مستقبل کے آبی وسائل کا تحفظ

مستقبل کے آبی وسائل کا تحفظ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

دنیا کے کئی خشک اور نیم خشک علاقوں میں گلیشیئرز پانی کے قدرتی ذخائر کا کردار ادا کرتے ہیں، جو نہ صرف ماحولیات بلکہ زراعت، معیشت اور انسانی زندگی کے لیے بھی انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ میں واقع تیان شان پہاڑی سلسلے کے گلیشیئرز بھی وسطی ایشیا کے آبی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔ حالیہ سائنسی تحقیق میں ان گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں اور مستقبل میں پانی کی دستیابی کے رجحانات کا زیادہ درست اندازہ لگانے کے لیے ایک نیا تحقیقی طریقہ پیش کیا گیا ہے۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے تحت شمال مغربی ماحولیاتی و قدرتی وسائل کے ادارے کے محققین کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں گلیشیئرز کے حجم میں تبدیلی، برف پگھلنے کے عمل اور اس کے دریاؤں کے بہاؤ پر اثرات کا جامع جائزہ لیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق خشک علاقوں میں آبی وسائل کی بہتر منصوبہ بندی، پانی کی تقسیم کے مؤثر انتظام اور پائیدار آبی حکمت عملیوں کے لیے اہم سائنسی بنیاد فراہم کرے گی۔

تیان شان کے گلیشیئرز وسطی ایشیا کے خشک علاقوں کے لیے قدرتی "ٹھوس آبی ذخیرے" کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں ہونے والی تبدیلیاں خطے میں پانی کی فراہمی، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی و اقتصادی ترقی سے براہِ راست تعلق رکھتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق ماضی میں گلیشیئرز کے حجم میں تبدیلیوں کا درست اندازہ لگانا مشکل تھا، کیونکہ مسلسل نگرانی اور طویل مدتی مشاہداتی اعداد و شمار محدود تھے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے محققین نے مختلف ذرائع سے حاصل شدہ ڈیٹا اور متعدد ماڈلز کو استعمال کرتے ہوئے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تیان شان کے چھ دریائی طاسوں میں گلیشیئرز کے حجم میں ہونے والی تبدیلیوں کا ازسرنو جائزہ لیا۔

تحقیقی ٹیم نے مستقبل کے مختلف موسمیاتی منظرناموں کی بنیاد پر گلیشیئرز کے ممکنہ نقصان اور برف پگھلنے سے پیدا ہونے والے پانی کے بہاؤ کا بھی تجزیہ کیا۔ اس کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ مستقبل میں گلیشیئرز دریاؤں کے مجموعی پانی میں کس حد تک کردار ادا کرتے رہیں گے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق 2000 سے 2021 تک تیان شان کے گلیشیئرز مجموعی طور پر منفی توازن کا شکار رہے، یعنی برف کے ذخیرے میں کمی واقع ہوئی۔ اس عرصے میں گلیشیئرز سے حاصل ہونے والا سالانہ پگھلا ہوا پانی دریائی طاسوں کے مجموعی بہاؤ کا تقریباً 31.45 فیصد حصہ تھا۔

مطالعے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کے موجودہ رجحانات برقرار رہے تو مختلف اخراجی منظرناموں کے تحت سال 2100 تک اس خطے کے گلیشیئرز اپنے موجودہ حجم کا 53 فیصد سے 77 فیصد تک کھو سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق گلیشیئرز سے حاصل ہونے والے پانی کا بہاؤ تقریباً 2050 تک بڑھنے کا امکان ہے، جس کے بعد بتدریج کمی آ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں گلیشیئرز خطے کے آبی وسائل کو متوازن رکھنے میں اپنا کردار بتدریج کھو سکتے ہیں۔

یہ نتائج اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلیوں کی مسلسل نگرانی کی جائے اور پانی کے وسائل کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی اختیار کی جائے، تاکہ خشک علاقوں میں پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

تیان شان کے گلیشیئرز پر ہونے والی یہ تحقیق موسمیاتی تبدیلیوں کے دور میں آبی وسائل کے تحفظ کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ گلیشیئرز صرف برف کے ذخیرے نہیں بلکہ پورے ماحولیاتی نظام اور انسانی زندگی سے جڑے قدرتی وسائل ہیں۔ جدید سائنسی طریقوں کے ذریعے ان میں آنے والی تبدیلیوں کو سمجھنا مستقبل میں پانی کے بہتر انتظام اور پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1987 Articles with 1166384 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More