آج کے معاصر عالمی منظرنامے میں "تصادمِ تہذیب" اور "اسلامو فوبیا" جیسے فکری چیلنجز کا موثر تدارک عسکری ردِعمل کے بجائے اسی روایتی مسلم فکر کی بازیافت سے ممکن ہے۔ سیکولر لبرل ازم کے دوہرے معیار کے برعکس، اسلامی قانون اقلیتوں کے حقوق کو الٰہی تحفظ فراہم کرتا ہے جہاں خود شارعِ اسلام ان کے محافظ ہیں۔ عالمی امن کے قیام اور ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے کہ تعلیمی نصاب میں تقابلِ ادیان کو شامل کیا جائے اور تکریمِ رسالت کو بین الاقوامی قانون کا حصہ بنایا جائے۔ دنیا کو اگر ایک پرامن اور عادلانہ عالمی نظام کی طرف بڑھنا ہے، تو اسے مادی مصلحتوں سے نکل کر مسلم علمی روایت کے آفاقی نظامِ عدل کی پناہ میں آنا ہوگا۔" />

بین المذاہب تعلقات اور مسلم علمی روایت (ماضی کے جھروکوں سے معاصر چیلنجز کاحل )

مختصر خلاصہ
یہ مضمون کلاسیقی مسلم علمی روایت اور سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں بین المذاہب روابط اور بقائے باہمی کا ایک متوازن ماڈل پیش کرتا ہے۔ اسلام میں غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد تکریمِ انسانیت اور عقیدے کی آزادی پر قائم ہے۔ 'میثاقِ مدینہ' کا دستوری معاہدہ اور نجران کے عیسائیوں کو مسجدِ نبویؐ میں عبادت کی اجازت دینا اس کے شاندار تاریخی مظاہر ہیں۔
مغرب کے اس دعوے کے برعکس کہ تقابلِ ادیان ایک جدید یورپی علم ہے، مسلم مفکرین نے صدیوں پہلے "علم الملل والنحل" کی بنیاد رکھی۔ امام شہرستانی، ابن حزم اور البیرونی جیسے عبقری علما نے بغیر کسی تعصب یا تحریف کے دنیا کے دیگر مذاہب کا معروضی مطالعہ کیا، جب کہ اسلامی فقہ نے غیر مسلم شہریوں کو مساوی حقوق اور جان و مال کا تحفظ فراہم کیا۔
آج کے معاصر عالمی منظرنامے میں "تصادمِ تہذیب" اور "اسلامو فوبیا" جیسے فکری چیلنجز کا موثر تدارک عسکری ردِعمل کے بجائے اسی روایتی مسلم فکر کی بازیافت سے ممکن ہے۔ سیکولر لبرل ازم کے دوہرے معیار کے برعکس، اسلامی قانون اقلیتوں کے حقوق کو الٰہی تحفظ فراہم کرتا ہے جہاں خود شارعِ اسلام ان کے محافظ ہیں۔ عالمی امن کے قیام اور ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے کہ تعلیمی نصاب میں تقابلِ ادیان کو شامل کیا جائے اور تکریمِ رسالت کو بین الاقوامی قانون کا حصہ بنایا جائے۔ دنیا کو اگر ایک پرامن اور عادلانہ عالمی نظام کی طرف بڑھنا ہے، تو اسے مادی مصلحتوں سے نکل کر مسلم علمی روایت کے آفاقی نظامِ عدل کی پناہ میں آنا ہوگا۔
بین المذاہب تعلقات اور مسلم علمی روایت: ماضی کے جھروکوں سے معاصر چیلنجز کا حل

کالم نگار: مفتی محمد اکرام صافی (خطیب جامع مسجد خالد بن ولید، پراچہ ٹاؤن، اسلام آباد)

انسانیت کی فکری و سماجی تاریخ گواہ ہے کہ تنوع (Diversity) الٰہی نظامِ کائنات کا ایک مقتدر اور فطری حصہ ہے۔ رنگ، نسل، زبان اور بالخصوص "مذہب" کا یہ تنوع جہاں انسانی شعور کے ارتقا کا مظہر ہے، وہاں یہ مختلف انسانی گروہوں کے مابین بقائے باہمی، مکالمے اور روابط کا متقاضی بھی رہا ہے۔ اکیسویں صدی کے معاصر عالمی منظرنامے میں، جہاں مادی و سائنسی فتوحات نے دنیا کو ایک "عالمی گاؤں" (Global Village) میں تبدیل کر دیا ہے، بین المذاہب تعلقات کی استواری اور ان کا علمی و فقہی فہم دورِ حاضر کا سب سے سنگین الٰہیاتی اور سماجی چیلنج بن چکا ہے۔ عالمگیریت (Globalization) اور کثیر الثقافتی (Multicultural) معاشروں کے قیام نے مختلف ادیان کے پیروکاروں کو ایک دوسرے کے قریب تو لا کھڑا کیا ہے، لیکن فکری بعد، اسلامو فوبیا اور تہذیبی عصبیتوں نے عالمی امن کو شدید خطرات سے بھی دوچار کر رکھا ہے۔

