میں نے پو چھا۔۔۔ماں کون ہے؟ (پارٹ سوئم)

میں نے پوچھا۔۔۔ماں کی محبت کیا ہے؟
ماں کی محبت میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ ہر دکھ اس میں سمٹ جاتا ہے؟
اس نے کہا:
"ماں کے درد نے جب باہیں پھیلا کر مجھے اپنی آغوش میں تھاما، تو مجھے احساس ہوا کہ ماں کی محبت جیسی کوئی محبت نہیں۔"
کیا تم نے شاخوں پر گھونسلے دیکھے ہیں؟ کیا تم نے اڑتے پرندے دیکھے ہیں؟ کیا بلبل، کیا مینا، کیا چڑیا اور شاہین؛ سب اپنے بچوں کے لیے ماں کے روپ میں باہیں پھیلائے بیٹھی ہیں۔
کیا تم نے کبھی ان کے بچوں کو بے آسرا دیکھا ہے؟ کیا تم نے انہیں ماں کی آغوش میں ہنستے، کھیلتے اور بے خوف دیکھا ہے؟
پہاڑوں میں، بیابانوں میں، صحراؤں میں، ویرانوں میں یا کھیل کے میدانوں میں۔۔۔ تنہائیوں میں، سوالوں میں اور سوالوں کے جوابوں میں۔۔۔ بس ایک ماں ہی سراپا محبت ہے۔
کیا ماں سا کوئی ساقی ملتا ہے؟ کیا ماں سا کوئی ساتھی ملتا ہے؟
میں نے پو چھا۔۔۔ماں کی آغوش کی مثال دو

ماں کی آغوش ایسی ہے جیسے ابر کی آغوش میں بارش کی بوندیں، جیسے تپتے صحرا میں ساون کی پہلی پھوار، جیسے کٹتی دھوپ میں گھنا سایہ، جیسے سینے کی آغوش میں دھڑکتا دل۔
کیا تم نے پھولوں کی آغوش میں تتلیوں کو منڈلاتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے خیالوں کی آغوش میں لفظوں کو، لفظوں کی آغوش میں حرفوں کو، حرفوں کی آغوش میں لہجوں کو، اور لہجوں کی آغوش میں سپنوں کو پروان چڑھتے دیکھا ہے؟
کیا تم نے سیاہ رات کی آغوش میں جگنوؤں کو چمکتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے فلک کی آغوش میں سورج کو ڈھلتے اور آسمان کی آغوش میں چاند اور تاروں کو جگمگاتے دیکھا ہے؟
یہ سب ماں کی آغوش کی جھلکیاں ہیں۔
ماں کی آغوش تحفظ، سکون، محبت اور دعا کی وہ پناہ گاہ ہے جہاں انسان اپنی تلخیوں، محرومیوں اور تھکن کو بھول کر پھر سے جینے کی ہمت پا لیتا ہے۔
naila rani riasat ali
About the Author: naila rani riasat ali Read More Articles by naila rani riasat ali: 122 Articles with 192702 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.