سلسلہ بزرگانِ دینؒ — نمبر 1

تعارف
مرزا گل باباؒ ضلع نوشہرہ کے علاقے جلوزئی،ہمارے آبائی گاوں شیخان کے معروف صوفی بزرگ تھے۔ مقامی روایات کے مطابق ان کا تعلق خٹک قبیلے سے تھا، اور انہوں نے اپنی زندگی دینی تعلیم، روحانی تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دی۔
زمانہ اور تاریخی پس منظر
پیدائش تقریباً 985ھ (1577ء) اور وفات تقریباً 1090ھ (1679ء) بتائی جاتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر پر مغل سلطنت کا اقتدار تھا، اور آپ کی زندگی کا بڑا حصہ شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دورِ حکومت سے ہم آہنگ ہے۔ اس زمانے میں یہ سارا خطہ، جو آج پاکستان، افغانستان اور بھارت پر مشتمل ہے، ایک ہی "ہندوستان" یا برصغیر کہلاتا تھا، اور مغل سلطنت کی حدود قندھار سے بنگال تک پھیلی ہوئی تھیں۔
اسی دور میں سرزمینِ خٹک پر ایک اور بڑی شخصیت — خوشحال خان خٹکؔ — اپنے عروج پر تھے، جو مرزا گل باباؒ کے ہم عصر شمار ہوتے ہیں۔
خدمات اور روحانی مقام
- ڈاگ اسماعیل خیل میں پیدائش، پھر گاؤں شیخان اور جلوزئی میں سکونت۔
- تقریباً بیس برس تک علاقے میں دعوت، اصلاح اور روحانی تربیت کا فریضہ ادا کیا۔
- آپ کا حلقۂ ارادت وسیع تھا، اور علاقے کے لوگ روحانی رہنمائی کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔
زیارت کاکا صاحبؒ سے نسبت
نوشہرہ ہی کے ایک اور عظیم صوفی بزرگ، حضرت کاکا صاحبؒ (زیارت کاکا صاحب، علاقہ نوشہرہ) کے ساتھ مرزا گل باباؒ کی روحانی اور دینی نسبت مقامی روایات میں بیان کی جاتی ہے۔ تصوف کے سلسلے میں دونوں بزرگوں کا تعلق ایک ہی روحانی فضا اور علاقے سے تھا، اور یہ قربت ان کے درمیان باہمی محبت و عقیدت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
مرزا گل باباؒ کی پیدائش تقریباً 985ھ (1577ء) اور وفات تقریباً 1090ھ (1679ء) بتائی جاتی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر پر مغل سلطنت کا اقتدار تھا، اور آپ کی زندگی کا بڑا حصہ شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دورِ حکومت سے ہم آہنگ ہے۔ اس زمانے میں موجودہ پاکستان، افغانستان اور بھارت کا وسیع خطہ مجموعی طور پر "ہندوستان" یا برصغیر کہلاتا تھا، اور مغل سلطنت کی حدود قندھار سے بنگال تک پھیلی ہوئی تھیں۔
اسی دور میں سرزمینِ خٹک کی عظیم شخصیت خوشحال خان خٹکؔ (1022ھ/1613ء – 1100ھ/1689ء) بھی اپنے عروج پر تھیں، جو مرزا گل باباؒ کے ہم عصر شمار ہوتے ہیں۔
ہم عصر شخصیات
اسی زمانے کے قریب پشتو زبان کے معروف صوفی شاعر رحمان باباؒ (تقریباً 1042ھ/1632ء – 1124ھ/1711ء) بھی جلوہ گر ہوئے۔ اس لحاظ سے رحمان باباؒ، مرزا گل باباؒ سے تقریباً 55 برس چھوٹے تھے، اور مرزا گل باباؒ کی وفات کے وقت رحمان باباؒ کی عمر تقریباً 47 برس تھی۔ یوں کچھ عرصہ دونوں بزرگ ایک ہی زمانے میں موجود رہے۔
تاریخی ترتیب کے اعتبار سے:
1۔ مرزا گل باباؒ — 1577ء تا 1679ء
2۔ خوشحال خان خٹکؔ — 1613ء تا 1689ء
3۔ رحمان باباؒ — 1632ء تا 1711ء
