اس کی حسین پلکیں ذرا جھک سی گئیں۔ وہ سسکنے لگا، اور دیر تک سسکتا رہا۔ کچھ لمحے خلا میں یوں تکتا رہا، پھر آہستہ آہستہ لب کشائی کی۔ میں نے جھک کر جو درد بھری صدا سنی، میرے دل میں بھی ماتم سا برپا ہو گیا۔ ذرا ٹھہر جا۔۔۔ او، بخدا ٹھہر جا۔۔۔ اور سن تو ذرا: "إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِينَ" (بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔) کیا تم نے حضرت یوسفؑ کو بکتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے شاخوں کو کٹتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے کسی پنچھی کو تنہا دیکھا ہے؟ کیا تم نے حضرت سمیہؓ کو ظلم سہتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے حضرت بلالؓ کی تڑپ سنی ہے؟ کیا تم نے گھوڑوں کی ٹاپیں سنی ہیں؟ کیا تم نے تلواروں کا سایہ دیکھا ہے؟ کیا تم نے صحابۂ کرامؓ کے قصے سنے ہیں؟ کیا تم نے شعبِ ابی طالب کی گھاٹی کا ذکر سنا ہے؟ کیا تم نے کبھی پیٹ پر پتھر باندھے ہیں؟ کیا تم نے طائف کا واقعہ پڑھا ہے؟ کیا تم نے خوابوں کو ٹوٹتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے یادوں کو جلتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے ظلمت کا اندھیرا دیکھا ہے؟ کیا تم نے حضرت ایوبؑ کا بے مثال صبر پڑھا ہے؟ کیا تم نے حضرت یعقوبؑ کی جدائی اور صبر کی داستان سنی ہے؟ کیا تم نے کبھی میرے دل سے پوچھا ہے؟ کیا تم نے کونپل کو پھوٹتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے پیاسا صحرا دیکھا ہے؟ کیا تم نے حضرت حسینؓ کا جذبۂ حق دیکھا ہے؟ کیا تم نے حضرت حسنؓ کے حلم و وقار کو پڑھا ہے؟ کیا تم نے حضرت فاطمہ الزہراءؓ کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے؟ کیا تم نے میدانِ کربلا کا درد محسوس کیا ہے؟ کیا تم نے حضرت موسیٰؑ کے لیے دریا کو راستہ بنتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے حضرت مریمؑ کو آزمائشیں سہتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے سورج کو ڈھلتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے چاند کو گرہن میں ڈھکتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے آبشار کو گرتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے کسی خواب کو مرتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے لفظوں کی درویشی پڑھی ہے؟ کیا تم نے بے نام محبت کو محسوس کیا ہے؟ کیا تم نے پنچھیوں کو پنجرے میں دیکھا ہے؟ کیا تم نے قید کے قیدی دیکھے ہیں؟ کیا تم نے لیلیٰ کے قیس کو دیکھا ہے؟ کیا تم نے رانجھے کی ہیر کو دیکھا ہے؟ کیا تم نے کسی اپنے کو بچھڑتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے کسی شمع کو جلتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے کسی پروانے کو مرتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے آگ کو بھڑکتے دیکھا ہے؟ کیا تم نے کسی مومن کے دل کی کیفیت کو محسوس کیا ہے؟ یہ سب، رانی، صبر کی مثالیں ہیں۔ یہ ہمیں امید، استقامت اور اللہ پر کامل بھروسا کرنا سکھاتی ہیں۔ یاد رکھو، ہر رات کے بعد صبح کی کرنیں طلوع ہوتی ہیں، اور صبر کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، آخرکار امید کا سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔ |