بجٹ کے کاغذ پر خوش حالی

کچھ گھر ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں نیند نہیں اترتی۔ وہاں چولہے کی راکھ میں بجھی ہوئی حرارت ادھورے خوابوں کی مانند دیر تک سلگتی رہتی ہے۔ کسی ماں کے ہاتھ میں بچوں کی فیس کا پرانا پرچہ ہوتا ہے، کسی مزدور کی جیب میں راشن کی مڑی تڑی فہرست پڑی ہوتی ہے، کسی سفید پوش باپ کی آنکھوں میں بجلی کے بل کی سرخ لکیریں تیر رہی ہوتی ہیں اور کسی نوجوان کے دل میں بے روزگاری کی دھند آہستہ آہستہ امید کا آخری چراغ بجھا رہی ہوتی ہے۔ ایسے موسم میں جب ریاست اپنے شہریوں کو آسودگی کا یقین دلانے کے بجائے اعداد و شمار کی خوشنما دیواریں تعمیر کرنے لگے تو بجٹ محض مالیاتی دستاویز نہیں رہتا، بلکہ عوام کے اعصاب پر لکھی جانے والی ایک طویل سرکاری روداد بن جاتا ہے۔

وفاقی بجٹ 2026-27 بھی اسی اضطراب، بے یقینی اور معاشی جبر کی فضا میں پیش کیا گیا ہے۔ حکومت اسے معاشی استحکام، ترقیاتی حکمتِ عملی اور مالیاتی نظم و ضبط کی علامت قرار دے رہی ہے، مگر زمینی حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ بجٹ کے متن میں امید ہے، مگر بازاروں کی فضا میں خوف ہے؛ حکومتی تقریروں میں ترقی کی نوید سنائی دیتی ہے، مگر عوامی چہروں پر بڑھتی ہوئی تھکن، بے یقینی اور معاشی شکستگی کی پرچھائیاں زیادہ واضح دکھائی دیتی ہیں۔ یہ بجٹ دراصل اس ریاستی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے جس میں حکمران طبقات معیشت کو اشاریوں، گرافوں اور چارٹس میں دیکھتے ہیں، جبکہ عوام اسے روٹی، دوائی، بجلی، تعلیم اور روزگار کی صورت میں محسوس کرتے ہیں۔

سترہ ہزار سات سو اکہتر ارب روپے کے اس بجٹ کو ایک تاریخی مالی خاکہ قرار دیا جا رہا ہے۔ معاشی ترقی کی شرح چار فیصد اور افراطِ زر کو 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کے اہداف بظاہر خوش آئند محسوس ہوتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا محض اہداف مقرر کر دینا معاشی بہتری کی ضمانت بن جاتا ہے؟ پاکستان کی معاشی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں اعداد و شمار کی بلند عمارتیں اکثر زمینی حقیقتوں کے ملبے پر تعمیر کی جاتی رہی ہیں۔ مہنگائی کی شدت، بے روزگاری کی وسعت، صنعتی سست روی، کاروباری عدم تحفظ اور توانائی کے بحران جیسے مسائل اب بھی اپنی پوری سنگینی کے ساتھ موجود ہیں۔ ایسے میں شرحِ نمو کا ہدف ایک خوب صورت خواہش تو ہو سکتا ہے، مگر مضبوط معاشی حقیقت نہیں۔

