خیبر کی پگڈنڈیوں سے عالمی منڈی تک
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کبھی کبھی تاریخ کے پرانے کاغذ اچانک کھلتے ہیں تو ان سے صرف گرد نہیں اڑتی، سوال بھی اٹھتے ہیں۔اپریل 1984 میں امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) نے پاکستان کے بارے میں ایک خفیہ رپورٹ تیار کی۔ عنوان تھا: “Narcotics Control in Pakistan: Problems Persist”۔ تقریباً چار دہائیاں گزرنے کے بعد یہ دستاویز منظر عام پر آچکی ہے، مگر اسے پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی پرانی تاریخ کو نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے کی بنیاد کو دیکھ رہے ہوں جس کے اثرات کئی برس تک محسوس ہوتے رہے۔
رپورٹ کا مرکزی دعویٰ چونکا دینے والا تھا پاکستان اس وقت جنوب مغربی ایشیا کی منشیات کی تجارت میں ایک بڑھتا ہوا اہم مرکز بن چکا تھا۔ افغانستان سے آنے والی بڑی مقدار میں افیون پاکستان پہنچتی، اور اس کا ایک حصہ یہاں ہیروئن میں تبدیل کیا جاتا۔CIA کے مطابق پاکستان خود افغانستان یا ایران کے مقابلے میں کم افیون پیدا کرتا تھا، لیکن افغانستان کی افیون کے لیے پاکستان ایک اہم راستہ اور پروسیسنگ مرکز بن چکا تھا۔یہاں کہانی میں پشاور اور خیبر داخل ہوتے ہیں۔
آج جب ہم خیبر کا نام سنتے ہیں تو ذہن میں سرحد، تجارت، اسمگلنگ، طورخم اور افغانستان کا راستہ آتا ہے۔ لیکن 1984 کی یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ اس جغرافیے کی اہمیت صرف سیاسی یا فوجی نہیں تھی۔ اس وقت یہ علاقہ منشیات کی ایک بین الاقوامی سپلائی چین کا بھی حصہ بن چکا تھا۔CIA نے لنڈی کوتل کو افغانستان کی سرحد کے قریب ہیروئن کی پروسیسنگ کا ایک اہم مرکز قرار دیا۔رپورٹ میں پاکستانی نارکوٹکس حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ 1982 کے اوائل تک لنڈی کوتل میں تقریباً 30 لیبارٹریاں کام کر رہی تھیں، جن میں اجتماعی طور پر کئی ٹن ہیروئن تیار کرنے کی صلاحیت بتائی گئی تھی۔
یہ وہ دور تھا جب افغانستان سوویت جنگ کی لپیٹ میں تھا، پاکستان لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا تھا اور سرحدی علاقوں میں ریاستی کنٹرول کی نوعیت باقی ملک سے مختلف تھی۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں منشیات کے خلاف جنگ ایک مشکل سوال بن جاتی ہے۔ ریاست قانون نافذ کرنا چاہتی تھی، مگر سرحدی علاقوں میں طاقت کا توازن سیدھا نہیں تھا۔ 1982 میں صدر جنرل ضیائ الحق کی حکومت نے خیبر کے قریب ہیروئن کی لیبارٹریوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔ لیکن CIA کے مطابق حکومت براہ راست قبائلی لیبارٹری آپریٹرز سے ٹکراو¿ سے گریزاں تھی۔اس کے بجائے قبائلی عمائدین کے ذریعے کارروائی کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق 27 لیبارٹریوں کا سامان حوالے کیے جانے کی اطلاع دی گئی اور بظاہر یہ تاثر پیدا ہوا کہ خیبر میں ہیروئن کی پیداوار رک گئی ہے۔ لیکن یہ اختتام نہیں تھا۔ یہ صرف راستہ بدلنے کا آغاز تھا۔ CIA کے مطابق بعض لیبارٹری آپریٹرز نے اپنی چھوٹی اور موبائل لیبارٹریاں زیرِ زمین منتقل کر دیں، کچھ نے قریبی علاقوں میں دوبارہ کام شروع کیا، جبکہ بعض کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے افغانستان میں اپنی سرگرمیاں منتقل کرلیں۔ یہاں افغانستان اور پاکستان کی سرحد محض ایک لکیر نہیں رہتی۔ایک طرف افغانستان میں افیون کی پیداوار بڑھ رہی تھی، دوسری طرف پاکستان میں اس افیون کو پروسیس کرنے اور آگے پہنچانے کی صلاحیت موجود تھی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی اسمگلر سالانہ 200 ٹن سے زیادہ افغان افیون درآمد کر رہے تھے تاکہ پاکستان میں کم ہوتی مقامی پیداوار اور بڑھتی ہوئی ملکی و عالمی طلب کے درمیان پیدا ہونے والا خلا پورا کیا جا سکے۔اور پھر آتا ہے وہ جملہ جسے شاید اس رپورٹ کا سب سے اہم عددی دعویٰ کہا جا سکتا ہے۔CIA کا اندازہ تھا کہ پاکستانی اسمگلر امریکہ پہنچنے والی ہیروئن کا 25 سے 30 فیصد اور یورپ جانے والی ہیروئن کا ممکنہ طور پر نصف سے زیادہ سنبھال رہے تھے۔ یہ اعداد و شمار آج پڑھتے ہوئے حیران کن محسوس ہوتے ہیں، لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ CIA کی intelligence assessment تھی، کوئی عدالت کا فیصلہ نہیں۔ رپورٹ میں متعدد جگہوں پر DEA، امریکی سفارت خانے اور دیگر ذرائع کی معلومات، اندازے اور امکانات بیان کیے گئے ہیں۔اس لیے تاریخ کو سنسنی کے بجائے احتیاط سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔اس رپورٹ میں ایک اور دلچسپ پہلو ہے: پشتون سرحدی معاشرہ۔ CIA نے لکھا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے دونوں جانب آباد پشتون قبائل اس دشوار گزار سرحدی علاقے سے بخوبی واقف تھے۔ رپورٹ کے مطابق 200 سے زیادہ درے اور راستے موجود تھے جنہیں گشت کرنا انتہائی مشکل تھا۔
یہ جغرافیہ اسمگلنگ کے لیے ایک قدرتی فائدہ بن گیا تھا۔لیکن یہاں بھی ایک بات واضح رہنی چاہیے: کسی قبیلے کے بعض افراد یا گروہوں پر اسمگلنگ میں ملوث ہونے کی intelligence reporting کو پورے قبیلے کے خلاف الزام نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ فرق تاریخ اور صحافت دونوں کے لیے ضروری ہے۔ اصل مسئلہ شاید قبائل سے زیادہ ریاستی رٹ، جغرافیہ، جنگ اور معیشت کا تھا۔ CIA نے اس وقت کے پاکستانی حکام کی ایک مشکل بھی بیان کی۔ سخت کارروائی کا مطلب صرف منشیات کے خلاف آپریشن نہیں تھا؛ اس کے ساتھ قبائلی مزاحمت اور سرحدی عدم استحکام کا خطرہ بھی موجود تھا۔ افغان جنگ کے تناظر میں حکومت قبائلی علاقوں میں امن اور قبائلی تعاون کو اہم سمجھتی تھی۔
یوں ریاست ایک عجیب مخمصے میں پھنس گئی منشیات کے خلاف سخت کارروائی کرے تو سرحدی کشیدگی بڑھ سکتی تھی۔ کارروائی نہ کرے تو منشیات کا کاروبار پھیل سکتا تھا۔ یہی وہ تضاد تھا جس نے شاید اس پورے مسئلے کو اتنا پیچیدہ بنایا۔ اور پھر اس تجارت کا سب سے بڑا شکار خود پاکستان بننے لگا۔CIA نے اندازہ لگایا کہ پاکستان میں ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد 1980 میں تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن 1983 کے آخر تک یہ تعداد 70 ہزار سے ایک لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کے بارے میں افیون کے استعمال کا اندازہ دیا گیا۔
یعنی جس چیز کا ایک حصہ بیرون ملک جانے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، اس کا زہر پاکستان کے شہروں میں بھی پھیل رہا تھا۔پشاور بھی اس بحران سے محفوظ نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق 1983 کے آخر تک پشاور میں ڈاکٹروں، صحافیوں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نے بڑھتے ہوئے ہیروئن کے استعمال کے خلاف ایک تنظیم قائم کی تھی۔ یہ بات شاید آج کے لیے سب سے بڑا سبق ہے۔ منشیات کی تجارت کبھی صرف اسمگلر، پولیس اور سرحد کا مسئلہ نہیں ہوتی۔ اس کا آخری سرا معاشرے کے اندر نکلتا ہے—نوجوانوں، خاندانوں، صحت، معیشت اور شہری زندگی تک۔1984 کی یہ CIA رپورٹ ہمیں تقریباً چار دہائیاں پیچھے لے جاتی ہے۔ وہاں ہمیں افغانستان کی افیون، خیبر کے راستے، لنڈی کوتل کی لیبارٹریاں، پشاور کا بڑھتا ہوا نشہ اور ایک ایسی ریاست نظر آتی ہے جو سکیورٹی اور قانون کے درمیان توازن تلاش کر رہی تھی۔
اور شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کیا ہم نے اس تاریخ سے کچھ سیکھا؟ کیونکہ تاریخ کا المیہ یہ نہیں کہ ایک مسئلہ کبھی پیدا ہوا تھا۔ اصل المیہ تب ہوتا ہے جب وہی مسئلہ مختلف شکل میں دوبارہ ہمارے سامنے کھڑا ہو اور ہم اسے پہلی بار دیکھنے کا دعویٰ کریں۔ 1984 کی یہ رپورٹ ماضی کا ایک خفیہ کاغذ ضرور ہے، مگر اس کے سوال آج بھی زندہ ہیں سرحدی علاقوں میں ریاست کی رٹ کیسے قائم ہو؟ منشیات کے بڑے نیٹ ورک تک کیسے پہنچا جائے؟اور کیا صرف چھوٹے اسمگلروں اور منشیات فروشوں کی گرفتاری سے وہ نظام ختم ہوسکتا ہے جس کی جڑیں سرحد پار، مقامی معیشت اور بین الاقوامی منڈی تک پھیلی ہوں؟
شاید جواب بھی اسی پرانی رپورٹ کے صفحات میں کہیں چھپا ہے۔مسئلہ صرف منشیات نہیں تھا؛ مسئلہ اس پورے نظام کا تھا جو جنگ، سرحد، غربت، کمزور ریاستی کنٹرول اور عالمی طلب کے درمیان پیدا ہوا تھا۔اور خیبر کی وہ پگڈنڈیاں، جنہیں کبھی صرف مقامی راستے سمجھا جاتا تھا، اس کہانی میں ایک ایسی بین الاقوامی زنجیر کی کڑی بن چکی تھیں جس کا آخری سرا ہزاروں میل دور مغرب میں تھا۔
|