اصولِ تربیتِ فرزند: سورہ لقمان کا تدریجی اور جامع فریم ورک����

عنوان مقالہ : اصولِ تربیتِ فرزند: سورہ لقمان کا تدریجی اور جامع فریم ورک
دکتر فضیلت فاطمه
۱. مقدمہ (Introduction)
انسانی معاشرے کی بقا، استحکام اور فلاح کا دارومدار نسلِ نو کی صحیح خطوط پر تربیت میں پنہاں ہے۔ اسلام جہاں فرد کی انفرادی اصلاح پر زور دیتا ہے، وہاں ایک ایسے جامع تربیتی نظام کا خاکہ بھی پیش کرتا ہے جو انسان کے باطن (عقیدے) سے شروع ہو کر اس کے ظاہر (سماجی رویوں) پر محیط ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم کے اسلوبِ بیان میں جہاں احکامات اور قوانین کا ذکر ہے، وہاں عملی اور نفسیاتی اسلوب میں تربیت کے بہترین نمونے بھی پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں سب سے منفرد اور جامع اسلوب سورہ لقمان میں حضرت لقمان حکیم کی اپنے بیٹے کو دی جانے والی نصیحتوں کی صورت میں موجود ہے۔
قرآنِ مجید میں حضرت لقمان کی ان حکیمانہ نصائح کا ذکر محض ایک تاریخی واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ قیامت تک آنے والے والدین اور مربیان کے لیے اولاد کی پرورش اور شخصیت سازی کا ایک مکمل مینیفیسٹو (Manifesto) ہے۔ موجودہ عصرِ حاضر میں جہاں مادی چیلنجز، اخلاقی انحطاط اور سماجی خلفشار نے تربیت کے عمل کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے، وہاں سورہ لقمان کا پیش کردہ اسلوبِ تربیت ایک روشن مینارِ ہدایت ثابت ہوتا ہے۔
تربیت کا تدریجی اور ارتقائی اصول (Step-by-Step Evolution)
سورہ لقمان کے تربیتی ماڈل کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہاں تربیت کا ایک منطقی، تدریجی اور مرحلہ وار ارتقا موجود ہے۔ حضرت لقمان نے بچے کی پرسنالٹی بلڈنگ (Personality Building) کے لیے ایک ایسا طریقہ اور روش اختیار کی ہے جو نفسیاتِ انسانی کے عین مطابق ہے۔
یہ سفر تین بنیادی مراحل پر استوار ہے:
1. باطن کی تعمیر (عقیدہ): سب سے پہلے انسان کے فکری اور ذہنی زاویے کو درست کیا گیا، کیونکہ جب تک سوچ اور عقیدہ مضبوط نہ ہو، عمل کی عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی۔
2. ذاتی اصلاح (عبادت): عقیدے کی پختگی کے بعد فرد کا اپنے خالق سے تعلق جوڑا گیا تاکہ اس کی روحانی اور باطنی پاکیزگی ممکن ہو۔
3. سماجی آمادگی (اجتماعیت اور اخلاق): فرد کو صرف اس کی پرسنل لائف (زندگیِ فردی) تک منحصر نہیں رکھا گیا، بلکہ اسے معاشرے کا ایک فعال، مصلح اور بااخلاق رکن بنانے کے لیے سماجی میدان میں اتارا گیا۔
تربیت کا یہ تدریجی اصول یہ سکھاتا ہے کہ ایک متوازن شخصیت کی تعمیر کے لیے مرحلہ بہ مرحلہ آگے بڑھنا ضروری ہے، جس کا آغاز عقیدے کی مضبوط بنیاد سے ہوتا ہے۔
۲. تربیتِ اعتقادی: شخصیت کی بنیاد اور اس کا رول
حضرت لقمان نے اپنی گفتگو کا آغاز جس جملے سے کیا، وہ تربیتِ اعتقادی کی پہلی اینٹ ہے:
يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (سورہ لقمان: ۱۳)
"اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔"
اس کے فوراً بعد کائنات کے ذرے ذرے پر اللہ کے علمِ محیط اور آخرت کی جوابدہی کا تصور یوں پیش کیا:
يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَ ا اللَّهُ (سورہ لقمان: ۱۶)
"اے میرے بیٹے! اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو، پھر وہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں، اللہ اسے لے آئے گا۔"


