زمین کی تقسیم، وراثت اور ونڈا
(Dr Saif Wallahray, Lahore)
زمین کسی بھی زرعی معاشرے میں محض مٹی کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتی۔ وہ ملکیت، معاش، وراثت، سماجی مرتبے، خاندانی تعلق اور آنے والی نسلوں کے معاشی تحفظ کی علامت بھی ہوتی ہے۔ اسی لیے زمین کی تقسیم کا مسئلہ صرف چند ایکڑ یا چند مرلوں کے حساب کتاب تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے ساتھ ایک پورا معاشرتی اور معاشی نظام وابستہ ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک میں جہاں دیہی آبادی کا ایک بڑا حصہ براہِ راست یا بالواسطہ زمین سے وابستہ ہے، وہاں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہونے والی زرعی زمین کس طریقے سے تقسیم ہو، اس تقسیم میں ہر قانونی وارث کا حق کیسے محفوظ رہے، ملکیتی تنازعات کیسے کم ہوں اور وراثتی تقسیم کے نتیجے میں زمین اس قدر منتشر نہ ہو جائے کہ اس کی زرعی افادیت ہی متاثر ہونے لگے۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جہاں روایتی ’’کھاتہ‘‘، ’’کھسرہ‘‘، ’’انتقال‘‘ اور ’’ونڈا‘‘ محض ریونیو اصطلاحات نہیں رہتے بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت کے مستقبل سے جڑے ہوئے بنیادی تصورات بن جاتے ہیں۔
ہماری دیہی زمین داری کی تاریخ دراصل ملکیت کے ساتھ ساتھ تقسیم کی بھی تاریخ ہے۔ ایک بزرگ نے زمین حاصل کی، اسے آباد کیا، اس کے بعد وہ زمین اولاد میں تقسیم ہوئی، پھر اگلی نسل میں وہی حصے مزید تقسیم ہوتے گئے۔ ہر مرحلے پر قانون نے وارث کے حق کو تسلیم کیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ایک نئی پیچیدگی جنم لیتی گئی۔ زمین کا مجموعی رقبہ وہی رہا، لیکن اس کی ملکیتی ساخت زیادہ پیچیدہ ہوتی گئی۔ ایک کھاتے میں شریکوں کی تعداد بڑھتی گئی، ایک ہی شخص کا حصہ مختلف کھسرہ نمبروں میں بکھرتا گیا، مختلف مقامات پر مشترکہ ملکیت وجود میں آتی گئی اور یوں زمین کا وہ انتظام جس کا مقصد ملکیت کو واضح کرنا تھا، بعض حالات میں مزید پیچیدگی کا سبب بنتا چلا گیا۔ مسئلہ اس وقت زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب کاغذ پر کسی شخص کا حق واضح ہو مگر عملی طور پر اس کے حصے کی زمین مختلف جگہوں پر منتشر ہو، اس تک مناسب راستہ موجود نہ ہو، آب پاشی کا انتظام متاثر ہو یا زمین کا رقبہ اس قدر چھوٹے قطعات میں تقسیم ہو جائے کہ جدید زرعی مشینری اور تجارتی پیمانے کی کاشت مشکل ہو جائے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا زرعی انصاف کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہر وارث کو اس کا قانونی حصہ دے دیا جائے؟ بلاشبہ قانونی حق کی حفاظت بنیادی شرط ہے اور کسی وارث کو اس کے جائز حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا، لیکن زرعی معیشت کے نقطۂ نظر سے مسئلہ اس سے آگے بڑھتا ہے۔ اگر ہر نسل میں زمین جسمانی طور پر مزید بکھرتی جائے اور بالآخر ایسے قطعات میں تبدیل ہو جائے جو الگ الگ کاشت، آب پاشی، مشینی عمل اور تجارتی پیداوار کے لیے غیر مؤثر ثابت ہوں تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا زمین کی تقسیم اور زمین کی پیداواری صلاحیت کے درمیان کوئی بہتر توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، مستقبل کا سوال صرف ’’کس کا کتنا حصہ ہے؟‘‘ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ’’اس حصے کی جغرافیائی حیثیت کیا ہے، اس کی پیداواری قدر کیا ہے اور تقسیم کے بعد وہ کس حد تک قابلِ استعمال رہے گا؟‘‘ بھی ہونا چاہیے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں روایتی ونڈے کے تصور کو جدید زمین انتظامی نظام سے جوڑنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ دنیا میں Land Governance کے جدید تصورات نے زمین کو محض ملکیت کے ایک سرٹیفکیٹ کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک مکمل جغرافیائی، قانونی، معاشی اور سماجی اکائی کے طور پر دیکھنے پر زور دیا ہے۔ ایک جدید لینڈ ریکارڈ میں صرف مالک کا نام اور رقبہ کافی نہیں سمجھا جاتا بلکہ زمین کی درست جغرافیائی شناخت، حدود، محلِ وقوع، رسائی، متعلقہ حقوق، قانونی حیثیت اور ملکیتی تبدیلیوں کی تاریخ بھی اہم ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی زمین کے روایتی کاغذی نظام سے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اور پھر جغرافیائی طور پر مربوط ڈیجیٹل لینڈ انفارمیشن سسٹم کی طرف پیش رفت اسی وسیع تر تبدیلی کا حصہ سمجھی جا سکتی ہے۔
پنجاب میں مشترکہ زرعی زمین کی تقسیم کے حوالے سے ’’ونڈا کراؤ، سکھ پاؤ‘‘ جیسا سرکاری اقدام اسی بدلتے ہوئے تناظر میں قابلِ توجہ ہے۔ PULSE منصوبے کے تحت مشترکہ زرعی زمین کی تقسیم، نقشہ سازی اور ملکیتی ریکارڈ کو زیادہ واضح بنانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔ اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ مشترکہ ملکیت کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو جدید سروے، جغرافیائی نقشہ سازی اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے ذریعے کم کیا جائے اور زمین کے شریک مالکان کو ان کے حصوں کی زیادہ واضح شناخت فراہم کی جائے۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ ونڈے کو محض ایک روایتی خاندانی بٹوارے کے طور پر نہیں بلکہ زمین کے بہتر انتظام کے ایک جدید مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم یہاں ایک بنیادی قانونی اور انتظامی نکتہ پوری وضاحت سے سمجھنا ضروری ہے: ونڈے سے پہلے وراثتی انتقال کا درست ہونا ناگزیر ہے۔ کسی شخص کی وفات کے بعد اگر اس کی زمین کا وراثتی انتقال ہی درست طور پر قانونی وارثوں کے نام درج نہیں ہوا تو بعد میں ہونے والی تقسیم پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس لیے زمین کے معاملے میں پہلا مرحلہ یہ ہے کہ مرنے والے مالک کے تمام قانونی وارثوں کی درست نشاندہی ہو، ان کے حقوق ریکارڈ میں منتقل ہوں اور وراثتی انتقال مکمل ہو۔ اس کے بعد مشترکہ ملکیت کی تقسیم یعنی ونڈے کا مرحلہ آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کے مالکان کے لیے یہ بات محض ایک انتظامی مشورہ نہیں بلکہ بنیادی عملی ضرورت ہے کہ پہلے وراثتی انتقال مکمل اور درست کرایا جائے، پھر تقسیمِ اراضی کی کارروائی آگے بڑھائی جائے۔
