لوح بھی تو، قلم بھی تو
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
مکہ کی سنگلاخ وادیوں پر جب رات اپنی آخری ساعتوں میں داخل ہو رہی تھی، تاریخ بظاہر اپنی معمول کی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی، مگر حقیقت میں انسانی تہذیب ایک ایسے عظیم موڑ کے قریب پہنچ چکی تھی جس کے اثرات آنے والی صدیوں تک محسوس کیے جانے تھے۔ حرا کی خاموش خلوت میں نازل ہونے والی وحی نے صرف ایک فرد کو مخاطب نہیں کیا بلکہ انسانی شعور کو ایک نئے فکری سفر کی دعوت دی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب انسان کو اس کے خالق سے تعلق، اس کے اپنے وجود کی معنویت اور دوسرے انسانوں کے حقوق کا نیا شعور عطا ہوا۔ بعثتِ محمدی ﷺ اسی اعتبار سے محض مذہبی تاریخ کا ایک واقعہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی تشکیلِ نو کا نقطۂ آغاز تھی۔ رسالتِ محمدی ﷺ نے عقیدے کو اخلاق سے، عبادت کو کردار سے، علم کو ذمہ داری سے، اختیار کو امانت سے اور فرد کو معاشرے سے مربوط کرکے ایک ایسا جامع تصورِ حیات پیش کیا جس میں انسان کی روحانی تربیت اور اجتماعی اصلاح ایک دوسرے سے جدا نہیں رہتے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کے شعری وجدان میں رسالتِ محمدی ﷺ کا تصور علم، وحی اور انسانی شعور کے ایک وسیع تر استعارے میں ڈھل جاتا ہے:
لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب! گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!
یہ شعر محض عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ ایک گہری فکری معنویت رکھتا ہے۔ اقبال کے ہاں رسولِ اکرم ﷺ کا وجود انسانی تاریخ میں اس مرکزی حقیقت کی علامت ہے جس کے گرد علم، شعور، اخلاق اور تہذیب کے مختلف دائروں کو نئی معنویت حاصل ہوتی ہے۔ وحی نے انسان کو صرف مذہبی ہدایت نہیں دی بلکہ اسے کائنات، اپنی ذات اور اجتماعی زندگی پر غور کرنے کا ایک نیا زاویۂ نظر عطا کیا۔ اسی لیے بعثتِ محمدی ﷺ کو انسانی شعور کی تاریخ میں ایک ایسے انقلاب کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس نے انسان کو محض دنیا کا باشندہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری رکھنے والی ہستی کے طور پر متعارف کرایا۔
رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت ایسے معاشرتی ماحول میں ہوئی جہاں قبائلی عصبیت انسانی شناخت کا بنیادی حوالہ بن چکی تھی، نسبی تفاخر نے انسانوں کے درمیان مصنوعی مراتب قائم کر دیے تھے، طاقت اور دولت معاشرتی وقار کے بڑے پیمانے سمجھے جاتے تھے اور کمزور طبقات کے حقوق اکثر طاقتور کے مفادات کے تابع تھے۔ اس پس منظر میں توحید کا اعلان اپنے اندر ایک گہری سماجی معنویت بھی رکھتا تھا۔ جب انسان یہ تسلیم کرتا ہے کہ حاکمِ حقیقی صرف اللہ ہے تو انسانی اقتدار کی مطلقیت کی نفی ہوتی ہے۔ کوئی نسل، قبیلہ، خاندان، طبقہ یا صاحبِ اقتدار شخص اپنے آپ کو دوسروں سے فطری طور پر برتر قرار دینے کا حق نہیں رکھتا۔ قرآنِ مجید نے انسانی فضیلت کے لیے نسب، رنگ اور قبیلے کے بجائے تقویٰ کو معیار قرار دیا اور یوں انسانی وقار کی ایک ایسی اخلاقی بنیاد قائم ہوئی جو ہر زمانے کے لیے معنویت رکھتی ہے۔
رسالتِ محمدی ﷺ کی اسی آفاقی تاثیر کو اقبال ایک اور مصرعے میں انسانی تاریخ کے وسیع تناظر سے وابستہ کرتے ہیں:
عالمِ آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ ذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوعِ آفتاب!