بچے کی تربیت میں اعتقاد کا رول اور اہمیت
کسی بھی بچے کی تربیت میں سب سے پہلا مرحلہ اعتقاد (Belief) کا کیوں ہے؟ اور اس کا بچے کی نفسیات پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اس کے چند اہم زاویے درج ذیل ہیں:
• داخلی کنٹرول سسٹم (Internal Control System) کی بیداری:
جب بچے کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہر پوشیدہ اور ظاہر عمل کو دیکھ رہا ہے، تو اس کے اندر ایک خود کار اخلاقی نظام پیدا ہو جاتا ہے۔ مربی یا والدین ہر وقت بچے کے ساتھ نہیں رہ سکتے، لیکن "احساسِ جوابدہی" اور "خوفِ خدا" بچے کو تنہائی میں بھی گناہ اور برائی سے دور رکھتا ہے۔ یہ عقیدہ بچے کو بیرونی پولیسنگ (External Policing) کا محتاج نہیں بناتا بلکہ اس کا ضمیر بیدار کر دیتا ہے۔
• نفسیاتی اینکر اور فکری استحکام (Psychological Anchor):
بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو اسے دنیا میں مختلف نظریاتی اور فکری طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ توحید کا راسخ عقیدہ بچے کے ذہن کے لیے ایک اینکر (Anchor) کا کام کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا نظام کس کے ہاتھ میں ہے، جس سے اس کی شخصیت میں فکری استحکام آتا ہے اور وہ موہوم خوف، احساسِ کمتری اور اکیلے پن کا شکار نہیں ہوتا۔
• کردار سازی کی بنیاد:
عقیدہ دراصل جڑ ہے اور اخلاقیات اس کا پھل ہیں۔ اگر جڑ میں شرک یا شک کی بیماری ہو تو اخلاق کی شاخیں کبھی مضبوط نہیں ہو سکتیں۔ حضرت لقمان نے سب سے پہلے شرک کو "ظلمِ عظیم" کہہ کر بچے کو یہ سکھایا کہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی (توحید) کا اعتراف کرنا ہی سچی انسانیت اور انصاف ہے۔