یہ نکتہ اس لیے بھی اہم ہے کہ زمین کے بہت سے تنازعات دراصل تقسیم کے مرحلے سے پہلے ہی پیدا ہو جاتے ہیں۔ وارثوں کے نام درست درج نہ ہونا، کسی وارث کا ریکارڈ میں شامل نہ ہونا، کھاتے اور موقع کی زمین میں فرق، پرانے نقشے اور موجودہ زمینی حدود میں عدم مطابقت، یا ایک ہی زمین سے متعلق مختلف دستاویزات کا موجود ہونا بعد میں تقسیم کے عمل کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اگر بنیادی ملکیتی ریکارڈ درست نہ ہو تو بہترین نقشہ بھی غلط نتیجہ دے سکتا ہے۔ اسی لیے ڈیجیٹل زمین کا پہلا اصول یہ ہونا چاہیے کہ غلط ریکارڈ کو صرف ڈیجیٹل بنا دینا اصلاح نہیں؛ پہلے ریکارڈ کو درست کرنا ضروری ہے۔
یہاں GIS یعنی Geographic Information System کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ روایتی رجسٹر ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کس کھاتے میں کس شخص کا کتنا حصہ درج ہے، مگر ایک جغرافیائی نظام اس معلومات کو زمین کے حقیقی محلِ وقوع سے جوڑ سکتا ہے۔ اس سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کسی کھسرے کی حدود کہاں ہیں، اس کے اردگرد کون سی زمین واقع ہے، وہاں تک رسائی کس راستے سے ہے، آب پاشی کا ذریعہ کہاں ہے اور مختلف شریکوں کی ملکیت کس جغرافیائی صورت میں موجود ہے۔ یوں زمین کی ملکیت محض کاغذی اندراج نہیں رہتی بلکہ ایک نقشے پر قابلِ مشاہدہ حقیقت بن جاتی ہے۔
اس تبدیلی کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ایک ہی کھاتے میں کئی شریک ہوں اور ان کے حصے مختلف کھسرہ نمبروں میں پھیلے ہوئے ہوں۔ روایتی نظام میں ایک عام شہری کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے کہ کاغذ پر درج اس کے حصے کی زمینی حقیقت کیا ہے۔ ڈیجیٹل نقشہ اس فاصلے کو کم کر سکتا ہے۔ ایک ہی نظام میں ریکارڈ، نقشہ اور ملکیتی معلومات باہم منسلک ہوں تو شریک مالک یہ سمجھ سکتا ہے کہ اس کا حق کس زمین سے متعلق ہے اور تقسیم کے بعد ممکنہ طور پر کون سا زمینی حصہ اس کے حصے میں آ سکتا ہے۔
لیکن یہاں بھی محض رقبے کی مساوات کافی نہیں۔ زمین کی معاشی قدر ہر جگہ یکساں نہیں ہوتی۔ ایک ایکڑ نہری اور زرخیز زمین، سڑک کے قریب واقع ایک ایکڑ زمین، یا آبادی سے متصل زمین کی معاشی قدر کسی دور دراز بارانی قطعے سے مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر کسی تقسیم میں صرف رقبہ دیکھا جائے اور زمین کی پیداواری صلاحیت، آب پاشی، رسائی، مٹی اور محلِ وقوع کو نظرانداز کر دیا جائے تو بظاہر مساوی تقسیم عملی طور پر غیر مساوی نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے مستقبل کے ونڈے میں ’’رقبہ‘‘ کے ساتھ ’’قدر‘‘ کے تصور کو بھی زیرِ غور لانا ہوگا۔