یہاں ذرۂ ریگ کا آفتاب بن جانا محض شعری مبالغہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ عرب کی وہ سرزمین جسے اس زمانے کی بڑی سیاسی تہذیبوں کے مقابلے میں کوئی مرکزی عالمی طاقت حاصل نہ تھی، رسالتِ محمدی ﷺ کے ظہور کے بعد انسانی تاریخ کے ایک عظیم فکری، اخلاقی اور تہذیبی مرکز میں تبدیل ہوگئی۔ یہ تبدیلی محض سیاسی فتوحات کا نتیجہ نہ تھی؛ اس کے پیچھے ایک ایسی فکری و اخلاقی تشکیل تھی جس نے فرد کے باطن، معاشرتی تعلقات، علمی رویوں اور اجتماعی ذمہ داریوں کو نئی بنیاد فراہم کی۔
سیرتِ طیبہ ﷺ کا بنیادی امتیاز یہی ہے کہ اس میں اصلاح کا آغاز محض قوانین سے نہیں بلکہ انسان کے باطن سے ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے پہلے انسان کے تصورِ ذات کو بدلا، پھر اس کے تعلقات کو منظم کیا اور بالآخر ایک ایسے معاشرتی نظام کی بنیاد رکھی جس میں اخلاقی اصول اجتماعی زندگی کا حصہ بن گئے۔ مکہ میں عقیدے، توحید، آخرت، صبر، صداقت اور اخلاقی استقامت کے ذریعے شخصیت کی تعمیر ہوئی اور مدینہ میں یہی تربیت اجتماعی اداروں، معاشرتی تعلقات، اقتصادی ذمہ داریوں اور سیاسی نظم میں ظاہر ہوئی۔ اس سے یہ بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ پائیدار معاشرتی تبدیلی صرف اداروں کے قیام سے نہیں آتی؛ اس کے لیے ایسے انسان درکار ہوتے ہیں جن کے اندر ذمہ داری، دیانت اور اخلاقی شعور زندہ ہو۔
مدینہ منورہ اس تہذیبی انقلاب کا عملی مرکز بنا۔ ہجرتِ مدینہ کو اگر صرف مکہ سے مدینہ تک سفر سمجھا جائے تو اس کے تاریخی مفہوم کا بڑا حصہ نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے۔ ہجرت دراصل ایک ایسی اجتماعی تشکیل کا آغاز تھی جس میں ایمان نے معاشرتی ذمہ داری کی صورت اختیار کی۔ مدینہ پہنچنے کے بعد رسولِ اکرم ﷺ نے مسجدِ نبوی ﷺ کی بنیاد رکھی اور اسے عبادت کے ساتھ تعلیم، تربیت، مشاورت اور اجتماعی رہنمائی کا مرکز بنایا۔ اس عمل میں مسجد محض ایک مذہبی عمارت نہیں رہی بلکہ اجتماعی شعور کی تشکیل کا ادارہ بن گئی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں فرد کی روحانی تربیت اجتماعی شعور میں تبدیل ہوئی اور علم و عمل نے ایک دوسرے سے رشتہ قائم کیا۔
مواخاتِ مدینہ اس اجتماعی تشکیل کا اہم مرحلہ تھی۔ مہاجرین نے اپنے گھر، مال اور سابقہ معاشرتی ماحول کو چھوڑ کر مدینہ کا رخ کیا تو انصار نے انہیں محض مہمان نہیں سمجھا بلکہ مشترک اجتماعی ذمہ داری کے حامل افراد کی حیثیت سے قبول کیا۔ مواخات کا حقیقی مفہوم یہی ہے کہ معاشرہ افراد کو صرف قانونی شناخت نہیں دیتا بلکہ انہیں باہمی تعلق، تعاون اور ذمہ داری کے رشتے میں بھی جوڑتا ہے۔ معاشرے کی اصل قوت اس بات سے ظاہر نہیں ہوتی کہ اس کے طاقتور افراد کے پاس کتنے وسائل ہیں بلکہ اس سے ہوتی ہے کہ اس کے کمزور افراد کس قدر محفوظ، باوقار اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔
