پاکستان سعودی عرب ترکیہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن و استحکام کا ضامن حصہ دوئم


ڈاکٹر سید محبوب
پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کی مشترکہ فوجی قوت کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے
مشترکہ فوج کی تعداد۔ 14 لاکھ
ہوائی جہاز۔ 3،400
نیوی اثاٹے۔ 340
ٹینکوں کی تعداد۔6,000
اب ذرا تینوں ممالک کے معاشی اشاریہ کی طرف نظر دوڑائیے

ایریا مربع کلومیٹر سعودی عرب 2,149,690، پاکستان 881,931 ،ترکیہ 783,563
ابادی ملین سعودی عرب 33.7 پاکستان 250 ترکیہ .86.09
جی ڈی پی ( پی پی پی ) ارب ڈالر سعودی عرب 2,895 پاکستان 1,800 ترکیہ 4,025
جی ڈی پی ( نامنل)ارب ڈالر سعودی عرب 1,389 پاکستان 407.9 ترکیہ 1,640
برآمدات ارب ڈالر سعودی عرب 370.97 پاکستان 40.79 ترکیہ 424.5
مسلح افواج سعودی عرب 480,000 پاکست ن660,000 ترکیہ 481,000
دفاعی بجٹ ارب ڈالر سعودی عرب 64 پاکستان 10.76ترکیہ 51
سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ فرقہ وارانہ نہیں ہے اور نہ ہی اس معاہدے سے سعودی عرب کے خلیج ممالک سے تزویراتی تعلقات متاثر ہوں گے
ستمبر 2025 ء میں پاکستان اور سعودی عرب نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون ،خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے راہ ہموار کرنے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف نے پاکستان ،سعودی عرب اور ترکی کے درمیان معاہدے پر دستخط کو تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک، ایمان، دوستی اور مشترکہ احساس ذمہ داریوں کی بنیاد پر متحد ہوئے ہیں جو امن اور سلامتی کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کر نا ان کے لیے بڑا اعزاز ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کی بھی تعریف کی جنہوں نے دفاعی معاہدے کے لیے اہم کردار ادا کیا ۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی جن کے درمیان بہترین عملی تعاون موجود ہے اور انکے باہمی اشتراک نے ملک کے لیے نمایاں کامیابیوں کی راہ ہموار کی۔
پاکستان نے گزشتہ سال مئی میں اپنے سے نو گنا زیادہ فوجی بجٹ رکھنے والے، اپنے اپ کو دنیا کی ایک بڑی طاقت سمجھنے والے ملک کو دھول چٹوا کر اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا ،جس سے پاکستان کی عزت و وقار میں دنیا بھر میں بے پناہ اضافہ ہوا
سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ تینوں ممالک کے اس مشترکہ دفاعی معاہدے سے تینوں کے درمیان گہرے برادرانہ اور تزویراتی تعلق کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ تینوں ممالک خطے کو مضبوط پرمن اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں
پاکستان نے اسرائیل اور امریکہ کے ایران کے خلاف جنگ کے بعد امن کی بحالی اور امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار کرنے کے لیے متعدد کوششیں کیں۔ جن سے عالمی سطح پر پاکستان کا امیج امن کے سفیر کے طور پر نمایاں ہوا۔ پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ ہوا
پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر پوری دنیا کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ہر مسلمان ملک میں رہنے والے مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم ممالک میں بھی رہنے والے مسلمانوں نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا مسلمان دنیا کی ابادی کا 25 فیصد ہیں اگر تمام دنیا کے مسلمان متحد ہو جائیں تو 57 اسلامی ممالک کی مجموعی طاقت کا احساس دنیا بھر کو ہوگا اور دنیا کے طاقتور ترین ممالک مسلمانوں کی دو ارب کی ابادی کو نظر انداز نہیں کر سکیں گے اور گریٹر اسرائیل اور ہندتوا کے خطرناک عزائم ناکام ہو جائیں گے (انشاءاللہ

 

Dr Mehboob Syed
About the Author: Dr Mehboob Syed Read More Articles by Dr Mehboob Syed: 262 Articles with 155331 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.