اقتصادی سروے رپورٹ نے بھی حسبِ روایت ایک ایسا منظرنامہ پیش کیا ہے جس میں گویا ہر شعبہ کامیابیوں کی نئی داستان لکھ رہا ہو۔ زراعت ترقی کر رہی ہے، آئی ٹی برآمدات بڑھ رہی ہیں، کھیلوں کی صنعت فروغ پا رہی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ مثبت ہے، پٹرولیم سیکٹر میں نمو ہے اور فی کس آمدن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن انہی دعوؤں کے پہلو بہ پہلو غربت کی بڑھتی ہوئی شرح، متوسط طبقے کی ٹوٹتی ہوئی کمر اور مزدور کی سکڑتی ہوئی قوتِ خرید ایک ایسا تضاد پیدا کرتی ہے جسے محض حکومتی بیانات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر معیشت واقعی مستحکم ہو رہی ہے تو پھر عوام کی زندگی مسلسل دشوار کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ اگر ترقی کے اشاریے بہتر ہو رہے ہیں تو بازاروں میں مایوسی کا یہ عالم کیوں ہے؟ اگر آمدنی بڑھ رہی ہے تو سفید پوش طبقہ قرض، فاقے اور نفسیاتی دباؤ کے شکنجے میں کیوں جکڑا جا رہا ہے؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی کا ماڈل ابتدا ہی سے غیر متوازن رہا ہے۔ یہاں ترقی کا مطلب عام آدمی کی خوش حالی نہیں بلکہ چند طاقتور طبقات کی مالی توسیع بنتا چلا گیا ہے۔ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافے کو ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقی مہنگائی کی رفتار اس اضافے کو چند ہفتوں میں نگل سکتی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی ٹیکسوں کے سب سے بڑے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنی آمدن چھپا نہیں سکتا، جس کی تنخواہ بینکوں میں درج ہوتی ہے، جس کی مالی سرگرمیوں کا ریکارڈ ریاست کے پاس موجود ہوتا ہے، مگر قربانی کا استعارہ ہمیشہ اسی کو بنایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایسے شعبے بھی موجود ہیں جہاں اربوں روپے کی معیشت غیر دستاویزی انداز میں چلتی ہے، مگر وہاں ریاستی گرفت کمزور دکھائی دیتی ہے۔ یہی عدم توازن بجٹ کے اخلاقی جواز کو مشکوک بنا دیتا ہے۔

حکومت نے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں کمی کو معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ بلاشبہ ریئل اسٹیٹ کسی بھی معیشت میں سرمایہ کاری کا ایک اہم شعبہ ہوتا ہے، لیکن پاکستان میں یہ شعبہ اکثر غیر پیداواری سرمایہ کاری، دولت کے ارتکاز اور مصنوعی قیمتوں کے اضافے کی علامت بن چکا ہے۔ جب معیشت کا بڑا حصہ صنعت، تحقیق، برآمدات اور روزگار پیدا کرنے کے بجائے پلاٹوں، فائلوں اور زمینوں کی خرید و فروخت میں الجھ جائے تو اس کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ اگر حکومت واقعی اقتصادی استحکام چاہتی ہے تو اسے صنعت، ٹیکنالوجی، برآمدات اور زرعی اصلاحات کو ترجیح دینا ہو گی، محض زمینوں کی تجارت کو نہیں۔

زرعی شعبے کے لیے قرضوں اور سہولتوں کے اعلانات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن کسان کا بنیادی مسئلہ صرف قرض نہیں بلکہ پیداواری لاگت ہے۔ کھاد، بیج، زرعی ادویات، ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں کسان کی کمر توڑ رہی ہیں۔ ایک ایسا کسان جو فصل اگانے کے لیے قرض لیتا ہے، فصل تیار ہونے تک مزید قرض میں ڈوب جاتا ہے۔ جب گندم، کپاس، چاول یا گنے کی قیمت کا تعین کسان کی محنت اور لاگت کے بجائے مافیا اور پالیسی سازوں کی میزوں پر ہونے لگے تو زراعت ترقی نہیں کرتی، محض زندہ رہنے کی جنگ لڑتی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے زرعی سبسڈی، سستی بجلی اور کم لاگت زرعی نظام کے ذریعے اپنے کسان کو سہارا دیا، مگر پاکستان میں کسان مسلسل معاشی تنہائی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