میثاقِ مدینہ بھی اسی اجتماعی بصیرت کا مظہر تھا۔ مختلف قبائل اور مذہبی گروہوں پر مشتمل معاشرے میں امن، باہمی ذمہ داری اور اجتماعی نظم کے لیے ایک واضح معاہداتی اصول قائم کیا گیا۔ اس تجربے کی اہمیت صرف تاریخی نہیں بلکہ سیاسی اور عمرانی بھی ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ مختلف شناختوں کے حامل لوگ مشترکہ ذمہ داریوں، عہد کی پاس داری اور انصاف کے اصولوں کی بنیاد پر اجتماعی زندگی تشکیل دے سکتے ہیں۔ اختلاف لازماً تصادم میں تبدیل ہو، یہ انسانی معاشرت کی ناگزیر تقدیر نہیں؛ عہد، انصاف اور ذمہ داری اختلافی معاشرے کو نظم دے سکتے ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیاسی بصیرت کو محض اقتدار کے انتظام کے تناظر میں دیکھنا سیرت کے جامع مزاج کو محدود کرنا ہوگا۔ آپ ﷺ کے ہاں اختیار ذمہ داری سے جدا نہیں تھا۔ اقتدار کسی فرد کی ذاتی برتری کا وسیلہ نہیں بلکہ اجتماعی امانت تھا۔ یہی اصول آج کے سیاسی اور انتظامی نظام کے لیے بھی بنیادی سوال پیدا کرتا ہے کہ حکمرانی کا مقصد کیا ہے؟ اگر ریاست شہریوں کی جان، مال، عزت اور بنیادی حقوق کی حفاظت نہ کر سکے تو اقتدار اپنی اخلاقی معنویت کھو دیتا ہے۔ نبوی تصورِ حکمرانی میں اختیار کا اصل جواز خدمت، عدل اور ذمہ داری ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی اخلاقی قیادت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ ﷺ نے جس اصول کی دعوت دی، سب سے پہلے اسے اپنی ذات میں نافذ کیا۔ مکہ کا معاشرہ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ کو صادق اور امین کے اوصاف سے پہچانتا تھا۔ یہ حقیقت قیادت کے ایک بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے کہ کردار، خطاب سے پہلے بولتا ہے۔ ایسا رہنما جو خود اپنے اصولوں کا پابند نہ ہو، دیرپا اخلاقی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا۔ سیرتِ نبوی ﷺ میں قول اور عمل کا اتحاد اسی لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
آپ ﷺ کے اخلاق میں رحمت اور عدل ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل تھے۔ کمزور کے لیے رحمت اور ظلم کے مقابلے میں عدل، دونوں سیرت کے بنیادی اصول ہیں۔ فتحِ مکہ کے موقع پر عمومی عفو و درگزر اس اخلاقی قوت کی مثال ہے جس میں فتح انتقام کا دروازہ نہیں کھولتی بلکہ اصلاح اور امن کا امکان پیدا کرتی ہے۔ طاقت کا اعلیٰ ترین استعمال دوسروں کو ذلیل کرنا نہیں بلکہ معاشرے کو انتقام کے مسلسل چکر سے نکالنا ہے۔ نبوی اسوہ طاقت، عدل اور رحم کے درمیان ایک متوازن اخلاقی تعلق قائم کرتا ہے۔
رسالتِ محمدی ﷺ کے تہذیبی اثرات کو دیکھتے ہوئے اقبال کا یہ شعر بھی ایک نئے مفہوم کے ساتھ سامنے آتا ہے:
شوکتِ سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود! فقرِ جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!
