خاص طور سے قابلِ احترام ہیں؛ تین مہینے مسلسل یعنی ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور چوتھا مہینہ رجب کا ہے"۔
اس فرمانِ نبویؐ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ محرم الحرام کی عظمت اور احترام کائنات کے پہلے دن سے قائم ہے۔ یہاں تک کہ دورِ جاہلیت میں بھی عرب کے قبائل اس کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے جنگ و جدل اور خون خرابے سے مکمل اجتناب کرتے تھے۔ اگرچہ بعد میں مشرکینِ مکہ نے اپنی من مانی کے لیے "نسئی" (مہینوں کو آگے پیچھے کرنے) کی بدعت ایجاد کر لی تھی تاکہ اپنی پسند کے مطابق لڑائی کا جواز نکال سکیں، لیکن قرآنِ کریم نے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کے اس مکرر حیلے کی شدید مذمت کی اور اسے کفر میں زیادتی قرار دیا۔
قرآنِ کریم نے سورہ البقرہ میں ان حرمت والے مہینوں کے احکام کا تذکرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان ایام میں جنگ کرنا بہت بڑا گناہ ہے، الا یہ کہ مسلمانوں پر جارحیت مسلط کر دی جائے، کیونکہ فتنہ اور دین سے روکنا قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے۔

یومِ عاشورہ کی تاریخی عظمت اور یہود کا طرزِ عمل

ماہِ محرم کی فضیلت کا ایک درخشاں پہلو اس کی دسویں تاریخ ہے، جسے 'یومِ عاشورہ' کہا جاتا ہے۔ یہ دن انسانی تاریخ میں حق کی فتح اور باطل کی شکست کا ایک عظیم استعارہ ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے، تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ مدینہ کے یہودی دسویں محرم کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے جب اس کی وجہ دریافت فرمائی، تو انہوں نے عرض کیا: "یہ ایک عظیم دن ہے، اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم (بنی اسرائیل) کو فرعون کے ظلم سے نجات دی تھی اور فرعون و اس کے لشکر کو غرقِ آب کیا تھا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے اس انعام کے شکرانے میں روزہ رکھا، اس لیے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں"۔
یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہمارا تعلق تمہاری نسبت زیادہ ہے اور ہم ان کے (طرزِ عمل کے) زیادہ حقدار ہیں"۔ چنانچہ آپ ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور امت کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا تاکیدی حکم دیا۔
یہاں ایک علمی نکتہ ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ بعض لوگ اس حدیث سے یہ غلط تاثر لیتے ہیں کہ شاید مسلمانوں نے عاشورہ کا روزہ یہودیوں کو دیکھ کر شروع کیا۔ حالانکہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی صریح روایت موجود ہے کہ قریشِ مکہ بھی اسلام سے قبل جاہلیت کے دور میں دسویں محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے اور خود نبی کریم ﷺ بھی مکہ میں یہ روزہ رکھتے تھے۔ اصل میں یہ دن ملتِ ابراہیمی کی روایات کی وجہ سے قریش کے ہاں بھی محترم تھا، اسی دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کا یہ معمول تھا کہ قریش ملتِ ابراہیمی کی نسبت سے جو اچھے کام کرتے، آپ ﷺ ان کی موافقت فرماتے تھے۔
مدینہ تشریف آوری کے بعد جب یہود کی روایت سے اس دن کی مزید تاریخی اہمیت (موسیٰ علیہ السلام کی نجات اور ایک اور روایت کے مطابق اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کا جودی پہاڑ پر لگنا) سامنے آئی، تو آپ ﷺ نے اس روزے کا اہتمام اور تاکید مزید بڑھا دی۔