۳. تربیتِ عبادی: باطنی پاکیزگی اور خدا سے تعلق کا تسلسل
عقیدے کی مضبوط بنیاد رکھنے اور خوفِ خدا کا احساس بیدار کرنے کے بعد، حضرت لقمان اپنی نصائح کو عملی سانچے میں ڈھالتے ہیں۔ تربیتِ اعتقادی (سوچ اور فکر) کے فوراً بعد اگلا تدریجی مرحلہ تربیتِ عبادی (عمل اور تعلق باللہ) کا ہے:
يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ (سورہ لقمان: ۱۷)
"اے میرے پیارے بیٹے! نماز قائم کرو۔"
بچے کی شخصیت میں عبادات کا رول
عقیدہ اگر روح ہے تو عبادات اس کا جسم ہیں؛ ایک کے بغیر دوسرے کا اظہار ممکن نہیں۔ بچے کی پرسنالٹی بلڈنگ میں تربیتِ عبادی درج ذیل اہم کردار ادا کرتی ہے:
• نظم و ضبط اور وقت کی پابندی (Discipline):
نماز صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ دن میں پانچ مرتبہ زندگی کو ایک منظم دائرے میں لانے کا نام ہے۔ بچپن ہی سے نماز کی عادت بچے کے اندر وقت کی قدر، طہارت و پاکیزگی اور لائف مینجمنٹ (Life Management) کا شعور پیدا کرتی ہے۔
• روحانی سکون اور ذہنی یکسوئی:
عصرِ حاضر میں بچے بہت جلد ذہنی تناؤ اور اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نماز خالقِ کائنات سے گفتگو کا وہ ذریعہ ہے جو بچے کو نفسیاتی طور پر یہ پناہ گاہ فراہم کرتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم طاقت اس کی پشت پر موجود ہے۔
• عملی اطاعت کا جذبہ:
صرف زبانی طور پر اللہ کو ماننا کافی نہیں، بلکہ عملی طور پر اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا بچے کے اندر سے سرکشی اور نافرمانی کے جذبات کو ختم کر کے عاجزی اور بندگی کی صفت پیدا کرتا ہے۔
۴. تربیتِ اجتماعی (فرد سے اجتماع تک کا سفر)
اسلام فرد کو صرف اس کی ذات یا انفرادی پارسائی (زندگیِ فردی) تک محدود رہنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ ایک مومن کو معاشرے کے لیے نفع بخش اور مصلح بننا ہوتا ہے۔ سورہ لقمان کا یہ حصہ اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ کیسے ایک فرد کو اجتماعیت (Social Life) کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے:
وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (سورہ لقمان: ۱۷)
"اور بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو، اور تمہیں جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کرو، بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔"
سماجی زندگی اور پرسنالٹی بلڈنگ کے اہم زاویے
• سماجی ذمہ داری کا احساس (Social Responsibility):
"وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ..." کہہ کر حضرت لقمان نے بچے کو یہ گراں قدر نقطہ سکھایا کہ تمہیں صرف خود اچھا نہیں بننا، بلکہ معاشرے کو بھی اچھا بنانا ہے۔ یہ بچے کے اندر سے خود غرضی (Selfishness) کا خاتمہ کرتا ہے اور اس میں ایک وسیع، ہمدردانہ اور سماجی مصلح کا وژن پیدا کرتا ہے۔ وہ ایک ایسا شہری بنتا ہے جو اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر نہیں رہتا۔
• عزم و استقامت اور چیلنجز کا سامنا (Resilience):
جب بچہ معاشرے میں نکلے گا، نیکی کی بات کرے گا یا خود کو برائی سے بچائے گا، تو اسے مخالفت، تنقید اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے سماجی آمادگی کے فوراً ساتھ فرمایا: "وَاصْبِرْ عَلٰی مَاۤ اَصَابَکَ" (جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کرو)۔ یہ بچے کی نفسیاتی مضبوطی (Mental Toughness) کے لیے بہترین نصحیت ہے۔ یہ اسے سکھاتی ہے کہ مشکلات سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹنا، بلکہ صبر اور استقامت کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے، کیونکہ یہی چیزیں عظیم شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں۔


• حقوق العباد اور والدین کا شعور:
سورہ لقمان میں اللہ نے اپنی توحید کے فوراً بعد والدین کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا ذکر کیا ہے ("وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیه" )۔ یہ تربیتِ اجتماعی کا پہلا دائرہ ہے، یعنی اپنے گھر سے لے کر پورے معاشرے تک ایک متوازن، پُر امن اور حقوق شناس رویہ اختیار کرنا۔
۵. تربیتِ اخلاقی: چال ڈھال، آدابِ گفتگو اور متوازن شخصیت
تربیت کے منطقی اور تدریجی سفر میں جب عقیدہ پختہ ہو جائے، عبادات سے روح پاک ہو جائے اور فرد اجتماعیت کے لیے تیار ہو جائے، تو اب باری آتی ہے اس کے ظاہری رویے، باڈی لینگویج (Body Language) اور روزمرہ کے اخلاق کی۔ یہ وہ آخری مرحلہ ہے جو بچے کی شخصیت کو معاشرے میں ایک حسین اور باوقار روپ دیتا ہے۔ حضرت لقمان اپنے بیٹے کو معاشرتی میل جول کے آداب سکھاتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (سورہ لقمان: ۱۸)
"اور لوگوں کے سامنے (تکبر سے) اپنے گال نہ پھلاؤ اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو، بے شک اللہ کسی اترانے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔"
اس کے فوراً بعد گفتگو اور رفتار کا توازن یوں بیان کیا:
"وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ ؕ اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ" (سورہ لقمان: ۱۹)
"اور اپنی چال میں اعتدال رکھو اور اپنی آواز کو پست کرو، یقیناً آوازوں میں سب سے بری آواز گدھے کی ہے۔"


