مقدس اوراق جب ناقابلِ استعمال ہو جائیں تو ان کو بے ادبی سے بچانے کا شرعی طریقہ

مقدس اوراق جب ناقابلِ استعمال ہو جائیں تو ان کو بے ادبی سے بچانے کا شرعی طریقہ
از قلم: فقیر محمد شعیب اکرام اختر القادری رضوی
مقدس اوراق جب ناقابلِ استعمال ہو جائیں تو ان کے ساتھ بے ادبی کرنا سخت ناجائز اور ممنوع ہے، اس لیے ان کی تعظیم و حرمت کو ہر حال میں ملحوظ رکھنا لازم ہے۔ ایسے اوراق کو تلف(ٹھنڈا) کرنے کا بہترین اور محتاط طریقہ یہ ہے کہ انہیں کسی پاک و صاف کپڑے میں اچھی طرح لپیٹ کر ادب کے ساتھ زمین میں دفن کر دیا جائے اور دفن کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ان پر براہِ راست مٹی نہ ڈالیں، بلکہ بہتر یہ ہے کہ لحد (قبر) کی صورت بنا دی جائے یا اوپر لکڑی/تختہ وغیرہ رکھ کر پھر مٹی ڈالی جائے تاکہ ادب برقرار رہے۔
اگر دفن کرنا ممکن نہ ہو تو انہیں کسی وزنی چیز کے ساتھ باندھ کر دریا یا سمندر کے گہرے پانی میں اس طرح ڈال دیا جائے کہ وہ تہہ میں چلے جائیں اور کنارے پر آ کر بے ادبی کا باعث نہ بنیں۔
البتہ اگر ان اوراق پر موجود مقدس تحریر، یعنی آیاتِ قرآنیہ، احادیثِ مبارکہ یا اسماءِ مقدسہ کو مکمل طور پر مٹا دیا جائے تو انہیں جلایا بھی جاسکتا ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، تاہم سب سے بہتر اور محتاط طریقہ یہی ہے کہ انہیں ادب کے ساتھ دفن ہی کیا جائے۔

علامہ محمد امين ابن عابدين شامی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف رد المحتار على الدر المختار میں بیان کرتے ہیں:
والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اهـ، يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم لأن أفضل الناس يدفنون. وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ ولا يكره دفنه وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل
ترجمہ: اور دفن کرنا بہتر ہے، جیسا کہ انبیاء علیہم السلام اور اولیاء رضی اللہ عنہم کے معاملے میں (تدفین کا طریقہ ہی اختیار) کیا جاتا ہے جب وہ وصال فرما جائیں اور اسی طرح تمام کتابوں کا حکم ہے جب وہ بوسیدہ ہو جائیں اور قابل انتفاع نہ رہیں، یعنی دفن کرنے کی صورت میں تعظیم میں کوئی خلل نہیں آتا؛ کیونکہ سب سے افضل لوگ (بھی) دفن کیے جاتے ہیں اور ذخیرہ میں ہے: جب مصحف بوسیدہ ہو جائے اور اس سے پڑھنا ممکن نہ رہے تو اسے آگ میں جلایا نہیں جائے گا، اسی کی طرف امام محمد نے اشارہ کیا ہے اور ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اور اس کا دفن کرنا مکروہ نہیں ہے اور چاہیے کہ ایسے مصحف کو پاک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اور اس کے لیے لحد بنائی جائے؛ کیونکہ اگر سیدھا کھود کر دفن کیا جائے تو اس پر مٹی ڈالنے کی حاجت پڑے گی اور اس میں ایک طرح کی تحقیر (بے ادبی) ہے، مگر یہ کہ اس کے اوپر چھت بنا دی جائے اور اگر چاہے تو اسے پانی سے دھو دے یا کسی ایسی پاک جگہ رکھ دے، جہاں نہ محدث (ناپاک) کا ہاتھ پہنچے، نہ گرد و غبار اور نہ گندگی پہنچے، (یہ سب) اللہ عزوجل کے کلام کی تعظیم کی خاطر ہے۔
(رد المحتار علی الدر المختار، ‌‌كتاب الحظر والإباحة، جلد 6، صفحہ 422، دار الفکر)

 

Muhammad Shoaib Ikram
About the Author: Muhammad Shoaib Ikram Read More Articles by Muhammad Shoaib Ikram: 39 Articles with 75867 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.