فرضیت سے نفلی فضیلت تک کا سفر

رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت سے قبل، یومِ عاشورہ کا روزہ مسلمانوں پر واجب یا فرض تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرامؓ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے عاشورہ کی صبح مدینہ کے ارد گرد کی انصاری بستیوں میں منادی کروا دی تھی کہ "جنہوں نے صبح سے کچھ کھایا پیا نہیں، وہ روزے کی نیت کر لیں اور جو کچھ کھا چکے ہیں، وہ بھی دن کا بقیہ حصہ بھوکے پیاسے رہ کر روزے داروں کی طرح گزاریں"۔
بعد میں جب رمضان کے روزے فرض ہوئے، تو عاشورہ کے روزے کی فرضیت تو منسوخ ہو گئی، لیکن اس کی فضیلت اور استحباب برقرار رہا۔ فرضیت ختم ہونے کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ ﷺ فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزوں میں سب سے زیادہ اہتمام اسی دن کا فرماتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "میں نے نبی کریم ﷺ کو کسی فضیلت والے دن کے روزے کا اس سے زیادہ اہتمام کرتے نہیں دیکھا جتنا اس دن یعنی یومِ عاشورہ کا اور اس مہینے یعنی رمضان کا فرماتے تھے"۔
اس روزے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے کامل امید ہے کہ عاشورہ کے روزے کی برکت سے پچھلے ایک سال کے (صغیرہ) گناہ معاف ہو جائیں گے" (صحیح مسلم)۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق تو یہ روزہ ان چار معمولات میں شامل تھا جنہیں حضور ﷺ نے زندگی بھر کبھی ترک نہیں فرمایا۔

اسلامی تشخص اور مخالفتِ یہود کا درس

دینِ اسلام اپنے پیروکاروں کو ایک منفرد اور خوددار تشخص عطا کرتا ہے۔ اسلام یہ پسند نہیں کرتا کہ مسلمان اپنی عبادات یا شعار میں غیر مسلموں کی ہو بہو مشابہت اختیار کریں۔ چنانچہ جب صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! دسویں محرم کی تعظیم تو یہود و نصاریٰ بھی کرتے ہیں اور ہمارے روزہ رکھنے سے ان کے ساتھ ایک طرح کا اشتراک اور تشابہ پیدا ہوتا ہے، تو آپ ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ کے آخری سال امت کو ایک نئی جہت دی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "ان شاء اللہ! جب اگلا سال آئے گا، تو ہم (صرف دسویں کا نہیں بلکہ) نویں تاریخ کا روزہ بھی رکھیں گے"۔
اگرچہ اگلے سال محرم آنے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ رحلت فرما گئے، لیکن امت کے لیے یہ اصول طے پا گیا کہ یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے عاشورہ کے روزے کے ساتھ ایک دن کا روزہ مزید ملا لیا جائے۔ اکثر فقہاء اور علماءِ امت نے اسی پر ترجیح دی ہے کہ دسویں محرم کے ساتھ نویں کا روزہ رکھا جائے، اور اگر کسی وجہ سے نویں کا روزہ نہ رکھا جا سکے، تو دسویں کے ساتھ گیارہویں محرم کا روزہ ملا لیا جائے تاکہ یہود کے طرزِ عمل سے فرق ظاہر ہو سکے۔

حاصلِ کلام

ماہِ محرم الحرام اور یومِ عاشورہ ہمیں صرف تاریخی واقعات کی یاد نہیں دلاتے، بلکہ یہ ایام ہمیں شکر گزاری، باطل کے سامنے ڈٹ جانے، اور اپنی اسلامی شناخت کو برقرار رکھنے کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کا سفر چاہے کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو، کامیابی ہمیشہ الٰہی اصولوں پر چلنے والوں کی ہوتی ہے۔ امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اس مبارک مہینے کی حرمت کا پاس رکھے، مسنون روزوں کا اہتمام کرے اور اپنی زندگیوں کو اس اسوہ کے مطابق ڈھالے جو ہمیں اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے جلیل القدر صحابہ نے سکھایا ہے۔
خداوندِ قدوس ہمیں محرم الحرام کی حقیقی برکات سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جامع مسجد خالد بن ولید
مکتبِ اصلاحی مجلس، اسلام آباد
03215204022

 

Mufti Muhammad Ikram Safi مفتی محمداکرام صافی
About the Author: Mufti Muhammad Ikram Safi مفتی محمداکرام صافی Read More Articles by Mufti Muhammad Ikram Safi مفتی محمداکرام صافی: 2 Articles with 41 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.