یہ بجٹ ایک اور بنیادی سوال بھی اٹھاتا ہے کہ آخر ریاست کی ترجیحات کیا ہیں؟ تعلیم کے لیے محدود فنڈز، صحت کے لیے ناکافی وسائل، سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے قلیل سرمایہ کاری اور دوسری طرف قرضوں کی ادائیگی کے لیے کھربوں روپے—یہ سب اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت اب اپنے وسائل سے زیادہ قرضوں کی منطق پر چل رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنے بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کے سود، دفاعی اخراجات اور انتظامی ڈھانچے پر صرف کر دے، وہاں انسانی ترقی لازماً ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ریاست کے پاس اپنے شہریوں کے لیے امید کے نعرے تو ہوتے ہیں، مگر ان نعروں کو حقیقت میں بدلنے کے وسائل نہیں ہوتے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل معاہدے قومی خودمختاری کے سوال کو بھی جنم دیتے ہیں۔ پاکستان بار بار انہی دروازوں پر کیوں دستک دیتا ہے؟ ہر حکومت معاشی اصلاحات کے نعروں کے باوجود قرضوں کے اسی دائرے میں واپس کیوں آ جاتی ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں معیشت کو پیداواری بنیادوں پر استوار کرنے کے بجائے وقتی سہاروں پر چلایا گیا۔ ٹیکس نظام غیر منصفانہ رہا، برآمدات کمزور رہیں، صنعت غیر مستحکم رہی اور ریاستی اخراجات میں کفایت شعاری پیدا نہ کی جا سکی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر چند سال بعد ملک کو نئے قرض، نئی شرائط اور نئے معاشی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔ گویا ہم معیشت نہیں چلا رہے، بلکہ قرض کے سہارے بحران کو مؤخر کر رہے ہیں۔

بجٹ سازی کے عمل میں عوامی نمائندگی کا حقیقی عنصر بھی کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ بجٹ عوام کے لیے بنتا ہے، مگر عوام کی آواز اس میں کم سنائی دیتی ہے۔ مزدور، کسان، طالب علم، چھوٹے تاجر، بے روزگار نوجوان اور متوسط طبقہ اس عمل میں کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بجٹ عوامی مسائل کے حل کے لیے نہیں بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد کے حصول کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ کے بعد اسٹاک مارکیٹ کے اشارے تو موضوعِ بحث بنتے ہیں، مگر سبزی منڈیوں، یوٹیلیٹی بلوں اور ادویات کی قیمتوں کا دکھ حکومتی بیانات میں جگہ نہیں پاتا۔

معاشی جبر صرف مہنگائی کا نام نہیں، یہ ایک نفسیاتی کیفیت بھی ہے۔ جب ایک باصلاحیت نوجوان ڈگری کے باوجود روزگار نہ پا سکے، جب ایک استاد اپنی تنخواہ میں گھر نہ چلا سکے، جب ایک مریض علاج سے پہلے دوا کی قیمت پوچھ کر خاموش ہو جائے، جب ایک مزدور سارا دن مشقت کے بعد بھی بچوں کے لیے دودھ نہ خرید سکے تو یہ صرف معاشی بحران نہیں رہتا؛ یہ سماجی بے چینی، نفسیاتی اضطراب اور تہذیبی زوال کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشی مباحث میں انسان کم اور اعداد زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ معیشت کو کامیاب قرار دینے کے لیے اب یہ نہیں دیکھا جاتا کہ ایک عام شہری کی زندگی کتنی باوقار ہوئی، بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ چارٹ میں کتنی بہتری آئی۔

اگر حکومت واقعی معاشی استحکام چاہتی ہے تو اسے صرف محصولات بڑھانے کے بجائے معیشت کا اخلاقی توازن بھی بحال کرنا ہو گا۔ ٹیکس کا نظام اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک اس میں انصاف شامل نہ ہو۔ عوام قربانی دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ قربانی سب طبقات دیں۔ جب اشرافیہ کے لیے مراعات، بڑے سرمایہ داروں کے لیے آسانیاں اور طاقتور حلقوں کے لیے خصوصی راستے موجود ہوں، جبکہ عام آدمی کے لیے ہر روز نئی قیمتیں، نئے بل اور نئے ٹیکس ہوں تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ ریاست صرف قانون سے نہیں، اعتماد سے بھی چلتی ہے؛ اور اعتماد انصاف کے بغیر پیدا نہیں ہوتا۔