یہاں جدید کمپیوٹرائزڈ ماڈل مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک ایسا نظام تیار کیا جا سکتا ہے جو مشترکہ زمین کی مختلف ممکنہ تقسیمیں سامنے رکھے اور ہر تجویز کو متعدد عوامل کی بنیاد پر جانچے۔ کون سی تقسیم زمین کو کم بکھیرتی ہے؟ کس صورت میں راستے محفوظ رہتے ہیں؟ کہاں آب پاشی کا نظام بہتر رہتا ہے؟ کون سی تقسیم مختلف شریکوں کے معاشی حصے میں کم سے کم تفاوت پیدا کرتی ہے؟ کون سی ترتیب زرعی مشینری کے استعمال کے لیے زیادہ موزوں ہے؟ یہ تمام سوالات انسانی فیصلہ سازی کے لیے بہتر معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
مستقبل میں مصنوعی ذہانت بھی اس عمل میں معاون کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر کسی مشترکہ کھاتے میں متعدد شریک ہوں تو الگورتھم مختلف قانونی اور جغرافیائی پابندیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ممکنہ تقسیموں کا تقابلی جائزہ لے سکتا ہے۔ وہ یہ دکھا سکتا ہے کہ کس تقسیم میں زمین کم بکھرے گی، راستے کم متاثر ہوں گے اور آب پاشی کا نظام بہتر برقرار رہے گا۔ لیکن یہاں ایک بنیادی اصول نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: مصنوعی ذہانت فیصلہ کرنے والی اتھارٹی نہیں ہونی چاہیے۔ زمین کا حتمی فیصلہ قانون، انسانی سماعت، فریقین کے حقوق اور مجاز ریونیو ادارے کے اختیار کے مطابق ہونا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کا مقصد انصاف کی جگہ لینا نہیں بلکہ انصاف کے عمل کو زیادہ شفاف، تیز اور قابلِ جانچ بنانا ہے۔
اسی طرح جدید ونڈے کو صرف Partition تک محدود رکھنا بھی کافی نہیں ہوگا۔ زمین کے مسلسل بکھراؤ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے Consolidation of Holdings یعنی ممکنہ حد تک اراضی کو مجتمع رکھنے کے تصور کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔ اگر کسی شخص کا مجموعی قانونی حصہ دس ایکڑ ہے مگر وہ دس مختلف مقامات پر ایک ایک ایکڑ کی صورت میں پھیلا ہوا ہے تو ملکیتی حق برقرار ہونے کے باوجود زرعی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ ٹریکٹر، ہارویسٹر، آب پاشی، فصلوں کی نگرانی اور دیگر جدید زرعی سرگرمیوں کے لیے مسلسل اور قابلِ رسائی رقبہ زیادہ مفید ہوتا ہے۔ اس لیے جہاں قانون، حالات اور فریقین کی رضامندی اجازت دیں، وہاں تقسیم کے ساتھ زمین کو ممکن حد تک مجتمع رکھنے کے طریقوں پر غور ہونا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے رضاکارانہ زمین کا تبادلہ، باہمی رضامندی سے حصوں کی ترتیب، مشترکہ انتظام یا دیگر قانونی طریقے مستقبل کے نظام میں جگہ پا سکتے ہیں۔ بنیادی تصور یہ ہونا چاہیے کہ وراثتی حق محفوظ رہے لیکن اس حق کے حصول کے لیے زمین کو لازماً ایسے چھوٹے اور بکھرے ہوئے قطعات میں تقسیم نہ کیا جائے جو خود وارث کے لیے معاشی بوجھ بن جائیں۔ ملکیت کا حق اور زمین کا زرعی استعمال دو الگ مگر باہم مربوط پہلو ہیں؛ جدید زرعی پالیسی کو دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔
زمین کی تقسیم کے ساتھ راستے، پانی اور نکاسیِ آب کا مسئلہ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں کئی تنازعات اس وقت جنم لیتے ہیں جب تقسیم کے بعد کسی شریک کی زمین تک پہنچنے کا راستہ واضح نہ رہے یا پانی کی گزرگاہ متاثر ہو جائے۔ کسی کا کھیت دوسرے کے حصے کے درمیان واقع ہو، ٹیوب ویل تک رسائی ختم ہو جائے یا آب پاشی کا پرانا راستہ تقسیم کے نقشے میں محفوظ نہ رہے تو ایک تنازع ختم ہونے کے بجائے نیا تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے جدید ونڈا نقشہ صرف ملکیتی حدود کا نقشہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے رسائی کے راستوں، آب پاشی، نکاسیِ آب اور مشترکہ زرعی سہولیات کی بھی مکمل تصویر پیش کرنی چاہیے۔
اس پورے عمل میں زمین کے ماہرین کی مشترکہ موجودگی بھی ضروری ہے۔ روایتی تقسیم بنیادی طور پر ریونیو اور قانونی کارروائی کے ذریعے آگے بڑھتی رہی ہے، مگر جدید زرعی ضرورت اس سے زیادہ وسیع ہے۔ ایک مؤثر Digital Land Settlement نظام میں ریونیو ماہر کے ساتھ GIS ماہر، سروے ماہر، قانونی ماہر اور زرعی ماہر کی رائے بھی شامل ہونی چاہیے۔ سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ تقسیم قانون کے مطابق ہے یا نہیں؛ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ تقسیم کے بعد زمین کا زرعی استعمال قابلِ عمل رہے گا یا نہیں۔
یہاں سے ہماری زرعی پالیسی ایک اہم فکری تبدیلی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ اب تک زمین کے بارے میں ہمارا سوال زیادہ تر ملکیت کے گرد گھومتا رہا ہے: زمین کس کی ہے؟ لیکن جدید Land Governance ہمیں یہ پوچھنے پر مجبور کرتی ہے کہ زمین کہاں ہے، اس کی حدود کیا ہیں، اس کا قانونی حق کس کے پاس ہے، اس تک رسائی کیسے ممکن ہے، پانی کا حق کیا ہے، زمین کی نوعیت کیا ہے اور اسے پیداواری کیسے رکھا جا سکتا ہے۔ یعنی ملکیت کے سوال کو زمین کے مکمل انتظام کے سوال سے جوڑنا ہوگا۔
ڈیجیٹل زمین کا مطلب یہ نہیں کہ شہری اپنے موبائل فون پر فرد دیکھ سکے اور نظام کو ڈیجیٹل قرار دے دیا جائے۔ حقیقی ڈیجیٹل لینڈ گورننس اس وقت وجود میں آئے گی جب زمین کا نقشہ، ملکیت، انتقال، وراثتی حق، تقسیم، قانونی حیثیت اور متعلقہ تبدیلیاں ایک مربوط نظام میں باہم منسلک ہوں۔ اگر کسی زمین کی ملکیت تبدیل ہوتی ہے تو اس تبدیلی کی تاریخ محفوظ ہو، سابقہ ریکارڈ موجود رہے، نئے ریکارڈ کی بنیاد واضح ہو اور ہر مرحلے کا قابلِ تصدیق audit trail دستیاب ہو۔
یہ شفافیت زمین کے تنازعات میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی تقسیم کے بعد فریقین میں اختلاف پیدا ہو تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نقشہ کس بنیاد پر تیار ہوا، کس مرحلے پر کس فریق کو اطلاع دی گئی، اعتراض کس نے کیا، اس اعتراض کا کیا فیصلہ ہوا اور حتمی تقسیم کس قانونی اختیار کے تحت منظور ہوئی۔ اس طرح ڈیجیٹل نظام صرف معلومات فراہم کرنے والا نظام نہیں رہے گا بلکہ ایک قابلِ احتساب انتظامی ڈھانچہ بن سکتا ہے۔