یہاں اقتدار اور فقر، جلال اور جمال، دنیاوی نظم اور روحانی کمال کو ایک وسیع تر نبوی نسبت کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ اقبال کے فکری نظام میں محمدی ﷺ نسبت وہ مرکز ہے جہاں قوت اخلاق کے تابع ہوتی ہے اور روحانیت زندگی سے فرار نہیں بلکہ زندگی کی تطہیر کا وسیلہ بنتی ہے۔ یہی وہ جامع تصور ہے جو سیرت کو محض فرد کی نجی عبادت تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے تہذیبی تعمیر کا سرچشمہ بنا دیتا ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ میں انسانی حقوق کا تصور بھی وسیع اور جامع ہے۔ انسانی جان کی حرمت، مال کی حفاظت، عزتِ نفس کا احترام، وعدوں کی پاس داری، پڑوسی کے حقوق، یتیم اور مسکین کی خبرگیری، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، خواتین کے حقوق اور معاشرتی کمزور طبقات کی کفالت ایک ایسے معاشرتی اخلاق کی بنیاد رکھتے ہیں جس میں انسان کو محض معاشی یا سیاسی اکائی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کی عزت اور حرمت کو بنیادی قدر قرار دیا جاتا ہے۔ حجۃ الوداع میں انسانی جان، مال اور عزت کی حرمت پر زور اسی وسیع اخلاقی تصور کا حصہ ہے۔
علم و تعلیم کے میدان میں سیرتِ نبوی ﷺ کی معنویت بھی غیر معمولی ہے۔ وحی کے ابتدائی پیغام نے قرأت اور علم کی طرف توجہ دلائی۔ رسول اللہ ﷺ نے تعلیم کو انسانی شخصیت کی تعمیر کا وسیلہ بنایا۔ مسجدِ نبوی ﷺ میں علمی تربیت کا سلسلہ اس بات کی علامت تھا کہ علم کسی مخصوص طبقے کی میراث نہیں بلکہ معاشرتی تعمیر کا وسیلہ ہے۔ بعد کے ادوار میں اسلامی تہذیب میں علم و تحقیق کے مختلف شعبوں کا فروغ اسی علمی مزاج کی وسیع تاریخی تشکیل کا حصہ بنا۔
یہاں اقبال کا ابتدائی شعر دوبارہ ایک نئے معنی کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے۔ لوح اور قلم علم کے بنیادی استعارے ہیں، جبکہ رسالتِ محمدی ﷺ انسانی علم کو محض معلومات سے اٹھا کر ہدایت، اخلاق اور مقصدِ حیات کے ساتھ جوڑتی ہے۔ جدید انسان نے علم کے بے شمار دروازے کھول لیے ہیں، مگر علم کی سمت کا سوال اب بھی باقی ہے۔ مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی تحقیق، ڈیجیٹل ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو بے مثال قوت عطا کی ہے، مگر یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے کہ اس قوت کا اخلاقی مصرف کیا ہوگا۔ سیرتِ نبوی ﷺ علم کو ذمہ داری اور قوت کو امانت کے ساتھ جوڑنے کا شعور فراہم کرتی ہے۔
موجودہ دور کا ایک بڑا مسئلہ معلومات کی کثرت اور حکمت کی قلت ہے۔ انسان کے پاس چند لمحوں میں بے شمار معلومات تک رسائی ہے، مگر ہر معلومات حقیقت نہیں اور ہر حقیقت دانائی نہیں۔ سیرتِ نبوی ﷺ علم کے ساتھ بصیرت، خبر کے ساتھ تحقیق، گفتگو کے ساتھ ذمہ داری اور آزادی کے ساتھ اخلاق کا شعور دیتی ہے۔ آج جب ایک غیر مصدقہ خبر لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے، تب سچائی، تحقیق اور ذمہ دار اظہار کی نبوی تعلیم پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔
خاندان، پڑوس، بازار، تعلیم اور معاشرت، سب سیرت کے عملی دائرے ہیں۔ انسان کا اخلاق صرف عبادت گاہ میں نہیں بلکہ بازار میں خرید و فروخت، دفتر میں ذمہ داری، گھر میں برتاؤ، اختلاف میں گفتگو اور کمزور کے ساتھ رویے میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ کا جامع تصور یہی ہے کہ دین انسانی تعلقات کے ہر دائرے میں اخلاقی ذمہ داری پیدا کرے۔ چنانچہ دیانت دار تاجر، منصف حاکم، ذمہ دار استاد، شفیق والد، بااخلاق طالب علم اور حقوق ادا کرنے والا شہری، سب اپنے اپنے دائرے میں سیرت کے عملی اظہار کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
محبتِ رسول ﷺ اسی فکری اور اخلاقی نسبت کا قلب ہے۔ محبت محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ اپنے محبوب کے اسوہ کو اپنی زندگی میں جگہ دینے کا نام بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے معاملات میں صداقت اختیار کرے، اختلاف میں تہذیب قائم رکھے، کمزور پر رحم کرے، ظلم سے بچے، امانت ادا کرے اور اپنے اختیار کو دوسروں کے لیے آسانی کا ذریعہ بنائے۔ محبت اگر کردار میں تبدیلی پیدا نہ کرے تو اس کی اخلاقی تاثیر محدود رہ جاتی ہے۔
قرآنِ مجید اسی نسبت کو ایک عظیم حکم کے ذریعے واضح کرتا ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾
یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجو۔ (سورۃ الاحزاب، 33:56)۔
درود و سلام محبت اور عقیدت کا عظیم ذریعہ ہے، لیکن اس نسبت کی اخلاقی تکمیل اتباع میں ہوتی ہے۔ زبان سے درود اور زندگی میں سنت کا شعوری اثر ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونے چاہییں۔ جب محبت کردار کو بدلتی ہے تو درود ایک زندہ روحانی نسبت بن جاتا ہے؛ گفتگو میں شائستگی، معاملات میں دیانت، دل میں رحمت اور رویے میں اعتدال پیدا ہوتا ہے۔
اسی کیفیت کو اقبال اپنے ذاتی اور روحانی تجربے سے جوڑتے ہوئے کہتے ہیں:
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام میرا قیام بھی حجاب! میرا سجود بھی حجاب!
یہاں شوقِ رسول ﷺ کو عبادت کی روح قرار دیا گیا ہے۔ اقبال کے نزدیک ظاہری عمل اس وقت معنویت حاصل کرتا ہے جب اس کے پیچھے قلبی نسبت، محبت اور شعوری اتباع موجود ہو۔ اس شعر کا مرکزی مفہوم یہی ہے کہ عبادت محض حرکات کا نام نہیں؛ اس میں دل کی بیداری، محبت اور مقصد کا شعور بھی شامل ہونا چاہیے۔ یہی سیرت کا اخلاقی پہلو ہے کہ انسان کی ظاہری دینداری اس کے باطن اور کردار سے ہم آہنگ ہو۔
آج کے معاشرے میں سیرتِ نبوی ﷺ کی ضرورت اسی مقام پر سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ہمارا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہم سیرت کو کتنا پڑھتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس سے کتنا بدلتے ہیں۔ اگر سیرت ہمارے علمی ذخیرے میں موجود ہو مگر ہمارے معاشرتی رویوں میں نہ ہو تو علم اور عمل کے درمیان ایک بنیادی خلا پیدا ہوجاتا ہے۔ سیرت کا حقیقی اثر اس وقت ظاہر ہوگا جب ہمارے بازاروں میں دیانت، اداروں میں ذمہ داری، سیاست میں اخلاق، گھروں میں رحمت، تعلیم میں کردار سازی اور اختلافات میں انصاف پیدا ہوگا۔