اس تناظر میں، جب ہم "بین المذاہب تعلقات اور مسلم علمی روایت" کا مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ اسلام نے نہ صرف غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک جامع، عادلانہ اور فطری ضابطۂ اخلاق عطا کیا، بلکہ مسلم مفکرین نے تاریخ میں پہلی بار "تقابلِ ادیان" (Comparative Religion) کو ایک مستقل علمی شعبے کے طور پر متعارف کروایا۔ مسلم علمی روایت محض مادی مصلحتوں یا سیاسی جبر کے تحت غیر مسلموں کو برداشت کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ "عدلِ مطلق" اور "تکریمِ انسانیت" کی ان ابدی اقدار پر قائم ہے جن کا سرچشمہ وحیِ الٰہی ہے۔

منہجِ اسلام میں بین المذاہب روابط کا نقطۂ آغاز "تکریمِ انسانیت" ہے۔ اسلام کسی انسان کا احترام صرف اس کے مخصوص عقیدے کی بنیاد پر نہیں کرتا، بلکہ اس کے "انسان" ہونے کے ناطے اسے واجب الاحترام قرار دیتا ہے۔ قرآنِ حکیم کا آفاقی اعلان ہے کہ ہم نے بنی آدم کو عزت و تکریم سے نوازا۔ سیرتِ نبویؐ سے اس کا عملی ثبوت اس وقت ملتا ہے جب مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو آپؐ احتراماً کھڑے ہو گئے اور فرمایا: "کیا وہ ایک انسانی جان نہیں تھی؟" اسی طرح عقیدے کی آزادی کے لیے قرآن کا مستقل آئینی فرمان ہے کہ "دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے"۔ یہ اصول ثابت کرتا ہے کہ ایمان کا تعلق دل کی تصدیق سے ہے، جسمانی جبر سے نہیں۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے، تو وہاں کے کثیر المذہبی معاشرے کے لیے آپؐ نے تاریخِ انسانی کا پہلا تحریری دستور نافذ کیا، جسے "میثاقِ مدینہ" کہا جاتا ہے۔ اس کی شقوں کے مطابق یہودیوں کو ان کے دین اور مسلمانوں کو ان کے دین پر رہنے کی مکمل آزادی دی گئی اور مدینہ کے مشترکہ دفاع کے لیے سب کو ایک سیاسی وحدت شمار کیا گیا۔ نہ صرف یہ، بلکہ ۹ ہجری میں جب نجران کے عیسائیوں کا وفد مدینہ منورہ آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجدِ نبویؐ کے اندر ہی اپنے روایتی عیسائی طریقے سے عبادت کرنے کی مکمل اجازت دی۔

جہاں مغربی دنیا صدیوں تک مذہبی جنگوں اور عدمِ رواداری کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی، وہاں مسلم علمی روایت نے آٹھویں سے بارہویں صدی عیسوی کے دوران ہی ادیانِ عالم کے تقابلی مطالعے پر ایک بے مثل علمی ذخیرہ پیدا کر دیا تھا۔ مغربی مفکرین کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ تقابلِ ادیان ایک جدید مغربی علم ہے۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ مسلم علمی روایت نے اس علم کو چودہ سو سال پہلے "علم الملل والنحل" (مذاہب اور فکری رجحانات کا علم) کے نام سے ایجاد کیا تھا۔ مسلم علما نے دنیا کے دیگر ادیان کا مطالعہ تعصب اور تضحیک کے بغیر معروضی بنیادوں پر کیا۔

امام عبد الکریم شہرستانیؒ نے اپنی کتاب "الملل والنحل" میں اصول وضع کیا کہ میں تمام مذاہب کے نظریات کو بغیر کسی تعصب یا تحریف کے بالکل اسی طرح نقل کروں گا جس طرح وہ خود ان پر یقین رکھتے ہیں۔ امام ابن حزم اندلسیؒ نے دنیا میں پہلی بار بائبل کے متون کا تنقیدی و تاریخی تجزیہ پیش کیا۔ ابو ریحان البیرونیؒ نے ہندوستان کا سفر کر کے سنسکرت زبان سیکھی اور ہندووں کے مذہبی مراجع کا براہِ راست مطالعہ کرنے کے بعد "کتاب الہند" جیسی شاہکار کتاب تحریر کی جس پر آج کے جدید مغربی محققین بھی دنگ رہ جاتے ہیں۔ یہ مسلم علمی روایت کی فکری دیانت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