تاہم اس سارے عمل کے ساتھ شہری کے بنیادی قانونی حقوق کا تحفظ بھی لازم ہے۔ ڈیجیٹل نظام کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسان کا حقِ سماعت ختم ہو جائے۔ ایک ایسا اصول اختیار کیا جا سکتا ہے کہ معمول کی کارروائی ڈیجیٹل ہو، مگر شہری کا اعتراض، اپیل، سماعت اور قانونی تحفظ برقرار رہے۔ یعنی ٹیکنالوجی کارروائی کو آسان کرے، انسان کے حق کو ختم نہ کرے۔
زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ڈیٹا سکیورٹی کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ ملکیت، شناخت اور جغرافیائی حدود سے متعلق معلومات کسی خاندان کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہیں۔ اگر غیر مجاز شخص ریکارڈ میں تبدیلی کر سکے یا کسی کی شناخت استعمال کرکے زمین کے ریکارڈ کو متاثر کر سکے تو نقصان محض ایک ڈیجیٹل غلطی نہیں ہوگا بلکہ براہِ راست معاشی اور قانونی نقصان بن جائے گا۔ اس لیے محفوظ شناخت، متعدد سطحی تصدیق، audit logs، مجاز رسائی اور آزادانہ نگرانی جیسے انتظامات بھی ڈیجیٹل لینڈ سسٹم کا لازمی حصہ ہونے چاہییں۔
اسی طرح یہ تصور بھی درست نہیں کہ کوئی ایک ٹیکنالوجی زمین کے تمام مسائل حل کر دے گی۔ Blockchain ہو یا مصنوعی ذہانت، GIS ہو یا satellite imagery، ہر ٹیکنالوجی اسی وقت مؤثر ہے جب بنیادی معلومات درست ہوں۔ غلط زمینی سروے کو خوب صورت ڈیجیٹل نقشے میں تبدیل کر دینے سے زمین کی حقیقت نہیں بدلتی۔ غلط ملکیتی اندراج کو بلاک چین پر محفوظ کر دینے سے وہ درست ملکیت نہیں بن جاتا۔ اس لیے اصل اصلاح ٹیکنالوجی سے پہلے ریکارڈ، قانون اور زمینی حقیقت کی درستگی میں ہے۔
یہاں PULSE جیسے منصوبوں کی اہمیت اسی وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ زمین کے پیچیدہ ملکیتی ڈھانچے کو محض دفتری کارروائی کے بجائے نقشہ سازی اور جدید ڈیجیٹل نظام سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ’’ونڈا کراؤ، سکھ پاؤ‘‘ کا تصور اسی بڑے عمل کے عوامی پہلو کو نمایاں کرتا ہے کہ مشترکہ زمین کے مالکان اپنے ملکیتی معاملات کو واضح اور منظم کرانے کی طرف آئیں۔ لیکن اس پیغام کے ساتھ عوامی سطح پر ایک اور بات بھی پوری وضاحت سے پہنچنی چاہیے کہ وراثتی معاملے میں سب سے پہلے وراثتی انتقال کا درست اندراج ضروری ہے؛ کیونکہ جب تک قانونی وارث ریکارڈ میں درست طور پر سامنے نہیں آئیں گے، تقسیم کا اگلا مرحلہ بھی مکمل قانونی وضاحت کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی سرکاری سہولتوں کے بارے میں عوام کو واضح معلومات دی جائیں کہ کون سی خدمت کس مرحلے پر دستیاب ہے، کون سا عمل آن لائن کیا جا سکتا ہے، کون سا معاملہ متعلقہ مرکز میں مکمل ہوگا اور کن دستاویزات کی ضرورت ہوگی۔ ’’مفت‘‘ یا ’’آسان‘‘ سہولت کا حقیقی فائدہ اسی وقت عوام تک پہنچے گا جب طریقۂ کار بھی واضح، قابلِ فہم اور قابلِ رسائی ہو۔ ڈیجیٹل اصلاح کا مقصد یہ نہیں کہ ایک عام کسان نئی اصطلاحات کے بوجھ تلے دب جائے؛ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ پیچیدہ نظام عام شہری کے لیے زیادہ آسان ہو۔