مدینہ منورہ اسی لیے ایک جغرافیائی مقام سے کہیں بڑھ کر ایک تہذیبی استعارہ ہے۔ مدینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشرہ صرف عمارتوں، سڑکوں، اداروں اور قوانین سے نہیں بنتا؛ معاشرے کی اصل تعمیر انسان کے اخلاق سے ہوتی ہے۔ اگر انسان کے اندر امانت نہیں تو بہترین قانون بھی کمزور پڑ سکتا ہے، اگر قیادت میں دیانت نہیں تو مضبوط ادارے بھی بحران کا شکار ہو سکتے ہیں، اور اگر شہریوں میں ذمہ داری نہیں تو ریاستی نظم محض رسمی ڈھانچہ بن کر رہ جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کے آخری اشعار عقل اور عشق کے تعلق کو سامنے لاتے ہیں:
تیری نگاہِ ناز سے دونوں مراد پا گئے عقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب
یہاں عقل اور عشق کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف انسانی تجربات کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ عقل جستجو کرتی ہے، سوال اٹھاتی ہے، کائنات اور وجود کے اسرار کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے؛ عشق تعلق، حضور اور جذبے کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ رسالتِ محمدی ﷺ ان دونوں کو ایک اخلاقی مرکز عطا کرتی ہے۔ عقل کو مقصد ملتا ہے اور عشق کو سمت؛ علم کو اخلاقی ذمہ داری حاصل ہوتی ہے اور جذبے کو عملی کردار کا راستہ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جس کی کمی جدید انسان کو بے شمار علمی امکانات کے باوجود اندرونی بے سمتی سے دوچار کرتی ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں ماضی کی عظمت پر فخر کرنے کے ساتھ حال کی اصلاح کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ ہر دور میں جاہلیت کی صورتیں بدل سکتی ہیں۔ کبھی جاہلیت قبائلی عصبیت کی صورت میں سامنے آتی ہے، کبھی نسلی تفاخر میں، کبھی معاشی استحصال میں، کبھی سیاسی جبر میں اور کبھی اطلاعاتی انتشار، نفرت اور ڈیجیٹل بے حسی میں۔ سیرت ان تمام صورتوں کے مقابلے میں ایک اخلاقی معیار فراہم کرتی ہے جس کا مرکز انسان کی عزت، عدل، رحمت، علم، ذمہ داری اور خدا سے تعلق ہے۔
مدینہ کی طرف دیکھتے ہوئے ہمیں تاریخ کے ایک روشن تجربے کے ساتھ اپنے حال کا بھی سامنا کرنا چاہیے۔ کیا ہمارے معاشرے میں کمزور محفوظ ہے؟ کیا ہماری گفتگو میں سچائی ہے؟ کیا ہمارے معاملات میں امانت ہے؟ کیا ہمارے اداروں میں انصاف ہے؟ کیا ہمارے گھروں میں شفقت ہے؟ کیا ہماری تعلیم انسان سازی کر رہی ہے؟ کیا ہماری مذہبی وابستگی ہمارے اخلاق میں بھی دکھائی دیتی ہے؟ یہ سوالات دراصل سیرت کے زندہ سوالات ہیں۔ ان کا جواب صرف تقریروں میں نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی کردار میں تلاش کیا جانا چاہیے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت کا سب سے بڑا تہذیبی سبق یہی ہے کہ انسان کی اصلاح اور معاشرے کی اصلاح ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اچھا معاشرہ اچھے انسانوں سے بنتا ہے اور اچھے انسان ایک ایسے اخلاقی ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں سچائی، انصاف، علم، رحم اور ذمہ داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ نبوی اسوہ نے فرد اور اجتماع کے درمیان اسی تعلق کو مضبوط کیا۔ آپ ﷺ نے انسان کو اللہ سے تعلق دیا تو انسانوں کے حقوق کا شعور بھی دیا؛ عبادت سکھائی تو معاملات کی پاکیزگی بھی سکھائی؛ علم کی طرف متوجہ کیا تو اخلاقی ذمہ داری بھی یاد دلائی؛ اقتدار ملا تو عدل کا معیار قائم کیا اور فتح حاصل ہوئی تو عفو و رحمت کی مثال پیش کی۔