اخلاقی و ظاہری تربیت کا رول اور اہمیت
یہ آیات بتاتی ہیں کہ اسلام صرف اندرونی پاکیزگی کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے اٹھنے بیٹھنے اور بات کرنے کے انداز کو بھی خوبصورت بناتا ہے۔ اس تربیت کے بنیادی اصول درج ذیل ہیں:
• تکبر کی نفی اور عاجزی کا فروغ (Humility):
"لَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ" (گال نہ پھلاؤ) کا تعلق انسان کے چہرے کے تاثرات (Facial Expressions) سے ہے۔ مربی کو چاہیے کہ وہ بچے کو سکھائے کہ لوگوں سے ملتے وقت چہرے پر بیزاری، غرور یا منہ پھیرنے کا انداز نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مسکراہٹ اور عاجزی ہونی چاہیے۔ زمین پر اکڑ کر چلنے کی ممانعت کر کے بچے کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ تمہاری چال سے تمہارا باطن جھلکتا ہے، اس لیے اس میں متانت ہونی چاہیے۔
• اعتدال پسندی (Moderation in Behavior):
"وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ" (اپنی چال میں اعتدال رکھو)۔ یہ جملہ زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال سکھاتا ہے۔ نہ تو اتنی تیز رفتاری ہو کہ وقار ختم ہو جائے اور نہ ہی اتنی سستی ہو کہ انسان ناکارہ نظر آئے۔ یہ اعتدال بچے کی سوچ، عمل اور لائف سٹائل کا حصہ بننا چاہیے۔
• آدابِ گفتگو اور کمیونیکیشن سکلز (Communication Skills):
آج کی دنیا میں "کمیونیکیشن سکلز" پر بہت زور دیا جاتا ہے، لیکن قرآن نے صدیوں پہلے اس کا سنہری اصول بیان کر دیا: "وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ" (اپنی آواز کو پست رکھو)۔ چیخ کر بات کرنا، چڈ چڑاہٹ دکھانا یا بلاوجہ اونچی آواز میں بولنا شخصیت کے کھوکھلے پن کی نشانی ہے۔ یہاں گدھے کی آواز سے تشبیہ دے کر یہ واضح کیا گیا کہ بدتہذیبی اور اونچی آواز سے انسان کی علمی یا خاندانی وجاہت ختم ہو جاتی ہے۔

نتیجہ (Conclusion)
سورہ لقمان میں بیان کردہ اصولِ تربیت کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ محض چند نصیحتوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ بچے کی ہمہ جہت ترقی (Holistic Development) کا ایک مکمل فریم ورک ہے۔ حضرت لقمان کا اسلوب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کامیاب تربیت ہمیشہ تدریجی اور مرحلہ وار (Step-by-Step) ہوتی ہے:
1. اس کا آغاز عقیدے اور باطن کی مضبوطی سے ہوتا ہے، جو بچے کی شخصیت کو ایک نفسیاتی اینکر فراہم کرتا ہے۔
2. پھر وہ عبادات کے ذریعے اپنے خالق سے جڑتا ہے۔
3. اس کے بعد وہ صرف اپنی ذات تک محدود رہنے کے بجائے معاشرے کی اصلاح اور چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے آمادہ (سوشل لائف کے لیے تیار) ہوتا ہے۔
4. اور آخر میں، اس کا یہ پورا سفر اس کے طرزِ گفتگو، چال ڈھال اور عاجزانہ اخلاق کی صورت میں نکھر کر سامنے آتا ہے۔
آج کے والدین اور مربیان کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو موجودہ دور کے فکری اور اخلاقی فتنوں سے بچانا چاہتے ہیں، تو انہیں تربیت کے اس فطری اور قرآنی مینیفیسٹو کو اپنانا ہوگا۔ جب تک ہم بچے کے اعتقاد، عبادت، اجتماعیت اور اخلاق کی مرحلہ وار تعمیر نہیں کریں گے، تب تک ایک متوازن اور مثالی شخصیت کا وجود ممکن نہیں۔

 

fatima fazilat
About the Author: fatima fazilat Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.