زمین کے معاملے میں وقت بھی ایک اہم عنصر ہے۔ اگر تقسیم کی درخواست برسوں تک زیرِ کارروائی رہے تو اس دوران زمین کی قیمت، قبضے کی صورت، فصلوں کی نوعیت اور خاندانی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جدید نظام میں درخواست کا باقاعدہ tracking mechanism، مقررہ مراحل، کارروائی کی تاریخ اور تاخیر کی وجہ ریکارڈ ہونا ضروری ہے۔ شہری کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی درخواست کس مرحلے پر ہے اور اگلا مرحلہ کیا ہے۔ یہ شفافیت انتظامی اعتماد پیدا کرنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں زرعی اصلاحات کے تصور کو صرف زمین کی ازسرِ نو تقسیم تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ Land Governance کے وسیع تر تصور سے جوڑا جائے۔ زمین کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کسی کے پاس کتنی زمین ہے؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ زمین کس طرح منتقل ہو رہی ہے، کس طرح تقسیم ہو رہی ہے، کہاں بکھر رہی ہے، اس کی ملکیتی شناخت کتنی واضح ہے اور اس کا زرعی استعمال کس حد تک مؤثر رہ سکتا ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر وراثتی تقسیم کا نتیجہ لازماً زمین کا مزید جسمانی بٹوارہ نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں قانون اور فریقین کی رضامندی اجازت دیں وہاں ملکیتی حق برقرار رکھتے ہوئے زمین کو مجتمع رکھنے، تبادلے، مشترکہ انتظام یا دیگر قانونی طریقوں پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد کسی وارث کے حق کو کم کرنا نہیں بلکہ اس حق کو زیادہ قابلِ استعمال بنانا ہے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں زمین کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ نہری پنجاب کی زمین، بارانی علاقوں کی زمین، سندھ کی آب پاش زمین، خیبر پختونخوا کے پہاڑی و میدانی خطے اور بلوچستان کے وسیع کم آب رقبے ایک جیسے نہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل نظام کا بنیادی ڈھانچہ مشترک ہو سکتا ہے، لیکن زمین کی تقسیم کے عملی اصول مقامی جغرافیہ، آب پاشی، فصلوں اور زرعی ضرورت کے مطابق لچک رکھتے ہوں۔ ایک کامیاب نظام وہی ہوگا جو ٹیکنالوجی میں یکسانیت اور زمینی حقیقت میں لچک دونوں کو ساتھ لے کر چلے۔
آخرکار ہمیں زمین کے بارے میں اپنا بنیادی سوال بدلنا ہوگا۔ ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ ’’ہماری زمین کتنی ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ’’ہماری زمین کس نظام کے تحت محفوظ، تقسیم اور استعمال ہو رہی ہے؟‘‘ اگر ایک وارث کو اس کا پورا قانونی حق مل جائے مگر وہ حق ایسے بکھرے ہوئے قطعات میں تبدیل ہو جائے جنہیں کاشت کرنا مشکل ہو تو ملکیتی انصاف کی ایک سطح تو حاصل ہو جائے گی، مگر زرعی معیشت کا بڑا مقصد ادھورا رہ سکتا ہے۔
اسی لیے مستقبل کے ونڈے کا اصول یہ ہونا چاہیے کہ ہر قانونی وارث کا حق محفوظ ہو، ہر زمینی قطعے کی واضح شناخت ہو، ہر تقسیم کا جغرافیائی نقشہ موجود ہو، ہر راستہ اور پانی کا بنیادی حق محفوظ ہو اور ہر تبدیلی کا قابلِ اعتماد ریکارڈ برقرار رہے۔ یہ وہ پانچ ستون ہیں جو روایتی بٹوارے کو جدید زمین انتظامی نظام میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