اس طرح مرزا گل باباؒ ان تینوں میں سب سے بزرگ تھے، خوشحال خان خٹکؔ ان سے تقریباً 36 سال چھوٹے تھے، جبکہ رحمان باباؒ مرزا گل باباؒ سے تقریباً 55 سال چھوٹے تھے۔ تینوں شخصیات مغل دور کی نمایاں علمی، ادبی اور روحانی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں، اور ان کا زمانہ بڑی حد تک ایک دوسرے سے متداخل رہا۔
📍 مزار کی مکمل لوکیشن
| تفصیل | معلومات |
| نام | مرزا گل بابا زیارت |
| گاؤں | شیخان (جلوزئی) |
| روڈ | چراٹ روڈ، پناہ کوٹ |
| علاقہ | جلوزئی |
| تحصیل | پبی / نوشہرہ |
| ضلع | نوشہرہ، خیبر پختونخوا |
| نقاط | 33.90539° N, 71.81505° E |
قریبی مقامات: جلوزئی، پناہ کوٹ، سپین خاک، چپری، چیرات، زیارت کاکا صاحب۔
سالانہ عرس اور ایصالِ ثواب
مرزا گل باباؒ کے مزار پر سادگی کے ساتھ سالانہ عرس منعقد ہوتا ہے، جس میں علاقے کے صوفیائے کرام سے محبت کرنے والے لوگ شریک ہو کر ایصالِ ثواب اور دعا کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ تصوف سے وابستہ افراد یہاں آ کر بزرگوں کی روحانی نسبت سے فیض حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عیدین کے موقع پر میلہ
دونوں عیدوں — عیدالفطر اور عیدالاضحی — کے موقع پر مزار کے گرد ایک جاندار اور پررونق میلہ سجتا ہے، جس میں علاقے کے چھوٹے بڑے، بزرگ اور بچے بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ اس میلے میں:
- بچوں کے لیے مختلف قسم کے جھولے لگائے جاتے ہیں
- کھانے پینے کی اشیاء کے سٹال موجود ہوتے ہیں
-خوشی و مسرت کا سامان اور رنگ بکھرے ہوتے ہیں
اہلِ علاقہ اس مبارک موقع سے بھرپور خوشیاں سمیٹتے ہیں۔
قدیم قبرستان
مزار کے اردگرد ایک نہایت قدیم قبرستان واقع ہے، جس میں شیخان، جلوزئی اور گردونواح کے علاقوں کے لوگ اپنے عزیزوں کو سپردِ خاک کرتے ہیں۔ یہ قبرستان نسل در نسل اہلِ علاقہ کی آخری آرام گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
چشمہ اور قدیم درخت — تبرک کی روایات
مزار کے قریب ایک چشمہ موجود ہے، جس کے پانی کو دور دراز سے آنے والے لوگ اپنے امراض کے لیے شفا کی نیت سے استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح یہاں چند قدیم درخت بھی ہیں، جن کے پتوں سے بھی برکت حاصل کرنے کی روایت پائی جاتی ہے۔ مزار کے گردونواح کے پورے علاقے کو اہلِ علاقہ بابرکت سمجھتے ہیں، اور دور دراز سے آنے والے زائرین اس کے آس پاس علاقے کی بہت قدر و منزلت کرتے ہیں۔
تاریخی نوٹ
مرزا گل باباؒ کے حالات بنیادی طور پر مقامی روایات و زبانی تاریخ پر مبنی ہیں۔ تحریری مآخذ محدود ہونے کی وجہ سے بعض جزئیات میں اختلاف ممکن ہے۔ اگر آپ کا تعلق اسی خاندان یا علاقے سے ہے تو خاندانی شجرے اور مقامی مشائخ کے ریکارڈ مزید معلومات فراہم کئے جا سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس پورے علاقے کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، ہر قسم کے شر و فساد سے محفوظ رکھے، اور یہاں کے باسیوں کو باہمی اتحاد، اتفاق اور محبت و الفت اور ان اہل تصوف بزرگان دین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے تاکہ ان کا کردار بھی امت کیلئے مشعل راہ ہو آمین
✍️ جمع و ترتیب
قاری سعید عالم ، گیریزن مسجد، ملیر کینٹ کراچی

 

saeed Alam khan
About the Author: saeed Alam khan Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.