کراچی: معیشت کا مرکز، محرومیوں کا شکار کیوں؟

*از قلم : محمد ارسلان شیخ*

پاکستان کا معاشی مرکز، سب سے بڑا شہر اور قومی معیشت کا انجن کہلانے والا کراچی آج اپنے ہی شہریوں کے لیے سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔ وہ شہر جو ملکی خزانے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے، جہاں صنعت، تجارت، بندرگاہیں اور کاروباری سرگرمیاں ملک کی معیشت کو رواں رکھتی ہیں، آخر وہی شہر بنیادی سہولیات، روزگار اور مہنگائی کے بوجھ تلے کیوں دبا ہوا ہے؟

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں آٹے سمیت کئی بنیادی اشیائے ضروریہ ملک کے دیگر بڑے شہروں کے مقابلے میں زیادہ مہنگی فروخت ہو رہی ہیں۔ لیکن مسئلہ صرف آٹے کا نہیں، بلکہ روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ سبزیاں، دالیں، گوشت، دودھ، ادویات، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات نے شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔

دوسری طرف بے روزگاری نوجوانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی ملازمت کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں میں کراچی کے نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر مساوی مواقع فراہم کیے جائیں اور روزگار کے دروازے وسیع کیے جائیں تاکہ احساسِ محرومی ختم ہو۔

جو نوجوان یا شہری اپنی محنت سے کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی مختلف انتظامی، قانونی اور مالی رکاوٹوں کی شکایت کرتے ہیں۔ چھوٹے کاروبار کو فروغ دینے کے بجائے اگر کاروباری ماحول پیچیدہ اور مہنگا ہوگا تو روزگار کیسے پیدا ہوگا؟ ایک ایسا شہر جو لاکھوں لوگوں کو روزگار دیتا تھا، آج وہاں روزگار کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ شہر کے بنیادی مسائل بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، جگہ جگہ ابلتے گٹر، پانی کی قلت، کچرے کے ڈھیر، ٹریفک کا بدترین نظام اور بڑھتا ہوا اسٹریٹ کرائم شہریوں کے لیے روزمرہ کا عذاب بن چکے ہیں۔ عوام ٹیکس بھی دیتے ہیں اور مختلف بل بھی ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بنیادی سہولیات کا فقدان ایک بڑا سوال ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی کو سیاسی اختلافات کی نذر کرنے کے بجائے قومی ترجیح بنایا جائے۔ وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی ادارے مل بیٹھ کر اس شہر کے دیرینہ مسائل کا مستقل حل نکالیں۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں، میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے، کاروبار کے لیے آسان ماحول فراہم کیا جائے، مہنگائی پر مؤثر کنٹرول کیا جائے اور شہری سہولیات کو بہتر بنایا جائے۔

کراچی صرف ایک شہر نہیں، پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ اگر اس شہر کے شہری خود کو محروم، بے بس اور نظر انداز محسوس کرتے رہے تو اس کے اثرات صرف کراچی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری قومی معیشت اس کی قیمت ادا کرے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سوال صرف یہ نہ ہو کہ "کراچی کے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟" بلکہ اس کا عملی جواب بھی دیا جائے۔

 

Muhammad Arslan Shaikh
About the Author: Muhammad Arslan Shaikh Read More Articles by Muhammad Arslan Shaikh: 41 Articles with 11258 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.