اس بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بظاہر یہ رقم بڑی محسوس ہوتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان منصوبوں کی ترجیحات درست ہیں؟ کیا یہ منصوبے واقعی عوامی ضرورتوں سے جڑے ہوئے ہیں یا محض سیاسی تشہیر کا ذریعہ بنیں گے؟ پاکستان کی تاریخ میں بے شمار ترقیاتی منصوبے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے عوامی زندگی بدلنے کے بجائے صرف سیاسی بیانیے مضبوط کیے۔ ترقی صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کا نام نہیں؛ ترقی انسان کی فکری، تعلیمی، طبی اور معاشی بہتری کا نام ہے۔ اگر کسی ملک میں سڑکیں چمک رہی ہوں مگر اسکول ویران ہوں، اسپتال مہنگے ہوں، روزگار نایاب ہو اور نوجوان مایوس ہوں تو ایسی ترقی محض ایک نمائشی منظر رہ جاتی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں ڈیجیٹل لرننگ اور مہارتوں کی ترقی کے اعلانات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ لاکھوں بچے آج بھی بنیادی تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی حالت، اساتذہ کی کمی، نصاب کی فرسودگی اور تعلیمی عدم مساوات جیسے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ اسی طرح صحت کے شعبے کے لیے مختص بجٹ عوامی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں غریب آدمی علاج کے لیے اپنا گھر بیچنے پر مجبور ہو جائے، وہاں صحت پر محدود سرمایہ کاری محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی ناانصافی بن جاتی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ قوم کو مسلسل صبر، قربانی اور انتظار کی تلقین کی جاتی ہے، مگر نتائج ہمیشہ طاقتور طبقوں کے حق میں نکلتے ہیں۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ معیشت سنبھل رہی ہے، حالات بہتر ہو رہے ہیں، قربانیوں کا پھل ملے گا، مگر عام آدمی کی زندگی میں یہ بہتری کبھی مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتی۔ وہی مہنگائی، وہی بے یقینی، وہی بے روزگاری، وہی اضطراب اور وہی مسلسل معاشی خوف اس کے مقدر میں شامل رہتا ہے۔ ریاست اگر عوام سے قربانی مانگتی ہے تو اسے امید بھی دینی چاہیے، اور امید محض تقریروں سے نہیں، انصاف سے پیدا ہوتی ہے۔

قومی بجٹ صرف مالیاتی خاکہ نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک اخلاقی معاہدہ بھی ہوتا ہے۔ اگر اس معاہدے میں انصاف، شفافیت، مساوات اور انسانی وقار شامل نہ ہو تو بجٹ خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، وہ عوامی اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو اس وقت صرف معاشی اصلاحات نہیں بلکہ فکری اور انتظامی دیانت کی بھی ضرورت ہے۔ جب تک پالیسی سازی کا مرکز عام آدمی کی زندگی نہیں بنے گا، اس وقت تک ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہیں گے۔ معیشت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ حکومتی دستاویزات کتنی خوب صورت ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک عام شہری کی زندگی کتنی آسان، محفوظ اور باوقار ہوئی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ معیشت کو صرف قرضوں، ٹیکسوں اور اعداد و شمار کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، بلکہ اسے انسانی زندگی کے معیار، سماجی انصاف اور قومی خودمختاری کے زاویے سے بھی سمجھا جائے۔ ایک ایسا بجٹ جو عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کے خوف میں اضافہ کرے، جو امید پیدا کرنے کے بجائے اضطراب کو بڑھا دے اور جو ترقی کے دعوؤں کے باوجود غربت کو کم نہ کر سکے، اس پر تنقید محض سیاسی عمل نہیں بلکہ قومی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

یہ وقت محض بجٹ تقریروں کا نہیں، اجتماعی احتساب کا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہو گا کہ آخر ایک زرعی، معدنی، جغرافیائی اور انسانی وسائل سے مالا مال ملک مسلسل معاشی بحرانوں میں کیوں گھرا رہتا ہے؟ کیوں ہر چند سال بعد قوم کو ایک نئے معاشی امتحان کے لیے تیار کیا جاتا ہے؟ کیوں ہر بجٹ کے بعد عوام کی زندگی مزید مشکل محسوس ہونے لگتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آخر اس ملک کی معیشت کا مرکز کون ہے: اعداد و شمار، عالمی مالیاتی ادارے، طاقتور طبقے یا وہ عام آدمی جس کے کندھوں پر ریاست کھڑی ہے؟ جب تک ان سوالات کے دیانت دارانہ جواب تلاش نہیں کیے جائیں گے، تب تک ہر نیا بجٹ محض الفاظ کی نئی ترتیب اور عوامی مسائل کی پرانی داستان ثابت ہوتا رہے گا۔ 
Dr Saif Wallahray
About the Author: Dr Saif Wallahray Read More Articles by Dr Saif Wallahray: 70 Articles with 22699 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.