محبت کا سفر
(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
|
قدرت نے ہر رشتے کو ایک الگ معنی عطا کیا ہے۔ ماں کی محبت میں بے لوث قربانی ہے، باپ کی محبت میں تحفظ اور ذمہ داری کا احساس، مگر دادا کی محبت میں ایک عجیب سی طمانیت، نرمی اور بے غرضی ہوتی ہے۔ شاید اس لیے کہ یہ محبت زندگی کی دوپہر میں نہیں، اس کی شام میں کھلنے والا وہ پھول ہے جس میں تجربے کی خوشبو بھی شامل ہوتی ہے اور جدائی کا شعور بھی۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک بزرگ، جو زندگی کے معمولات میں خاموش اور کم گو دکھائی دیتا ہے، اپنے پوتے کو دیکھتے ہی بدل جاتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں چمک آ جاتی ہے، آواز میں نرمی اتر آتی ہے اور چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ پھیل جاتی ہے جو برسوں کی تھکن کو چھپا دیتی ہے۔ یہ تبدیلی محض جذباتی نہیں بلکہ انسانی نفسیات کی گہری ساخت سے وابستہ ہے۔
انسان کی پوری زندگی دراصل تعمیر کا سفر ہے۔ وہ تعلیم حاصل کرتا ہے، گھر بناتا ہے، اولاد کی پرورش کرتا ہے، رشتے نبھاتا ہے اور اپنے گرد ایک دنیا آباد کرتا ہے۔ لیکن جب عمر کی شام قریب آتی ہے تو اس کی نگاہ مستقبل کی فتوحات سے ہٹ کر اس سوال پر ٹھہر جاتی ہے کہ آخر اس کی زندگی کا حاصل کیا تھا؟
یہ سوال دولت سے جواب نہیں مانگتا، بلکہ انسانوں سے مانگتا ہے۔
معروف ماہرِ نفسیات ایرک ایرکسن کے مطابق بڑھاپا وہ مرحلہ ہے جہاں انسان اپنی زندگی کا مفہوم تلاش کرتا ہے۔ اگر اسے محسوس ہو کہ اس کا وجود نئی نسل میں جاری ہے، اس کی اقدار منتقل ہو رہی ہیں اور اس کی محبت نے کسی اور دل میں گھر بنا لیا ہے تو وہ اپنے ماضی کو اطمینان کے ساتھ قبول کر لیتا ہے۔
اسی لیے دادا اپنے پوتے میں صرف ایک بچہ نہیں دیکھتا، بلکہ اپنی زندگی کی گونج سنتا ہے۔
یہ تعلق یادداشت سے بھی گہرا رشتہ رکھتا ہے۔
عمر کے ساتھ انسان کی یادیں اس کی سب سے قیمتی متاع بن جاتی ہیں۔ ایک معصوم سوال، ایک بے ساختہ قہقہہ یا ننھے قدموں کی چاپ برسوں پرانے مناظر کو پھر سے زندہ کر دیتی ہے۔ پوتا کھیل رہا ہوتا ہے، مگر دادا کی آنکھوں میں اپنے بیٹے کا بچپن چلنے لگتا ہے۔ وقت جیسے ایک لمحے کے لیے اپنا رخ بدل دیتا ہے اور ماضی حال کے اندر سانس لینے لگتا ہے۔
شاید اسی لیے بزرگ بچوں کے ساتھ رہ کر اپنی عمر نہیں گنتے، بلکہ اپنی یادیں جیتے ہیں۔
نفسیات کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ جوانی میں محبت اکثر ذمہ داریوں کے ساتھ چلتی ہے۔ والدین بچوں کو سنوارتے ہیں، ان کی اصلاح کرتے ہیں، ان کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں۔ لیکن دادا کی محبت ان مرحلوں سے آگے نکل چکی ہوتی ہے۔ اب اس کے پاس کسی کو بدلنے کی خواہش نہیں رہتی، صرف اسے قبول کرنے کا ظرف باقی رہ جاتا ہے۔
یہ قبولیت محبت کی پختہ ترین شکل ہے۔
جدید ماہرینِ عمر رسیدگی اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ بزرگوں کے لیے خاندان کے ساتھ فعال تعلق ان کی جذباتی کیفیت اور معیارِ زندگی پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزارنا انہیں صرف مصروف نہیں رکھتا بلکہ انہیں یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ وہ اب بھی خاندان کی کہانی کا اہم کردار ہیں، محض ایک خاموش تماشائی نہیں۔
یہ احساس انسان کے وقار سے جڑا ہوا ہے۔
شاید اسی لیے ایک پوتے کا چند لمحے اپنے دادا کے پاس بیٹھ جانا اس کے لیے کسی قیمتی تحفے سے زیادہ اہم بن جاتا ہے۔ اس ملاقات میں الفاظ کم ہوتے ہیں، مگر معنی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ایک طرف تجربے کی پختگی ہوتی ہے، دوسری طرف معصومیت کی تازگی؛ ایک طرف ڈھلتی ہوئی شام، دوسری طرف ابھرتی ہوئی صبح۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نسلیں ایک دوسرے سے صرف ملتی نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہیں۔
ہمارے عہد کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے رشتوں کی قدر کو اکثر مادی پیمانوں سے ناپنا شروع کر دیا ہے، حالانکہ بزرگوں کو سب سے زیادہ ضرورت اس احساس کی ہوتی ہے کہ ان کی موجودگی اب بھی کسی کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہیں اس بات سے زیادہ خوشی نہیں ملتی کہ ان کے لیے کیا خریدا گیا، بلکہ اس بات سے ملتی ہے کہ ان کے ساتھ کتنا وقت گزارا گیا۔
دادا کی محبت ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ زندگی کا اصل سرمایہ وہ نہیں جو انسان جمع کرتا ہے، بلکہ وہ ہے جو انسان منتقل کرتا ہے؛ اپنا اخلاق، اپنی شفقت، اپنی روایت اور اپنی محبت۔
یہی ورثہ نسلوں کو جوڑے رکھتا ہے۔
برطانوی مورخ اور مفکر آرنلڈ ٹائن بی نے ایک بار کہا تھا:
"کسی تہذیب کی حقیقی قوت اس کی عمارتوں میں نہیں، بلکہ اس رشتے میں ہوتی ہے جو اس کی ایک نسل کو دوسری نسل سے جوڑے رکھتا ہے۔"
شاید دادا کی محبت اسی رشتے کی سب سے روشن مثال ہے؛ ایک ایسا رشتہ جس میں ماضی اپنے تجربے کے ساتھ مستقبل کو گلے لگاتا ہے، اور مستقبل اپنی معصوم مسکراہٹ سے ماضی کو امر کر دیتا ہے۔ |
|