چودھری رحمت کے گھر کے زرد رجسٹر سے آج کے ڈیجیٹل نقشے تک سفر دراصل صرف ٹیکنالوجی کا سفر نہیں؛ یہ ریاست، شہری اور زمین کے درمیان تعلق کی تبدیلی کا سفر ہے۔ کل زمین کی شناخت ایک رجسٹر کے صفحے سے ہوتی تھی، آج وہ نقشے پر دیکھی جا سکتی ہے اور آنے والے وقت میں ممکن ہے کہ ملکیت، حدود، وراثت، راستہ، پانی اور قانونی حیثیت ایک ہی مربوط نظام میں سامنے ہوں۔ اس تبدیلی کا اصل مقصد کاغذ کو کمپیوٹر میں منتقل کرنا نہیں بلکہ زمین کے بارے میں ایک ایسی قابلِ اعتماد معلوماتی بنیاد پیدا کرنا ہے جس پر قانون، معیشت اور زراعت تینوں بہتر فیصلے کر سکیں۔
’’ونڈا کراؤ، سکھ پاؤ‘‘ کا نعرہ اسی لیے محض ایک انتظامی مہم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر اس کے ساتھ درست وراثتی انتقال، درست زمینی سروے، شفاف نقشہ سازی، جدید ریکارڈ، بروقت تقسیم اور قانونی حقوق کا مکمل تحفظ جڑ جائے تو یہ تصور پاکستان کے دیہی زمین داری نظام میں ایک اہم تبدیلی کا آغاز بن سکتا ہے۔ لیکن اگر صرف نقشہ بدل جائے اور بنیادی ریکارڈ، قانونی طریقۂ کار اور ادارہ جاتی شفافیت وہی پرانی رہے تو ڈیجیٹل نظام بھی پرانے مسئلے کا نیا چہرہ بن کر رہ جائے گا۔
اس لیے پاکستان کو اب زمین کی تقسیم سے آگے بڑھ کر زمین کے بہتر انتظام کی طرف جانا ہوگا۔ وراثتی انتقال کو درست کرنا ہوگا، مشترکہ ملکیت کو واضح کرنا ہوگا، جہاں ممکن ہو زمین کو غیر ضروری بکھراؤ سے بچانا ہوگا، GIS اور جدید سروے کو ریکارڈ سے جوڑنا ہوگا، راستے اور پانی کو تقسیم کے لازمی عناصر بنانا ہوگا اور ہر ملکیتی تبدیلی کو شفاف ڈیجیٹل ریکارڈ کا حصہ بنانا ہوگا۔
کیونکہ زمین صرف وراثت نہیں، پیداوار بھی ہے؛ صرف ملکیت نہیں، معاش بھی ہے؛ صرف کھاتہ نہیں، خاندان کا مستقبل بھی ہے۔
اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ونڈے کے بارے میں بھی وہی سوچ اختیار کریں جو جدید دنیا نے زمین کے بارے میں اختیار کی ہے: زمین کو صرف تقسیم نہ کیا جائے، اسے سمجھا، محفوظ، منظم اور پیداواری بھی رکھا جائے۔
آخرکار اصل کامیابی اس دن ہوگی جب کسی گاؤں میں وراثتی زمین تقسیم کرتے ہوئے کسی وارث کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے کہ ’’میرا حصہ کہاں ہے؟‘‘ بلکہ نظام اسے واضح طور پر بتا سکے کہ اس کا قانونی حق کیا ہے، زمین کہاں واقع ہے، اس کی حدود کیا ہیں، وہاں تک رسائی کیسے ہوگی، پانی کا انتظام کیا ہے اور تقسیم کے بعد اس ملکیت کا قابلِ استعمال نقشہ کیا ہوگا۔
تب ’’کھاتہ‘‘ محض ایک نمبر نہیں رہے گا، ’’کھسرہ‘‘ محض ایک اندراج نہیں رہے گا، ’’انتقال‘‘ محض دفتری کارروائی نہیں رہے گا اور ’’ونڈا‘‘ محض خاندانی بٹوارہ نہیں رہے گا؛ یہ سب مل کر ایک ایسے جدید زرعی نظم کی بنیاد بنیں گے جس میں حق بھی محفوظ ہوگا، زمین بھی واضح ہوگی اور آنے والی نسلوں کا زرعی مستقبل بھی زیادہ محفوظ ہوگا۔ |
|