اس لیے لوح بھی تو، قلم بھی تو صرف ایک شعری مصرع نہیں بلکہ رسالتِ محمدی ﷺ کے فکری مقام کو سمجھنے کی ایک علامتی کنجی بھی بن سکتا ہے۔ لوح علم کی علامت ہے، قلم اظہار اور تخلیق کا استعارہ، کتاب وحی اور ہدایت کی علامت، اور آفتاب انسانی شعور کی بیداری کا استعارہ۔ رسالتِ محمدی ﷺ نے انسان کو اس کے وجود کی معنویت سے آگاہ کیا، اسے علم کی طرف متوجہ کیا، اخلاقی ذمہ داری عطا کی اور ایک ایسی اجتماعی تہذیب کی بنیاد رکھی جس میں روح اور مادہ، فرد اور اجتماع، علم اور اخلاق، عقل اور عشق ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں۔
حقیقی طلوع وہی ہے جو انسان کے اندر روشنی پیدا کرے۔ حقیقی محبت وہی ہے جو کردار کو سنوار دے۔ حقیقی عقیدت وہی ہے جو انسان کو دوسروں کے لیے خیر کا وسیلہ بنا دے اور حقیقی اتباع وہی ہے جو عبادت کے ساتھ معاملات، اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری میں بھی نظر آئے۔ رسالتِ محمدی ﷺ کا آفتاب اسی معنی میں آج بھی روشن ہے کہ اس کی روشنی کسی ایک زمانے کی محتاج نہیں۔ جو انسان صداقت اختیار کرتا ہے، وہ اس روشنی سے حصہ پاتا ہے؛ جو عدل قائم کرتا ہے، وہ اس پیغام کو آگے بڑھاتا ہے؛ جو کمزور پر رحم کرتا ہے، وہ نبوی اخلاق کی ایک جھلک اپنے عمل میں پیدا کرتا ہے؛ اور جو علم کو انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے، وہ اس تہذیبی ورثے کی معنویت کو زندہ رکھتا ہے۔
یوں لوح بھی تو، قلم بھی تو ایک ایسے فکری سفر کا عنوان بن جاتا ہے جس کا آغاز حرا کی خاموشی سے ہوتا ہے، مدینہ کی اجتماعی زندگی میں ڈھلتا ہے، اسلامی تہذیب کے علمی و اخلاقی تجربے میں پھیلتا ہے اور آج کے انسان کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھتا ہے: علم تو ہمارے پاس بہت ہے، مگر کیا اس علم کے ساتھ اخلاق بھی ہے؟ قوت تو ہمارے پاس بے شمار ہے، مگر کیا اس قوت کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے؟ اظہار کی آزادی تو حاصل ہے، مگر کیا اس آزادی کے ساتھ سچائی اور تہذیب بھی ہے؟ عبادت تو موجود ہے، مگر کیا اس کا اثر کردار میں بھی دکھائی دیتا ہے؟
اگر ان سوالات کا جواب ہمارے کردار میں تلاش کیا جائے تو سیرتِ رسول ﷺ ماضی کی یاد نہیں رہتی بلکہ حال کی اصلاح اور مستقبل کی تعمیر کا زندہ سرچشمہ بن جاتی ہے۔ پھر حرا کی وہ پہلی صدا محض تاریخ کا واقعہ نہیں رہتی، مدینہ محض ایک مقدس شہر نہیں رہتا اور درود محض زبان کا ورد نہیں رہتا؛ سب کچھ انسان کے باطن، کردار اور اجتماعی زندگی میں ایک نئی روشنی پیدا کرنے لگتا ہے۔ یہی طلوعِ آفتابِ رسالت ﷺ کی حقیقی معنویت ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں لوح بھی تو، قلم بھی تو ایک شعری پیکر سے نکل کر انسانی تہذیب کے اخلاقی سوال میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ |
|