ریڈیو پاکستان قومی ضرورت، وقت کا تقاضا۔

ریڈیو پاکستان ہماری قومی یادداشت، ہماری تہذیب، ہماری زبانوں اور ہماری اجتماعی شناخت کا امین ہے۔ اگر ہم نے اس ادارے کو وقت کی گرد میں گم ہونے دیا تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کریں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اس قومی آواز کو خاموش ہونے سے بچائیں، کیونکہ جو قومیں اپنی آواز کھو دیتی ہیں، وہ اپنی شناخت بھی کھو بیٹھتی ہیں۔

ریڈیو پاکستان قومی ضرورت، وقت کا تقاضا۔

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کی صورتیں تبدیل ہو رہی ہیں، نئی ٹیکنالوجی جنم لے رہی ہے، مصنوعی ذہانت نے اطلاعات کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے، مگر اس تمام تر ترقی کے باوجود ایک حقیقت آج بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ ریڈیو اپنی افادیت، سادگی اور رسائی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے قابلِ اعتماد ذریعۂ ابلاغ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے ریڈیو کو فراموش نہیں کیا بلکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اسے مزید مضبوط بنایا ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
ریڈیو پاکستان، جو کبھی قوم کی دھڑکن اور ریاست کی مضبوط آواز سمجھا جاتا تھا، آج شدید بے توجہی کا شکار ہے۔ نئے نشریاتی مراکز قائم ہونے کے بجائے پرانے مراکز بند کیے جا رہے ہیں۔ پروگراموں کا دائرہ سکڑ رہا ہے، وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں اور اس ادارے کے کارکن غیر یقینی حالات سے دوچار ہیں۔ یہ صورتِ حال صرف ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی ابلاغ، ثقافت اور معلومات کے ایک اہم ستون کی کمزوری ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ جنگ ہو، قدرتی آفت ہو یا کسی بڑے پیمانے پر مواصلاتی نظام درہم برہم ہو جائے، سب سے پہلے موبائل فون اور انٹرنیٹ متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ذریعہ عوام تک بروقت، مستند اور بلا تعطل معلومات پہنچاتا ہے تو وہ ریڈیو ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک آج بھی اپنے قومی ریڈیو نیٹ ورک کو دفاعی اور ہنگامی حکمتِ عملی کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں بھی ریڈیو کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ طاقتور ممالک آج بھی اپنی نشریات سرحدوں سے باہر تک پہنچاتے ہیں تاکہ اپنا مؤقف، اپنی ثقافت اور اپنا قومی بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ اطلاعات کی جنگ میں ریڈیو اب بھی ایک مؤثر ہتھیار ہے، جسے نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں۔
پاکستان میں اگر کسی ادارے نے واقعی قومی ثقافت، زبانوں اور تہذیبی رنگا رنگی کو محفوظ رکھنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے تو وہ ریڈیو پاکستان ہے۔ ملک کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی علاقائی زبانوں میں نشر ہونے والے پروگرام صرف تفریح نہیں تھے بلکہ وہ ہماری تہذیبی شناخت کے محافظ تھے۔ دیہی علاقوں کی لوک موسیقی، مقامی ادب، علاقائی روایات اور قومی یکجہتی کا پیغام ریڈیو ہی کے ذریعے گھر گھر پہنچتا رہا۔
ایک وقت تھا جب کسان ریڈیو سے موسمی حالات اور زرعی مشورے حاصل کرتے تھے، طلبہ تعلیمی پروگراموں سے استفادہ کرتے تھے، بچے کہانیاں اور ڈرامے سنتے تھے، خواتین گھریلو اور سماجی رہنمائی حاصل کرتی تھیں، بزرگ علمی اور مذہبی نشریات سے فیض یاب ہوتے تھے اور ہمارے سرحدوں پر تعینات جوان خصوصی پروگراموں کے ذریعے اپنے وطن اور اہلِ وطن کی محبت محسوس کرتے تھے۔ ریڈیو صرف آواز نہیں تھا، یہ قوم کی اجتماعی زندگی کا ایک خوبصورت مظہر تھا۔
آج ثقافت کے نام پر قائم کئی ادارے رسمی تقریبات تک محدود ہو چکے ہیں، لیکن ریڈیو پاکستان آج بھی اگر اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ فعال ہو تو وہ قومی ثقافت، زبانوں اور ادبی ورثے کو محفوظ رکھنے کا سب سے مؤثر پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اسے ایک بوجھ نہیں بلکہ قومی سرمایہ سمجھا جائے۔
حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ ریڈیو پاکستان کی بحالی کو قومی ترجیحات میں شامل کرے۔ بند مراکز کو دوبارہ فعال بنایا جائے، جدید ڈیجیٹل نشریاتی نظام متعارف کرایا جائے، انٹرنیٹ اور موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے نئی نسل تک اس کی رسائی بڑھائی جائے اور ساتھ ہی روایتی ریڈیو فریکوئنسی کو بھی پوری قوت کے ساتھ برقرار رکھا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان کے ملازمین کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دینا بھی ناگزیر ہے۔ کسی بھی ادارے کی اصل طاقت اس کی عمارتیں یا مشینیں نہیں بلکہ اس کے لوگ ہوتے ہیں۔ جب ملازمین معاشی، پیشہ ورانہ اور ذہنی طور پر مطمئن ہوں گے تو ادارہ بھی ترقی کرے گا اور اس کی نشریات بھی پہلے سے زیادہ مؤثر اور معیاری ہوں گی۔
ریڈیو پاکستان ہماری قومی یادداشت، ہماری تہذیب، ہماری زبانوں اور ہماری اجتماعی شناخت کا امین ہے۔ اگر ہم نے اس ادارے کو وقت کی گرد میں گم ہونے دیا تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہ کریں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اس قومی آواز کو خاموش ہونے سے بچائیں، کیونکہ جو قومیں اپنی آواز کھو دیتی ہیں، وہ اپنی شناخت بھی کھو بیٹھتی ہیں۔






 Arshad Qureshi
About the Author: Arshad Qureshi Read More Articles by Arshad Qureshi: 153 Articles with 207517 views My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet, CEO/ Editor Hum Samaj
.. View More