اسلامی قانون (فقہ) میں غیر مسلم شہریوں کے حقوق و فرائض پر تفصیلی احکام مرتب کیے گئے۔ فقہِ حنفی کے مقتدر امام، امام محمد بن حسن السرخسیؒ نے یہ قانونی قاعدہ وضع کیا کہ "غیر مسلم شہریوں کے حقوق وہی ہیں جو ہمارے ہیں، اور ان کے فرائض بھی وہی ہیں جو ہمارے ہیں"۔ اسلامی قانون نے غیر مسلموں کے جان، مال، آبرو اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کی مطلق ضمانت فراہم کی ہے۔

آج دنیا کو فکری اور سیاسی سطح پر سیموئل ہنٹنگٹن کے "تصادمِ تہذیب" (Clash of Civilizations) اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے "اسلامو فوبیا" جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ اسلام کو ایک متشدد مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس کا موثر تدارک عسکری ردِعمل سے نہیں، بلکہ مسلم علمی روایت کے اس شاندار پہلو کو سامنے لانے سے ہے جس نے صدیوں تک اندلس، بغداد اور برصغیر میں مسلم حکمرانی کے تحت غیر مسلموں کو مادی اور فکری ترقی کے عروج پر پہنچایا۔ جب یورپ میں یہودیوں پر زمین تنگ کی جا رہی تھی، تب اندلس کے مسلم سلاطین نے انہیں پناہ دی تھی۔

جدید دنیا اقلیتوں کے حقوق کا چیمپئن "سیکولر لبرل ازم" کو قرار دیتی ہے، لیکن وہاں اقلیتوں کے حقوق اکثر سیاسی مفادات کے تابع ہوتے ہیں (جیسے فرانس میں حجاب پر پابندی)۔ اس کے برعکس، اسلامی قانون میں غیر مسلموں کے حقوق کسی پارلیمنٹ کی اکثریت کے محتاج نہیں، بلکہ وہ الٰہی تحفظ (Divine Protection) کے تحت ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلم شہریوں کے حقوق کی پامالی پر سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ جس نے کسی غیر مسلم معاہد پر ظلم کیا، تو قیامت کے دن میں (محمدﷺ) اس مسلمان کے خلاف اس غیر مسلم کا وکیل اور فریادی بنوں گا۔

عصرِ حاضر میں "بین المذاہب مکالمہ" (Interfaith Dialogue) ایک فیشن بن چکا ہے، لیکن اس کے پیچھے بعض اوقات سیاسی ایجنڈے کارفرما ہوتے ہیں جن کا مقصد تمام ادیان کو ملا کر ایک مبہم "عالمی مذہب" بنانا ہوتا ہے۔ اسلام جس مکالمے کی دعوت دیتا ہے، اس کے اصول واضح ہیں؛ یعنی مشترکات پر اکھٹا ہونا اور گفتگو کے دوران طعن و تشنیع کے بجائے احسن اور بہترین طریقہ اپنانا۔

اگر معاصر عالمی برادری اور بالخصوص امتِ مسلمہ دنیا میں امن چاہتی ہے، تو چند تزویراتی اقدامات ناگزیر ہیں:
پہلا یہ کہ جامعات اور مدارس کے نصاب میں "علم الملل والنحل" (Comparative Religion) کو جدید علمی بنیادوں پر شامل کیا جائے تاکہ نوجوانوں میں سطحی تعصب کے بجائے علمی گہرائی پیدا ہو۔ دوسرا یہ کہ مسلم نوجوان سوشل میڈیا پر نفرت آمیز مباحثوں کے بجائے اخلاقِ نبویؐ کے ذریعے اسلام کا حقیقی پرامن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ تیسرا یہ کہ اقوامِ متحدہ اور مغربی طاقتیں آزادیِ اظہارِ رائے کے نام پر اپنے دوہرے معیار (Double Standards) کو ختم کریں، جہاں ہولوکاسٹ پر بات کرنا جرم ہے مگر دو ارب مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے ذاتِ رسالت مآبؐ کی توہین کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ تکریمِ رسالت کو بین الاقوامی قانون کا حصہ بنانا عالمی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ "بین المذاہب تعلقات اور مسلم علمی روایت" کا باہمی ربط تصادم پر نہیں، بلکہ عدل اور بقائے باہمی پر قائم ہے۔ آج کی سسکتی ہوئی انسانیت، جو نفرتوں کی آگ میں جل رہی ہے، اس کے لیے سیکولر لبرل ازم کا مادی سراب کوئی پائیدار حل پیش کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔ دنیا کو اگر ایک پرامن عالمی نظام کی طرف بڑھنا ہے، تو اسے مادی مصلحتوں سے نکل کر سیرتِ نبویؐ کے وضع کردہ سفارتی اصولوں اور مسلم علمی روایت کے آفاقی نظامِ عدل کی پناہ میں آنا ہوگا۔ طاقت کو قانون کے اور قانون کو ابدی اخلاقی حدود کے تابع کر کے ہی اس زمین کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ 
مفتی محمداکرام صافی
About the Author: مفتی محمداکرام صافی Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.